بدھ, اکتوبر 27, 2010

حکایت ہے کہ ایک آدمی کو غم سے نڈھال روتے دیکھ کر فقیر نے پوچھا کہ میاں کیوں رو رہے ہو؟ اس نے بتایا کہ میری ماں مرگئی ہے۔ فقیر بولا غم نہ کر پرسوں میری ہانڈی ٹوٹی مگر میں نے بھی صبر ہی کیا تھا تو بھی صبر ہی کر۔ آج پاؤل مرگیا، جسکا تھا اسے غم تو لازم ہوگا مگر بقول فقیر صبر کرے کہ 4 برس قبل ہماری ماں مری تو ہم نے بھی صبر ہی کیا تھا۔ آخر ک...ار

مکمل تحریر  »

پیر, اکتوبر 04, 2010

دوسری پاکستانی عورت بھی قتل

اٹلی کے شہرمودنہ میں ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی کا خاتمہ ہوا، یوں کہ بیٹی کے رشتہ کے تناظر میں صاحب صاحب خانہ نے اپنی بیوی کو ماردیا اور بیٹی شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچ گئی ، اس سارے قضیہ میں انکے بڑا بیٹا جسکی عمر تقریباُ 19 برس تھی وہ بھی اپنے اباجی کے ساتھ شامل تھا۔ اٹالین اخبارات نے حناسلیم کو فوراُ بعد حوالہ دیا کہ اس سے اس کے قتل کی یاد تازہ ہوگئی ہے، اس فیملی کے اٹھارہ برس سے کم کے اور 3 بچے ہیں۔ خیر سے جو ہو ا سو ہوا مٹی پاؤ، مگر بھائی جی مرنے والی تو مرگئی، مارنے والاسزا پاگیااور رہے گا جیل میں عمر بھر، سوال ہے کہ ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگاجن کی ماں ماردی گئی اور باپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا، بھائی ماں کے قتل میں ملوث ہے تو بہن اس سارے قضئے کی وجہ ہے۔ صبح سے کئ مقامی لوگ فون کرکے پوچھ چکے ہیں کہ یہ تم لوگ کیا کررہے ہو۔ ایک اور بڑا مسئلہ ہےکہ اگر ایک اٹالین نے اپنی ماں کو گولی ماردی تو ایک خاندان کا کرائسس ہوا، اور ایک پاکستانی نے اپنی بیوی کو قتل کردیا تو سارے پاکستانیوں کو مؤرد الزام ٹھہرایا گیا۔ گویا اٹالین نے وہ حکم پڑھ لیا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا ساری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیا یہ صرف اہل مشرق پر ہی لاگو ہوتا ہے ؟؟؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 24, 2010

خیبر پاس

بلا مبالغہ صبح جب اپنےآفس میں پہنچا تو مقامی صحافی آنا دیموریٹا آ نمودار ہوئی، ہاتھ میں ایک سرخ لفافہ پکڑے ہوئے، کہ یہ خیبر پاس کے عنوان سے ایک کتاب ہے جسکا میں نے تم سے وعدہ کیا تھا۔ کتاب کے مدرجات کا سرسری جائزہ لینے پر محسوس ہوا کہ خاصی مفصل ہےاور یہ بھی اس میں سکندر اعظم سے لیکر امریکی افغان جنگ تکے کے سارے احوال موجود ہیں جو خیبر پاس سے متعلقہ تھے۔ امریکہ اپریشن سے لیکر پاکستان اپریشن اور وہاں پر موجود فوجی تختیوں کی تصویریں تک۔ مجھے اردو میں اتنی مفصل کتاب کم ہی نظر آئی، المیہ ہمارے معاشرہ کا اور انحطاط یہ ہے کہ علم کم سے کم ہوتا جارہا ہے کوئی ریسرچ نہیں ہو رہی

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 07, 2010

چرچ میں نماز

چرچ میں افطار پر کوئی 200 کے قریب بندے مدعو تھے، پروگرام کا اہتمام چرچ کے ملحقہ تقریباتی ہال میں تھا، ان میں زیادہ تعداد عربی انسل مسلمانوں اور اطالوی نو مسلم کی تھی، پھر مسلمانوں کے ساتھ انکے غیر مسلم دوست بھی جوکہ زیادہ تر اطالوی ہی تھے۔ پھر چرچ سے تعلق رکھنے والے افراد ، جن میں اہم اس چرچ کے پادری، ایک اور چرچ کے نمائندہ بھی تھے۔ افطار پانی اور کھجوروں کے ساتھ ہوا اور ساتھہ ہی چھوٹے سے اسپیکر پر اذان کی آواز گھونجی ایک ساتھ نے فوراُ بعد اطالوی میں ترجمہ کیا اور ایک کونے میں چادریں بچھا کر باجماعت نماز کی اقامت شروع اور پھر ایک ہوئے محمود و ایاز۔ تین رکعت نماز کے بعد کھانے کا اہتمام تھا، جس میں مروکینی شوربہ، تیونس کی کس کس، پاکستانی بریانی، مصری ابلا ہوا گوشت، فلسطینی زیتون مرغی وغیرہ وغیرہ ، کھانے کے بعد تقریریں شروع ہوگئیں، ایک خاتون نے اسلام میں روزہ کی اہمیت بیان کی، پھر چرچ کے پادری صاحب نے اپنے مذہب میں روزہ کے بارے بیان کیا، پھر کونسل کے سابق امیگریشن کے کونسلر نے مختلف مذاہب کی ہم آہنگی کی ضرورت بارے بیان کیا۔ پروگرام آپنے اختتام کو پہنچا اور سب اپنے اپنے گھروں میں۔ ہمارےپیارے پاکستان میں شاید شعیہ، سنی وہابی و دیگر فرقوں سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کو کافر قرار دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی عبادت گاہ میں نماز پڑھنا تو درکنار انکوچلادینے اور وہاں کے عبادت گزاروں کو قتل کرنا باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ کہیں ہم نے اپنے مذہب کی باہمی رواداری اور بھائی چارہ کو ترک تو نبہیں کردیا اور کہیں ہم اپنے دین کی اصلی تعلیمات کو بھلا تو نہیں بیٹھے

مکمل تحریر  »

ہفتہ, ستمبر 04, 2010

چرچ میں افطار

آج ہمارے کچھ عیسائی دوستوں نے جو بہت مذہبی ہیں اور ہمارے مذہب کے ساتھ لگاوٗ کی قدر کرتے ہوئے ہماری افطار پارٹی کا اہتمام کیے ہوئے ہیں۔ یہ پروگرا م ایک چرچ کے ہال میں ہوگا۔ جہاں پر دونو ں مذاہب کے بارے میں بات ہوگی، افطار ہوگی اور نماز کے لئے جگہ دی جائے گی۔ کیا ہم یہ سب اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ بھی نہیں کرسکتے۔ بقول مملکت خداداد میں حضرت علی رضی اللہ کے جلوس پر دھماکہ، مسجد و مزار میں فائرنگ۔ ہم کس طرف جارہے ہیں اور کون سا راستہ اپنا چکے ہیں، ہمارا دین جو رواداری کا سبق دیتا ہے کیسے اسے بھلا بیٹھے ہیں؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

منگل, اگست 24, 2010

غصہ اور گالیاں

فیس بک پر ایک ویڈیو گھوم رہی ہے جس میں ایک صاحب نے سیالکوٹ کے دردناک واقعہ پر بے شمار غصہ اور غم کی حالت میں ایک پیغام ویڈیو ریکارڈ کرکے بس لانچ کردیا اور یار لوگوں نے اسے دنیا بھر میں گھما دیا۔ میں نے بھی کسی لنک کی وساطت سے وہ ویڈیو دیکھی ہے مگر مجھے وہ پیغیام کی بجائے غصہ ہی لگا ہے جس میں اس بندے نے اپنے اندر کا غبار نکالا اور گالیوں کی شکل میں سب کچھ باہر انڈیل دیا۔ غصہ انسان کو تب ہی آتا ہے جب اسکا کوئی نقصان ہوا ہو ، یا پھر ایسی صورت میں جب کسی مشکل کا شکار ہو اور اسکا حل تلاش نہ کر پارہا ہو، غصہ کی ایک اہم بات یہ کہ یہ تبھی آئے گا جب آپ کو اپنی بے گناہی اور معصومیت کا مکمل یقین ہو، مجرم دل بندہ میسنی سی صورت بنا لے گا یا چار گالیاں کھا کر بھی غصہ نہیں کرے گا۔ گالیوں اور غصہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور عمومی طور پر پہلے غصہ بلند آواز کی شکل میں پھر اور پھر اسکے بعدگالیوں کی شکل میں تبدیل ہوتا ہے اور اسکے بعد ہاتھوں اور پھر ڈنڈوں اور دیگراوزاروں مثلاُ چھری چاقو، پستول، بندوق کلاشنکوف اور توپ وغیرہ کا استعمال ہوتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ کل کا گالیاں دینے والا آج ہاتھا پائی نہ کرے، اور آج ہاتھا پائی کرنے والا کل کلاں دیگر اوزاروں پر نہ اتر آئے۔ اور اگر انکی تعداد زیاد ہ ہوگئی تو ؟؟؟؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 22, 2010

معاشرتی انحطا ط

سیالکوٹ کے المناک انسان سوز واقعہ کو دماغ سے نہیں نکالا جارہا، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم اپنی معاشرتی، مذہبی اور سماجی اقدار کو قطعی طور پر فراموش کرچکے ہیں۔ پولیس کی موجودگی میں دو انسانوں کا پر تشدد اور بے رحمی سے قتل عام، وہاں پر موجود لوگوں کی بے حسی اور اسے انجوائے کرنا، لاشوں کی بے حرمتی، سب دیکھ کر اس میں کراچی کی ٹارگٹ کلنگ، نو گو ایریاز، سیلاب زدگان کی زبوں حالی اور انکا غصہ، عوامی بے حسی سب ملاکردیکھیں تو لگتا ہے کہ کل کلاں سیلاب زدگان بھی اپنی بدحالی پر پریشیانی کی بجائے غصہ کو اپنائیں گے۔ ایسی صورت میں ملک میں افرا تفری ہوگی اور پھر امریکن یورپی اور دیگر دنیا کے نام نہاد علمبردار ہماری معاشری حالت کو سدھارنے اور امن قائم کرنے کو آوارد ہونگے۔ خاکم بدہن

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 22, 2010

رات کو دیر سے گھر جانا

پاکستان میں تھے تو پرھنے کے دنوں میں صرف پڑھا جاتا اور ویک اینڈ پر اور چھوٹیوں میں رات رات بھر پہلے تو چھپن چھوتی (چھپنا ڈھونڈنا) اور پھر تاش کی بازیاں لگیں یار لوگ اپنی بیٹھک میں یا فارم پر یا کسی اور دوست کی بیٹھک میں تاش کےلئے براجمان ہوتے اور پھر بانگ سحر پر بھاگ لیتے، کہ بہت دیر ہوگئی ہے ماں جی سے چھتر پڑیں گے اور یہ کہ آئیندہ سے جلدی گھر جایاکریں گے، یعنی رات ایک بجے، چھتر واقعی پڑتے کہ باوجود کوشش کے کہ ماں جی کو پتہ نہ چلے دابے پاؤں چلتے مگر وہ پہلے ہی سے جاگھ رہی ہوتیں، اور بس اتنا اعلان کرتیں کہ کجنرا اس ویلے ایا ہیں، سوجا، سویرے تیرا مکو ٹھپساں(خبیث تم اس وقت آئے ہو، ابھی سو جاؤ، صبح تجھے چھترول ہوتی ہے) اور پھر صبح منہ چڑھا کر دن چڑھے جب اٹھتے اور ناشتہ کے بعد اماں سے تین چھتر اور بیس گالیاں پڑتیں۔ دوسرے دن جاتے ہیں منڈلی کو کہتے کہ بھی میں تو بارہ بجے گھر چلا جاؤں گا کہ آج بہت بےعزتی خراب ہوئی ہے۔ پس اس دن بھی جب بازیاں لگ جاتیں تو شاہ جی میرے ساتھی ہوتے اور ارشد مودی اور نیدی ہمارے مخالف، دیکھنے والے بھی پانچ ساتھ ہوتے اور یہ ساری کابینہ تھی، فیصلہ ہوتا کہ اگر تم نے جلدی جانا تو مخالفوں کو کوٹ کرو، مگر کوٹ تھا کہ ہوکر نہ دیتا اور ہم پھر تین بجے باقیوں کے ساتھ گھر جاتے اور اگلے دن پھر چھتر کھاتے۔ بہت سالوں بعد یہ روایت چلتی رہی، کابینہ کے بندے اکثر دوسرے شہروں میں پڑھنے اور ملازمت کرنے چلے گئے بشمول ہمارے مگر ویک اینڈ پر سارے گھر اور پھر وہی جمعہ کو چھتر و چھتری۔ حتٰی کہ جب ہم کالج میں لیکچرار تھے اور ایک شام کا کلینک بھی تھا تب بھی یہی روٹین رہی۔ مگر پھر صرف گالیاں پڑتی تھیں۔ عرصہ سے اٹلی میں براجمان ہیں تو یہاں پر بھی ایسے ہی رہا، رات کو جاگنے کی عادت نہ گئی، پہلے سال پڑھتے رہے اور پھر دوستوں کے ساتھ شام کو باہر نکلنا مگر یہاں پر رات کو جس وقت بھی آؤ پوچھنے والا کوئی بھی نہیں ہوتا بھلے نہ آؤ، روم میٹ کو کیا؟ اور جب پوچھنے والے گھر پر ہوں تو ہمیں باہر کیوں جانا ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 20, 2010

بڑے

بڑوں کے کام نرالے ہی ہوتے ہیں اور بڑے خود بھی، ہمارے دوست خان صاحب ایتوار کو ہمارے ہاں تشریف لائے، ایک مشترکہ دوست کے ہاں فاتحہ خوانی کو جانا تھا، ٹی وی پر خبرتھی کہ چاچی ھیلیری آرہی ہیں، جبکہ لالہ ہالبروک ابھی حال ہی میں چند روز قبل واپس گیا ہے، اسی دوران انڈیا عظیم سے ایک لالہ جی تشریف لائے اور لال بھبھوکا ہوکر واپس ہولئے، میں خان صاحب کو کہہ رہا تھا کہ جب بھی ایسا لالوں کا ایک ساتھ وزٹ ہوتا ہے تو گلہ ضرور دبتا ہے یا خود پاکستان کا یا پھر پاکستان کے ذریعے کسی اور کا، اندازہ تھا کہ کسی اور کا ہی ہو۔ مگر قرعہ اپنے نام ہی نکلا، کل معلوم ہوا کہ افغانستان کو چرس، افیون اور جعلی قیمتی پتھر بڑی تعداد میں انڈیا کو دینا ضروری ہیں لہذا گزرنے کی اجازت ہے، پھر یہ کہ انڈیا نے بھی تو ادھر جاسوس، ڈانگ مار، کند ٹپ قسم کےلوگ بھجوانے ہیں تو اسے بھی اجازت ہے۔ پاکستان کو بھی کاغذوں میں اجازت ہے کہ وہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کرے گا، مقر خان صاحب پوچتھے ہیں کو افغان حکومت کو خود کابل باہر اور امریکی فوجیوں کو چھاونیوں سے باہر جانے کی اجازت طالبان سے لینی پڑتی ہے، پاکستان حکومت کونسا کارڈ کھیل رہی ہے میرے خیال سے تو پاگل پن کا، آپ کے خیال میں کیا سیانی بات ہوسکتی ہے جو ملکی مفاد میں ہو؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 09, 2010

جعلی ڈگری والے اراکین کی سزا

جعلی ڈگریوں والے ممران پارلیمنٹ کو گنجا کرکے اور جعلی ڈگری ہاتھ میں دیکر بمعہ انتخابی نشان کے کھوتے پر بٹھایاجائے اور بازار میں پھرایا جائے ہر بندے کو درخواست کی جائے کہ وہ اسے دو جوتے مارے، تین دن کے بعد انکو گھر میں نظر بندکردیا جائے اور یہ کہ یہ لوگ ایک برس کےلئے محلے کی نالیاں صاف کیا کریں، ساری زندگی کےلئے ان پر سرکاری، نیم سرکاری ملازمت بند، کاروبار کی اجازت نہیں، پاسپورٹ ضبط اور بیرون ملک سفر پر پابندی۔ سیاست سے ہمیشہ کےلئے بلیک لسٹ، بلکل جس طرح چائنا میں جعل سازی کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے کچھ لوگ ٹی وی پر نیہایت بے شرمانا انداز میں کہتے ہیں کہ وہ قانون ہی کالا تھا اور میں اس کو نہیں مانتا، میاں نا ں مانو مگر جھوٹ بولنے والوں اور جعل سازوں کو ہم اپنا رہنما کیسے مان لیں۔؟؟؟؟ مگر پارٹیاں ہیں کہ پھر انہیں لوگوں کو ٹکٹ دے رہی ہیں بلکہ انکو مشیران خاص بھی مقرر کیا جارہا ہے۔ کہ میاں کوئی بات نیہیں ڈگری جعلی ہے تو کیا ہوا حکومت کے مزے تو لوٹو، پنجابی کا محاورہ بے شرماں دے ٹہوے تے اک جمیاں، تے کہن لگے کہ کیی ہویا یاراں نے تے چھاویں ہی بہنا ہے، یعنی بے شرموں کی پیٹھ پر آک اگا تو کہنے لگے کہ کیا ہوا یاورو کو تو سائے میں ہی بیٹھنا ہے، در فٹے منہہ ہت تیری کسے کتا رکھن والے دی

مکمل تحریر  »

پیر, جولائی 05, 2010

اٹلی میں پہلی شاددی کی دعوت

اٹلی ایک ایسا ملک ہے جہاں خاندانی قوانین بہت سخت ہیں اور یہ کہ اس سختی سے بچنے کےلئے عوام نے شادی کرنا کم کردیا، ہمارا سابق کولیگ جوانی عمر نہیں، اس کا نام ہے جسکو انگریز جان کے پکارتے ہیں ایک دن بہت فری ہوکر بتلا رہا تھا کہ مجھے اپنی منگیتر کے ساتھ رہتے ہوئے 23 برس ہوگئے ہیں اور ہمارے 3 بچے بھی ہیں، سوچ رہے ہیں کہ ہم اب شادی کر ہی لیں، میں نے پوچھا کب تک متوقع ہے یہ شادی؟ بولا معلوم نہیں ابھی تو صرف سوچ ہی رہے ہیں ہوسکتا ہے آنے والے سالوں میں کرہی لیں۔ بہرحال ابھی تک میں کنوارہ ہی ہوں۔ یہاں پر ضروری ہے کہ یاد دلایا جائے کہ ایک عورت بغیر شادی کے اگر بچہ پیدا کرتی ہے تو اسکی مرضی ہے کہ اسکے باپ کا نام لکھوائے یہ نہیں۔ ویسے ایک بات اور بھی کہ اول تو لوگ شادیاں ہی نہیں کرتے پھر اگر کربھی لیں تو بچے نہیں اسی وجہ سے اٹلی کی شرح پیدائش چند برس قبل صفر تھی، مگر آج کل کچھ بہتر ہے کہ غیرملکیوں کے ہاں بچوں کی پیدائش بکثر ت ہورہی ہے۔ حکومت نے لوگوں کو لالچ دیا ہوا ہے کہ فی بچہ 1200 یورو ماں کو اور 8 ماہ کی چھٹیا ں بمعہ تنخواہ اور اگر بیوی جی کام نہ کرتے ہوں مطلب ہاوس وائف کو 500 ماہانہ ایک برس کےلئے۔ غیر ملکیوں کے تو مزے ہیں، بچوں کے بچے اور مفت میں یوروز بھی، یعنی چوپڑیاں بھی اور دو دو بھی، اس بارے میں کوئی کلام نہیں۔ ھیلینا ہمارے کورس کی سیکرٹری تھے جو ہم 45 کے قریب مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے بریشیا کی تاریخ اور شہر کے اہم مقامات کے بارے میں کررہے تھے، پاکستان سے واپس آیا تو ھیلینا کی ای میل موجود تھی کہ اگر میری شادی پر چرچ میں تشریف لاوٗ تو میرے لئے باعث صد افتخار ہوگا، لو جو چونکہ اس فقرہ میں بندہ کا نام تھا تو جانا لازم ٹھہرا، پھر بنگلہ دیش کے زمان کا فون کہ میں بھی جاوٗں گا تم بھی لازم چلو، برازیلین مونیکا کا اصرار کے ایک ساتھ چلیں ، بیلوروس کی اولیسیا کا بھی اصرار کہ چلو ہی چلو، پھر میری اپنی بھی خواہش بھی اور تجسس بھی کہ اٹالین لوگ شادی کیسے کرتے ہیں، سنا تو تھا مگر دیکھنے کی خواہش تھی۔بلکل قصہ حاتم طائی بے تصویر کے مصداق، اولیسیا میرے آفس میں مقر رو قت پر پہنچی اور پھر زمان ہمیں پک کرنے آگیا، مقررہ وقت پر ہم لوگ پہنچے ایریا میں ، چونکہ کسی کو بھی چرچ کی درست لوکیشن کا علم نہ تھا ، تو سوچ رہے تھے کہ کسی سے پوچھیں، ایسے میں ہی دلہن اور دلہا ایک سجی سجائی بابا قائداعظم کے زمانے کی پرانی کار میں نظر آئے ہمارے ہاتھ ہلانے پر انہوں نے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور ہماری گاڑی فوراُ انکے پیچھے، لو جی فوراُ انکے پیچھے آنے والی گاڑیوں نے جن پر پھول بھی لگے ہوے تھے کہ براتی ہیں ہارن بجانا شروع کردئے، گویا کہ رہے ہوں، اوئے تہاڈا کجھ نہ رہے تسیں کتھوں آوڑے ہو۔ چرچ میں 2 گھنٹے پر مشتمل تقریب تھی جس میں میوزک بھی تھا، دعائیہ مجلس بھی اور پھر دلھا دلہن نے ایک دوسرے کو سب کے سامنے قبول کیا اور اچھے برے حالات میں ایک ساتھ رہنے کی قسم کھائی، ایک دوسرے کو انگوٹھیاں پہنائیں اور پھر پادری صاحب کی طرف سے اذن ہوا کہ اب دلھا دلھن ایک دوسرے کا بوسہ لیں، اس سے پہلے بھی وہ بوسے لے ہی رہے تھے مگر اس کو مقدس بوسے کا نام دیا گیا، پھر نکاح نامہ پر دستخط اور کا م ختم، آخری تقریب نو بیہاہتہ جوڑا پر چاول پھینکنے کی تھی، لوگ جلدی سے باہر نکلے اور چاولوں کے پیکٹ کھول کر کھڑے ہوگئے جس کے پاس ہماری طرہ نہیں تھے انکو دائیں بائیں سے امداد مل گئی ، بس یار لوگ تاک میں کھڑے ہوگئے جونہی دولھا دلھن باہر نکلے تو ہر بندہ بچہ بن گیا،، خوب کس کر انکو چاول مارے گئے ، کوئی کہہ رہا تھا کہ اسے بچے ذہین پیدا ہونگے ، اگر ہوئے تو، پھر مبارک بادیں اور معانقہ اور پھر اپنے اپنے کام پر، جس کے پاس زیادہ وقت تھا وہ انکے ساتھ ایک بار میں ڈرنک پینے اور جام ٹکرانے چلا گیا۔ ہم تو سدا کے عدیم الفرصت ٹھہرے

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 03, 2010

مذہبی مقامات پر افراتفری

فرقہ واریت ایک المیہ ہے اور اس سے بھی بڑا المیہ ہمارے ملک کا یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسے تن آسانی کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ جہاں پر بھی کوئی دہشت گرد ی کا واقعہ ہوا حاکم وقت نے اسے القائدہ، طالبان، فلاں لشکر، فلاں جماعت، اور فلاں فرقہ پر ڈال کے ہاتھ جھاڑ لئے، کوئی ان سے پوچھے میاں سب مان لیا مگرکوئی ثبوت؟ کسی ذمہ دار کو سزا؟

کچھ بھی نہیں، گزشتہ سالوں سے آپ بھی دیکھ رہے ہیں میں بھی۔ یہاں مسجد میں جمعہ کاشنکوف کے سائے تلے، جنازہ پر جامہ تلاشی، امام بارگاہ میں اور چرچ میں بندوق بردار بندے، مگر کسی سیاسی جلسہ میں دھماکہ نہیں ، کسی شادی بیاہ میں دھماکہ نہیں البتہ، مزاروں پر ، مسجدوں میں، مدرسوں میں ضرور ہوتے ہیں۔

لاہور داتا صاحب کے مزار پر ہونے والے دھماکے بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی دکھتے ہیں، کہ پاکستانی عوام چونکہ اکثریت سے مذہبی ہے اس لئے مذہبی مقامات پر افراتفری پیدا کرکے ان لوگوں میں انتشار پھیلایا جائے۔

اس سے کہیں یہ تو ثابت نہیں ہوتا کہ ایسی قوتیں ہیں جو اس ملک میں مذہب اور مذہبیوں کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہیں اور کہیں انکا مقصد صرف اہلیان مذہب کو منتشرکرکے ملک میں افراتفری پھیلانا تو نہیں تاکہ وہ اپنے مذموم مقاصد پورے کرسکیں، اس میں صرف ملک دشمن قوتوں کو ہی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اور بھارت، امریکہ ، اسرائیل سے زیادہ کوئی اور بڑا دشمن نہیں،

جو دوست نما بھی ہیں۔ دوست ہوئے جسکے تم دشمن اسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقول چچا سعید کے انکا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ جو آپ کے پاس کچھ پٹاخے پڑے ہوئے ہیں وہ لےجائیں اور بس، پھر ہم تو دوست ٹھہرے بس تم خالی ہاتھ اور ہم ہمیشہ کی طرح ہتھیار بند

مکمل تحریر  »

جمعہ, اپریل 16, 2010

اور کھلا ایک پھول

مکمل تحریر  »

چن

چن پنجابی کا لفظ ہے جس کو اردو میں چاند کہاجاتا ہے، ایک کثیر المطالب لفظ ہے۔ وہ چن جس کے دکھائی دینے اور نہ دینے پر مولویوں میں جھگڑا ہوجاتا ہے، زمانے گزرگئے مگر اتفاق نہ ہوسکا، حد تو یہ کہ ایک ہی شہر میں مختلف لوگ چن کو دیکھ لیتے ہیں اور کچھ نہیں دیکھ پاتے اور دوسروں پر یقین بھی نہیں کرتے، جس نے دیکھ لیا اسکی عید ہوگئی، اور جو نہ مانا وہ روزے سے گھوم رہا ہوتا ہے اور اپنی جان کو اور دوسروں کی نظر کو کوس رہا ہوتا ہے۔ اس بارے میں فرققہ بھی بن جاتا ہے اور حد تو یہ ہے کہ لنڈن جیسے شہر میں سنا ہے کہ 3 یا 4 چاند نظر آنے کی روایت عام ہے۔ اس سلسلہ میں کہا جاسکتا ہے کہ اپنا اپنا چن چڑھاوٗ۔ پھر ایک اور قسم جو محلے کی عورتیں گالی کی مد میں استعمال کرتی ہیں کہ یہ لڑکی ضرور کوئی چن چڑھائے گی، اور اسکے فوراُ بعد ہاتھا پائی شروع ہوجاتی ہے۔ آپ کسی کو نہ کہہ بیٹھنا ورنہ حثیت ازالہ عرفی کا اندیشہ ہے اور ہتک عزت کے مقدمہ میں عدالت سے بلاوا بھی آسکتا ہے۔ یہ عموماُ غریب لوگوں کا چن ہوتا ہے ایک اور قسم چن کی جسکے بارے میں روایت ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دو ٹکڑے ہوجائے گا،ا س مقصد کےلئے وہی چن استعمال ہوگا جس کے نظر آنے اور نہ آنے کا جھگڑا علمائ میں آج بھی چل رہا ہے، کوئی دوسرا چن دستیاب نہیں ہے۔ پھر ایک اور چن جسکو چندا ماموں بھی کہا جاتا ہے اور اکثر دور کے ہی ہوتے ہیں، جیسے ہم اپنے بھانجیوں بھانجوں سے دور ہیں، تو ہو سکتا ہے وہ بھی ہر نئے چاند پر کہتے ہوں چندا ماموں دور کے، اس بارے میں ہم اپ کو خاصا خوش نٖصیب سمجھتے ہیں۔ پھر ایک چن ماہی بھی ہوتا ہے جسکا پنجابی کی شاعری میں بہت استعمال ہوتا ہے اور صرف معشوق کو ہی نہیں بلکہ دوست بھی کہا سکتا ہے، کچھ لوگوں کا تو تکیہ کلا م بھی یہی ہے، چن ماہی توں کل فون کریں۔ میرا چن پتر ماں اپنے کالے کلوٹے بیٹے کو کہہ رہی ہوتی ہے، بقول پطرس بخاری دن چڑھےاسکا منہ دھلواتی ہے اور جی کڑا کر کہتی ہے میرا پتر تے چن ورگا لگدا ہے، اسی طرح سے چن مکھناں بھی ہے مگر اسکا کھانے والے مکھن سسے کوئی تعلق نہ ہے، ہوسکتا ہے کہ لگانے والے مکھن سے ہو، بلکہ یوں کہہ لیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ چن مکھنا اکثر پرانی بوڑھیاں، نانیاں، دادیاں استعمال کرتی ہیں، نہائیت بے ضرر بات ہے، البتہ اگر کوئی معشوق ٹائپ کی جوان لڑکی آپ کو کہہ دے، تو ضرور خوش ہو لیں، ہوشیار رہئے گا کہ اگر کسی اور نے سن لیا تو سمجھے گا کہ ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ ایک اور چن ہمارے ایک دوست تخلص کرتے ہیں، شاعر تو خیر سے نہٰیں مگر صاحب تخلص ضرور ہیں، البتہ بقول شاعر انکا تکیہ کلام ہے ، نثر بیان کرنے پر بھی کہ دیتے ہیں کہ بقول شاعر میں کل میلانو جاوٗں گا، اپنے آپ کو صحافی کہلوانا اچھا سمجھتے ہیں اور اگر آپ انکو چن صاحب کہہ کر نہ بلوائیں تو ناراضگی کا بھی اندیشہ ہے، اس طرح کے دوست کہ میرا فون نہیں اٹھائیں گے اور ساتھ میں ہوں تو سارا وقت فون پر بات کرتے ہوئے گزار دیں گے، کسی اور کے ساتھ۔ پر کہا جا سکتا ہے کہ دوست ہوئے جس کے تم دشمن اسکا آسمان کیوں ہوا کرے، یہاں تم سے مراد چن ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, اپریل 06, 2010

عجیب دن

آج میرے لیے بہت عجیب دن ہے، کوئی بھی کام کرنے کو دل نہیں کر رہا اور نہ ہی کسی کلائنٹ کو سرو کرنے کا، فواد میرا دوست کہ الجیریہ کا ہے، میرا دماغ کھا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ اسے اٹھا کر باہر پھینک دوں

مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 24, 2010

اٹلی، یکم مارچ، ایک دن ہمارے بغیر

یکم مارچ، ایک دن ہمارے بغیر ، اٹلی میں غیر ملکیوں کے یہاں پر بننے والے نسلی عصبیت پر مبنی قوانین کے خلاف ایک دن کی مکمل ہڑتال کا اعلان کردیا ہے، یہ مہم فرانس سے شروع ہوئی تھی اور اٹلی میں فیس بک پر اسکا اعلان ہوا، گزشتہ عرصہ سے اٹلی میں ایک تسلسل کے ساتھ غیر ملکیوں کے خلاف ایسے قوانین بن رہے ہیں جن سے انکے حقوق سلب ہورہے ہیں، ان میں مقامی حکومتیں پیش پیش ہیں، اور خاص طور پر شمالی اٹلی میں جہاں پر دائیں بازو کی جماعتیں اکثریت میں ہیں، وہاں پر ہر روز نت نئے اور عجیب غریب قوانین بن رہے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ بریشیا میں غیرملکیوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو بچہ الاؤنس نہ دینا، کمونے دی ترینزانو میں صرف اٹالین زبان بولنا لازم، مونتی کیاری میں مسجد بنانے پر پابندی، وغیر وغیرہ اس سلسلہ میں تمام غیر ملکیوں اور نسل پرستی کے خلاف اٹالینز اس دن کام پر نہیں جائیں گے، کاروبار بند رکھیں گے، بچے اسکول نہیں جائیں گے، اور بریشا میں دس بجے دن سے لیکر دو بجے سہہ پہر تک احتجاجی جلسہ پیاسا لوجا میں ہوا۔ آج کی پریس کانفرنس میں سب کو دعوت دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تمام مزدور تنظیموں اور کے علاوہ سیاسی جماعت پی ڈی بھی اس احتجاج میں شرکت کا اعلان کرچکی ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 23, 2010

دورہ کیا

آج کل مختلف اخبارات میں خبریں کم ہیں اور صاحبان اخبار جو عرف عام میں صحافی کہلواتے ہیں نے مختلف دکانوں اور کاروباریوں کے دورے کرنا شروع کردیے ہیں، مثلاُ آج کل خبر یوں ملتی ہے، کہ فلاں اخبار کے شیخ صاحب نے فلاں شیخ صاحب کی دکان کا دورہ کیا، یہ نہیں لکھا کی کیا خریدا اور کیا گاڑی کی مرمت کروائی تو لکھ دیا کہ ورکشاپ کا دورہ کیا۔ کسی ٹریول ایجنسی پر پاکستان کےلئے ٹکٹ کی معلومات لینے گئے تو ٹریول ایجنسی کا دورہ ہوگیا ، گوشت لینے کی حاجت ہوئی تو قصاب کی دکان کا دورہ ہوگیا، بلکہ تو بعض خبروں میں تو یہ بھی لکھا مل سکتا ہے جیسے کہ بریشیا کے فلاں اخبار کی ٹیم نے فلاں نائی کی دکان کا دورہ کیا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ نہ لکھیں وہاں پر انکی حجامت ہوئی کہ نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آج کل ہمارے یہاں بھی کوئی صحافی صاحب دورہ پر نازل ہوجائیں۔ بقول شخصے وہ آئیں آفس میں ہمارے ہم انکی راہ تاکتے ہیں دروغ بر گردن دریائے راوی

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 18, 2010

Il nome che propongo per l’A380 Lufthansa

Il nome che propongo per l’A380 Lufthansa: "Il più grande e moderno aereo passeggeri del mondo cerca nome. Contribuisca anche lei e potrà vincere 1 milione di miglia premio Miles & More: su lufthansa.com/A380"

مکمل تحریر  »

لسانی تضاد کو ہوا کیوں؟

میں نے فیس بک میں ایک بحث ایک پوسٹ پڑھی جو اس بات پر تھی کہ جہلم کو نیا ڈویژن بننا چاہئے یا چکوال کو؟ چونکہ گروپ کا نام ہی ہمارا چکوال ہے تو لازم ہے کہ اس میں شریک لوگ بھی چکوال سے متعلقہ ہونے چاہئیں میں بھی اس لئے اسکا ممبر ہوں میں جہلم اور چکوال کو ایک ہی سمجھتا ہوں، مگر اس بحث کو بغور پڑھا اور مجھے بہت حیرت ہوئی کہ لوگ ایک چھوٹے سے معاملہ میں کس طرح لسانی، تہزیبی اور تمدنی امور کو استعمال کرتے ہیں، جہلم اور چکوال میں تمدنی طور پر نہ پہلے کوئی فرق تھا اور نہ اب ہے۔ صرف جہلم جی ٹی روڈ پر ہونے اور چکوال کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک کی معاشی حالت بہتر اور دوسرے شہر کی کم بہتر تھی، اب چکوال موٹر وے پر ہے تو دیکھئے گا کہ مذید چند برسوں میں وہاں بھی بہتری آئے گی، بات رہی ڈویژن کی تو وہ جہلم ہی ہونا چاہئے کہ ہر طور علاقہ کا سماجی مرکز ہے اور بات رہی دور دراز علاقوں کی تو عوام کو ڈویژن کے ساتھ کیا لینا یہ تو صرف ایک انتظامی معاملہ ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو چکوال سے سال میں ڈویزن کے کاموں کےلئے پنڈی جاتے ہیں؟ شائد کوئی نہیں، ہاں انتظامیہ کےلوگ ضرور ہیں جن میں سے کسی کو نزدیک ہوگا تو کسی کو دور ۔ اوپر دوست تہذیبی اور لسانی تفرقہ کی بات کررہے تھے؟ ان سے میرا سوال ہے کو جہلم اور چکوال میں کونسی لسانی اور تہذیبی دوریاں ہیں؟ کیا چکوال کی تہذیب رومن اور جہلم کی یونانی ہے؟ یا ایک کا تعلق آرین سے اور دوسرے کا تعلق مصریوں سے ہے؟ کیا جہلم میں فارسی اور چکوال میں سنسکرت بولی جاتی ہے؟ بھائیوں کچھ خوف کھاؤ اور غیر اہم معاملات میں تفرقہ بازی کو ہوا دینے سے گریز کرو

مکمل تحریر  »

پیر, فروری 01, 2010

انہے کتے ہرناں دے شکاری

ڈاکٹر سمیر صاحب ہمارے کالج کے زمانہ کے لنگوٹیے ہیں جسے وہ انڈرویر فرینڈ ہونا ترجمہ کرتے ہیں، آجکل ہمارے شہر کے دورے پر ہیں اور اکثر ملاقات کا حظ اٹھایا جا رہا ہے ڈاکٹر صاحب موصوف پنجابی محاوروں کے کشتے کے پشتے لگادیتے ہیں۔ آج جناب تشریف لائے تو ساتھ میں ڈونر کباب بھی پکڑتے لائے کو لنچ اکھٹے ہوگا۔ کھانا کھاچکنے کے بعد ہر انسان کی طرح ان پر بھی فلسفہ کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ کہ جناب دیکھو یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ حضرت خمار طعام کی مد میں ایک انگڑائی لے کر گویا ہوئے، انہے کتے ہرناں دے شکاری، یعنی نابینا کتے اور ہرنوں کا شکار، شکار انہوں نے کیا کرنا ہے بس ادھر ادھر دھکے ہی کھانے ہیں اور لڑھکتے پھرنا ہے۔ بس ایسے ہی زندگی بیت گئی ہے کہ خود نہیں معلوم ہوا کہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیا کررہے اور جو نہیں کرنا چاہ رہیں وہ ہو رہا ہے۔ بس دھکے کھاتے اور لڑھکتے زندگی گزر رہی ہے۔ اس قصہ میں آپنی طرف سے یہ اضافہ کرتا ہوں کہ ہر پردیسی کی زندگی ایسی ہی ہے۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 29, 2010

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش