سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 01, 2015

پہلا روزہ، کچھ یادیں

جب پوری طرح  ہوش و حواس سنبھالے اور جب سے یاداشت  نے کام کرنا شروع کیا تھا پوری طرح تو ہم پہلا روزہ رکھ چکے تھے، مطلب "چڑی روزہ"  جو صبح آٹھ بجے ناشتہ کے وقت رکھا جاتا تھا اور دوپہر کو کھولا جاتا ، پھر شام تک افطاری  کے دسترخوان تک "سفید ٹوپی" پہن کے روزہ داروں کے ساتھ روزہ کھولاجاتا۔ یا پھر پہلا اور آخری روزہ رکھ کر باقی کے روزے بیچ میں آجانے کا اعلان ، یہ بھی ہمیں نہ ملا۔ 


جب سے یاد ہے وہ یہ کہ روزے موسم " چیت بیساکھ " کے تھے، جس کو اردو میں موسم بہار کہا جاتا ہے۔ ایسے میں صبح کی خنکی میں سحری کےلئے جاگنا  اپنی جگہ مزیدار بات تھی۔ میں  چونکہ اپنی نوعیت کا سب سے چھوٹا بچہ تھا ، بڑے بھائی صاحب مجھے سے کوئی پندرہ برس بڑے تھے پس سب روزہ داروں کو دیکھ کر "بڑوں کے جوتے میں پاؤں" کب ڈلا  ، کچھ یاد نہیں ہے۔ 

البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ ہمارے داداصاحب مرحوم جو بہت ہنس مکھ انسان تھے ہم انکو  "اجی جی"  کہتے ہیں۔ پہلے روزے کی سحری کو اٹھتے ہی نعرہ ماردیتے ہنستے ہوئے،  " گئے روز ے سوہاوڑے ، باقی رہ گئے نو تے  وی"  ( گئے روزے پاک باقی رہ گئے  نو اور بیس۔)  اور سب ہنس دیتے۔ کہ  "اجی جی" ابھی تو پہلے روزے کی سحری شروع ہوئی ہے ،   جواب ملتا  " بس پترو شروع ہوگئے تے مک گئے"   ۔   یوں ہنستے کھیلتے سحری میں روزہ رکھا جاتا۔ تازہ روٹی کی دیسی گھی میں بنی ہوئی چوری اور گنے کی شکر۔ ساتھ میں تازہ  دھی کا ادھ رڑکا۔  ادھر کہیں دور سے ہوٹر بجتا اور الحمدللہ۔  روزے داروں نے روزے رکھ لئے۔ 

روزہ کی افطاری کا وقت شروع ہوتا تو تیاری میں  سب سے پہلے گھر میں گھومتا ہوا سب سے موٹا ککڑ پکڑا جاتا اسکا سالن بنتا اور میں تازہ جو کے ستو اور گڑ کا شربت  ایک بڑی سی بالٹی میں بنتا،  کھجوریں ، تندور کی روٹیاں اور  پہلے روزے کی افطاری کی بھاگ دوڑ لگ جاتی۔  جا میرا پتر  " اپنی دادی شاد "کو افطاری پھڑا آ،   وہ تو تیرے ساتھ بہت پیار کرتی ہے۔ جابچہ بھاگ کرے دادی فرمان کو بھی پکڑآ ،وہ ماسی مختوماں بھی تو ہے،  جابچہ، جابچہ۔ 

اور ایسے میں افطاری کا وقت ہوجاتا، اور اجی جی ختم شریف شروع کردیتے، کافی دیر تک قرآن کی تلاوت ہوتی پھر تفصیل سے دعا مانگی جاتی جس میں سب فوت شدگان کو نام بنام یاد کیا جاتا، ادھر دعا ختم ہوئی ادھر ہوٹر  بجا اور ادھر روزہ کھلا اور ادھر سب بھاگے مسجد کی طرف۔

دوسرے دن آٹھ تے وی ، پھر ست تے وی، اور پھر جب پندرواں روزہ  ہوجاتا تو پھر  "اجی جی " گنتی چھوڑ دیتے۔ کہ اب روزے مہمان رہ گئے ہیں اور مہمانوں کے جانے کے دن نہیں گنا کرتے۔
اللہ ان سب مرحومین کی مغفرت کرے, زندوں کا روزہ قبول کرے اور نہ رک
ھنے والوں کو روزہ چکھنے کی توفیق عطافرمائے

نوٹَ
یہ تحریر لکھنے کی تحریک دینے کےلئے محترمہ کوثر بیگ صآحبہ کا بہت ہی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ جنکا حکم نازل ہوگیا، بھائی اپنے پہلے روزے بارے لکھ دو۔ 




مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

اتوار, جولائی 13, 2014

اسرائیل، عیسائی عرب اور شعیہ سنی ریاستیں


شمالی اٹلی کے شہر پادوا  (Padova) میں ہم لوگ ڈاکٹر ز کےلئے بنیادی ہومیوپیتھی کا ایک کورس متعارف کروا رہے ہیں،  اس سلسلہ میں میری مدد میری کولیگ اور بہت اچھی دوست  "ڈاکٹر دوناطیلہ"   (Donatella)کررہی  ہے۔  اسی سلسلہ میں ہمیں ایک کانفرنس ھال کی  ضرورت  ہے ،  مجھے رابطہ دیا گیا ایک ہوٹل کا جنکے ہاں کانفرنس ھال بھی ہے  اور ریسٹورنٹ بھی۔   یہ رابطہ مجھے دونا طیلہ نے دیا اور تاکید کی کہ   ریکاردو   ( Riccardo،انگریزی ریچرڈ  ) کے ساتھ  بات کرلو اور پہنچ جاؤ موقع پر ، بس میں نے فون کیا  ملاقات طے کی اور پہنچ گیا وقت مقررہ پر۔

ریکاردو بہت اخلاص سے ملا،  اس نے ہوٹل کا روٹین کے مطابق وزٹ کروایا،   ساری سیٹنگ دکھائی ، اچھا ہوٹل ہے فور اسٹار ،    کشادہ کانفرنس ہال، ریفریشمنٹ ایریا ، بہترین  کچن اور کمرے، مطلب سب کچھ جس کی ہمیں ضرورت تھی ۔ کرایہ  وغیرہ  کی بات ہوئی اور آخر میں مجھے کہنے لگا کہ تمھیں   کچھ پینے کی آفر کرسکتا ہوں؟؟
میں ۔۔ نہیں ،  بہت شکریہ ،  میں روزہ سے ہوں۔
ریکاردو۔۔ اوہ  ہو، مسلمان ہو؟؟
میں ۔۔ ہاں ہوں۔
ریکاردو۔۔تم اٹالین تو نہیں ہو؟ کہاں سے ہو؟؟
میں    ۔۔نہیں تو ۔   ابھی تک پاکستانی ہوں،   وہیں  پیدا ہوا تھا، وہیں پر تعلیم تعمیر ہوئی اور اب بہت برسوں سے ادھر ہوں۔
ریکاردو ۔۔ ہاں وہ تو تمھاری بات چیت سے ہی لگ رہا کہ  کافی عرصہ سے ہو،  ویسے تمھارے نام سے ہی میں سمجھ گیا تھاکہ برصغیر سے ہے کوئی، تو ملا ہاتھ ، میں  اسرائیلی شہری ہوں۔  مگر عرب ہوں۔
میں ۔۔ بہت خوشی ہوئی ، پھر تو ہم دونوں مسلمان ہوئے؟؟
ریکاردو ۔۔ پرجوش طریقے سے ہاتھ ملاتے ہوئے،  نہیں میں مسلمان تو نہیں ہوں  عیسائی ہوں، مگر عرب ہوں۔  عرصہ تیس  برس سے ادھر رہ رہا ہوں،  میں فلسطینی عرب ہوں پر اب اسرائیلی شہریت رکھتا ہوں، ہم فلسطینی  بھی عجیب  ہیں، وطن تو ہمارا  اسرائیلیوں کے قبضہ میں چلا گیا ہے اور ہم بھی اب تقسیم ہوگئے ہیں،   شامی فلسطینی، اسرائیلی فلسطینی،  لیبنانی فلسطینی، اردنی اور پتا نہیں کون کون سے۔
میں۔۔  مگر ریکاردو، یہ شام، فلسطین ،  لبنان، مصر سب چھوٹے چھوٹے ملک ہی تو ہیں،  اور سب ہیں بھی عرب ہی،  تو پھر ایک ہی بات ہوئی  کہ نہیں؟؟
ریکاردو۔۔ہاں  ،   بات تو   ایک ہی ہے ،   ہم  سب عرب ہیں، ہماری زبان ایک ہے، ہماری تہذیب ایک ہے، کھانے اور تہوار ایک ہیں، فرق ہے صرف مذہب کا، تو میں تمھیں یہ بتا  دوں کہ صرف مذہب کا فرق کچھ زیادہ نہیں ہوتا،  ہم لوگ صدیوں سے عیسائی ہیں، پر کبھی احساس ہی نہیں ہوا،     میں تمھیں بتاؤں   کہ میرا باپ جب ذبح کرتا تھا دنبہ تو مکہ کی طرف منہ  کرکے کرتا تھا  اور تکبیر پڑھتا تھا، سبحان اللہ  وللہ اکبر ولاالہ الااللہ ۔ حالانکہ وہ عیسائی ہی  ہے مگر یہ تو تہذیب کی اور رواج کی بات ہے۔ عیدین سب کی ہوتی ہیں، رمضان آتا ہے تو ہم لوگ روزہ  دار کے سامنے کھانا پینا بہت برا سمجھتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہمارے لئے سب سے بڑی بات ہے ہمارا عرب ہونا،  گو کہ    میں بھی اسرائیلی شہری ہوں مگر اسرائیلی شہری ہونا اور بات ہے اور یہودی ہونا اور بات ہے،   اسرائیل ایک راشسٹ ملک ہے، اور یہودی  راشسٹ قوم،  کہنے کو تو اسرائیل ایک جمہور ی ریاست ہے مگر صرف یہودیوں کےلئے، عربوں کے ساتھ جو ہوتا ہے چاہے وہ مسلمان ہوں چاہے عیسائی،  وہ بہت ہی برا ہے،  ہم تیسرے درجہ کے شہری ہیں ،  اور جو کچھ ہمیں سمجھا جاتا ہے اسکا  اندازہ  ائرپورٹ پر پہنچ کر ہی ہوجاتا ہے۔ جو کتے والا سلوک ہم سے ہوتا ہے، جو ہر غیر یہودی سے ہوتا ہے۔
اب دیکھو یہ جو کچھ غزہ میں ہورہا ہے،   یہ ایک بڑی پلاننگ کا حصہ ہے،  اب غزہ کی پٹی کو بھی ختم کرد یا  جائے گا، مسلمانوں  اور عربوں کو صاف کردیا جائے گا اور پھر اسرائیلی سرحد بڑھنی شروع ہوجائے گی شام اور عراق کی حدود میں۔

 اس بات کی منصوبہ بندی گزشتہ صدی میں ہی کر دی گئی تھی۔  اسرائیل کے ارد گرد کا علاقہ چھوٹے  چھوٹے ممالک میں تقسیم کر  کے انکو آپس میں لڑا دو،    تاکہ وہ اسرائیل کا مقابلہ نہ  کرسکیں، سن لو اس خطہ میں عراق ایسا ملک تھا جو اسرائیل سے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ اسے نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا تھا،  اور  گریٹر اسرائیل  کے راستہ میں رکاوٹ بن سکتا  تھا۔ بس اس کو ملیامیٹ کردیا گیا، سوریا ایک ملک تھا جو اسرائیل کو آنکھیں دکھاتا تھا ، اس کی بھی ناس ماردی گئی، اسی طرح  مصر میں آنے والی اسلامی حکومت اسرائیل کےلئے خطرہ بن سکتی تھی اسکو بھی قابو کرلیا گیا۔ ، دوسری  شفٹ کے طور پر مجاہدین  اسلام کو خلافت کے نام پر شام اور عراق میں وہ فساد ڈالنے کو بھیجا گیا ہے کہ ان ممالک  میں وہ  افراتفری نافذ ہوجائے کہ کوئی کسی کو پوچھنے کےلئے باقی ہی نہ رہے، لوگوں کو زندگی اور موت کی پڑی رہے، مذہب، ثقافت، مسلمانیت یا کچھ اور کی ہوش ہی نہ رہے۔

سن لو  کہ اب عراق کو شیعہ اور سنی ریاستوں میں تبدیل کردیا  جائے گا۔   بھئی کیوں؟؟ کیونکہ    سارا خطہ عرب ہے، سارے مسلمان ہیں تو اس خطہ میں یہودی ریاست کیسے وجود میں آسکتی ہے،   یا  اسکا وجود کیسے پنپ سکتا ہے،  وہ اسی صورت میں ہے،  جب ایک شیعہ ریاست ہے، ایک سنی ہو، ایک کرد ہو،  لیبنانی ، شامی ، مصری اردنی مصری ریاستیں تو پہلے ہیں موجود ہیں مگر وہ مذہب یا فرقہ کے نام پر نہیں ہیں، صرف     اسرائیل ہی ہے مذہب کے نام پر،  اس کا تو کوئی اخلاقی جواز ہی نہیں ہے۔   اب جب دیگر شیعہ ، سنی ریاستیں بنیں گی تو کہا جاسکے کہ "جناب اگر مذہبی فرقہ کی بنیاد پر ریاستیں بن سکتیں ہیں تو  یہودی تو ایک الگ مذہب ہے، انکی اپنی ریاست تو لازم   طور پر بنتی ہی بنتی ہے"۔ 


ایسے ہی  یہ جو مجاہدین اسلام چل نکلے ہیں یہ مسجدیں ، خانقاہیں اور مزارات کو اکھیڑ رہے ہیں، یہ گریٹراسرائیل کا ہراول دستہ ہے، یہ تمھارے طالبان کی طرح  ہی ہیں، جنکا کام صرف اور صرف ملک اور خطہ میں دہشت ، افراتفری اور شورش پھلانا ہے، کہ کوئی نظام زندگی رائج نہ ہوسکے اور عربوں اور مسلمانوں کوصرف زندگی بچانے کی جدوجہد تک ہی محدود رکھا جائے کیونکہ ایک صحت مند اور ترقی یافتہ قوم  اپنے ارد گرد بھی دیکھتی ہے۔   جوکہ گریٹر اسرائیل کےلئے شدید اور بڑی رکاوٹ ہے،  ویسے اس وقت بڑی رکاوٹ پاکستان اور اسکی  فوج ہے کہ یہ خطے میں واحد مسلمان ملک ہے جس میں اپنے مکمل دفاع کی ہی صلاحیت موجود نہیں ہے بلکہ یہ گریٹر اسرائیل کے راستہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، پھر ایران اور پھر ترکی، اور سب سے آخر میں سعودی عرب کا نمبر آئے گا، کہ اگر پہلے اس پر ہاتھ  ڈالیں تو ساری دنیا کے مسلمان ممالک اسکے ساتھ ہیں۔

ریکاردو کی آنکھوں میں آنسو تھے اور سرجھکا ہوا تھا،   میں بھی خاموشی سے بغیر کچھ کہے سرجھکا کر  مصافحہ کرکے نکل آیا۔


مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 14, 2013

نوزائیدہ بچوں کےلئے مائیکروچپ 14 مئی سے لازم



 مائیکرو چپ زیر جلد ٹشو کے اندر اپلائیڈ انٹیگریٹڈ سرکٹ ہے، مائیکرو چپ کا حجم چاول کے دانے کے برابر ہے اور یہ این ڈبلیو او نامی پیسو ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے۔ مائیکرو چپ بلخصوص بچوں کے اغواء اور انکی گمشدگی کے  واقعات کی روک تھام میں مفید ہیں۔  کئی ممالک میں مائیکرو چپ کا استعمال ہورہا ہے اور یہ کہ بچوں کو ویکسین کے ساتھ ہی اسے لگا دیا جاتا ہے۔ 

آئیندہ برس 2014 کے مئی سے مائیکروچپ کا پورے یورپ میں اطلاق ہوجائے گا۔  اور مائیکروچپ لگوانے کی 
پروپوزل لازم ہوجائے گی۔

سرکاری ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے سب بچوں میں مائیکروچپ پیدائیش کے وقت زیرجلد ٹشو میں فوری طور پر انسٹال کردی جائے گی۔ 

مائیکروچپ میں موجود معلوماتی کارڈ میں نام،  تاریخ پیدائش، بلڈ گروپ  جیسی بنیادی معلومات کے علاوہ  ایک  بہت ہی طاقتور جی پی ایس ریسور بھی موجود ہوگا،  جو ایک بہت طاقتور بیٹری سے کام کرے گا، یہ بیٹری ہر دو برس کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں تبدیلی ہوسکے گی۔ 

مائیکروچپ کے اندر موجود جی پی ایس ایک بہت جدید اور باصلاحیت ٹیکنالوجی پر مشتمل ہوگا جس میں غلطی کی گنجائش پانچ میٹر یا اس سے کم کی ہوگی۔ اس کا رابطہ براہ راست ایک سیٹلائیٹ کے ساتھ ہوگا، جو کنکشن منجمنٹ کا ذمہ دار ہوگا۔ کوئی بھی خواہش مند بندہ خود یا اپنے بچوں کو مائیکروچپت  بلکل مفت میں انسٹال کروا سکے گا، باوجود اسکے کہ وہ یکم مئی 2014 سے پہلے پیدا ہوا ہو۔ اسکےلئے اپنے متعلقہ مقامی مرکز صحت میں ۔
سے متلقہ فارم لے کر اس پر درخواست دینی ہوگی۔



 بہبود آبادی کی مشاورتی کمیٹی سی سی سی پی کے فیصلہ کے مطابق اس تاریخ سے پہلے ہونے پیدا ہونے والے افراد کےلئے بھی مائیکروچپ کی انسٹالیشن لازمی قرار دی جائے گی مگر ایسا ممکن 2017 سے پہلے نہیں ہوسکے  گا۔  مائیکروچپ کی انسٹالیشن بلکل بے درد ہوگی، کیونکہ حقیقی طور اسے بائیں کہنی میں ایسے مقام پر زیر جلد انسٹال کیا جائے گا جہاں یہ نروز یعنی اعصاب کو متاثر نہیں کرے گی۔ 

آخر کار اس دنیا میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہوجائے گا۔ یہ مائکروچپ بچوں کے اغواء کے واقعات کی روک تھام  اور انکے گمشدگی کی صورت میں تلاش میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔  جنکی وجہ سے ان سالوں میں پوری دنیا کا سکون برباد ہوا۔ اور یہ کہ بالاخر اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اس دنیا میں شاہی قسم کے اچکوں اور بدمعاشوں کو قابو کیا جاسکے گا۔ 

اخبار یہ نہیں لکھتا ہے اس مائیکروچپ سے بندے پر ڈرون حملے بھی باآسانی ہوسکیں گے۔ یہ آپ خود سمجھ لیں

MICROCHIP, NEWBORN BABY, 







مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 09, 2013

آپ کی عید ہے؟ عید مبارک عیدین مبارک

اپنے ہاں تو پرسوں سے ہی عید عید ہوءی پڑی ہے، پہلے تو میاں ثاقب صاحب نے خبر دی کہ سعودی میں مولبی ہوشیار باش ہوگءے اور باباز دوربینیں لے بیٹھے اور یہ کہ شاید آج چاند نظر آجاوے۔ 

ہیں ؟مگر آج تو اٹھائیسواں روزہ ہے مولبی، اپنے ادھر بھی اور ادھر سعودی میں بھی تو  پھر؟؟  تفصیل موصول ہوءی کہ بہت برس بعد امسال بھی مون برتھ کے ایک دن پہلے ہونے کے شدید خطرات ہیں،۔ خیر دیر تک کمپوٹر کو ٹکٹکی لگانے کے بعد علم حاصل ہوا کہ خطرہ ٹل گیا اور یہ کہ کل روزہ ہی رکھنا پڑے گا، اور ہ پاسہ مار کے سو رہے کہ سحری کےلئے اٹھنا پڑے گا۔  یوں ہمارے ارمانوں پر اوس پڑگئ۔ 

کل تو خیر شام کو ہی ہال ہال کار مچ گئ کہ سعودیہ میں روزہ ہوگیا، انڈونیشیا سے بھی ایک بی بی نے میسج کرکے کنفرم کردیا کہ ہمارے بھی روزہ ہے، ہیں جی

علامہ رضا مرزا کا بولونیا سے فون آنا اور چاند رات کی مبارک و پپیاں ہیں جی، یہ علامہ بوت مزاکیہ واقع ہوئے ہیں، ہیں جی

میاں سلام شانی صاحب کا میرپور آزاد کشمیر سے فیسی بکی پیغام آیا ہے کہ اگر آپ آج عید کررہے ہیں تو عید مبارک اور اگر نہیں تو ایڈوانس میں قبولئَے۔  مطلب کل ہم تکلیف نہیں کریں گے  ہیں جی۔ 

ہمارے مامون جان راجہ بابر خان البزرگ الصغیر جو ہم سے عمر میں 3 ورے چھوٹے ہیں، مگر چونکے رشتہ میں ماموں ہیں تو ہیں، نے مفصل بتایا کہ کل عید کررہے ہیں بعد از 30 روزے، جبکہ ہم 29 کے بعد آج بھگت چکے، ہیں جی

لنڈن کزن کو فون کیا تو ادھر سے خبر ملی کہ بھائی خیرمبارک، ہم بھی آج ہی عید کررہے ہیں، ہماری اسٹریٹ کی تین مساجد سے آج عید کا اعلان ہوا، جبکہ دو نے کل پاکستان کے ساتھ کرنی ہے، مطلب وہ پکے پاکستانی ہوئے، ہیں جی

سنا ہے کہ گلف کے کچھ ممالک میں بھی عید مبارک کل ہی ہوگی، جبکہ پاکستان میں بھی سرکاری عید کل ہے مگر، کچھ شمالی علاقاز میں چاند دیکھنے و عید کرنے کی شنید ہے۔ 

اب اگر عید دو مختلف دنوں میں ہوگی تو خطبہ بھی دو دن ہی ہوگا، ۔ ہین جی
ایسے میں اپنے یاسر خوامخواہ جاپانی صاحب جی اس صورت حال کےلئے عیدین کا لفظ استعمالا تو برا کیا کیا، مان لیا کہ پہلے یہ لفظ عیدین  دو عیدوں مطلب عیدالفطر اور بقرہ عید دونوں کےلئے اجتمائِ طور پر استعمال ہوتا تھا اب اس لفظ عیدین کو اس نئی عیدوں والی صورت حال پر بھی استعمالا جاسکتا ہے۔ 

سنا ہے کہ ولایت میں  کسی کونسل میں مسلوں نے درخواست دی کہ عید والے دن ہمیں چھٹی ہونی چاہیے، کونسل والوں نے کے انکار پر خوب شور اور ہنگامہ مچا، یہ جلوس اور احتجاج کہ ہماری مذہبی آزادی پر روک لگائی  گئ ہے، مئیر نے کچھ لوگوں مطلب اپنے اپنوں سیانوں سیانوں سے صلاح لی، مگر بات نہ بنی احتجاج بڑھتا جاتا، مگر پھر وہاں پر ایک دھاگہ مولبی ق نمودار ہوئے اور مبلغ فیس وصول پانے کے بعد مشورہ دیا، اس مشورے کے مطابق مسلوں کو کہا گیا کہ چلو ٹھیک ہے، دسو فیر کس دن عید کرنی؟؟ تم سب متفقہ طور پر بتلادو کہ کس دن تمھاری عید ہوگی، ہم چھٹی کردیں گے بمعہ تنخواہ، اس بات کو کتنے ورے ہوگئے مگر نہ مسلوں کا ایک عید پر اتفاق ہوا، نہ پھر چھٹی کی بات ہوئِ۔

اللہ فرماتا ہے وعتصمو بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقو

اللہ بادشاہ جی جو مرضی فرمائے ہم کون ہوتے ہیں دخل دینے والے مگر تفرقہ ہم نے کرنا ہے چاہے وہ چاند دیکھنے پر ہو، کہ عید منانے پر، روزہ پر ہو کہ درود شریف کو باآواز بلند وہ زیر لب پڑھنے پر، نماز ہاتھ چھوڑکر پڑھنے پر اور باندھ کر، 
رفع یدین کرنے اور نہ کرنے پر بھی۔ 

جب ایسا ہوگا تو فیر عید کی نماز سنگین کے سائے تلے ہی ہوگی۔ اللہ خطبہ سننے اور سنانے والوں کے علم اور عقل میں اضافہ کرے اور انکو بم بلاسٹ سے بچائے، اور بعد از خطبہ اپنے گھر تک بحفاظت پہنچاءے، آمین۔ ہم اللہ کی مانیں یا نہ مانیں مگر اللہ تو ہمارا ہے ہماری ضرور سنے گا۔ ہیں جی۔ 

اب چونکہ آپ پڑھتے پڑھتے یہاں تک پہنچ چکے ہیں تو آپ کو بھی عید مبارک ، بھلے آپ نے آج والے مسلوں کے ساتھ کی ہے یا کل والے مسلوں کے ساتھ کررہے ہیں، عید عید ہی ہوتی ہے، تو فیر عید مبارک ہیں جی



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش