اتوار, فروری 03, 2013

علماء، کھوتے اور سیکوریٹی




ہا ہا ہا 
میرا ہنسنے کو دل کررہا
 نامور علماء کی سکیورٹی کی باتیں ہورہی ہیں ہر پاسے، کیا خواص اور کیا عوام سرجوڑ کر بیٹھے گئے ہیں کہ نامور دینی علماء کی سیکیوریٹی کیسے مینٹین کی جاوے، وزراء کی سکیورٹی مطلب سیاسی علماء(بشمول وزراء، مشیران، پارلیمنٹیرینز انکے لگتے لائے، چیلے چانٹے، منشی مشدے) کی بھی سکیورٹی، حکومتی علماء (حکومتی اہکاروں) کی بھی ہوگئی سیکیوریٹی،  سیکیوریٹی، سیکیوریٹی
کل ایک ٹی وی پروگرام کے مطابق حیدرآباد شہر کی ساٹھ فیصد پولیس وی آئی پی اور آفیسر ڈیوٹی پر مطلب انکو سیکیوریٹی دینے میں مشغول ہے، صرف بلاول بھٹو ذرداری کی سیکیورٹی و پروٹوکل کے نام پر 32 گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے، گرد اڑاتا ہوا۔ 


 اور عوام جو بے علم ہے اسکو کون سیکورٹی دے گا؟؟
کوئی بھی نہیں، اس بارے  نہ کبھی عوام نے مطالبہ کیا ہے اور نہ ہی حکمرانوں نے سوچا اور بات کی، نہ کوئی منصوبہ بندی کی، نہ کوئی قانون سازی۔  مگر وہ بھی ٹھیک ہیں، کھوتوں کی سکیوریٹی نہیں ہوتی، کھوتے کھول دیئے جاتے ہیں، اور جب ان پر مال ڈھونا ہوتا ہے تو پھر سے پھڑ لئے جاتے ہیں،   کسی نے گدھے کا علاج ہوتے ہوئے دیکھا؟؟    تو پھر بھائی جان جب تک ہم لوگ گدھے رہیں گے نہ ہمارے علاج ہوگا اور نہ ہی ہمارے مسائل حل ہونگے، اسکام کو کروانا ہے تو اپنے گدھا پن کو ترک کرکے ہوجائیں شیر ، تے دیکھو فیر۔

 یاد رکھو جب تک آپ کچھ طبقات کو سیکورٹی دیتے رہو گے، باقی کے طبقات ان سکیور رہیں گے، اور جب ایک معاشرے میں کچھ لوگ غیر محفوظ محسوس کریں گے تو پھر وہی کچھ ہوگا جو ہورہا ہے، بلکہ جو ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, دسمبر 23, 2012

ہماری سستیاں یا بدمغزیاں

ان  دنوں کچھ عجیب سے بد مغزی و سستی چھائی ہوئی ہے،   باوجود کوشش کے کچھ لکھا ہی نہیں جارہا،    حالانکہ ،  بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن  پر لکھنا چاہ رہا تھا،  مثلاُ    ، فرعون  کے بارے  میں مذید کچھ ، پھر پاکستانی  بتوں کے بارے،  پھر مولبی قادری کے بارے،     بہن کے عاشق کے ہاتھوں ہونے والی شہید کے بارے،     مگر جب بھی لکھنے بیٹھتا ہوں تو  لکھ کر چھوڑ دیتا ہوں،   لکھ کر سیو کرنے کی بجائے پھر لکھنے کو کہہ کر ترک کردینا۔

وہ بھی دن ہوتے ہیں جب ایک دن میں دو دو پوسٹیں لکھ ماریں،  یا کسی دوست نے کہہ دیا تو ہم نے ادھ گھنٹے میں لکھ مارا،  مگر اب کی بار تو بس چپ ہی لگ گئی۔


میرے خیال میں تو یہ سب بدمغزی ہے، یہ پھر اس کو سستی کہہ لو،  کچھ اسے لاپرواہی   کہہ لو،  یا کچھ اور کہہ ، مگر سمجھ یہ نہیں آرہا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے، اب تو مایا کے کلینڈر کو بھی موردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔   تو پھر کیا ہوسکتا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 13, 2012

الو ہونا اور الو بنانا

ویسے تو "الو" بہت مشہور پرندہ ہے ،   اتنا مشہور کہ  ہر خاص و عام اس کے بارے جانتا ہے، ویسے آپس کی بات ہے، کہ "الو"  کو دیکھا بہت کم لوگوں نے ہے،  اب سب کچھ میں نے ہی بتانا ہے تو، بزرگو، میں اس "الو" کی بات نہیں کررہا جو انسانی شکل کا ہوتا ہے بلکہ اس "الو" کی بات کررہا ہوں ،  جو پرندوں کی قسم سے تعلق رکھتا ہے اور رات کو تلاش معاش میں نکلتا ہے،   خالص اردو میں اس کو " بوم" کہا جاتا ہے، اور جو  "الو" کی اس قسم سے مماثلت رکھتے ہیں انکو "بوم خصال " کہاجاتا ہے۔یوں تو الو، پاکستان کے علاوہ سارے برصغیر میں، بلکہ پوری دنیا میں بکثر پائے جاتے ہیں، مگر خاص بات یہ ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہی ہوتے ہیں ، گویا ایک دوسرے کے رشتہ دا ر ہوئے،  

بیان کچھ الو کی اقسام کا
یوں تو "الو" کی بہت سی اقسام  ہمارے ارد گرد پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے چند ایک کا ہی ذکر کرپائیں گے ، نہیں تو وہی طوالت کا خوف۔

اصلی الو:  الو کی یہ قسم پاکستان میں اور برصغیر کے علاوہ  پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں،  یہ بنے بنائے ہوتے ہیں، اور مزید کسی کو "الو" نہیں بنا سکتے۔   پاکستان میں اسکو نہائت منحوس سمجھا جاتا ہے اور مغرب میں بہت سیانا۔ اتنا سیانا کہ ادھر بہت سی یوورسیٹوں  کے  لوگو  میں "الو"  شامل ہے۔البتہ دونوں طرف یہ رات کو ہی اپنی معاش کی تلاش میں نکلتا ہے۔

انسانی الو:  یہ بنایا جاتا ہے،  پہلے میں اپنا ذکر کرتا ہوں اس مد میں،   کہ مجھے سب سے پہلے دادا جی نے الو بنایا:  کہ " الو  ، ادھر آ، اوئے الو، یہ  کر، اوئے اس الو کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔  پھر اسکول ماسٹر صاحبان  نے "الو" کہنا شروع کردیا،  اسکے بعد پھر بڑے بھائی بھی شروع ہوگئے، کہ  " اوئے الو"۔  اب "الو" کے ساتھ اوئے کیوں لگاتے ہیں اس بارے تو علم نہیں ہے مگر  ہم تو ان  دونوں الفاظ کو عرصہ تک لازم ملزوم ہی سمجھتے رہے۔
ویسے "الو"  بنانا آسان ہے  اور "الو"  بنانا مشکل ہے،  مگر اس کے باوجود ہر کوئی دوسرے کو "الو"  بنا رہا ہوتا ہے، بلکہ  یہ بھی دیکھا گیا  ہے کہ "الو"  بننے والے بھی یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ "الو" بنا گئے ہیں۔  جبکہ اس بارے  کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ  الوبننے والے دوسرے کو "الو"  بنا نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں بڑی مثال "الو"  کی عوام ہیں جو بنتے ہیں اور انکو بنانے والے " سیاہ ست دان " کہلاتے ہیں۔  اسی لئے کہا جاتا ہے کہ "سیاہ ست دان " بنائے نہیں جاتے پیدا ہوتے ہیں۔  جب کہ عوام کے بارے ایسی رائے کا اظہار کبھی نہیں ہوا۔  

استعمال۔
یہ ایک کثیر الاستعمال ہے جنس ہے۔  مطلب"پولی کرائسٹ" ،  ہر شخص اسکے اپنے اپنے مقصد کے حصول کےلئے استعمال کرتا ہے۔

پیر صاحب، مریدن کو "الو" بنا کر شیرینی وصولتے ہیں۔
سیاہ ست دان  ،  عوام کو "الو" بنا کر حکومت میں جاپہنچے ہیں۔
بڑے ملک، چھوٹے ممالک کو بذریعہ اقوام متحدہ "الو" بناتے ہیں۔
جادو  ٹونے والے، ان پڑھ اور مصیبت زدہ و مایوس لوگوں کو "الو" بنا کر مال بناتے ہیں۔  انکو "الو" کے لہو سے تعویز لکھ کر دیتے کہ انکی "کایا کلپ "  ہوجائے اور اپنا بیڑا پارکرلیتے ہیں۔


ویسے مجھے یہ بلالکھنا ہی نہیں چاہئے تھا، ایوں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اس نے مجھے "الو" بنا لیا ہے۔


مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش