منگل, جولائی 03, 2012

سیر پولینڈ کی، دل کے ارمان


زمانہ قدیم میں جب آتش جواں ہوا کرتا تھا اور  یورپ گردی کا نیا نیا شوق سر پر سوار ہوا تو،  ہنگری اور پولینڈ ان ممالک میں سے تھے جہاں ہماری  قلمی دوستی بہت  تسلسل کے ساتھ تھی اور چونکہ بہت سے اسپرانتو دان بھی ادھر بستے ہیں اور بہت منظم ہیں   تب بھی اور اب بھی کسی نہ کسی پروغرام کی دعوت موصول ہوتی، مگر کہ ہر دعوت دعوت شیراز نیست   گر پیسہ  در جیب نیست،  دوسری وجہ پولینڈ کی موندا تورزمو   اور ہنگری کے گرم چشموں کے مساج و ہییلتھ سینٹرز کی فوٹوئیں تھیں۔

پھر وہ دن بھی آیا جب عالمی اسپرانتو میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک خاص دعوت نامہ دے مارا ، بلکہ سرکاری طور پر ارسال کیا  مگر چھڈو جی کہہ کر ایک طرف رکھ دیا،    پھر ایک پروگرام اٹلی سے بھی اسی برس موصول ہوا  ، چونکہ  دونوں کے درمیان کوئی دس دن کا وقفہ تھا تو سوچا  پھر سے پولینڈ کے بارے کہ کیوں کہ ادھر سے ہوتے ہوئے اٹلی کو نکل لیں گے بعذریہ ٹرین اور یہ بھی کہ جرمن اور آسٹریا وغیرہ کی سیر مفت میں ہوجائے گی۔  مگر پولینڈ کی ایمبیسی والوں نے تب  چائنہ ایمبیسی کے عقب میں ہوا کرتی تھی، ادھر ڈپلومیٹو انکلو کے پچھلے پاسے،  کوئی چار چکر لگواکر   ہمارے پاسپور ٹ پر  ایک چھوٹی سی مہر  لگا دی کہ جی ہم مطمعن نہیں اور یہ کہ آپ نے
درخواست بھی لیٹ دی ہے ویزہ کےلئے لہذا  رہن دو۔

میں اسکو برا بھلا کہتا ہوا اٹالین ایمبیسی کو   نکل لیا، ویزہ آفیسر نے پوچھا  بھی  کہ تم نے پولینڈ کا ویزہ اپلائی کیا تھا؟؟ تو جواباُ  ہم نے جو گالیاں بزبان انگریزی زبانی یاد تھیں وہ بھی اور جوپنجابی  کی تھیں انکو  بھی   ترجمہ کرکےپولش  ویزہ آفیسر کی خدمت میں  پیش کیا ، تو اسکے بعد اس نےمذید کوئی سوال نہ کیا، لازمی طور پر بھلے مانس  سمجھ گیا ہوگا کہ اگر اس کا ویزہ نہ لگایا تو اس سے ڈبل قصیدہ خوانی میری بھی ہونی ہے۔
خیر ہم برطانیہ میں شب بسری کرتے ہوئے ادھر اٹلی میں جلسہ پڑھنے پہنچ گئے،  مگر پولینڈ والی مہر پاسپورٹ پرہی رہی،   اور منہ چڑاتی رہی، پھر ادھر مستقل رہنے کا پروغرام ایسا بنا  کہ بس لٹک ہی رہے۔ گاہ بگاہے کسی پروغرام میں کسی نہ کسی پولش اسپرانتودان سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے اور پھر سے ادھر کی دعوت تازہ ہوجاتی ہے۔ ابھی پھر اگست میں ایک جلسہ کی دعوت  ہے۔ جاتے ہیں یا نہیں مگر  راشد صاحب سے فیس بک پر بات کر بیٹھے اور انہوں نے اپنی طرف سے بھی دعوت  دے ڈالی کے جناب ضرور آؤ اور رہو ہمارے ، پاس ، اگر موڈہو تو آپ کا ویاہ بھی کروایا جاسکتا ہے۔  خیر بات  مذاق میں رہی اور اچھا دیکھیں گے کہہ کر آئی گئی ہوگئی۔

آج اپنے علی حسن صاحب سے بات ہورہی تھی تو انہوں نے بھی  ہماری  پروگرام کو پکا کرنے کی حتٰی المقدور کوشش کی۔  آپ کو بھی شامل کرتے ہیں اس گفتگو میں  اور پھر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں  کہ ہن  ایتھے مریئے،

جناب چینی گندے نہیں ہوتے بلکہ کہ پاکستانیوں کی طرح ہر ماحوال میں ڈھل جانے اور سروائیول  کرنے والی قوم ہے، پیسے نہیں  ہیں تو  فیکٹری میں 16 گھنٹے کام کرلو اور ایک کمرے میں 12 بندے رہ لو،   ہیں تو پھر گلیانی کی  بیگم کی شاپنگاں کے قصے پڑھ لو ، پس ثابت ہوا کہ 
دنیا میں یا تو چینی چھا جائیے گے یا پاکستانی، مگر چونکہ پاکستانی ذرداری کو بھگت رہے ہین لہذا انکے چانس کچھ کم ہین،

جناب  آپ بھی پولینڈ اگست سے پہلے پہنچ جائیں کہ ہوسکتا ہے میرا بھی چکر لگ جائے تو دونوں ملک کر ادھر ایک یورپین اردوبلاگر کانفرنس کرلیں گے اور آپس میں تقسیم اتعامات و اوارڈ بھی ہوجائے ،  اور پھر    ادھر تو ایک راشد صاحب نے مجھے معشوق و شادی بھی آفر کردی پولینڈ میں، وہ بھی فری میں، آپ بتاؤ،
بلکہ دعا سے پہلے ہی آجاؤ

ضرور جائو جی یقین مانیں انکا کوئی احسان نہیں انکو تو ایک بئیر میں پڑ رہی ہو گی
ہا ہا ہا، مگر میں تو آپ کے بلاگ پڑھ پڑھ کر انکی دعوت کو ٹھکرا گیا،  یہ صاحب ادھر میرے مہمان ہوئے تھے ایک بار، ابھی ادھر ہیں اور چلتا پرزہ ہیں
جائیں جی ضرور جائیں پر وارسا میں کچھ خاص نہیں ایک ہے مازوری ریجن وہاں 
جائیں آجکل تو جنت ہو گی وہ زمین پر

نہین مجھے کراکوو جانا ہے

وہ بھی اچھا ہے بلکہ بہترین شہروں میں ایک پولینڈ کے

ہاں ادھر ہے انکا جلسہ۔   پر سنا ہے بڈھوں کا شہر ہے۔    اور جنہوں نے مجھے مدعو کیا ہوا ان میں سے کوئی بھی 55 سے کم نہ ہوگا،       ہا ہا ہا
سارے ہی کھوسٹ قسم کے اور ہتھرو سیکس بڈھاس ہیں

ہا ہا ہا ہا ۔ایک بندہ ملا تھا شکل و صورت سے ایسا تھا کہ ہمارے نوکر اور بھنگی بھی بہتر ہوتے ہیں کہتا تھا کہ ٹائون میں جائو تے کڑیاں آپے فون نمبر دے جاندیاں نے
جائو جی تسی وی پولیاں نوں آزمائو

یہ سنا ہےکوئی بیس برس پہلے کی کہاوت ہے، جسے ہمارے لوگ بھولنے کو تیار نہیں، میرا خیال ہے ابھی حالات وہ نہیں رہے

نہ جی آزما کے ویکھ لو جے واپسی تے اکیلے گئے تو تہاڈی نیت دے فتور کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں ہو گی

اگر یہ قول ہے تو فیر وہ راشد سچا ہے، مگر یہ گل آپ نے اپنے بلاگ پر کیوں نہیں لکھی، مین تو اسے ایویں ہی لتاڑ گیا

ہا ہا بھائی جان اب ہم کیوں مولوی بنیں مفت میں دوسروں کے سامنے :)اگر کہہ دیتا کہ پھنس جاتی ہیں تو مزاح کہاں سے آتا ہیں جی؟ ویسے اس میں کوئی شک نہیں شاید ہی کوئی اور قوم اتنی واہیات ہو خود میری ایک استانی تھی پولش پڑھاتی تھی کہتی تھی کہ ساری دنیا میں ہمارا تاثر ہے کہ ایک بئیر پر رات گزار لیتی ہیں اور یہ کوئی اتنا غلط بھی نہیں

ہا ہا ہا اگر یہ بات ہے تو فیر بھائی جان کہنا جھڈ دو، اور یرا کہا کرو
میرا تو ادھر پولینڈ جانے کو سخت دل کررہا

بلکہ سنہ انیصد ستانوے مین پاکستان سے پولینڈ کا ویزہ بھی ریجیکٹ کروا چکا

ضرور جائیں اور بقلم خود دیکھ کر آئیں کہ دنیا میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں اور ہمکو اجازتاں دیں 2 بج گئے ہیں اور 4 بجے لائٹ جانی ہے 2 گھنٹے سو لیں
اچھا فیر شب بخیر
اوئے ہوئے 1997 میں پولینڈ ، بھائی جان اور نہیں تو 25،30 معاشقے ایک ہفتے میں ہی کر لیتے
چلو جی عمر باقی تے صحبت یاراں باقی

نہ تپاؤ

اوس کنجر ایمسڈر نے ویزہ نہیں دیا تھا کہ جی میں مطمعن نہیں ہوں، دسو

تب تو میں نے ٹینش نہ لی اور ادھر اٹالین ایمبسی سے لے کر ادھر نکل لیا مگر اب اس کی ماں بہن ایک کردینے کو دل کررہا

ہا ہا ہا اپنی بہو بیٹیاں بچا لے گیا جی صاف

مکمل تحریر  »

اتوار, جون 17, 2012

ایک اور بیٹی ہلاک

پورے دن کی ڈرائیو سے تپا ہوا پرسوں جب واپس پہنچا تو وجاہت نے ایک میگزین سامنے رکھ دیا کہ جی اسکا ترجمہ کرو،     سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے، ایک صفحہ پر دو خبریں تھیں، ایک یہ کہ ایک پاکستانی نے اپنی دوسالہ بیٹی کو مارمارک کر ہلاک کردیا  اور دوسری یہ کہ ایک  جورجو نے اپنی بیوی کا گلادبا کر ہلاک کردیا اور پھر اسکی لاش کو جلادیا۔ پڑھ تو دونوں کو سرسری  نظر میں لیا  مگرادھ  گھنٹہ اسے کچھ کہہ  نہ سکا۔
مرنا مرانا تو خیر ہمارے لئے نئی بات نہیں  کہ بقول مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں اور جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں،   یہ بات بظاہر لگتی بھی سیانی ہے اور دل کو سکون دینے والی بھی ہے،   کہ چلو جی ڈر ختم ہوا ،  مان لو کہ اگر کوئی زلزلہ آجائے تو ہم یہ فقرہ ادا کرکے  اورکلمہ پڑھ کر پرسکون ہوکر سوسکتے ہیں کہ جو ہوگا سو ہوگا، ا ٹلی میں ویسے بھی ان دنوں زلزلے دھڑا دھڑ آرہے ہیں (میرا اس میں کوئی قصور نہیں)،   اس بارے یاتو  مایہ  قوم کو دوش دیا جائے جن کے کیلنڈر کے مطابق اس برس  کے اختتام پر قیامت برپا ہوگی اور کیلنڈر ختم، یا پھر کسی مولبی سے پوچھا جائے کہ اس بارے شرع کیا کہتی ہے، جو بھی ہو مگر یہ  دوسروں کو مارنے پر کہیں فٹ نہیں ہوتی۔

بات ہورہی تھی  بسمہ کی  جو اڑھائی برس کی تھی اور باپ کہ بقول ،   وہ روتی تھی، اور چپ ہی نہیں کرتی تھی،  آنسو اور چیخیں تب تھمیں جب  باپ نے اس بچی کو لاتو ں اور گھونسوں پر لیا  اورپھر وہ باپ اس پھول سی بچی کو لہو میں لتھڑا ہوا چھوڑ کر گھر سے نکل گیا،  یہ واقعہ مارچ میں اٹلی کے شہر مودنہ میں پیش آیا،  بمطابق اخبار بچی 13 دن کومہ میں رہنے کے بعد بس فوت  ہوگئی،    کچھ دنوں بعد اچانک باپ محمدالیاس تبسم کو قتل عمد کےزیر دفعہ گرفتار کرلیا گیا، یہ گرفتاری اچانک ہی عمل میں آئی جبکہ پہلے بچی کی ماں ثوبیہ  روبینہ پر شک کیا جارہا تھا۔

معصوم بچی کو ماں باپ ہسپتال لائے اور کہا کہ یہ باتھ روم میں گر گئی تھی ، مگر ضربات اس بیان سے مطابقت نہ رکھتی تھیں لہذا ڈاکڑ کی رپورٹ پر ، ماں کے خلاف گھریلو تشدد اور بچوں پر ستم کی دفعات کے تحت  تفتیش شروع ہوئی، مگر بات جب کھلی تو معلوم ہوا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تب ماں دوسرے کمرے میں تھی،  باپ کام سے آیا تو بیٹی کو روتے ہوئے دیکھا  جو چپ کرنے میں ہی نہ آرہی تھی  بس پہلے ہی تپا ہو اتھا تو اس کو پھانڈا لگا دیا۔  

سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی سے اپنی اولاد کا رونا بھی برداشت نہیں ہوتا تو پھر اسکو ادھر زندہ رہنے کا کیا حق ہے، ماں باپ تو اپنا پیٹ کاٹ کر بھی  اپنے بچوں کو کھلادیتے ہیں مگر یہ کیسی ظالم  قسم  کی خود پرستی ہے کہ معصوم بیٹی کو رونے کا حق بھی نہیں دیتی،  کیا لوگوں میں انسانیت نہیں  رہی،   پاکستان میں تو مان لو کہ سب کچھ جائز ہے، ہر روز کی خبر کے مطابق ایک ادھ چار پانچ برس کی بچی سے زیادتی ہوتی ہے اور پھر اس قتل کرکے کسی نالے میں پھینک دیا جاتا ہے،  ادھر تو کوئی خیر پوچھنے والا ہی نہیں، مگر یہاں پر تو جرم کا چھپا رہنا  ناممکن سی ،بات ہے، مگر اس کے باوجود ہم لوگ ، ایسے ہاتھ چھٹ ہوئے ہین کہ بس اللہ کی پناہ۔  ہماری انسانیت کہاں کو نکل لی،  ہم لوگ کتنے حرامی ہوچکے ہیں

مکمل تحریر  »

بدھ, اپریل 25, 2012

یورپ میں مستقبل کی قیمت موت

بس جی کیا بتاؤں میں نے تو کہا تھا کہ ادھر آنے کا یہ طریقہ خطرناک ہے مگر وہ نہیں مانا کہ جیسے بھی ہے مجھے یورپ جانا ہے ادھر ۔    پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔  یہ چئرمین وحید آنسو پونچھتے ہوئے بتارہے تھے۔ 

آج اٹلی  میں یوم جمہوریہ کی چھٹی ہے تو کچھ احباب قدیمی سے ملاقات کا پروغرام بنا،  خان صاحب نے بتایا کہ ہمارے چئرمین وحید کے بھانجے کا انتقال دوہفتے پہلے ترکی سے یونان میں داخل ہوتے ہوئے ادھر موجود نہر کو عبور کرنے کے دوران ہوگیا  اور کوئی ایک ہفتے بعد نعش انہوں نے ادھر سے یونان جاکر تلاش کی اور پاکستان بھجوائی۔  چئرمین وحید کا تعلق  گوجرخان  کے دیہی علاقے سے ہے اور گزشتہ دس برس میں ہمارے حلقہ احباب میں  کیسے شامل ہوئے یاد نہیں مگر نہایت شریف اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ اللہ انکو اور 
مرحوم کے دیگر لواحقین کو اس مصیبت پر صبر دے ۔  آمین 

وحید  صاحب بتلا رہے تھے کہ یہ ہمارا بہت لاڈلا اور پیارا بھانجا تھا، اسکی عمر بائیس برس تھی  اور اسکا ایک بھائی عمران پہلے ہی ادھر بسلسلہ روزگار موجود ہے، یہ والا بضد تھا کہ وہ مستقبل آزمائی کےلئے اٹلی آئے گا۔ میں نے اور  عمران نے بہت کوشش کی ہے اسے ادھر قانونی طور پر بلاونے کی مگر کوئی ترکیب کاریگر نہ ہوسکی، اور پھر ایک دن وہ کہنے لگا کہ ماموں ہمارے پنڈ کے دس بارہ لڑکے ترکی کے رستہ یونان جارہے ہیں میں بھی انکے ساتھ ہی چلا جاتا ہوں، پھر یونان سے کسی طرح اٹلی پونچ جاؤں گا۔ میں نے ذاتی طور پر اسے منع کیا کہ یہ راستہ خطر ناک ہے اکثر لوگوں کی جانیں جانے کی خبر آتی رہتی ہیں، سنا ہے بارڈر کراس کرتے ہوئےپولیس گولی بھی ماردیتی ہے۔ مگر اسکا جواب تھا ماموں لاکھوں لوگ ادھر پہنچ بھی تو گئے ہیں، ادھر پاکستان میں رہ کر بھی تو گزراہ نہیں 
ہورہا، نہ کوئی کام نہ کاج، نہ کوئی حال نہ مستقبل، ٹھیک ہے خطرہ تو ہے مگر ایک دفعہ پہنچ گیا تو پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ 

مگر وہی ہوا جسکا ڈر تھا، نہر پارکرتے ہوئے کشتی الٹ گئی اور باقی تو سارے پار لگ گئے مگر یہ بچارہ جان کی بازی ہار گیا، 
میں سوچ رہا تھا کہ وہ دن کب آئے گا جب ہمارے ملک میں امن اور سکون ہوگا اور لوگ اپنا مستقبل دیکھ پائیں گے اور انکو یورپ و امریکہ جاکر اپنا مستقبل بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، نہ ہی اس مستقبل کی قیمت جان کی شکل میں دینی پڑے گی۔ یہ خون جوگیا، یہ ایک نوجوان جو مستقبل کی بھینٹ چڑھا، یہ ایک جان جو گئی ، اسکا الزام کس کے ذمے ہے،؟؟؟ 
یہ لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کیا جائے؟؟ اس جیسے اور لوگ جو جان کی بازی ہارگئے اور جو نہیں ہارے ان کا ذمہ دار کون ہے




مکمل تحریر  »

اتوار, اپریل 08, 2012

انیٹی نارکوٹکس کے جھلے

گیلانی کےمنڈے یعنی نکے شاہ جی کے ساتھ جانے سارے تفتیشی محکمو ں  کو کوئی خداواسطے کا بیتر ہے، کہ اب انکے پیچھے اینٹی نارکوٹیکس فورس والے بھی پڑ گئے، خبروں کے مطابق ان پر ہیروئین کی تیاری میں استعمال ہونے والے کسی حساس کیمیکل کی درآمدمیں ملوث ہونے کا الزام ہے،  کوئی پوچھے کہ جناب حاجیوں کو لوٹنے کا الزام تھوڑا تھا کہ ابھی آپ کوبھی یاد آگئی ہے۔ ہیں جی۔
 ظلم ۔۔۔۔۔۔۔سارے محکمے اوس معصوم کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں،
 اوے خیال کرو ۔۔۔وہ شاہ جی بھی ہے اور پسر وزیراعظم بھی،    یعنی دو بار شاہ جی۔
ابھی شاہ جی کی بدعا سے سنا ہے کہ اس محکمہ کا ڈی جی واپس فوج کو اپنی خدمات سونپ چکا ہے، مطلب کھڈے لائن، مگر اس ظالم اور نا عاقبت اندیش محکمے نے سپریم کورٹ میں اپنے ڈی جی کی بحالی کےلئے درخواست دے دی ہے۔ حد ہوتی ہے  ، ہیں جی

اگر اس میں تھوڑی سی بھی رتی ۔۔۔۔۔ہوئی تو کل وزیراعظم ہوگا،کیونکہ جس طرح فوجی کا پتر فوجی ، ماشٹر کا پتر ماشڑ ، 
زمیندار کا پتر زمیندار اور سپ کا پتر سب، اور علیٰ ہذالقیاس ۔

 تو پھر ہوسکتا ہے حج اور اینٹی نارکوٹکس کے محکمے ہی کیا یہ الفاظ ہی ختم کردے، جناب شاہ جی کے جلال کا کیا پتا، اگر آپ کو 

پتا ہے تو بتلاؤ ہم کو؟؟؟  پھر کوئی کیا کرلے گا۔ پاغل کہیں کے، عقل کرو اور نکے شاہ جی پر انگلیاں اٹھانا بند کردو۔

نوٹ  ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جب میں نے سن آف پرائم منسٹر آف پاکستان  کو گوگلو پر سرچ کیا تو سارے فوٹو ذرداری اور اس کے منڈے کے ہی نکلے، اس بارے کوئی کچھ سمجھائے  میرے تو سر پر سے ہی بات گزر گئی ہے۔  
 ہیں جی یہ کیا چکر ہے؟؟

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اپریل 07, 2012

جمہوریت کی ہماری اپنی تعریف

 جمہوریت کا بہت  بڑا نام ہے جی۔
پوری دنیا میں جمہوریت ہونی چاہئے۔ 
جب ساری دنیا میں جمہوریت ہے تو ہمارے ادھر کیوں نہیں۔ 
جمہوریت کےلئے قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں۔ 

 یہ وہ فقرے ہیں جو آج کل ٹی وی پر اور ٹی وی کے باہر سننے پڑتے ہیں۔  اتنی دفعہ سن چکے ہیں کہ اب تو کانوں کے کیڑے بھی نکل آئے ہیں۔ 
میں نے کچھ کوشش اپنے طور پر کی ہے کہ معلوم کرسکوں کہ جمہوریت اصل  میں کیا ہے، معلومات یہ حاصل ہوئیں کہ یہ ڈیموکریسی کے عربی ترجمہ ہے۔ مطلب عوام کی حکمرانی عوام کےلئے۔  کسی بھی نفسیاتی تعریف کے طرح یہ سمجھ میں آیا کہ اس کی تعریف ہر بندے نے حسب ضرورت کی ہوئی ہے۔ 

ہمارے حکمران اور سیاہ ست دان تو میرے خیال میں یہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت  ایک ایسی مقدس گائے کا نام ہے جس کا عوام سے کوئی لینا دینا نہیں البتہ چند برس بعد کچھ لوگ ووٹ ڈالیں اور جس کو مرضی دیں مگر وہی چند گنے چنے خاندانوں کے لگتے لائے جیتیں گے اور پھر وی آئی پی بن کر، ملک کے حکمران بن جائیں گے۔ چاہے ریلوے کو پی جائیں، یا پی آئی اے کو ڈکار جائیں، حاجیوں کو  لوٹ لیں، سب جائیز۔ بس حکمران ٹولے کے چہیتے ہونے چاہئیں۔  کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ان سے۔  یہ ساری دنیا میں ہی چلتا رہتا ہے اور اسکینڈل بنتے رہتے ہیں مگر ہمارے ہاں کچھ زیادہ ہی چل گیا ہے۔ 

مگر ہمارے خیال سے جمہوریت ایک رویے کا نام ہے کہ جی کچھ لوگ عوام مطلب جمہور کی بہتری کےلئے کام کریں اور وہ جمہور کی نمائیندگی بھی کرتے ہوں، عوام نے ہی انکا انتخاب کیا ہو، بھلے نہ بھی کیا ہو مگر جمہور کی بہتری کےلئے کام کریں تو پھر سب چلتا ہے، چاہئے تو ٹینک پر بیٹھ کر آئیں یا ووٹ لےکر، اور اگر یہ نہ کریں تو پھر اسے جو مرضی کہہ لو مگر جمہوریت نہ کہو، 
خدا کا واسطہ  ہے آپ کے ٹل جاؤ۔ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 30, 2012

اپریل فول کی مچھلی

مجھے ادھر اٹلی میں زمانے ہوگئے ہیں  مگر کم ہی  اپریل فول کے واقعات دیکھے ہیں، یہاں پر اپریل فول کی علامت مچھلی ہے، بس آنکھ چرا کر چپکا دی، کسی کے کاغذ کی بنی ہوئی مچھلی اور منچلے تالیاں بجاتے ہوئے نکل لیے، مزید معلومات کے مطابق، فلپائین والے یکم اپریل کو منحوس سمجھتے ہیں اور اس دن سفر کرنے سے کتراتے ہیں، چائنا کی عوام کو اس کا اکثر علم نہیں، روس والے اسے مذاق کا دن قرار دیتے ہیں اوربالک لوگ ایک دوسرے کو بے وقوف بناتے اور ٹھٹھا کرتے ہیں۔

 میرا اٹلی میں پہلا اور واحد اپریل فول دیکھنے کا اتفاق یہ تھا کہ فیکٹری میں جاب کرتا تھا، چھٹی کی، گیٹ پر رکا ہوا تھا کہ مین روڈ پر آتی ہوئی گاڑی نکل لے تو ہم بھی نکلیں، بس اس گاڑی کے پیچھے ہم بھی نکل لیئے، میرے ساتھ بیٹھے دوریانو (اطالوی کولیگ) کی ہنسی نکل گئی میں بھی حیرت زدہ رہ  گیا ، کہ اس گاڑی کے پیچھے ایک بڑی سی موٹے کارڈ کی بنی ہوئی مچھلی چپکی ہوئی تھی اور اسکے اوپر لکھا ہوا تھا  ٗ کہ میرے پیچھے مت آنا میں تو خود رستہ بھولا ہوا ہوںٗ  ، دوریانو نے بتا کہ آج پہلی اپریل ہے اور اس کو کسی نے فول بنا دیا ہے، پھر مجھے مچھلی چپکانے کا قصہ بتایا، دیکھا تو تین مچھلیاں اوس کے چپکی ہوئی تھیں اور دو میرے۔

کل رات ہر پاکستانی چینل پر اپریل فول  کے بائیکاٹ کی ہا ل ہال مچی ہوئی ہے، ادھر فیس بک پر بھی یہی حال ، کہ جی میں اپریل فول نہیں مناتا میں مسلمان ہوں، رات کو بھائی سے پوچھا کہ آپ نے گزشتہ برسوں میں کتنی دفعہ اپریل فول بنتے، بناتے دیکھا؟  کہنے لگے کہ مجھے تو کوئی یاد نہیں ، مجھے بھی وہ اوپر والا واقعہ ہی یاد ہے،  مگر پاکستان میں ہے کہ عوام اپریل فول کا ہوا بنا کر اسکا بائیکاٹ کرنے پر تلی ہوئی ہے، کوئی پوچھے کہ میاں جی یہ کیا چکر ہے آپ کے پاس اپریل فول کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے؟؟ ہیں جی
جاؤ جاکر اپنا کام کاج کرو، اور چھوڑ دو اپریل فول کا کھتا۔ ہیں جی


اور پھر یہ کہ جب سب کچھ مغرب سے لے لیا ہے، ٹیکنالوجی، رقم، کاروبار، تعلیم، سود، حکومت، جمہوریت، حتیٰ کہ ضرورت پر وزراعظم اور دیگر وزراء بھی باہر سے لئے جاتے ہیں تو پھر اپریل فول  تو معمولی سی چیز ہے، ویسے بھی ہم فول تو بنے ہوئے ہیں گزشتہ کئی دھائیوں سے، اگر اپریل کے ایک دن میں یار لوگ تھوڑا ہنسی مذاق کر بھی لیں گے تو کون سے دوزخ کے دروازے کھل جائیں گے جو پہلے پاکستانیوں پر بند ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 28, 2012

امریکہ کے کھاتے میں


"السلام علیکم سر جی" وعلیکم سلام حضور، ہاؤ ڈو ڈسکو؟ "حضرت جی مجھے ایک جاب آفر ہوئی ہے بلکہ شروع کردی ہے۔"
 کون سی؟
 "،اٹالین فارماسسٹس کو ہومیوپیتھی پڑھانا3 سال کا پروجیکٹ ملا ہے فی الحال"
مباڑخ ہو جی, ویسے وہ ہومیوپیتھی کو گھاس ڈالتے ہیں یورپی؟
"خیر مباڑخ جی، ادھر ڈاکٹر اسپیشلائیزیشن کرتے ہیں,  ہماری طرح کا سسٹم کم ملکوں میں ہے"
ادھر تو میں پاغل ہو رہا ہوں۔ اپنے عزیز ہموطن بھی عجیب مخلوق ہیں, پچھلے دنوں جو طوفان آئے تھے
"کونسے؟؟"
مشرق وسطیٰ سے پاکستان تک ریت کے طوفان
"ہاں اباجی بتارہے تھے، گرد آلود ہوا کے بارے"
,آج ایک کزن صاب فرماتے ہیں کہ یہ امریکہ کے ایٹم بموں کا اثر تھا  ہور سناؤ  ہر چیز امریکہ کے ذمے بس اب یہی بچا ہے کہ انکل سام کی مورتیاں بنا کر انہیں پوجنا شروع کر دیں، خدا جیسا طاقت ور تو پہلے ہی سے سمجھتے ہیں،   ہیں جی؟
"تو آپ مان لو، پہلےکونسی ادھر ہر معاملے پر ریسرچ شروع کررکھی ہے انہوں نے,اتنا تو پھر چلے گا ناں"
وہ جو سیلاب آیا تھا، اس موقع پر بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسے بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال دیا تھا,  اور زلزلے کو بھی
"ظاہری بات ہے کہ خدا کے کھاتے میں ڈالیں گے تو اپنے اوپر الزام لینا پڑے گا کہ ہمارے کرتوتوں کی سزا ہے۔ ہیں جی؟
"میں تو کہتا ہوں ذرداری کو بھی اپنے کھاتے پر ڈال دوں, میں یہ سارا کچھ اپنےبلاگ پر پھینکے لگا ہوں
اپنے کھاتے پر کیوں؟ امریکہ ہے نا۔ اسی کے کھاتے میں ڈال دیں,  سب آپ کی ہاں میں ہاں بھی ملائیں گے,   بلاگ پر کیا پھینکنے لگے ہیں؟  
میرا ٹریڈمارک تیزاب؟

 یہ اپنے مولوی صاحب ہیں، جو ابھی میرے ساتھ آن لائین  تھے، بزرگ آدمی ہیں، جانے کیا کیا سوچتے رہتے ہیں، کوئی پوچھے حضرت اگر امریکہ یہ سب نہیں کرتا تو کیا میں اور آپ کرتے ہیں، ہیں جی



مکمل تحریر  »

منگل, مارچ 13, 2012

صوبے بنوالو

فیس بک پر ایک  تصویر چلتی دیکھ کر جھٹکا سا لگا اور دماغ میں کچھ تاریخی حقائق فلیش ہونے لگے،  کچھ چیزیں جو دیکھی تو نہیں مگر سنی ضرور تھیں، کچھ چیزوں جو ہمیں  آج بتائی جاتی ہیں مگرانداز کچھ اور ہے، یہ تصویر نہیں بلکہ تحریر تھی جو تصویری فارمٹ میں کہ فوراُ پڑھی جاسکے  گھوم رہی ہے، نیچے کومینٹس پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں، کومنٹس ادھر لکھنا طوالت کو دعوت دینا ہوگا مگر تصویر کا لگانا  خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔  یہ تحریر ایک صاحب محمد عابد علی خان کی ہے جو ایم کیو  ایم  کے پالیمنٹیرین رہ چکے ہیں، بقول انکے  اپنے۔

 پانڈے قلعی کروالو کا نعرہ اب معدوم ہوگیا ہے، جب ہم چھوٹے تھے تو آئے دن گلی میں یہ نعرہ سننے کو ملتا کہ، پانڈے قلعی کروالو، ہماری دادی بھگاتیں ہمیں جا پتر، اس پہائی کو روک  اور وہ پہائی  گلی میں شہتوت کے نیچے ہی اپنے چولہا جما لیتا اور پورے پنڈ کی عورتیں اپنے پہانڈے قلعی کروارہی ہوتیں ، یہ ایک فن تھا جو بہت سے دوسرے فنون کے ساتھ خود ہی ترقی کی نذر ہوکر آپ موت مرگیااپنی موت، مگر تھا بہت کمال کا فن کہ پرانے دیگچے اور دیگر دھاتی برتن دئے جاتے اور وہ انکو قلعی کردیتا اسطور پر کہ نئے معلوم ہوتے،  مگر ہوتے تو وہی تھے پرانے ہی ، جو ٹیڑھا تھا تو رہے گا، جس دیگچی کا کنارا تڑخا ہوا تھا تو وہ رہے گا۔ حتٰی کہ اگر کوئی ایسا برتن بھی چلا گیا جس میں سوراخ تھا تو وہ بھی باقی رہے گا مگر چم چم کرتے ہوئے، اور آنکھوں کو خیرہ کرتے ہوئے، لشکارے   مارتے ہوئے۔  یعنی پرانے کا پرانا مگر چمک نئی۔ 

کچھ یہی حال ہماری حکومت  کا بھی ہے کہ صوبے بنوالو، کوئی پوچھے میاں پہلے جو پانچ چھ بشمول آزاد کشمیر کے بنے ہوئے ہیں ان کی حالت تو بہت پتلی ہےوہ تو سنبھالنے سے تم لوگ قاصر ہو اور یہ کہ نئے بنا کر کیا کرلوگے،  برتن قلعی ہوکر نیا تو نہیں ہوجاتا، بھلے 
چمک اس میں آجاتی ہے، رہے گا تو وہی، ہے پرانا ہی جس میں  چھید بھی ہیں اور جسکے کنارے ٹوٹے ہوئے بھی ہیں ، 

    جب یہ صوبہ صوبہ  کی کت کت شروع ہوئی تھی تو میرا خیال تھا اوراب بھی ہے یا تو اس بحث پر پابندی لگا دی جائے یا پھر ہر محلے کا اپنا صوبہ بنا دیا جائے کہ جا میرا پتر کھیل اپنے صوبے سے۔   ایم کیو ایم پر تو مجھے پہلے ہی شک تھا کہ یہ سارا فساد اسی نے پھیلایا ہوا ہے کہ آج پشتون صوبہ بنے گا، کل ہزارہ، پرسوں سرائیکی اور چوتھ مہاجر ، سچ کو سامنے آتے  دیر نہیں لگتی، بقول ہمارے چچا ضیاءاللہ خاں  ، عشق ، مشک اور کھرک چھپائے نہیں چھپتے،۔

ایک اور تاریخ  قسم کا سوال میرے دماغ میں کلبلا رہا ہے  وہ یہ کہ 1963 میں بھٹو وزیر خارجہ بنا اور  تب وہ جنرل ایوب خان کا  دست راست وہ مشیر خاص تھا،  1967 میں پی پی پی کو عوام میں جاری کیا گیا  1970 کے الیکشن میں عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور بن گیا مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش،   جمہوریت اور بچہ جمہورا کھیلتےہوئے بابائے جمہوریت   پاکستان کے پہلے اور  واحد سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹیرٹر بن گئے۔ 

کیا یہ ایک تاریخی اتفاق ہے کہ اب پھر جب صوبہ صوبہ کھیلا جارہا ہے اور ادھر تم اور ادھر ہم کا نعرہ لگ رہا ہے تو پی پی پی کا ہی دور حکومت ہے اور اتفاق سے انکو زمام حکومت سنبھالئے کچھ برس بھی بیت گئے ہیں۔  ابھی گیلانی صاحب اپنے وزارت اعلٰی پکی کرنے کے چکر میں پنجاب کو تو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر کل کو مہاجر کراچی بھی لے اڑیں گے، میرےمنہ میں خاک، تقسیم پاکستان کی سازشیں تو لگاتار ہورہی ہیں اگر اس ماندہ پاکستان کو بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تو باقی کیا بچے گا۔  پہانڈے قلعی کروانے سے وہ تو نئے نہیں ہوتے اور نہ صوبے بنانے سے ملک کے حالات تبدیل ہونے والے ہیں،  ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ملک کے اندر سے رشوت، اقرباپروری،بدامنی، ناانصافی، جہالت اور غربت کے خلاف محاظ بنایا جائے، یہ چیزیں جس معاشرے سے بھی نکل گئی ہیں وہ  پر سکون ہوگیا ہے، چاہے وہ سعودیہ کی بادشاہت ہو یا امریکہ کا صدارتی نظام ، چاہے جرمنی کی چانسلری کا سسٹم ہو کہ ہالینڈ کی جمہوریت۔  اس سے عوام کو جو جمہور کہلاتی ہے کوئی مطلب و اعتراض نہ ہوگا۔ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 09, 2012

سنی، شعیہ یا مسلمان؟؟

ابھی ٹی وی دیکھ رہا ہوں اور تکبیر چینل پر ایک مولبی صاحب بہت کڑیل قسم کی دھاڑی رکھ کر فرمارہے ہیں کہ وہ سنی ہی نہیں  جو پنج تن پاک کو نہ مانے،  شیعہ حضرات جو ہیں وہ خوامخواہ  سنیوں پر  الزام لگا رہے ہیں، 

میں نہیں سمجھ سکا کہ کیا یہ مسلمانوں کے علاوہ کوئی مذاہب ہیں؟؟ جنکا مسلمانوں سے بھی کوئی لینا دینا ہے کہ نہیں؟؟  اور  یہ کہ  میں جو سیدھا سیدھا مسلمان ہوں ، جو اللہ کو ایک مانتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کے آخری نبی مناتا ہوں، یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں، قرآن اور دیگر کتب اور انبیاء پر مکمل ایمان کی حالت میں ہوں، کوشش ہوتی ہے کہ کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچے، کم از کم دانستہ ، کوئی ہے جو سمجھائے۔  

 میرا پھر کیا فرقہ ہوا؟؟

مکمل تحریر  »

جمعرات, مارچ 08, 2012

ثقافتی ثالث،اٹلی میں تنتر منتر

ساری روداد سننے کے بعد ہمارے علم میں  یہ بات بھی آئی  کہ اس گھر میں چند ماہ پیشتر کچھ لوگ آئے سادھو کی طرز کے جنہوں نے عجیب و غریب کپڑے پہنے ہوئے تھے اور منہ پر اور جسم پر رنگ ملا ہوا تھا،  جانے کس طرح گھر کے اندر گھس آئے اور انہوں نے کچھ توڑپھوڑ کی، کچھ اشلوگ پڑھے،  باپ گھر پر نہیں بلکہ عدالتی حکم پر کہیں اور رہ رہا ہے، بیٹا ماں کے کہنے سے باہر ہے اور وہ اپنی من مرضی کررہا ہے، اور اب یہ توڑ پھوڑ، شگون کچھ اچھا نہیں ہے، ارد گرد رہنے والی انڈین کمیونٹی کے بقول ان لوگوں نے کچھ اور گھروں میں اور پھر اس علاقے کے گردوارے میں بھی جاکرہلڑ بازی کی ، بدعائیں دیں اور کسی مائی کے بقول کچھ تنتر منتر بھی کیا، اٹالین لوگوں کے خیال میں یہ ٹن پارٹی تھی، کچھ انڈینز کے خیال میں یہ ڈھونگی تھے ، اس واقعہ سے چند دن پیشتر کسی نے چھوٹی بچی کو اسکول سے آتے ہوئے یا کسی اور موقع پر بیس یورو کا نوٹ پکڑا دیا جس پر کیسر کا رنگ ملا ہوتا تھا، انڈین معاشرے میں اسکو بھی تنتر گمان کیا گیا کہ اس گھر میں رہے گا اور اس گھر کی روزی بند ہوجائے گی،  آپ اور میں اگر ان سب چیزوں پر یقین نہ بھی کریں  اور فوراُ کہہ دیں کہ اوہو ہو یہ تو سب ٹھیٹیر اور ڈھونگ بازی ہے، سب ٹوپی ڈرامہ ہے ، مگر سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر یہ سب اسی گھر کے ساتھ ہی کیوں پیش آرہا ہے، ہر مصیبت انہی پر ہی کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انکو کسی کی نظر لگ گئی ہو یا ان پر کسی نے جادو ٹونہ کردیا ہو، جس کو     بقول تنتر کہاجاتا ہے؟ یہ سب کچھ اٹلی میں ہی ہورہا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 07, 2012

ثقافتی ثالث، ہاتھ سے نکلتی اولاد

گزشتہ داستان کو آگے بڑھاتے ہوئے
اس خاندان کا بیٹا جو اب لڑکپن کی عمر میں  ہے اور ادھر اسکول پڑھنے کی وجہ سے اسکی مقامی  اطالوی زبان پر مناسب اور قابل استعمال حد تک دسترس ہے۔ یہ اس خاندان کا ترجمان ہے، کہیں پر جانا ہے کسی بھی دفتر یا محکمہ میں تو یہی ان کا چاچا بنا ہوتا ہے، اور ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ بھی کہنا شروع کردیا ہےکہ آپ کو کیا پتا، اس خاندان کی نگرانی کرنے والے لوگوں کے مطابق اس لڑکے نے ماں اور باپ کے ساتھ بدتمیزیاں بھی شروع کردی ہیں اور انکو بلیک میل بھی کرتا ہے۔ کہ مجھے پچاس یورو دو نہیں تو  ۔ ۔ ۔،  مجھے لیوز کی جینز کی پینٹ لے کر دو نہیں تو، ۔۔۔۔ اسکول بھی اپنی مرضی سے جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ابھی کچھ عرصہ سے اس نے یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ مجھے اتنے پیسے دو نہیں تو میں پولیس کو فون کردوں گا کہ تم نے مجھے مارا ہے، یا پھر سماجی خدمت والوں کو بلا لوں گا، یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ اس لڑکے کی دوستی اپنی سے دوگنی عمر کے لوگوں سے ہے اور یہ کہ ان کا تعلق مختلف ممالک و مذاہب سے    کہے، زیادہ تر لچے ہیں اور کچھ پر نشہ کرنے و بیچنے کا بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے،   ان اداروں کے کارکنان کے علم میں یہ بات بھی آئی ہے کہ یہ لڑکا  پیسے دیتا رہا کہ اس کو عورتیں لا کردی جائیں،اب یہ پیسے کہاں سے اسکے پاس آتے رہے، اس بارے یہ علم ہوا کہ وہ پیسے اپنے والدین کو دھمکا کر ان سے لیتا رہا ہے،  ایک چودہ سولہ برس کا لڑکا اس روش پر چل نکلے کیا یہ نارمل ہے؟؟ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ       سب ٹھیک  ہے؟  کیا ان والدین کی اپنی اولاد پر پرورش پر شک نہیں کیا جاسکتا؟؟   کہیں ایسے تو نہیں ہے کہ لڑکا جو خاندان کو اس معاشرے میں انسرٹ ہونے  میں معاون ہے اور پل کا کام کرتا ہے، اپنے آپ کو اتنا اہم سمجھنے لگا ہے کہ گویا وہ اپنے والدین کا بھی  چاچا ہے۔  کیا اسکو والدین کی کمزوری لیا جائے گا  یا ادھر کے اداروں کو اس تربیت کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا؟؟ 

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 02, 2012

ثقافتی ثالث، چلتے ہو تو اٹلی کو چلئے

معاملہ  انڈیا سے تعلق رکھنے والے  ایک سکھ خاندان کا ہے، جو باپ   ، ماں، سولہ سالہ بیٹے  اور دو چھوٹی بیٹیوں  پر مشتمل ہے۔ باپ جو سن بانوے میں اٹلی آیا اور اسکاتعلق پنجاب کے ایک گھرانے سے ہے  جو زمین کا مالک ہے ، مطلب کھاتے پیتے لوگ،  ماں  اٹلی میں دس برس  بل آئی  ، شادی کے  چند برس بعد ، تب یہ لڑکا اسکی گود میں تھا،  دو چھوٹی بیٹیاں انکے ہا ں ادھر اٹلی میں  پیدا ہوئیں۔باپ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے جہاں پر اسے مٹی وغیرہ کو ہٹانا ہوتا ہے، بہت ہی گندا اور بھاری کام، بقول اسکے بہت ہی غلیظ کام ، جو میرے علاوہ کوئی کرنے کو تیار ہی نہیں ہے، جبکہ میرے پاس اور کوئی چارہ  نہیں، پس اس نے شراب پینی شروع کردی اور ٹن ہوکے پیتا، وجہ اس لال پری کی یہ بیان کرتا ہے  کہ پیتا ہوں غم کو مٹانے کو اور ٹینشن کو گھٹانے کو۔
ماں انڈیا کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اسکا دادا پنڈ کا لمبردار ہے نہ صرف  بلکہ گرہنتھی بھی ہے، اپنی طرف  امام صاحب کہہ لو۔     شادی دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی  شادی کے پورے نو ماہ بعد انکے بچہ پیدا ہوا۔
یہ  ادھر بسنے والے ہر دوسرے خاندان کی  فوٹو اسٹیٹ ہے جو پنجاب سے ادھر آبسا،   یہ خاندان اداروں کی نظر میں اس وقت آیا جب   ایک شام کو  یہ بزرگ اپنی دونوں بچیوں کے ساتھ چہل قدمی فرماتے ہوئے سڑ ک  پر لڑھک  پڑے اور غین ہوگئے۔  بچیاں جو دس اور آٹھ برس کی ہیں اپنے والد کو سنبھال نہ سکیں اور  ڈرکر رونے چلانے لگیں،  چلتے پھرتے راہگیروں میں سے کچھ لوگ نزدیک ہوگئے اور کسی نے  پاس سے گزرتی ہوئی پولیس کی گاڑی کو ہاتھ دے لیا، ادھر پولیس  صرف مجرم ہیں پکڑتی بلکہ ہر ایمرجنسی میں آپ کی معاونت کرنے کی ذمہ دار ہے،  پس ایمبولنس بھی کال ہوگئی اور سردارجی کو  اٹھا کر ہسپتال پہنچادیا گیا، جہا ں پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت ٹن  پڑے ہیں،  اور انکے اندر الکحل کی موجودگی  کا درجہ دوسو بیس پایاگیا ، بس الارم کھڑک گئے، کہ  دیکھو یہ کیسا باپ ہے جو اس حالت میں  پایا گیا کہ بجائے اپنی بچیوں کی دیکھ بھال کرسکتا  خود سے بھی بے خبر ہے،  یہ واقعہ ایک برس پیشتر کا ہے، بس پھر تفتیش شروع ہوگئی اور ادارے حرکت میں آگئے، معاملہ عدالت تک پہنچا تو عدالت نے فوراُ فیصلہ سنا دیا کہ اس نشئی بندے کو اس طرح بچوں کے ساتھ نہیں رہنے دیا ، جاسکتا، بہت برا اثر پڑے گا ان پر،  پس   عدالت کے حکم پر سردار جی کوگھر سے بے دخل کردیا گیا، کہ جاؤ میاں اپنا بندوبست کرو،  اور   ایک ماہر نفسیات، ایک سماجی مسائل کی ماہر، ایک ایجوکیٹر،  اور ایک ثقافتی ثالث  کو تعینات کردیا گیا کہ لو جی  دیکھو ذرا اس خاندان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ 

مکمل تحریر  »

ثقافتی ثالث

ایک بندہ  جو دوسرے ملک میں جابستا  ہے اور مہاجر کہلاتا ہے ثقافتوں کے درمیان  پل کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
یہ مہاجر ثقافتی ثالث کب بنتا ہے؟؟
ثقافتی ثالث ایک ایسا بندہ ہے جو کو اٹلی میں کچھ عرصہ سے رواج دیا گیا، ایک بندہ جو اٹلی کی زبان کو ہی نہیں بلکہ ادھر کے ماحول کو اور سماجی معاملات کو بھی اچھی طر ح سمجھتا ہو، نہ صرف بلکہ اپنے  یا دوسرے ملک کی ثقافت اور سماجی معاملات پر کڑی نظر رکھتا ہو، جو ادھر کے رہن سہن کا ادھر کے معاملات سے موازنہ کرسکے،  سماجیات کے اس شعبہ میں اب اٹالین لوگ بھی بہت دلچسپی سے شامل ہونے لگے ہیں مگر۔۔۔
روداد ایک میٹنگ کی جو ویرونا یونیورسٹی اور سماجی و صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے درمیان تھی اس ملاقات میں کوئی بیس کے قریب لوگ  کی موجودگی  اس بات کی غماز تھی کہ معاملہ کچھ سیریس ہے،   یونیورسٹی کے نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی شعبوں کے تین پروفیسرز،  کوئی دس کے قریب  سماجی و معاشرتی اداروں اور غیر حکومتی  انجمنوں کے ماہرین،  پاکستان اور انڈیا کے پنجاب کے  مختلف علاقوں  سے تعلق رکھنے والے  ہم تین بندے اور دو بندیاں۔  یہ بندے بھی وہ جومعاملات میں اپنی رائے رکھتے ہیں،  جو پنجاب کی ثقافت کو بھی جانتے ہیں اور اطالیہ کے معاملات زندگی پر بھر پور نظر ہی نہیں رائے بھی رکھتے ہیں۔  پنجاب سے اٹلی میں ہونے والی ہجرت کے فنامنا کو  دیکھنے  اور اسکا  مطالعہ کرنے کے پروگرام کی ایک نشست کا احوال ،  ایک کڑی نظر ہمارے ارد گرد  پر ۔ 
میری کوشش ہوگی کہ اس چار گھنٹوں کی نشست کا احوال من وعن کے ساتھ بیان کروں،   سب ایک ساتھ لکھنے کی بجائے مختلف حصوں میں  واقعات بیان کرتے ہوئے ، جو سوالات اٹھتے ہیں اور جو معاملات سامنے آتے ہیں انکا تجزیہ بھی  آپ کے ساتھ شئر کرسکوں

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 23, 2012

بلوچستان، جہلم اور اٹلی


ویسے تو آج کل ہر طرف بلوچستان بلوچستان ہورہی ہے، مگر میں سوچ رہا تھا،  کیا فرق ہوا  جہلم اور بلوچستان میں؟  یا میرپور آزاد کشمیر اور بلوچستان میں  ؟  یا نواب شاہ میں، یا لاڑکانہ میں؟؟؟ میرے گراں میں اور بلوچستان  کے ایک پسماند ہ  دور دراز گوٹھ میں؟؟؟

ابھی آپ کہیں گے کہ لو جی ڈاکٹر صاحب کی تو مت ہی ماری گئی ہے، یا لازمی طور پر انہوں نے آج مشہور اٹالین شمپائن "کا دیل بوسکو   "کی بوتل چڑھا لی ہے، جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ہاں کل سے زکام  نے مت ماری ہوئی ہے،  بلکہ ناس ماری ہوئی ہے،   ادھر تک پہنچتے وقت چار بار چھینک چکا ہوں، ناک میں گویا مرچیں بھری ہوئی ہیں  اور دماغ میں بھوسہ (یہ اگر میں نہ لکھتا تو آپ نے کہہ دینا تھا، بہت سے قارئین  کو جانتا ہوں اب)۔مگر اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں،    بلکہ یہ سوال اپنے آپ سے بقائمی ہوش  و حواس کررہا تھا،  میں بقلم خود  یعنی کہ مطلب ، چونکہ گویا کہ  چنانچہ۔ یہ میں نے ازراہٰ  تففن نہیں لکھا،  قسم  سے ،  
اسکا مقصد اپنے دماغ کو بہت چالو ثابت کرنا تھا کہ یہ باریکیاں ابھی بھی  یاد ہیں۔ ہیں جی

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ یعنی کہ  اپنے  شہر کی تعریفیں ،  جہلم  میں کہ پاکستان کا ترقی یافتہ ضلع گنا جاتا ہے، جہاں پڑھے لکھے لوگوں اور دراز قامت جوانوں کی بھر مارہے ، بقول سید ضمیر جعفر کے ، جہلم میں چھ فٹ قد معمولی ہے مطلب آپ اس کو حیرت سے نہیں دیکھو گے ، نہ طویل القامت میں شمار ہوگا اور نہ ہی پست قامت میں ،   تعلیم کا بھی کچھ احوال مختلف نہیں، جو لڑکا آپ کو بھینسو کے پیچھے گھومتا ہوا نظر آرہا ہوگا وہ عین ممکن ہے بی اے پاس ہو، یا سپلی کی تیاری میں مشغول ہو،  ہیں جی،  میں خود کالج کے آخری سالوں تک بھینسوں کو چراتا رہا ہوں، چرنا تو خیر انہوں نے خود ہی ہوتا تھا مگر اس بہانے گھر سے ہم فرار۔معاشی خوش حالی  کا یہ عالم  ہے  کہ  اگر آپ میرے پنڈ جاؤ گے تو بقول "پورے گاؤ ں میں ایک بھی دیوار کچی نظر  نہیں آئی"     یہ بیان تھا ایک سندھی ڈاکٹر صاحب کا جو سنہ 1995 میں  میرے ایک دن کے اتفاقاُ مہمان بنے۔  یہی  حال دیگر گاؤ ں کا ہے، اچھے گھر اور کوٹھیاں، مطلب ولاز ،  بنے ہوئے  دکھائی دیں گے آپ کو ، ہر گاؤں  میں، بلکہ پورے جہلم، میرپور، گوجرخان ، کھاریاں اور گجرات کے علاقوں میں ۔  جرنیٹر ، یو پی ایس ، کیبل  اور اب چند ایک برس سے وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت عام ہے۔ میں اپنے گاؤ ں کی بات کررہا ہوں۔  

علی جو میرے ماموں زاد ہیں  اور بلوچستان میں فوجی خدمات سرانجام دے چکے  ہیں انکے بقول بھی اور آج کل ٹی وی  پر آنے  والی خبروں کےمطابق  بھی بلوچستا ن  میں صورت حال اسکے بلکل برعکس ہے،وہاں پر پورے کے پورے گاؤں میں شاید ہی کوئی بندہ  اب بھی پڑھا لکھا  ملے، بیشتر علاقے کے علاقے  باقی سہولیات تو کجا ، پینے کے پانی  اور پرائمری اسکول کو ترس رہے ہیں،  حسرت و یاس بھری نگاہیں دیکھتی ہیں ان اسکولوں کو ، جن میں  نوابوں اور سرداروں کے  ڈھور  ڈنگر بندھے ہوتےہیں۔

ابھی تو آپ میرے دماغ کے خلل پر یقین کرچکے ہونگے کہ  خود ہی اپنے بیان کی نفی کردی، زمین آسمان کا فرق ثابت کردیا، مگر ایک مماثلت ہے اور وہ ہے بہت اہم اور بہت بری بھی  ( اسے بڑی مت پڑھئے)۔  کیوں ؟؟  پھر پڑ گئے پھر سوچ میں؟؟؟

بات یہ ہے جی کہ مماثلت دونوں طرف حکومتی کارکردگی  کی  ہے ،  جو ہر دور طرف ایک جیسی ہے ،  اگر ادھربندے پڑھے لکھے ہیں تو پرائیویٹ اسکولوں کی مہربانی سے،  اگر   کوئی دیوار کچی نہیں تو اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں،  ہر بندے نے اپنے  اپنے گھروں کو حسب اسطاعت خود تعمیر کیا ہے، اچھا یا اس سے بھی اچھا، گلیاں و نالیاں اکثر و بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت ہیں، پانی کا نظام اپنا ذاتی ہے، ابھی میں  بھائی سے سولر سسٹم کی انسٹالیشن کے بارے پوچھ رہا تھا کہ واپڈا سے اگر جان چھڑائی جاسکے مستقل بنیادوں پر تو، ادھر بھی اتنے ہی ڈاکے پڑتے ہیں، اتنی ہی چوریاں ہوتی ہیں، اتنے ہی قتل ہوتے ہیں۔

حکومتی کارکردگی وہی ہے جو بلوچستان میں ہے، طاقتور کے ساتھ اور کمزور کو کچلنے کی اچازت۔
ہمارے یہاں پر جو کچھ بھی ہے وہ اٹلی، انگلینڈ ، فرانس، اسپین ، جاپان ، سعودیہ وغیرہ میں ہمارے جیسے   پردیسیوں کی بدولت ہے، ادھر سے لو ساٹھ کی دہائی میں انگلینڈ جانا شروع ہوئے تھے، پھر ستر میں سعودیہ ، اسی  میں فرانس و جاپان ، نوے  میں اٹلی ، اسپین  و یونان  اور اب تو ہر طر ف ، ایک پھڑلو پھڑلو مچی ہوئ ہے بقول حکیم علی صاحب کے۔

  اگر آپ ان لوگوں کے گھرروں اور پیسوں کو نکال دیں تو جہلم اور بلوچستان کے کسی پسماندہ  گاؤں میں شاید ہی کوئی فرق ہو


اظہار تشکر:  یہ مضمون حضرت یاسر خوامخواہ جاپانی کی ترغیب پر لکھے جانے والی تحاریر کی کڑی ہے


مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 22, 2012

ہاتھی روایت اور ڈیموں کریسی

راوی اپنی ایک پرانی سی کتاب میں روائت  کرتا ہے  کہ ایک زمانے میں ، ایک ملک  کے، ایک دور دراز گاؤں میں، ایک بزرگ نہایت   قدیم و عقیل اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا،  رہتا تھا اور اوس گاؤں کے لوگ بھی اتنے جاہل و کھوتے دماغ کے تھے کہ ہر بات  پوچھنے اس بزرگ کی طر ف دوڑ پڑتے،   گاؤں والوں کی اسی سادگی کو دیکھ کر ایک دن ہاتھی بھی ادھر کو چلا آیا ، ہوسکتا ہے  اسے بھی کچھ کام ہو یا کوئی بات پوچھنی ہو، مگر راوی نے اس بارے نہیں لکھا، خیر اگر لکھ بھی دیتا تو کس نے یاد رکھنا تھا،   اس گاؤں کے سارے باشندے ادھر کھڑے ہوکر تالیاں بجارہے تھے اور چار اندھوں سے  جنکے نام بوجمان ملک، جابر اعوان ، خالہ فردوس کی عاشق  اور کیصل عابدی تھے  ہاتھ لگوا لگوا کر پوچھ رہے تھے کہ بتلاو ہاتھی کیسا ہے؟؟؟ 
اب بوجمان ملک کے ہاتھ سونڈ آئی تو اوس نے فیصلہ دے دیا کہ لو جی ہاتھی پائیپ کی طرح لمبا ہے،  جابر اعوان  کے ہاتھ میں چونکہ ہاتھی  کے کان  آئے، تو اوس نے دعوہ  ٹھونک دیا کہ لوجی ہاتھی پنکھے کی طرح ہوا دینے اور جھلنے والی کوئی چیز ہے،  فردوس کی عاشق خالہ کے ہاتھ  ہاتھی کی  دم لگی تو ہت تیر ے کی کہہ کر فرماگئی،  کہ لو جی، کرلو گل، یہ تو رسی کی مانند پتلا سا ہے، میری آنکھیں ہوتیں تو یہ ضرور سپ کی طرح دکھائی دیتا، ادھر کیصل عابدی نے جانے کیادھونڈتے ہوئے نیچے کی طرف ہاتھ  مارا تو ٹانگ ہاتھ میں آگئی ، شکر کرے کہ کچھ اور ہاتھ نہیں آیا، توللکار دیا کہ ہاتھی ایک کھمبے کی طرح کی چیز ہے۔
ایک سب سے بد اندیش اورجاہل قسم کا بندہ جو رضا کھانی  نام کا تھا،  اس نے بابا جی سے پوچھا کہ بزرگو  ، آپ کے  اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں، کل آپ مرے تو پرسوں اگلا دن ہوتا،  ادھر کیا امب لینے آئے ہیں ، چلو،  ادھر موجود ہو ہی تو یہ بتلادو کہ یہ کیا  شئے ہے؟؟

بابا جی نے ایک چیخ ماری اور روئے پھر ایک قہقہ لگایا  اور ہنس پڑے  اور یوں گویا ہوئے،   سن اے ناہنجار اورعاقبت نا اندیش،  رویا میں اس لئے تھا کہ اب اتنی حرام کھائی کرلی ہےکہ جانے اگلے الیکشن  کے بعد مجھے جیل میں کیوں نہ ڈالا جائے،  اور اگر ایسا نہ کیا گیا  توجیتنے والوں پر تف  ہے ، پھٹکار ہے، لخ دی لعنت ہے، پھر یوں متوجہ ہوئے،  سن لے کہ خو ش میں اسلئے ہویا ہوں، کہ اس چیز کا تو مجھے بھی علم نہیں البتہ اسے بیچ کھاؤں گا۔


 یہ بات لکھی پڑھی ہے اور اسی کا نام ڈیموں کریسی ہے کہ دوسروں کو دیموں لڑاؤ اور خود ہاتھی بھی بیچ کھاؤ۔

دروغ بردگردنِ دریائے راوی۔       میرے جو دماغ میں آیا میں نے لکھ دیا۔

سوالات:

کیا ملک پاکستان کے علاوہ بھی کہیں اس قبیل کے لوگ پائے جاتےہیں؟؟؟
اس حرام خور بزرگ کا نام ذورداری ہونے کا اندازہ آپ کو کیسے ہوا؟؟؟
ان لوگوں کے پاس ان عقل کے ادندھوں کے علاوہ کوئی اور بندہ نہ تھا  جس کو وزیر بنالیتے؟؟؟
یہ رضا کھانی جو اتنا سیانہ ہے ہر بات پوچھنے کیوں چلا جاتا ہے اپنے بزرگ کے پاس؟؟؟
اس پورے قصے سے جوسبق آپ کو حاصل ہوا ہے  اسے دہرائے اور اس گاؤں کے  چار اور حرام خوروں کے نام لکھئے ، 
مگر تھوڑا دور رہ کر۔
آپ کو ہاتھی کیسا دکھائی دیتا ہے؟؟؟ بلوچستان جیسا نہیں تو پھر کیسا؟؟   اور کہ آپ عقل چھوڑ کر پی کھا پاٹی کے وزیر بننا پسند کریں گے؟؟؟


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2012

بلوچستان، بنگال اور سازشیں

ہمارے ادھر آوے کا آوا  ہی نہین بلکہ باوے کا باوا بھی بگڑا ہوا ہے،     ہمیں ہر اس چیز پر بات کرنا ہی پسند ہے جو یورپ امریکہ میں ہورہی ہو، یا پھر جس پر یورپ و /یا امریکہ والے بات کررہے ہوں،   ملک بنا اور ٹوٹ گی ہم نے کہا چلو خیر ہے ادھر روز سیلاب آیا کرتا تھا جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، ویسے بھی یہ چھوٹے چھوٹے بنگالی کونسے ہماری فوج میں بھرتی ہوسکتے تھے، دیکھو جی چھے فٹے جہلمی جوانوں کے سامنے سوا پانچ فٹ کا بیالیس کلو بنگالی کیا کرے گا، اسکی وقعت ہی کیا ہے، ہیں  جی  ،   اوپر سے وہ لحیم شیم سرخ و سپید پٹھان  واہ جی واہ ، وہ تو ہماری فوج کا حسن ہیں ،  یہ وہ باتیں تھیں جو ہمارے پنڈ کے سابقہ فوجی بابے کیکر کے نیچے بیٹھے کر تاش کھیلتے ہوئے کرتے تھے۔   ان  میں کئی ایسے بھی تھے جو 
اکہتر میں بنگالی قیدی بھی بنے۔ مگر کیا ہے فوجی کا کام ہے لڑنا مرنا اور ماردینا،   یقیناُ یہی اسکی قوت بھی ہے

مگر ان بابوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پینسٹھ میں جب انڈیا پاکستان جنگ ہوئی تھی تو ہم دو محاذوں پر تھے اور انڈین فوج کو دوحصوں  میں تقسیم کردیا تھا،  وہی بنگالی پنجابی اور پٹھان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے، مگر چھ برس بعد وہی انہی پنجابی و پٹھان فوجیوں کو بنگال تل رہے تھے اور ادھر جو بنگالی  مغربی پاکستان میں تھے وہ ہمارے پنڈ کے ساتھ ہی چھاؤنی میں قید تھے،  انڈین فوج کو مغربی محاذ سے تو پھر بھی کچھ نہ ملا کہ ادھر کوئی بنگلالی نہ تھا مگر مشرقی محاذ پر پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑھا کہ ادھر بھی کوئی بنگالی انکے ساتھ نہ تھا بلکہ مخالف تھے۔
انڈیا نے 1965 والی کتا کھائی کا بدلہ لیا اور اپنے آپ کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے گھیراؤ میں سے نکال لیا ، ہیں جی ہے ناں سیانی بات۔
 رات گئی بات گئی ، روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ لگا اور ہم خوش۔ ہیں جی

امریکہ بہادر نے افغانسان میں ایڑی چوٹی کا ذور لگایا ، روس کی طرح مگر وہی ڈھاک کے تین پات ، بقول علامہ پہاڑ باقی افغان باقی۔ ہیں جی پہاڑ بھی ادھر ہی اورپٹھان بھی، مشرف کی حددرجہ بذدلی کے باوجود جب ہماری قیادت نے تعاون سے انکار کردیا اور امریکہ بہادر کو  افغانستان میں آٹے دال کا بہاؤ معلوم ہوگیا ہے تو اسے یاد آئی کہ اہو ہو ہو ، بلوچستان تو تاریخی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں نہیں ہے، ہیں جی،
اس کو آزادی دلواؤ، لو بتاؤ جی، بلوچوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے، کوئی پوچھے ماموں جان آپ نے پہلے جو فلسطین ، عراق، افغانستان اور ویتنام کو آزادی دلوائی ہے وہ کیا کم ہے؟؟ جو ادھر چلے آئے مگر کون پوچھے ہیں جی۔

ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا ہیں جی  اور آپ نے بھی نہ بتایا، پہلے تو  ذرداری و حقانی سے اندر خانے معاہدہ کرنے کی سازش جو بعد میں میمو گیٹ کے نام سے چلی اور مشہور ہوئی، پھر  ابھی بلوچستان  اور بلوچوں کے حقوق کی یاد آگئی۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر بلوچستان کی پٹی امریکہ بہادر کے ہتھے لگ جائے تو وہ اپنی  من مرضی سے  ادھر افغانستان میں رہ سکتا ہے بلکہ اسکا وہ جو نیورلڈ آرڈر والا نقشہ ہے اس پر بھی  کچھ عمل ہوجاتا ہے۔ ادھر سے نکلنے کا رستہ بھی تو چاہئے کہ نہیں،    مگر  ہمیں کیا ہیں جی  ہمارا تو آجکل ایک ہی نعرہ ہے جئے بھٹو ، پہلے ایک تھا اوراب تو دو ہیں بے نظیر بھی تو شہید بھٹو ہی ہے ، جانے کب تین ہوجاویں؟؟؟ کیونکہ ابھی جتنے ذرداری ہیں وہ بھی شیر کی کھال اوڑھ کر بھٹو بنے پھرتےہیں ان میں سے کل کلاں کوئی شہید ہوگیا تو ۔  میرا خیال ہے آپ سمجھ تو گئے ہی  ہوں گے، نہیں تو فیر آپ کو بتلانے کا فائدہ؟؟؟ ہیں جی

 نوٹ۔ یہ مضمون یاسر خومخواہ جاپانی کی ترغیب پرلکھا گیا 


مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 16, 2012

گیدڑ اٹلی اور ووٹ

سنا  ہے کہ  گیدڑ کی جب موت آتنی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے اور پھر بندے اس کو اتنی پھینٹی لگاتے ہیں کہ بس اسکی موت واقع ہوجاتی ہے، ویسے حق بات یہ ہے کہ گیدڑ کی موت کا فسوس کسی کو بھی نہیں ہوتا،   ہم نے بھی اپنے لڑکپن میں اپنے مرغی خانے کے گرد گھومنے والے کئی گیدڑوں  کے ساتھ اس محاورے پر علم درآمد پوری نیک نیتی اور ایمانداری سے کیا ہے  کسی نے کبھی کچھ کہا  اور نہ ٹوکا، اور بات ہے کہ کبھی کبھی  یہ گیدڑانسان نما بھی ہوا کرتے تھے،  انکی موت تو خیر کیا واقع ہونی تھی بس چھترو چھتری ہوجاتی۔ کوئی بڑا بزرگ کہہ دیتا اوئے چھڈ دو اے بڑا شریف بچہ ہے، ککڑ چھپانے تھوڑی آیا تھا، یہ تو بس ادھر سے گزر رہا تھا،  جبکہ ہمارا اصرار ہوتا کہ یہ ضرور ککڑوں کے چکر میں تھا، بس کچھ گالیاں اس کو اور کچھ ہمیں پڑتیں اور معاملہ  مک چک۔ شاید ہر طرف یہی کچھ چل رہا تھا، کہ رزق نے اٹھا کر ادھر پھینک دیا اور سب ختم ایک خوا ب کی طرح نہ محاورے اور نہ گیدڑ، نہ  کوئی ککڑیاں نکالنے کے چکر میں نظر آتا  اور نہ ہی گیدڑ کٹ چلتی۔
ادھر کئی برس گزر گئے ،اپنا کام کرو، گھر جاؤ، تھوڑا آرام، اگر کہیں پرھنے پڑھانے جانا ہے تو ٹھیک نہیں تو  ٹی وی، تھوڑا مطالعہ اور شب بخیر، چھٹی ہے تو ، کدھر سیر کو نکل جاؤ ، کسی کو مل لو ، نہیں تو کاچھا پہن کر پورا دن گھر میں بیڈ سے صوفے پر اور صوفے سے بیڈ  تک گزراردو،  جبکہ ادھر بسنے والے  بہت سے اپنے ہم وطن  ایمان ملا کی طرح برائے فساد فی سبیل اللہ ، آئے دن نئی نئی جماعتیں بناتے رہتے ہیں اور انکے صدر بنتے رہتے ہیں ، گزشتہ یہ عالم تھا کہ ہر بندہ دو دو تین تین جماعتوں کا عہدیدار تھا۔ مقصد ؟؟ آج تک معلوم  نہیں ہوسکا۔  پھر دور آیا سیاہ ست دانوں کا  ، ہر سیاہ سی جماعت کی ایک برانچ کھل گئی، ہر ساجھا ، مھاجا، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، فلاں جماعت، فلاں جماعت   کا عہدیدار بنا اور پھر قومی سطح پر اور پھر یورپی سطح پر  بھی صدر اور صدر اعظم کے نام سنے گئے،  ہر جماعت کے کوئی بیس کے قریب صدر ہونگے، جنکو تولیہ مارنے میں ہمارے آن لائن اور آف لائینں اخبارات کو مہارت بدرجہ کمال حاصل ہے،
مقامی طور پر جدھر ہم رہتے ہیں ادھر کسی کو علم نہیں کہ کیا ہورہا ہے، ہیں اچھا الیکشن ہورہے ہیں،  مینوں تے کسی نے نہیں دسیا،  ہین اچھا برلسکونی وزیراعظم بن گیا ہے  مینو تے کسی نے نہیں دسیا
اچھا جی اوس نے استعیفٰی دے دیتا ہے ، مینوں تے کسی نے نہین  دسیا۔
اس کے علاوہ کوئی ٹینشن نہیں تھی،  نہ الیکشن نہ سلیکشن ،  نہ کسی سے ملو نہ کسی کو منہ دکھلاؤ،
اب خبر آئی ہے  ادھرسے بھی ووٹ جائے گی تو پھر وہی  کچھ ہونے کا ڈر لگ رہا ہے،  جنتا اپنے کام کاج چھوڑ کے جلسے کیا اور سنا کرے گی، ہیں جی ۔   وہی ووٹ خریدے جائیں گے ہیں،  وہیں چوول قسم کے بندے الیکٹ ہوئیں گے ہیں جی، پوچھو جو ایتھے پہڑے او لاہور وی پہڑے، اگر پاکستان میں رہنے والے 16 کروڑ  صرف گیلانی اور ذرداری کی قبیل کے بندوں کو ہی منتخب کر سکے ہیں تو یہ پینتیس لاکھ کیا توپ  چلا لیں گے، ہیں جی آپ ہی بتاؤ

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 07, 2012

میں خود پردیسی


اٹلی میں  اگر آپ کو راستہ دریافت کرنے کی حاجت ہوجائے آجکل تو نہیں ہوگی کہ ٹام ٹام کا دور دورہ ہے، مگر  پھر بھی اگر کبھی پھنس  ہی جائیں  تو عام قول یہ ہےکہ کسی خاتون خوبصور ت   ، سیرت کے بارے ادھر کوئی بحث  نہیں ، مطلب حسینہ و جمیلہ  سے پوچھا جائے ورنہ کوئی گھوس قسم کا بڈھا بابا پکڑو کوئی صاحب پنشن   جسکا ستر کے اوپر کا سن ہو  اور اللہ اللہ کرنے کے دن ہوں ،   خاتون اپنی سمپےٹھیٹی کی وجہ سے اور بابالوگ اپنی فارغ البالی کی وجہ سے آپ کی مفصل راہنمائی کرنے کی کوشش کریں گے۔

 اگر آپ کی مت ماری گئی ہے یا قسمت یا ہاضمہ  خراب ہے  اور آ پ کسی پرانی مائ سے  پوچھیں گے تو لازمی طور پر یہی جواب ملے گا    نو لو سو اور  آپ کے مذید کسی سوال جواب ،کسی تاثر سے پہلے ہیں یہ  جا وہ جا، مجھے نہیں معلوم اور اگر سوال آپ کروگے کسی جوان پٹھے سے تو وہ کہے گا کہ میں  تو ادھر کا ہوں ہی نہیں،  خود پردیسی ہوں، پر دیسی ، پردیسی ،   یہ  پکا  اور سکہ بند قسم  کا حکیمی نسخہ ہے جو ادھر رہنے والی عوام نے بہت عرصہ کے تجر بہ کو نچوڑ کا نکالا ہے،  مطلب بہت  سی آپ بیتیوں کی بنیاد پر اسکو جگ بیتی درجہ حاصل ہے، ہیں جی

جب ہم لوگ بارسلونہ میں پہنچے تو میرا دماغ ماؤف ہوچکا تھا ،  لگاتار دس گھنٹے کی ڈرائیو  کا مطلب  ہے کہ  ہم  گیارہ سو کلومیٹر  طے کرچکے تھے،     وہ بھی  چھوٹی کلیو میں ، میرے تو بس گوڈے ہی جڑ گئے تھے،   اور دماغ بھوں بھوں کررہا تھا،  بارسلونہ شہر کی شیلڈ دیکھ کر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہوگئی اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا، میں نے گاڑی ایک سائیڈ پر روکی  اور  امجد صاحب کو   ڈرائیو کرنے کو کہا اور خود انکی جگہ پر پچھلی سیٹ میں بیٹھ کر آنکھیں موندنے کی کوشش کرنے لگا مگر کہاں،  بارسلونہ  میں پہلی بار گئے تھے  رات کے کوئی اڑھائی بج رہے تھے اور مانی استاد کے بقول ہمیں ادھر رملہ کے ساتھ چھوٹے پریشان رملہ  پر ملے گا یہ پریشان  رملہ  پاکستانوں کا گڑھ  ہے اور ادھر گھومنے والے سارے پاکستانی ہوتے جو بے روزگار ی کی وجہ سے پریشان  گھومتے اور خود بھی پریشان ہوتے اور رملہ کو بھی پریشان کردیا کرتے،، ہمارے لئے تب  سوائے اسکے کوئی چارہ نہ تھا کہ ہم  کسی سے رملہ کے بارے پوچھتے ، آصف اگلی سیٹ پر بیٹھا 
اونگ رہا  تھا ، جبکہ کوئی دس منٹ کے بعد میرا دماغ پھر سےمتحرک ہونا شروع ہوگیا۔

ایک بندے سے راستہ پوچھا تو اس نے پہلے تو معذت کی کہ نو ہابلو اطالیانو، نادا انگلیزے، مگر پھر بھی دیریکتو، دیکسترا اور سنسترا  مطلب سیدھا  فیر سجا کھبا  سمجھانے لگا  ،  حسب توفیق ہماری مت ماری گئی  تو  اسکو گراسیاس  کہہ کر سلوٹ مارا اور    نکل پڑے دیریکتو کو ،  آگے جاکر پھر ایک جوڑے سے پوچھنے کی رائے آصف لمبے کی تھی، جو سڑک کنارے بوس کنار میں مصروف تھا،   جبکہ امجد صاحب کا خیال تھا کہ یہ صر ف انکے بوس کنار سے  سڑ کر اس میں اپنی لکڑی گھسیڑنا چاہ رہا  ہے، خیر سانوں کی کہہ کو انہوں نے گاڑی  بی بی کے عین منہ کے سامنے  روک دی اور میں نے  مونڈی نکال کر پوچھا، سکوزا،  دوندے ایستاس رملہ؟ پیر فاوور  پس وہ اپنا کاروبار ترک کرکےکمال مہربانی سے ہماری طر متوجہ ہوئی اور وہی کیسٹ چلادی دیریکتو، دیکسترا فیر سنسترا  اور دیکسترا رملہ،    ادھر اسکا جملہ ختم ہوا ادھر میں  نے گراسیاس پھینکا اور ادھر امجد ،  میاں نے گاڑی آگے بڑھا دی، ہیں  
آصف لمبےکی باچھیں کانوں تک کھلی ہوئی صاف نظر آرہی تھیں۔جی   

تھوڑا آگے جاکر دائیں بائیں موڑ مڑ کر یہ خیال دل میں گھر کرگیا کہ جی رملہ ادھر کہیں آسے پاسے ہی  ہےکہ ایک دم سے بندوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا جو رات کے اس پہر بھی روا دواں تھے، زندگی متحرک تھی اور لوگ چہل قدمی اور لوگیاں چہلوں میں مسصروف، لوجی  امجد صاحب نے پھر سے بریک لگا دی کہ پوچھ اس منڈے سے ہی پوچھ لو رملہ ادھر ہی کہیں ہوگا،  یہ ایک جوان لڑکا تھا  اور اسکے کندھوں پر لٹکے بیگ پر اٹلی کا جھندا بنا ہوا تھا، میں نے اس سے  وہی سوال دھرا دیا ، دوندے ایساتس رملہ پیرفاوور، پس ادھر  سے خالص اٹالین میں جوا ب آیا کہ میں ادھر  پردیسی ہوں تو میں بھی اس سے ترکی بہ ترکی خالص اٹالین میں ہی پوچھ لیا کہ میں اٹالین ہی  ہوں اور اٹلی سے ہی آرہا ہوں ، رملہ کے بارے جانکاری مانگٹا ، فوراُ وہی جواب میں نہیں جانتا میں تو ادھر خود پردیسی ہو، ہیں جی

فٹ کر کے ایک حسینہ اپنے محبوب کی باہوں سے لپکی ہوئی  بولی وہ سامنے  ہی تو رہا  ر ملہ  اور ہمارے گراسیاس کو سنے بغیر  پھر اپنے میں مگن ہوگئی ،   ہم  اس نتیجہ پر  پہنچے کہ سچ  کہ دنیا گول ہے اور یہ بھی سچ  ہے  کہ جو ایتھے  پہڑے اوبارسلونہ میں بھی یہیی کہیں گے کہ مجھے نہیں معلوم رملہ بھلے وہ سامنے ہی کیوں نہ ہو، ہیں جی ،  ابھی ہمیں پریشان رملہ بھی تلاشنا  تھا کہ  ہمار ا مانی ادھر ہی کہیں ہماراانتظار کررہا  تھا۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 05, 2012

شکریہ



یہ نیا سانچہ لگایا ہے تو جس بندے نے بنایا ہے اس کا شکریہ تو بنتا ہے کہ نہیں 
ویسے شکریہ ادا کرنے کا رواج صرف پاکستان اور اٹلی میں ہی نہین  ہے ورنہ دیگر ممالک میں تو شکریہ کی لائین لگا دیتے ہیں، اٹلی میں چلیں پھر بھی کوئی نہ کوئی گراتسے کہہ کر ٹل جاتا ہے مگراسپین جاتے ہوئے بعذریہ کار فرانس میں اس کا بہت تجربہ ہوا، فرانس کا ہمارا کل  تجربہ نیلے ساحل سے گزرتے ہوئے موٹر وے کا ہے جونیس ،    لیون اور ماونٹ پلئر سے ہوتا ہوا اسپین کو جاتا ہے، موٹر وے نے خیر کدھر جانا تھا، ابھی بھی ادھر ہی ہے، جانا ہم کو تھا اور دوجے دن واپس بھی آنا تھا، فرانس میں ایک پنگا یہ تھا کہ موٹر وے پر ہرضلع کی حدود ختم ہونے پر ادائیگی،بلکل پاکستانی نظام، کدھر دو یورو اور کدھر ڈھیڑ، بس جی آپ رکے اور ایک مسکراتی ہوئی حسینہ باہر مونڈی نکال کو سلام کرتی پائیں، لگتا کہ بس ہم پر ڈل مر ہی گئی ہے، اچھا تو اٹلی سے آئے ہو ؟اچھا  توکارڈ دے دو؟ مہر بانی ہوگی، آپ سوچتے رہیں کہ ٹول کارڈ تو دینا ہی ہے مہربانی جانے کدھر سے آگئی، آپ نے کارڈ دیا ، اس نے شکریہ ادا کیا، ٹک کرکے ،  اور ساتھ ہی آپ کو بل بھی بتا دیا،  آپ نے پانچ یورو کا نوٹ تھما دیا،   اسکا کا میسی مطلب شکریہ کہنا  اور بقایا لوٹا نا  اور پھر شکریہ کہ آپ نے بقایا قبول کرلیا ، کوئی پوچھے بندی کوئی اپنا بقایا بھی چھوڑ تا ہے کہ اور وہ بھی ہم پاکستانی ، لینے   تو کبھی نہ چھوڑ ، دینے دیں یا نہیں ، پھر آپ کو سفر بخیر کہنا اور آپ کا جواباُ شکریہ کہنے پر بھی آپ کا شکریہ،  

ادھر اسپین پنچنے تک  ہمارے منہہ سے بھی میسی اور میسی بکو نکل رہا تھا، شاید عادی ہو چکے تھے واپسی پر بھی وہی حشر مگراٹلی پہنچ کر پھر وہی نمک کی کان میں نمک ہوگیا بس

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش