جمعہ, نومبر 23, 2007

اٹلی میں بیرون ملک کارکن

اٹلی میں دسمبر کے شروع سے سپانسر کا قانون آرہا ہے۔ جس کے مطابق کاروباری حضرات بیرون ملک سے کارکن بلواسکتے ہیں۔
اس دفعہ درخواست براستہ انٹرنیٹ ہوگی۔ جو وزارت داخلہ کی سایئٹ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
میرا اپنا خیال ہے کہ اگلے ماہ کے شروع میں ڈیکلیریشن آئے گا اور وسط میں درخواستیں جمع ہونا شروع ہوں گی۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ مالک کارکن کی معقول آمدن اور رہائش کا بندوبست کریں۔

مکمل تحریر  »

بدھ, نومبر 21, 2007

آئین معطل کرنا اور سزا

آئین کے مطابق اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسا کرنے والے کی سزا موت قرار دی گئی ہے۔
کیا کوئی وکیل صاحب آئین کی اس دفعہ کو جانتے ہیں، اگر ایسا ہے تو اس دفعہ کا حوالہ ضرور دیجئے گا
بندہ مشکور ہوگا

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 17, 2007

پاکستان کی ایمرجنسی اور امریکی دلچسپیاں

آج کے اخبار کے مطابق امریکہ کے مسٹر جان پاکستان پہنچ کر صدر اور جرنیلوں سے ملاقات کر کے انہیں صدرِ امریکہ بہادر کا
پیغام بھی پہنچا چکے ہیں، محترمہ بھٹو اور عاصمہ جہانگیر آزاد ہوچکی ہیں۔ نواز شریف باہر اور عمران خان ہنوز اندر ہیں۔
میں اس معاملے کو صرف پاکستان کا اندرونی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ میرے خیال میں یہ دہشت گردی کے نام سے شروع تیسری عالمی جنگ کے تسلسل کا ایک حصہ ہے۔ جس کے تحت افغانستان اور عراق پر حملہ کے بعد ایران پر دباؤ ڈالا گیا جسے وہ برداشت کرگئے، وجہ عوامی حکومت کا ہونا تھا۔ جبکہ پاکستان کی صورت حال اسکے برعکس ہے، عوامی حکومت کی عدم موجودگی ہمیں افغانستان اور عراق کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ عوام حکومت کو ناپسند ہی نہیں کرتی بلکہ سڑکوں پر آچکی ہے ۔ عوام کی زبان پر مشرف کے خلاف گالیاں ہیں۔ فوج جس میں عوام ہی بھرتی ہوتی ہے، عوام سے کٹ چکی ہے۔ ایسی صورت میں شمالی علاقہ جات جہاں پہلے ہی وفاق کا اثر کم ہے اپنی آذادی کا اعلان کر رہے ہیں۔ عدلیہ کو مفلوج اور میڈیا کا بند کردیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی اس حکومت کو گرا دے تو شاید عوام اسی طرح اسکا استقبال کریں جس طرح صدام کا مجسمہ گرانے والوں کے اس دن عراقی عوام نے کیا تھا۔
یہ ساری صورت حال پیدا کی گئی ہے اور ان حالات میں اگر امریکہ بہادر شمالی علاقہ جات پر حملہ بھی کردے تو جن سے طالبان قابو نہیں آرہے وہ امریکی فوج کا کیا مقابلہ کریں۔ گزشتہ دنوں خبر تھی کہ امریکہ نے ایمرجنسی کی صورت میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کےلئے ایک خصوصی فورس تشکیل دی ہے، سیاق وسباق کےمطابق یہاں حفاظت قبضہ کے مترادف لگتی ہے۔ دکھائی تو ایسے ہی دیتا ہے کہ صدر مشرف استعمال ہو رہے ہیں اور انکے بعد آنے والی حکومت بے نظیر کی ہوگی جو امریکہ سے جانے کیا وعدہ وعید کرچکی ہیں کہ وہ انکے اقتدار میں آنے کےلئے اس قدر تڑپ رہے ہیں۔ کہ ایمرجنسی ہٹاؤ، وردی اتارو، شفاف انتخابات کرو۔ میں بھی یہ کہتا ہوں اور آپ بھی یہی کہتے ہیں مگر دیکھنا ہے کہ امریکہ بہادر کو اس میں کیا دلچسپی ہے۔ کہ نواز شریف کی دوبارہ ملک بدری پر انہوں نے شور نہیں مچایا نہ ہی عمران خان اور قاضی کی قید پر۔ جبکہ بے نظیر اور عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ہر کوشش کی جارہی ہے۔ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ کہ احوال تو سانپ کا سا ہوچکا ہے جس نے چھچھوندر پکڑ لیا اب اسے نگلتا ہے تو کوڑی ہوجاتا ہے اور اگلتا ہے تو اندھا۔ مشرف اگر حکومت میں رہتے ہیں تو ملک کا ناس ہو جائے گا اور اگر ان حالات میں بے نظیر کے حوالے کرتے ہیں وہ جانے کیا گل کھلائے گی۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, اکتوبر 12, 2007

عید مبارک

یہان اٹلی میں آج عیدمبارک کا یوم تھا، رمضان المبارک ختم ہوا اور عوام نے دن دھاڑے کھابے کا مظاہرہ کیا، عید کا مطلب ہی خوشی ہے مگر پردیس میں یہ عید وطن سے دوری کے احساس کے ساتھ آتی ہے اور عید کا مطلب صرف عید کی نماز پڑھنے اور پاکستان فون کرنے تک ہی رہ جاتاہے، پھر وہی کام کاج۔
خیر یہ احساس محرومی اور آنسو بہانا تو اب عادت سی بن گیا ہے، آپ احباب دل پر مت لیں اور عید مبارک قبول فرمائیں، اللہ کرے آپ کا ہر روز یوم العید ہو۔ آمین

مکمل تحریر  »

منگل, اگست 14, 2007

یوم آذادی مبارک

میری طرف بھی تمام اہلیان وطن کو یوم آزادی مبارک ہو۔
دوسروں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی بلاگ میں لکھ دیا شائد حب الوطنی صرف اتنی ہی رہ گئی ہے۔ مگر سوچتا ہوں کہ یہ کون سی آزادی ہے اور کس سے؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 17, 2007

زن کش پاکستانی

اٹلی کے وزیرداخلہ جولیانو آماتو نے پارلیمنٹ میں آپنی تقریر کے دوران فرمایا کہ عورتوں کی مارکٹائی کرنا پاکستانی اور سسلی کی ثقافت کا حصہ ہے۔ پس اٹلی کے سارے اخبارات میں یہ خبر صفحہ اول پر چھپی اور ساتھ ہی سسلی کے ناظم کا بیان کہ سسلی یورپ کا حصہ اور اسے پاکستان جیسے ملک کے ساتھ ملانا ہماری توہین ہے۔
جبکہ پاکستانیوں کو اس خبر کی خبرہی نہ ہوسکی جسکی ایک وجہ ناخواندہ اکثریت ہے اور البتہ جنکو علم ہوا انہوں نے خوشی سے بغلیں بجائیں, چلیں کسی طور پر تو مغرب کی برابری ہوئی، البتہ سفارت خانے کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی گروہ میں شامل ہیں جسے ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہے۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش