جمعرات, نومبر 03, 2011

جمہوریت آمریت اور بچہ لوگ

بہت  دیر سے لائین  میں کھڑے  رہنے کے بعد میں نے بھائی  جان سے پوچھا کہ کیا یہ مٹی کا تیل ہم اپنے کھیت کی مٹی  سے  نہیں بنا سکتے؟؟ بھائی  جان نے ڈانٹ دیا کہ چپ کر اور ادھر کھڑا رہ نہیں تو تیل نہیں ملے گا  اور رات کو لالٹین نہیں جل پائے گی۔  تب میری عمر کوئی چھ برس تھی،   نا سمجھی اور بچپن کے دن مگر وہ منظر میں آج تک نہیں بھول سکا جب روح افزا کے شربت والی شیشی کی کالی  سی بوتل ہاتھ میں پکڑے بھائی جان گھر سے مٹی کا تیل لینے نکلے اور میں خوامخواہ ضد کرکے انکے ساتھ ہولیا۔

  سن 1976 کی بات ہے جب ملک میں یہی آج والی صورت حال  تھی، تیل مٹی کا  نہیں ملتا تھا تب مٹی کے تیل کا ستعمال بھی یہی تھا کہ  لالٹین میں ڈال لو  اور شام کو گھر میں روشنی کرلو، لالٹین بھی ایک  دو گھروں میں ایک  ادھ ہی ہوتی ،   نہیں تو  تارہ میرا کے تیل  والا چراغ جلتا  ، جو روشنی کم اورکڑوا  دھواں زیادہ دیتا،   اور یہ رواج بھی  تھاکہ  ہمسائیوں کا لڑکا کہہ رہا ہوتا     ماسی میری اماں کہتی ہے لالٹین میں تیل ڈال دو،  اور ہماری دادی جان  کہہ رہی ہوتیں بسم اللہ میرا پتر، لا ادھر کرلالٹین ،  رات گئے  لالٹین بجھا دی جاتی کہ اب چاند نکل آیا ہے اورچاندنی کی موجودگی میں روشنی کا کیا کام،  مگر بھائی  جان چیخ رہے ہوتے  کہ  ابھی نہیں میں نے پڑھنا ہے۔  

حیرت ہوتی کہ ہمارے ملک میں  مٹی اتنی ہے اور مٹی کا تیل نایاب؟؟  بچپن اور ناسمجھی کے سوالات۔۔۔۔ صرف یہی نہیں ، تب   چینی، آٹا ،  پیاز کچھ بھی تو  نہیں ملتا تھا۔  خیرسے چینی آٹا کے بارے میں ہمارے خاندان خود کفیل تھا  کہ چینی چچا جان پنڈی سے اپنی یونٹ سے  اپنی فوجی گاڑی میں بھجواتے   ،  آدھی پورے پنڈ میں فوراُ بانٹ دی جاتی اور آدھی اگلی پہلی تک  رکھ دی جاتی کہ بھئی کوئی  غمی خوشی ہوجائے تو کام آئے گی،   اگر مذید ضرورت پڑتی تو سرگودھا سے ہمارے رشتہ دار وں کے ہاں سے گڑ آجاتا ، جو بہت مزے کا ہوتا  اور ہم لوگ  اتنا کھاتے کہ   پھوڑے نکل آتے فیر  ڈاکٹر عنصر سے کوڑوا شربت بھی ملتا  اور ٹیکہ بھی لگتا۔     آٹے کے معاملے میں گھر کی گندم کی پسوائی کروانی ہوتی اور فکرناٹ،  ڈیپو کا یہ عالم ہوتا کہ چچا سرور المشور چاچا سبو کے نام ڈیپو تھا  اور پہلے تو چینی فی کن مطلب فی بندہ   ایک  کلو دیتا اور بعد میں اس نے  ایک پاؤ کردی تھی، پھر فی بندہ سے فی گھر کے حساب سے تقسیم ہونے لگی۔

ماسٹر قربان صاحب کو دیکھا کہ کپڑے پھٹے ہوئے اور برے حال  میں لڑکھڑاتےٹانگے سے  اترے،      ہیں انکو کیا ہوا؟؟   کوئی بتا رہا تھا کہ یہ لاہور جلوس کےلئے جارہے تھا ماشٹروں کی ہڑتال میں  اور رستہ میں حکومت کے کہنے پر انکو پولیس نے پھینٹی لگائی ہے۔  پھر دیکھا کہ بھائی جان بھی روز لڑلڑا کر آتے اور دادا جان  سے گالیاں کھاتے    مگر بد مزہ نہ ہوتے،  کہ جی کالج اسٹوڈنٹ یونین  کا حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کےلئے لڑے۔  کس کے خلاف لڑے ؟؟                       تب سمجھ نہ آتی۔

یہ زمانہ تھا بھٹو کے دور عنان کا ،   ملک بلکل اسی افراتفری کا شکار تھا جو آج ہے۔  ضروریات زندگی دستیاب نہ تھیں،   نہ ہی  ملک کے اندر کچھ سکون تھا، عوام بے چینی اور افراتفری کے عالم میں جی رہی  تھی،   فوجی روتے کہ اس بھٹو ٹن نے پاکستان توڑ دیا ہے ، بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا ہے،   اور مغربی پاکستان کو کل پاکستان قرار دے کر  اپنی  حکمرانی  کو جلا دی ہے،  اکثر  کوئی نہ کوئی  یہی کہہ رہا ہوتا کہ ایوب خان کے زمانے میں اچھے خاصے کام ہورہے تھے۔  ڈیم بن رہے تھے، صنعتیں لگ رہی تھیں، سڑکیں گلیا ں بن رہیں تھیں، کاروباری خوشحال ہورہا تھا،      ملک پینسٹھ کی جنگ لڑ کر آپ ایک قوم کی صورت میں سامنے آیا تھا  ، ہر کوئی وطن  پرستی کے جذبات سے سرشار تھا کہ  بھٹو نامی ایک ڈرامہ باز اٹھا اور اس نے روٹی کپڑا اور مکان کا فریب دے کر غریب لوگوں کو گھر سے نکال لیا،  ملک کے اندر وہ ہڑبونگ مچی کہ اللہ امان،     ایوبی حکومت ختم اور ملک میں پہلے اور واحد سول مارشل لاء کا نفاذہوا جس کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔  پھر وہ صدر بنا اور ملک کو ادھرتم ادھر ہم کر کے وزیر اعظم بن گیا،   مگر وہ ستر کی دھائی ملک کے اندر افراتفری  کےلئے یادگار  تھی، فوج کا مورال ڈاؤن،  عوام سڑکوں پر،  ہتھوڑا گروپ کا خوف،   چوریاں اور ڈاکے  ،   طلباء  اور ٹرانسپورٹروں کے فسادات،  اس یونین کا جلسہ اور اس یونین کا جلوس ،   نہ ہی کچھ کھانے کے ، نہ ہی تحفظ  ، نہ سکون نہ عزت،   مہنگائی تھی کہ دن بدن ہوشربا طور پر بڑھے جارہی تھی، قومیائے جانے کی وجہ سے صنعتیں بھیگی بلی بن چکی تھیں۔
 
ن دنوں میں ایک دم  ریڈیو پر خبر آگئی کہ فوج نے ملک کا کنٹرول سنھبال لیا ہے اور بڑی بڑی مونچھوں والا ایک جرنیل للکار رہا تھا  کہ اب جو فساد فی سبیل اللہ کرے گا ،  جو زخیرہ اندوزی کرے گا چوک میں الٹا لٹکادیا جائے گا،    چوری ، شراب  ، مجرا بازی، ہینکی پھینکی ،  چکری مکری سب منع  ، نہیں تو فوجی عدالت اور پھر بازارمیں کوڑے،    سنا تھا کہ جہلم  میں بھی کسی کو پڑے ۔

بس پھر کیا تھا جیسےجلتی  آگ پر پانی پڑ گیا ہو، چینی فوراُ بازار میں دستیاب ہوگئی، آٹا مل گیا، مٹی کا تیل وہی ڈپو کے بھاؤ  ہر جگہ دستیاب تھا،    مہنگائی  رک گئی  اور پھر سالوں چیزوں کی قیمتیں ادھر ہی ،  طلباء نے پڑھنا شروع کردیا ، صلوات کمیٹیا ں بن گئیں ،  زکوات کمیٹیاں بھی غریبوں کی امداد کو آگے بڑھیں، جتنی لچا پارٹی تھی سب مسجد کو پہنچی،   محلوں کے بدمعاش  چھپتے پھرتے۔
فوجیوں  کاجی پھر سے جذبہ شہادت سے شرشارہوا،  دفاع اور صنعت نے پھر سے ترقی کرنا شروع کردی،  ایٹمی صلاحیت حاصل ہوگئی،   ملک میں آنے والے افغان بھائیوں  کی کثیر تعداد کوبھی سنبھال لیا گیا،      افغانوں  کے ساتھ ملکر روسیوں کی  ایسی کی تیسی کردی، انڈیا کی فوجیں بارڈر پر لگیں تو صدر صاحب کرکٹ کے میچ دیکھنے پہنچے اور پھر جو ہوا وہ دنیا نے دیکھا، انڈیا کی فوج چپکے سے بارڈرز سے واپسی کو نکلی۔ 
  
بھٹو کی موت بعذریہ عدالتی سزائے موت ،   پھانسی ہوئی ،   تو  دوسروں کو کیا دیتا اپنے خاندان کےلئے  محل اور عوام کےلئے غربت  چھوڑ گیا،    کچھ لوگ رونے والے تھے کچھ مٹھائی بانٹنے والے،   عوام نے کچھ خاص نوٹس نہ لیا ،  بس کچھ سیاسی جلسے جلوس اور بات ختم ۔ کسی نے کہا شہید ہے تو کسی نے کہا کہ اگر یہ شہید ہے تو اسے شہید کرنے والے کو کتنا ثواب ملا ہوگا۔ 

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ  یہ مرد مومن  جب شہادت کے درجہ کو پہنچا تو  ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں آنکھیں اشکبار تھیں،   لاکھو ں  کا مجمع جنازہ میں شریک تھا اور خاندانوں   کے خاندان ٹی وی کے سامنے بیٹھے دھاڑیں مار رہے تھے۔ ہمارے اپنےپورے پنڈ  میں بھی ماتم   بچھی ہوئی تھی،      اس نے ملک کو سب کچھ دیا مگر اپنے اہل خانہ  کےلئے ایک زیر تعمیر مکان چھوڑ، کچھ ہزار کا بنک بلنس  اور ملک کےلئے بڑھتی ہوئی معیشت، ایک نظام اور فعال ادارے۔   تب پاکستان عالم میں ایک راہنما  اسلامی ملک کے طور پر ابھر چکا تھا۔کچھ نے اسے آمر کہا اور کچھ نے مرد مومن اور  شہید کا خطاب دیا، مردہ بدست زندہ مسجد میں دفن کردیا گیا

ہم  بطور قوم اس بچے کی طرح ہیں جو اپنے اچھے برے کو نہیں پہچانتا ، جو جمہوریت کی لولی پاپ سے خوش ہوتا ہے مگر  سخت قوانین کی کڑوی گولی سے ڈرتا ہے   سمجھائے نہیں سمجھتا کہ  ہرچمکتی ہوئی جمہوریت سونا  نہیں ہوتی  ،   آج ہم مذہب کے ہر علمبردار کو جاہل و بنیاد پرست قرار دے رہے ہیں بلکہ دل کرتا کہ ہے مولویوں کو ڈاکو قراردے کر مار ہی دیا جائے۔ اہل مغرب نے جو کہہ دیا ،    جمہوریت ہے تو اس کے نام پر ذرداری،  گیلانی،  اعوان، ملک، الطاف سب  بھائی بھائی اور بھائی لوگ سر آنکھوں پر۔
                  
آج پھر لالٹین میں تیل نہیں، آٹا نہیں، چینی نہیں، مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے،  فوج کا مورال ڈاؤن ہے، قوم  بے حس ہے، چور ڈاکو،  ہڑ ہڑ کرتے پھر رہے ہیں،  لچے عزتیں اچھال رہے ہیں، زکوات کمیٹی تو دور کی بات وزارت حج  و مذہبی امور غبن پر غبن کئے جارہی ہے، فراڈئے ، قاتل  ، دھانسے والے سب حکمرانوں کی فہرست میں شامل ہیں اور مجھے پھر انتظار ہے اس دن کا  جب پھر منادی کہہ دے گا ۔۔۔۔۔بس آج کے بعد بس۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ہیرا پھیری کی، چکری مکری کی،  چوں چلاکی کی   اسکی شامت ،     پھر بچے پڑھنے لگیں گے،   پھر صنعت کا پہہہ چلنے لگے گا،      پھر آٹا ، چینی ، بجلی دستیاب ہوگی،  پھر  بدمعاشی کرنے والے کو چوک میں لکایا جائے گا،     اس وقت کا جب شریف آدمی سکون کا سانس لے سکے گا، 

اس وقت کا انتظار جب  میں اپنے اٹالین دوستوں کو کہہ سکونگا  کہ میاں میں تو چلا اپنے دیس  کہ ادھر راوی چین ہی چین لکھتا

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 29, 2011

امیگریشن و معاشرتی تغیرات

رامونہ  نے مجھے ای میل   کی کہ  ویرونا یونیورسٹی  اور سولکو   مغربی پنجاب پر کچھ ریسرچ کررہے ہیں اور انکو ایک ایسا بندہ چاہئے جو پنجاب کا کلچر بھی جانتا ہے اور انکی اس پروجیکٹ کی تشکیل میں راہنمائی کرسکے۔       میں نے اس رابطہ پر اپنا چھوٹا سا تعارف لکھ بھیجا اور یہ کہ کارلائقہ سے ضرور یاد فرمائیں۔   پرسوں ماریہ  نامی خاتون کا فون آیا اور آج صبح ہفتہ کو ملاقات کا وقت طے پایا،    موصوف خاتو ن  ویرونہ یونیورسٹی کے ساتھ  سماجی نفسیات کے شعبہ میں ریسرچ پر ہیں،    اورادھر پاکستانی امیگرینٹ کمیونٹی چونکہ بہت بڑی ہے لہذا یونیورسٹی نے ایک پروجیکٹ تشکیل دیا ہے کہ میاں دیکھیں تو سہی یہ پاکستانی ادھر آکر جو یہ کھڑاک کرتے پھرتے ہیں ادھر اپنے ہاں کیا ہیں اور کیا کرتے ہیں چکر کیا ہے سینکڑوں نہیں ہزراوں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں ادھر سے ادھر تشریف لا رہے ہیں
۔
اس یونیورسٹی نے یوں کیا کہ  پنجاب یونیورسٹی  کے دو پروفیسرز کو  ادھر دعوت دی دو ہفتے رکھا ، کھانا کھلایا، سیرسپاٹا کروایا ر  کانفرنسیں پڑھواہیں اور  سر پر ہاتھ پھیر ماتھے پر پیار دے انکو  ادھر اپنے دیسے بیجھ دیا

اگلے برس یہ خاتون ادھر دو ہفتوں کو وارد ہوئیں  لاہور سے لیکر گجرات گئیں ادھر کڑیانوالہ گاؤں میں  کوئی چھ دن تشریف فرمارہیں اور دیکھتی رہیں کہ لوگوں کا رہن سہہن کیا ہے   ،  بقول میں چھت پر چڑھ جاتی اور آگے پیچھے کے گھروں کو دیکھ دیکھ کر اندازہ لگاتی رہتی  کہ اس گھر کی حالت بہت اچھی ہے ضرور اس گھر کے کافی بندے باہر ہوں گے،  اس گھر کی مرمت اچھی ہوئی ہے لازمی طور پر انکا ایک آدھ بندہ باہر ہوگا اور کھانے والے پیچھے زیادہ ہونکے ، یہ لگتا ہے کہ ایسا گھر کہ جس کا باہر کوئی بھی نہیں اسی لئے خستہ حال ہے۔   پھر وہ بڑے بڑے ولاز جو اکثر گاؤں کے باہر بنے ہوتے ہیں اور بند ہوتے ہیں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انکے بننانے والوں کے پاس دولت ابھی آئی ہے اور اس طرح آئی ہے کہ انکی کایا پلٹ چکی ہے۔  خاتون کی آبزرویشن یہ تھی کہ یہ جو باہر کا چکر ہے اس نے پنجاب کے معاشرہ اور معاشرتی اقدار کو تہس نہس کردیا ہے۔   کہ  ایک آدمی کے پاس بہت سے پیسے آگئے ہیں اور اس نے ایک بڑی سی کوٹھی بنا لی ہے پھر گلی کے باہر نالی میں کیچڑجمع ہے مگر چونکہ وہ تو حکومت کو بنانی ہے  لہذا وہ کبھی نہیں بنے گی اور اس ولا سے نکلنے والا پاؤں کیچڑ میں ہی پڑے گا۔۔

پھر بات چلی کہ یہ جو معاشرتی تغیر پیدا ہورہا ہے تمہارے ہاں حیرت کی بات ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جو اس پر ریسرچ کررہا ہو، جو ان معاشرتی تبدیلیوں پر نظر رکھ رہا ہو،   کوئی ایسا ادارہ جو اس امیگریشن اور اسکے نتیجے میں   پیدا ہونے والے تغیرات    کا مطالعہ کررہا ہو اور اس سونے کی چڑیا کو بہتر انداز میں استعمال کرنے پر کام کررہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میں خاموشی سے سنتا رہا اور میرا دل خون کے آنسو روتا رہا ۔۔۔ واقعی ہمارے ہاں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جو سونے کا انڈا دینے والی اس مرغی کی حفاظت کرسکتا ہو  اور اس طرح دیکھ بھال کہ  یہ طویل عرصہ تک مفید ہو اور یہ  کہ اس پیسے کی چانک ریل پیل سے معاشرہ میں تغیرات کم سے کم برپا ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کو ن ہے ایسا کوئی بھی تو نہیں کم از کم مجھے تو علم نہیں اگر آپ کو علم ہو تو ضرور لکھیں

اس خاتون نے ایک کتاب بھی لکھی ہے پردہ  یا تحفظ، تعلیم  اور معاشرتی تغیرات  پاکستان سے ہجرت کرنے والے خاندانوں میں

مکمل تحریر  »

جمعرات, اکتوبر 27, 2011

اپنا ہیرو

ہیرو  ہمیشہ ہی بڑا ہوتا ہے اور کچھ کرجاتا ہے یہاں کچھ سے مراد واقعی کچھ  ہے ،    ورنہ ہیرو نہیں اور جو کچھ بھی ہو،  یہ ہیرو  ہر فلم کا اپنا  ہوتا اور پوری فلم اسی کے گرد ہی نہیں بلکہ اسکی کے سر بھی ہوتی ہے۔ مگر فلم کے باہر بھی ہیرو ہوتے ہیں عام زندگی کے خاص لوگ ،     ہر محلے کا ہیرو بھی ہوتا ہے اور کالج کا بھی ،  اس طرح کے ہیرو بابے لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتے اور باباز کہتے پھرتے ہیں بڑا ہیرو بنا پھرتا ہے۔

کالج و محلے کے علاوہ کچھ عام زندگی کے خاص ہیرو ہوتے ہیں جو اکثرقومی درجہ کے ہوتے ہیں کچھ وہ جو کچھ کرتے ہیں اور نام پاتے ہیں تمغے حاصل کرتے ہیں ،   مربعے ا ور بنگلے بھی پاتے  ہیں اور کچھ وہ جو بہت کچھ کرجاتےہیں  مگرانکا  نام کوئی نہیں جانتا انکو بہت ہی گھمسانی اردو میں گمنام ہیرو کہا جاتا ہے اس سے کمزور دل لوگ یہ   نہ  سمجھ لیں کہ خدا ناخواستہ  اس کا نام کہیں گم ہوجاتا ہے بلکہ یہ لوگ اتنے غنی ہوتے ہیں کہ  بہت کچھ دینے کے باوجود کچھ بھی نہیں لیتے  انکا کوئی نام تک نہیں جانتا،   البتہ کچھ ہیرو عالمی ہوجاتے ہیں گریٹ الیگزنڈر   طرز کے جو پوری دنیا کے لوگوں کے دماغوں میں گھس بیٹھتے ہیں۔ 

ادھر اٹلی میں جب بھی کبھی تاریخ و ثقافت پر بات ہوتی ہے تو انکے اپنے ہیرو ہیں فلم کے بھی اور تاریخ کے بھی جو جولیس سیزر سے لیکر گارلی بالدی تک پھیلے ہوئے ہیں  جس طرح ہماری تاریخ پاکستان میں محمد بن قاسم سے لیکر ٹیپوسلطان اور پھر قائداعظم کی طرح کے سنگ میل قسم کے ہیرو ملتے ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم ان  کے ہیروز کو نہیں جانتے اور یہ ہمارے والوں کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
 
 ملک کے اندر اس وقت جو صورت حال ہے اس میں بھی مختلف لوگوں کے مختلف ہیرو ہیں بقول   مولوی خالدصاحب کے اس وقت پانچ ہیرو موجود  ہیں  ب   ز  ن  ع  اور ف   ۔   ان میں سے ہر کوئی   اپنا  اپنا گروہ رکھتا ہے اور اسکا گروہ دوسرے کو کچھ سمجھتا  نہیں ۔   آج کل ہیرو کےلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ باکردار ہو، بہت طاقتور ہو یا پھر ہاتھ میں توپ لئے گھوم رہا ہو۔  ناں  بلکہ پکی ناں ہم اس ہیرو کو  صرف اس لئے ہیرو مانیں گے کیونکہ وہ ہمیں پسند ہے  بھلے اس پر جتنے ہی کیس ہیں رشوت خوری کے یا فیر حرام خوری کے،  بھلے وہ بندے مروا کر ولائت جا بیٹھے، یا پھر ایک دن امریکہ سے فنڈ لائے اور دوسرے دن اسکے خلاف دو دن کا دھرنا دے مارے۔  جتنی بار اسکے دل کرے وسیع ترقومی مفاد میں حکومت میں چلا جائے یہ باہر ہوجائے۔  کوئی مرے کوئی جئے کھسرا گھول پتاسے پیئے کے مطابق عوام مرے یا جئے وہ اپنے بال لگوائے گا یا کبھی کبھار کہہ بھی دے گا کہ جناب اب بس کرو۔

کسی سیانے بندے کے بقول  ہر بندے کا اصلی ہیرو وہ خود ہوتا ہے اور اپنے جیسے سارے بندے اسے اچھے لگتے ہیں،  اگر یہ صاحب قول واقعی سیانا ہے پھر تو خطرے کی گھنٹی ہے اس کی بات  کیونکہ اسکا مطلب ہے کہ ہم  سب ان ہیں جیسے ہیں اگر ہم سب  ب ز ن ع اور ف کی  طرح کے ہیں تو پھر  بطور قوم  ہمارے دن گنے گئے ہیں۔   آپ کا کیا  کہ خیال ہے  بجائے اس  کے کہ کوئی اور سیانا بھی اس طرح کی باتاں کرے  ہمیں اپنے ہیرو تبدیل کر نہیں لینے چاہئیں؟؟

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 26, 2011

فیس بکی اردو

ماہرین لسانیات کے مطابق   زندہ زبان کی نشانی ایک یہ بھی ہے کہ اس میں نئے الفاظ شامل ہوتے رہیں۔ اور یہ الفاظ اس طرح کے ہوں کہ  اس زبان کا حصہ محسوس ہوں،   ہندی زبان میں تو اس مقصد کےلئے ایک تحریک بھی چلائی گئی اور اردو کےالفاظ کے ہندی کرکے ایک کاغذ پر لکھ کو پوتر پانی میں ڈبویا جاتا، اس طرح لفظ  پوتر ہوکر ہندی ہوجاتا،  بقول شخصے
اردو کو ہندی کیوں نہ کریں زبان کو بھاشا کیوں نہ کریں
جب لوگوں کو پسند ہے توفیر یہ تماشا کیوں نہ کریں
اردو    کا  کمپوٹر میں استعمال  ایک طویل و دلچسپ  داستان لئے ہوئے ہے،  ان پیج سے لیکر تحریری اردو تک آنے میں بہت سے برس بیت گئے آج الحمدللہ  ہمارے کمپوٹر اردو دان ہوچکے ہیں ۔   اس ترویج کےلئے میں جملہ احباب کو مبارک باد دوں گا جنہوں نے بغیر کسی معاوضہ و لالچ کے تحریری اردو کا استعمال ممکن بنایا۔  ویسے آج کل فیس بکی اردو عام ہورہی ہے بہت سے انگریزی کے و شعبہ جاتی الفاظ  کو اردو یوں کھا رہی ہے جیسے صدقہ گناہوں کو کھاتا ہے یا سوکھی لکڑی کو آگ ۔
لوڈ  کا مطلب  چڑھانا ہو سکتا ہے مگر ہم اسکو لوڈنا ہی لکھتے ہیں اسی طرح کی کچھ مثالیں مزید دیکھی جاتی ہیں
ایڈٹنا،  مطلب کانٹ چھانٹ کرنا
پیسٹنا ، مطلب چسپاں کرنا یا نقل کرنا
ایڈنا، مطلب شامل کرنا یاداخل کرنا
ڈیلیٹنا، مطلب  منسوخ کردینا
شیئرنا ، مطلب  باہم بانٹ لینا
کومینٹنا،  مطلب تبصرہ کرنا
لائیکنا، مطلب  پسندیدگی کا اظہارکرنا۔
بلاگنا، بلاگ لکھنا۔
اس وقت  بلاگنے کو کچھ وی نہ ہونے کی وجہ سے یہ کچھ لکھ دیا ہے مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کے دماغ میں وی دو چار الفاظ لازم ٹھونگے ماررہے ہونگے۔ تو فیر کیا سوچ رہے ہیں نیچے تبصر ہ میں ڈال دیں۔
دروغ برگردن دریائے راوی

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 19, 2011

سربراہ یا دشمن

  

جب ہمیں  گھر میں کوئی مسئلہ ہوتو سیدھے ابا جی کے پاس ،  چاہے بہن بھائیوں کا آپس کا جھگڑا ہوا،   امتحان کی فیس چکانی ہو یا پھر کالج ٹور پر جانے کی اجاز ت چاہئے ہو،  نئی بائیک خریدنی ہو یا اس میں پیٹرول ڈلوانا ہو،     یہیں پر موقووف نہیں بلکہ اگر ہمسائیوں کا کتا گلی میں بھونکتا ہو تو بھی،  کالج کے لڑکوں سے پھینٹی پڑے تو بھی ابا جی اور اگر آوارہ گردی کے چکر میں یا  بغیر لائینس کےڈرائیونگ کرتے ہوئے پولس پھڑ لے تو پھر بھی  ادھر ابا جی۔  مطلب اباجی کا   گھر کا قبلہ و کعبہ کہ ہرچیز انہی کے گرد گھومتی ہے


حکمران ملک کے ابا جان ہوتے ہیں نہ صرف سماجی طور پر بلکہ مذہبی طور پر بھی۔  ہمیں چھوٹا سا  مسئلہ درپیش ہو تو ایک عام آدمی کے طور پر بھاگم بھاک ادھر اپنے نمبردار، کونسلر، ممبر اسمبلی، وزیر   وغیرہ تک حسب  ہمت وتوفیق جیب یا بمطابق حسب ونسب پہنچے ہوتے ہیں یا کوشش کررہے ہوتے ہیں صرف اس خیال سے کہ یہ نیک لوگ جو ہمارے ہمدرد ہیں ہمارے اس مسئلہ کو حل کریں گے۔     بلکل ایسے ہی جس طراں اباجی کی طرف جاتے ہیں

 مگر اس وقت جو حالت ہے اس سے لگتا تو نہیں کہ  یہ اباجی  ہیں،   وہ ہمدرد، شفیق، غصے سے بھرے ہوئے،  بزرگ پر رعب،  ہنسے ہو ئے دوست، طاقت کا سرچشمہ، جو دنیا کے سارے مسائل چٹکی میں حل کردیتے ہیں ، اگر انہوں نے ہاں کہہ دی تو بس کہہ دی  اورناں کا مطلب نہ ہے۔  جن سے شاباش کے تمغے بھی ملتے ہیں اچھے کام کرنے پر اور گالیاں اور چھتر پڑنے کا خوف بھی ہوتا اگر کچھ الٹا سیدھا کرلیا تو۔ 

ابھی تو لگتا ہے کہ گھر کے اباجی ہی  خاندان کی ناس مارنے پر تلے ہوئے ہیں،  اہل خانہ اگر ڈینگی بخار سے مر رہے ہیں تو مریں، سیلاب میں بہہ گئے ہیں تو اچھا ہے ،   بجلی کے بغیر رہ رہے ہیں تو رہیں، پانی ان کے گھروں میں گھس گیا ہے تو خود نالی کھودیں اور نکالیں،  بچے اسکول نہیں جارہے تو نہ جائیں،  محلے کے لوگ ان پر گولیاں برسارہے ہیں تو برساتے پھڑیں۔

نہیں نہیں یہ کام  یہ رویہ ہمارے ابا جی کا نہیں ہوسکتا میں اس  بات پر قسم کھانے کو  ہی نہیں بلکہ مسجد اٹھانے کو بھی تیار ہوں  بقول فیاض بھائی۔   تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم تمھارے اباجی ہیں  ابھی جو ملک کا احوال ہے   ظاہر ہے کسی ملک کے ہمدرد کی کاروائی تو ہ نہیں سکتی بس اس میں ملک دشمن ہی ملوث ہیں، ویسے تاریخ یہ بات ابھی نہیں بھولی کہ پی پی کو جب بھی کھل کھیلنے کا موقع ملا تو یہی کچھ ہوا بھتو نامی شخص نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا اور ٹھاہ ملک دو ٹکڑے  ،  ابھی زرداری چار کرے گا ،  ایک  لاور بابا بھی اسی خاندان سے متعلقہ ہے سر شاہنواز بھٹو نام کا جو انگریزوں کی طرف سے ریاست جونا گڑ کا دیوان مقرر ہوا اور فیر اسکا وی دیوالا    نکال دیا ،   کرلو گل ابھی بھی یہ ڈاکٹر ملک، ڈاکٹر اعوان،  ڈاکٹر ذرداری،   ڈاکٹر گیلانی   اور دیگر تمام جو اپنا  آپ کو ملک کا اباجی سمجھتے ہی نہیں کہلواتے بھی ہیں،    کون جانے سچ کیا اور جھوٹ کیا؟؟؟

مکمل تحریر  »

لائیکنا اور حاجی ساب

 ہمارے ہمسائے میں اللہ مغفرت کرے چچاحسین عرف عام میں حاجی ساب رہتے تھے اب عازم جنت ہوچکےہیں شام کو جتنی مشٹنڈا پارٹی ہوتی انکے زیر سایہ تاش کھیل رہی ہوتی، تاش کم اور مخولیات زیادہ ہوتیں، ادھر آنکھ جپکی نہیں ادھر پتااڑا نہین۔ ہارون الرشید تب کا روونا اس کام میں سب سے ماہر تھا میرا ساتھی ہوتا اورجب بھی بانٹنے کی باری ہماری ہوتی مطلت ہار تو فوراُ اسکا کام تھا سارے کارڈ لپیٹ کر اپنے ہاتھ کرلینا کہ لوجی میں پھینٹی لگا دون بس فیر کیا ہوتا، تقسیم ہوتی پوری پوری اور شاہ جی کہہ دیتے رونیا توں نے ضرور چول ماری ہے، سارے کہہ اٹھتے شاہ جی اس نے کیا کیا ہے کارڈ تو ساروں کے پورے ہیں۔ شاہ جی  کا کہنا ہوتا کہ پتا مجھے وی نہیں کہ اس نے کیا کیا ہے پر کچھ نہ کچھ کچھ چکر کیا ضرور ہے اٹھ تلاشی دے اور پھر  یکے شاہ بیگی کے درجے کے دو کارڈ اسے کے کھیسے میں سے جانے کیسے نکل آتے۔۔

حاجی ساب اس سارے قضئے سے بے خبر ادھر منڈوں کو اپنے دن کی روداد سنارہے ہوتے کہ سویرے ادھر کالج گیا اپنی ایبسینٹی لگوائی اور فیر فور۔ اوتھوں مہانے کے ہوٹل پر چاہ پی فیر ماشٹر مقبول کے پاس گیا اور ادھر سیل ککڑ کو مالش کی فیر ککڑ وہاں  پر لڑوا کر زرا اسکا پنڈا تپا کر وہاں سے گھر اور مال مویشیوں کے چارے پانی کا بندوبست،  دیکھا فیر جب تم لوگ کالج سے پڑھ کرآئے تومیں اپنے کام مکا کر بیٹھا تھا کہ منڈے آتے ہیں تو زرا کابینہ کی بیٹھک ہو۔۔

یہ لائیکنے کی بیماری فیس بک پر کافی زور پکڑ چکی ہے اور اس سے مجھے وہ اپنے حاجی ساب کی ایبسینٹی یاد آجاتی ہے ۔اکثراحباب ایسے ہی ہیں جو کسی پوسٹ کو دیکھ کر لائیک کا بٹن دبادیتے ہیں کہ اللہ اللہ خیرصلہ، مطلب حاضری لگوا اور جان چھڑاؤ سعد میاں وی کچھ ایسے ہی کرتے ہیں جب بھی پوسٹ لکھی دیکھی ادھر کچھ اپنا خیال ظاہر کرنے کی بجائے لائیکا اور فیر سانوں کی۔۔بھئی اگر آپ کو اتنا پسند ہی آگئی ہے یہ پوسٹ تو فیر اپنے خیال کا اظہار کردو، کچھ لکھ دو کون سے آپ کے قلم کی سیاہی سوکھ جاوے گی۔ پر نہیں کون اتنا وخت کرے؟؟؟؟  

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 08, 2011

بارگاہ رسالت میں ایک بیٹے کا مقدمہ

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک صحابی آئے اور کہنے لگے یا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرا باپ مجھ سے پوچھتا تک نہیں اور میرا مال خرچ کر لیتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اچھا بلاؤ اسکے باپ کو۔ انکے باپ کو پتہ چلا کہ میرے بیٹے نے بارگاہ نبوت میں میری شکایت کی ہے تو انہوں نے دکھ اور رنج کے کچھ اشعار دل میں پڑھے، زبان سے ادا نہیں کیے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس پہنچے تو ادھر جبرائیل امین آگئے۔ کہنے لگے یا رسول اللہ ، اللہ فرمارہے ہیں کہ اس سے فرمائیں پہلے وہ اشعار سنائے جو تمہاری زبان پر نہیں آئے بلکہ تمہارے دل نے پڑھے ہیں اور اللہ نے عرش پر ہوتے ہوئے بھی انکو سن لیا ہے ۔

حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی فرمائش پر وہ صحابی کہنے لگے یا رسول اللہ ! قربان جاؤں آپ کے رب پر وہ کیسا رب ہے میرے اندر تو ایک خیال آیا تھا اللہ نے وہ بھی سن لیا۔ فرمایا: اچھا پہلے وہ اشعار سناؤ پھر تمہارے مقدمے کا فیصلہ کریں گے ۔یہ اشعار عربی میں ہیں ۔ انکا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے ۔

ترجمہ



اے میرے بچےمیں نے تیرے لیے اپنا سب کچھ لگا دیا

جب تو گود میں تھا تو میں اس وقت بھی تیرے لیے پریشان رہا

تو سوتا تھا اور ہم تیرے لیے جاگتے تھے

تو روتا تھا اور ہم تیرے لیے روتے تھے

اور سارا دن میں تیرے لیےخاک چھانتا تھا اور روزی کماتا تھا

اپنی جوانی کو گرمی اور خزاں کے تھپیڑوں سے پٹواتا تھا

مگر تیرے لیے گرم روٹی کا میں نے ہر حال میں انتظام کیا

کہ میرے بچے کو روٹی ملے، چاہے مجھے ملے یا نہ ملے

اس کے چہرے پر مسکراہٹ نظر آئے

چاہے میرے آنسوؤں کے سمندر اکٹھےہو جائیں

جب کبھی تو بیمار ہو جاتا تھا تو ہم تیرے لئے تڑپ جاتے تھے

تیرے پہلو بدلنے پر ہم ہزاروں وسوسوں میں مبتلا ہو جاتے تھے

تیرے رونے پر ہم بے قرار ہو جاتے تھے

تیری بیماری ہماری کمر توڑ دیتی تھی اور ہمیں مار دیتی تھی

ہمیں یوں لگتا تھا تو بیمار نہیں بلکہ میں بیمار ہوں

تجھے درد نہیں اٹھا بلکہ مجھے درد اٹھا ہے

تیری ہائے پر ہماری ہائے نکلتی تھی

اور ہر پل یہ خطرہ ہوتا تھا کہ کہیں میرے بچے کی جان نہ چلی جائے

اس طرح میں نے تجھے پروان چڑ ھایا اور خود میں بڑھاپے کا شکار ہوتا رہا

تجھ میں جوانی رنگ بھرتی چلی گئی اور مجھ سے بڑ ھاپا جوانی چھینتا چلا گیا

پھر جب میں اس سطح پر آیا کہ اب مجھے تیرے سہارے کی ضرورت پڑی ہے

اور تو اس سطح پر آگیا ہے کہ تو بے سہارا چل سکے



تو مجھے تمنا ہوئی کہ جیسے میں نے اسے پالا ہے یہ بھی میرا خیال کریگا

جیسے میں نے اسکے ناز برداشت کیے ہیں ، یہ بھی میرے ناز برداشت کریگا

لیکن تیرا لہجہ بدل گیا ، تیری آنکھ بدل گئی ، تیرے تیور بدل گئے

تو مجھے یوں سمجھنے لگا کہ جیسے میں تیرے گھر کا نوکر ہوں

تو مجھ سے یوں بولنے لگا کہ جیسے میں تیرا زر خرید غلام ہوں

تو یہ بھی بھول گیا کہ میں نے تجھے کس طرح پالا

تیرے لئے کیسے جاگا، تیرے لئے کیسےرویا ،تڑپا اور مچلا

آج تو میرے ساتھ وہ کر رہا ہے جو آقا اپنے نوکر کے ساتھ بھی نہیں کرتا

اگر تو مجھےبیٹا بن کر نہیں دکھا سکا

اور مجھے باپ کا مقام نہیں دے سکا

تو کم از کم پڑوسی کا مقام تو دیدے،

کہ پڑوسی بھی پڑوسی کا حال پوچھ لیتا ہے

اور تو بخل کی باتیں کرتا ہے


یہ اشعار سننے پر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس نوجوان سے فرمایا “ اٹھ جا میری مجلس سے ، تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کا ہے

ہوشیار کہیں ہمارا رویہ بھی تو اس بیٹے جیسا تو نہیں؟؟ یہ نہ ہوکہ ہم بھی وہی کررہے ہوں جو اس بیٹے نے کیا اور مجلس سے اٹھائے جانے کے قابل ہوں۔۔۔ ہوشیار اور پھر ہوشیار

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 01, 2011

الزامیات

ایک پرندہ اڑتا اڑتا اچانک ایک جہاز سے ٹکراتا ہے، جہاز کو آگ لگ جاتی ہے، جلتے جلتے زمین پر گرتا ہے، نیچے ایک کالونی ہے وہ گھروں کو بھی آپ لگ جاتی ہے۔ پرندہ بھی مرجاتا ہے۔ جہاز میں سوار عملے سمیت سارے مسافراندر ہی ہلاگ ہوجاتے ہیں البتہ پائلٹ کود جاتا ہے مگر نیچے گزرتی ہوئی بجلی کی تاروں میں اٹک کر مرجاتا ہے۔ نیچے کالونی کے لوگوں میں سے بھی بیسیوں مرتے ہیں اور بہت سے زخمی۔۔۔

اب پرندے کے لگتے جہاز کو مورد الزام ٹھرا رہے ہیں، مسافر اور عملے کے لوگ پائلٹ کو، وہ واپڈا والوں کو، کالونی والے فلائی کمپنی کو۔۔ ۔۔۔  ۔۔ ۔۔۔اور۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔  فضائی کمپنی پرندے کی اس پوری نسل کو گالیاں دے رہے ہیں۔۔۔۔۔ اب کون جانے وہ پرندہ اصلی تھا یا امریکہ بہادر کا ڈرون؟؟؟؟  کیا کوئی بتا سکتا ہے؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

سوموار, ستمبر 26, 2011

کتے کی دم

عمران نے امراؤ جان ادا کے لہجے میں کہا ہے کہ امریکہ بہادر کے بعد برطانیہ کو بھی چاہئے کہ پاکستان کی امداد بند کردے۔ کہ اس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا مگر رشوت میں اضافہ ہوتا ہے۔

میرے خیال میں یہ بھی یہودی اور امریکہ کا ہی باندر ہے جو بطور متبادل لایا گیا ہے۔ چمچہ یہودیوں کا لے پالک۔ کہ اگر کل کو زرداری شریف کی بجائے عوام کسی تیجے کی تلاش میں نکلے تو اس تک پہنچے۔ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

ملک و عوام کے خلاف کچھ مخلص نہیں کبھی ادھر کبھی ادھر، پہلے امریکہ بہادر کو حلق سے اوپر اوپر گالیاں دیتا پھرتا تھا پھر آج جب وقت آیا ہے تو اسکا نام لینے اور ادھر مرنے کی بجائے برطانیہ کی منتیں کہ تم بھی اس ملک کو تہنا کردو، بڑا آیا انصاف کا ماما۔  جہاں تک میرا خیال  ہے اس بندے کا ایک ہی پروگرام ہے بس نعرے مارو اور ایسے مارو کہ لوگوں کو کچھ الگ لگے،  پھر جب لوگ اکتاجائیں گے تو اس الگ کو ڈھونڈتے ہوئے  اس کی طر ف آئیں گے۔ مگر ان کو یاد نہیں کہ  آواز خلق نقارہ خدا کے مصداق جب عوام کچھ کہتی ہے تو وہ خدا کا نقارہ بن جاتی ہے۔ اگر آج  بلکہ گزشتہ کئی برس سے ہر پاکستانی کہہ رہا ہے کہ امریکہ پاکستان کا دشمن ہے تو بھلے مشرف و ذرداری جتنی مطلب ٹی سی کرلیں ، عمران خان جتنا مرضی اس کے اشاروں پر نچ لے۔   وہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر ہی دم لے گا اور اس کوشش میں اپنی آخری حد تک جائے گا چاہے اس  کو پھر سے جوتے ہیں کھانے پڑیں مگر کہتے ہیں کہ کتے کی دم سو سال بھی نلکی میں پڑی رہے تو پھر بھی سیدھی نہیں ہوتی۔

مکمل تحریر  »

بدھ, ستمبر 21, 2011

مقدمہ بخلاف مچھراں


میں گزشتہ تین دن بلکہ یوں کہئے تین راتوں سے پاکستان سے آٹھ ہزار میل دور بھی پاکستانی عوام کے ساتھ کھجل ہورہا ہوں
ساتھ یوں کہ وجہ اس کھجل خانی کی جو اس آج کی وجہ تحریر بھی ہے۔ ایک ہی ہے اور وہ ہے مچھر ۔ جی بلکل جسکے بارے میں کہا گیا کہ ایک مچھر بندے کی رات حرام کرسکتا ہے تو سہی کہا گیا۔ مطلب گزشتہ تین آیام بلکہ اشباب  جو کہ شب کی جمع ہے میں ہم ان مچھرون کی واجہ سے شب بیدار بوم بنے رہے اور پھر دن بھر سوتے پڑے رہتے۔ 

چونکہ یہ قضیہ ہمارے ساتھ کم ہی پیش آیا  ہے لہذا مانند الودفتر میں اونگنے رہتے اور یہ بھی کہ ہم سے جو بھی سوال کیا جاتا اول تو سمجھ ہی نہ آتا اور اگر سوال اتنا آسان ہوتا کہ دماغ شریف میں خوامخواہ گھس جاتا تو اس کا جواب ندارد۔ گویا سچ مچ کے الو۔۔آج پھر تب کر چھٹی کرتے ہیں پاس کی سپر مارکیٹ میں گھس کر فوراُ سے پیشتر مچھروں کے خلاف کسی اچھے سے اور مؤثر ہتھیار کے بارے میں اندر گھومتی ہوئی اسٹاف سے پوچھ ڈالا یہ ایک اور ثبوت تھا کہ ہم واقعی بوم ہوچکے ہیں۔ ورنہ ادھر پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی بس متلقہ شعبہ میں جاؤ اور مطلوبہ چیز پکڑ لو۔ خیر اس سے ایک بات اور بھی ثابت ہوئی کہ ہم واقعی مچھرون سے تپے ہوئے تھے کہ ان کے خلاف باقاعدہ سفارش کردہ ہتھار سے لیس ہونے کے چکر میں تھے۔

ادھر پاکستان میں ہمارے بھائی بندوں کو کچھل کررہے ہیں اور ہم کہ اتنی دور آڈیرہ ڈالے ہیں اور آتوائی کھٹوائی لئے پڑے ہیں ہماری بی جان کو آرہے ہیں کوئی اس سے پوچھے کہ میاں پاکستان میں جو چالیس کروڑ بندے چھوڑ آئے ہیں وہ کوئی کم ہیں کہ تم ادھر بھی ہمارے پیچھے لپکے چلے آرہے ہو۔

ویسے یہ مچھر ہے بہت ڈھیٹ قسم کی چیز شاید ہم بنی انسان کا خون چوس چوس کہ اس کی چول خانی بھی ہمارے جیسی ہوگئی ہے۔ کہ اس کا پیٹ بھرتا ہے   ہی نہیں۔ کل رات کو میں نے بارہ بجے سے لیکر صبح چھ بجے تک پہرہ دے کر چھ مچھر مارے اور قسم سے سب وہ تھے جو ہمارا خون چوس چوس کر اپنا پیٹ اتنا بھر  چکے تھے کہ ان سے اڑا تک نہ جاتا تھا۔ بس فیر ان کی جان ہمارے ہاتھ کے نیچے اور ایک پھانڈے سے انکا رام نام ستے۔

ویسے میں سوچ رہا تھا نہیں ابھی سوچ رہا ہوں کہ بزرگ سچ ہی کہہ گئے تھے کہ پیٹ بھر کر نہیں کھانا چاہئے   ویسے مجھے اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہئے کہ یہ بات مجھروں کو انکے بزرگ بھی نہیں بتاگئے ورنہ وہ کل والے چھ آج بھی ہوتے۔

نتیجہ  پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ پیٹ بھر کر کھانے سے بندے کی جان بھی جا سکتی ہے

مکمل تحریر  »

سوموار, اگست 01, 2011

صوبائیت اور لسانیت

میں تو کہتا ہوں کہ چاروں بلکہ پنجوں صوبوں کو ختم کردیا جائے اور دو دو تین تین ضلعوں کے ڈویژن کو فعال کریا جائے، اس طرح بقول ہمارے بھائی جان کے کھانے والے کم ہوجائیں، گے، چاروں صوبائی اسبملیاں ختم، مطلب کوئی 20 کے قریب گورنر اور وزرائے اعلٰی طور کے وائسرائے کم، صوبائی وزراء کی ناکارہ اور غیر مفید فوج ختم اور اور اور سیکڑوں ممبران صوبائی اسمبلی غائیب، کتنے خرچے اور غیر مفیدات کم ہوسکتےہیں؟؟؟ سوال ہے کہ جب وفاقی وزیر داخلہ ملک میں دہشت گردی کو رواج دینے کو کافی ہے تو صوبائی وزیروں کا کیا کاروبار ہے؟؟ اسی طرح، دفاع، صنعت، افسر شاہی اور علٰی ہذالقیاس، پھر یہ بھی ممبران پالیمنٹ کی فوج ظفر موج کون سے زخموں پر مرحم لگانے کے کام آرہی ہے۔ قانون قومی اسمبلی نے بنانا ہے اور سینٹ نے پاس کرنا ہے، پھر یہ باقی کے بزرگ لوگ کس کے نام کا کھا رہے ہیں؟؟؟ ملک کو ایک کائی بھی آسانی سے بنایا جا سکتا ہے، سوچئے کہ اگر ایک وزیر اعلٰی سے کچھ پوچھنا پڑ جائے تو اداروں کو جان کے لالے پڑ جاتےہیں اور اگر یہ سوال کسی ضلعی ناظم سے کیا جائے کہ میاں تم نے یہ فنڈ کدھر کیئے ہیں تو اسے لازمی طور پر جانے کے لالے پڑ جاویں گے۔ پھر یہ کہ میرے جیسا عام آدمی جہلم سے لاہور جاکر وزیر اعلٰی سے حال احوال پوچھنے سے تو رہا البتہ اگر جہلم یا پنڈی یا گجرات میں جانا ہو تو بندہ ادھر وزیر اپنے کمشنر سے سلام دعا ہی کرآتا کہ کہ بقول بزرگوں کے ہر بندے سے سلام دعا رکھنی چاہئے کہ بندہ ہی بندے کا دارو ہوتا ہے۔ ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ نہ رہیں گے صوبے اور نہ صوبائیت، نہ رہے گا بانس اورنہ بچے گی بانسری۔ مولوی صاحب اپنی مسجد میں نماز مغرب کے بعد چھت پر چاند دیکھنے پہنچ جائیں گے وہ آسمان پر اور لڑکے بالے انکے ساتھ دوسری چھت پر چاند دیکھنے کی کوشش کریں گے، نہیں تو ٹی وہی پر مرکزی رویت حلال کمیٹی کی طور سے عینک زدہ بزرگوں کو دوربین سے چاند دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ پھر سارے لسانی صوبے بنانے کا چکر بھی ختم ہوجائے گا کہ ہزارہ کی اپنی انتظامی شناخت ہوگی، پوٹھوہار و سرائیک کی اپنی، بلوچ و بگٹی و دیگر اپنی شناخت سے جی سکیں گے۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے صوبوں کے نام پر مختلف علاقوں کے نک نیم جنکو انڈین کچا نام اور ہمارے پنجابی میں جانے کیا کہتے ہیں، اب جس کا چل گیا اس کا چل گیا مگر جو اپنے آپ کو معاشرتی اور ثقافتی طور پر جدا سمجھتا ہے اسکی انفرادیت کو تسلیم نہ کرنا ایک ظلم عظیم ہوگا۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 29, 2011

پیاٹیٹس اور معالجات

شکوہ اپنے ہم پیشہ دوستوں سے ہے، تب سے جب سے پڑھانا شروع کیا تھا، کہ منظم تحقیق نہیں ہے ہیپاٹایٹس کی معالجات کے شعبہ میں۔ ہمارے ایلوپیھیک اور سرجن لوگ صرف یورپ و مغرب کی تحقیقات پر جی رہے ہیں، ہمارے حکیم، ہومیوپیتھ اور وید لوگ صرف کتاب کی حد تک ہیں یا تک بندی پر اتر آئے ہیں، ڈاکومنٹیشن کی طرف نہیں آتے، تحقیق اور نظم کی کمی، ایک انگریز کے نسخہ جات کو بڑھیا قرار دیے جاتا ہے اور حتمی علاج کے طور پر تسلیم کروانے کو مصر، دوسرے کاسنی، دارچینی، اجوائین خراسانی، ملٹھی کا جگر پر اثرات کو ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا ذور لگا رہے ہیں مگر صرف اور صرف ذاتی نسخہ جات اور تجربہ کی بنیاد پر، پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو بہر تین تہذیبوں کا گوارہ ہے، مغربی تحقیق، اسلامی تناظر اور ہندی پس منظر کے ساتھ تینوں شعبوں میں کمالات کو عوام الناس کی فلاح کےلئے استعمال کیا جاسکتا ہے یورپی میڈیسن میں ہمارے لوگ ماہر ہیں، ہومیوپیتھی کا علم ان کے پاس ہے، حکمت و طب کے عالم ادھر ہیں، طب اسلامی و ایورویدک میں ہونے والی ساری تحقیق انکے پاس ہے، دنیا کے کتنے ممالک ہیں جو اس شعبہ میں پاکستان کا مقابلہ کرسکتے ہیں، انڈیا کے پاس اسلامی طب کی علم کم ہے، اہل غرب کے پاس انڈین میڈیسن نہیں، عربوں کا بھی یہی حال ہے کہ انکا گزارہ مغربی میڈیسن اور عربی طب پر ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ سارے لو سر جوڑ کر بیٹھ جاتے اور ہر طریقہ علاج کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچتا، مگر پھر وہی ڈھاک کے تین پات، بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے تو کون؟؟؟

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 21, 2011

قومی مفاد

بہت شور سنتے تھے پہلے میں دل کا، جو چیرا تو اندر سے گیس نکلی جیسے ایم کیو ایم حکومت سے بہت شور کرتے ہوئے نکلی اور آذاد کشمیر میں پھر پی پی کے ساتھ بیٹھے گی، پنجابی میں کہتے ہیں کہ تیری زبان ہے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (خالی جگہ دل میں پر کرو ) ہمارے میاں صاحب کا خیال ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں سیاہ ست دان جو ہیں وہ یہی ہیں اور یہ کہ یہ لوگ وسیع تر قومی مفاد میں ملک بھی بییچ کھائییں گے،
ہمارے دادا جان ہمیں بہت دعائیں دیا کرتے تھے، ہم میں سے کوئی کہہ دیتا کہ اجی جی آپ اپنےلئے کبھی کچھ نہیں مانگتے دعا میں تو وہ کہتے کہ پتر تم جو میرے ہو سو تمھارے لئے مانگا تو اپنے لئے مانگا۔ پھر وہ لطیفہ دھرایا جاتا کہ ایک مولوی صاحب جمعہ کی نماز کے بعد دعا کروا رہے تھے، یااللہ کل عالم کو صحت دے، تندرستی دے، امن دے، یااللہ کل عالم کے اعلٰی تعلیم عطافرما، اسکو اچھی سی نوکری دلوادے، اسکی شادی کروادے، یا اللہ میرے مالک کل عالم کو بیٹا عطا فرما، یااللہ کل عالم کو ایک اور یبٹا عطافرما یااللہ کل عالم کو ایک اور یبٹا عطافرما ، یا اللہ کل عالم کو ایک اور یبٹا عطافرما۔۔۔
دعا ختم ہوئ تو کسی نے پوچھا مولوی صاحب آپ نے سب کچھ کل عالم کےلئے مانگ لیا ہے آپ لئے کچھ نہ مانگا، تو مولوی صاحب نے جواب دیا کہ اپنے لئے ہی تومانگا ہے، وہ بندہ حیران ہوکر پوچھتا ہے کہ جناب وہ کیسے مولوی صاحب کہنے لگے کیونکہ کل عالم میرے بیٹے کا نام ہے۔
ہمارے سیاہ ست دان بھی میرے خیال سے وسیع تر قومی مفاد سے مراد اپنا ذاتی نفع و مفاد لیتے ہیں
حل۔۔۔ امیر تیمور جو تاریخ میں زمین کو ہلادینے والا کا لقب رکھتا ہے اس مرد بزرگ کی سوانح عمری میں ہیرالڈیم لکھتا ہے کہ جب بھی امیر تیمور کے پاس کوئی نقصان، کی شورش کی یا کسی وعدہ خلافی کی خبر پہنچتی تو وہ فوراُ کہتا، رستہ ایک ہی ہے،صرف ایک ہی ، ہمیشہ سے۔۔۔۔
پھر فوراُ فوجوں کو کوچ کا حکم مل جاتا

مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 20, 2011

باپ کی مرضی

لگتا ہے یہ امریکیوں کے باپ کا ملک ہے جو اپنی شناخت کروانے سے انکار کروارہے ہیں، ادھر امریکہ میں تو وزیروں کے بھی جوتے اتروالیے جاتے ہیں، کوئی چوں نہیں کرتا اور ادھر رحمان ملک سب کے فون کرکے لنگ جانے کا کہہ دیتا ہے، چکر کیا ہے آخر؟؟؟ کیا ہم لوگ اتنے ہی لیٹ گئے ہیں کہ جو کوئ مرضی ہم پر چڑھ دوڑے

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 16, 2011

شب برات اور والدہ کی برسی

آج کی شب شب برات کے نام سے ہے، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں سب پر، آج ہمارے محترمہ والدہ کی برسی بھی ہے انہوں نے 5 برس قبل 15 شعبان کو اس دارفانی سے کوچ کیا تھا جملہ آحباب سے درخواست ہے کہ آج کی شب بیداری عبادات اور دعائیں میں مرحومہ کے لئے مغفرت اور ہمارے لئے رحمت کی دعا کیجئے گا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 14, 2011

فرمائیش

بابا پیسے بھیجو بیٹا کتنے بھیجوں آپ نے کیا کرنے ہیں؟ ،ما ما سے لے لو؟؟ نہیں بابا آپ بھیجو یا پھر لے کے خود آجاؤ، بابا ٹوٹے ہوئے پیسے بھیجنا ، میں نے گڑیا لینی ہے اور ماما کہتی ہے کہ میرے پاس ٹوٹے ہوئے پیسے نہیں ہے۔ آپ بھیج دو گے ناں

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 09, 2011

تقسیم پاکستان کے خواب

پاکیستانیوں جاگو اور آنکھیں کھولو، تمھارے دشمن تمھارا گلا ہی بس دبانے والے ہیں، یہ سارا چکر ہے، جناح کا اردو کے ساتھ کیا تعلق وہ تو انگریزی بولتے تھے، مگر اس سارے چکر میں جناح کا نام اور اردو کو استعمال کیا جارہا ہے، جناح کا خواب جناح پر نہیں تھا مگر پاکستان ہے، یہ سید جال الدین میرجعفر کا کوئی لگتا ہے اس کو چاہئے کہ اخلاقی طور پر جعفر پر کا نام استعمال کرے نہ کہ جناح کا۔ مگر وہ پنجابی میں کیا کہتے ہیں کہ بے شرماں کی تشریف پر آک اگا تو کہنے لگے یاراں نے تو چھاؤں ہی بیٹھنا ہےیہ سب پاکستان اور مسلمان دشمن قوتوں کے کارندے ہیں جنکا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کو توڑنا، چاہے ہو مزہب کے نام پر ہو یا لسانی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس پاکسان نہیں تو دہشت گردی نہیں ، میں پوچھتا ہوں کہ کتنے پنجابیوں نے سندھیوں کو مار ہے اور کتنے سندیوں نے بلوچیوں کو اور کتے بلوچیوں نے پشتوں کو، کیا ہر صوبے میں باہر کے لوگ نہیں بسے، ادھر یورپ کچھ بھی مشترک نہ ہونے کے باوجود ایک ہورہا ہے اور ہمیں تقسیم کررہے ہیں، آج ہی سوڈان کو تقسیم کردیا گیا دو حصوں میں، جو مصر کے ہمسایہ میں بڑا افریقی مسلمان ملک تھا۔ اگر یہ سید واقعی مسلمان ہے تو اللہ کی کونسی رسی کو مضبوطی سے پکڑرہا ہے؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 08, 2011

ادھر تم ادھر ہم

ویسے بزرگوں ہمارے ملک میں باقاعدہ طور پر جنگی قانون نافذ کرنے میں اب اور چیز رکاوٹ ہے؟؟؟؟ کیا یہ انتظار کر رہے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی طرح ایک بار پھر کچھ ٹکڑے ہوں مگر اب کے پی پی کی وجہ سے اگر وہی ادھر تم ادھر ہم والا چکر چلا تو پھر ککھ نہ رہے گا باقی

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 07, 2011

بچہ جمہورا

آج کل ہرطرف ملکی مفادات کا دورہ پڑا ہوا ہے بقول شاہ جی کہیں یہ ملکی مفاد میں یہ ملک ہی نہ بیچ دیں کہ بھائی لوگو کرلو گل، ہم نے ملکی مفاد میں ملک بیچ دیا ہے، ویسے شاہ جی خیال اتنا غلط بھی نہیں ہےکہ مشرف ملکی مفاد مین امریکہ کو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی دے گیا ہے، اپنی نہیں قوم کی، کہ بھئی اب مار لو تم بھی۔
نواز لیک اور متحدہ قومی مار ملکر ذرداری پارٹی سے بڑھ کر عوامی دھنائی کا پروگرام بیان کررہی ہیں، انکا کہنا ہے کہ ہم قومی مفاد میں ایک دوسرے کی حرامزدگیوں اور یینکی پھینکیوں کو بھلا کر عوام کو ذرداری سے نجات دلا کر اسے پر سواری کریں گے۔
میں خود چند برس پہلے بہت بڑا مسلم لیگی تھا کیون کہ ہمارے باپ دادا بھی تھے، مگر اس نواز شریف کے کے چالے دیکھ کر پریشان ہوگیا ہوں، اس مسلمان نے ملکی مفاد میں کیا کیا نہیں کیا، ذرداری کو تخت پر چڑھایا، اپنے بال لگوا لیے، تین بھائی کو پھر سے وزیر اعلٰی بنوادیا، ملکی مفاد میں اپنے اثاثے ملک سے باہر رکھے کہ کل کلاں اکر خاکم بدھن ملک نہ رہے تو اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ اس کے اثاثے بھی جاتے رہیں، یہ ہی سوچ کر غالباُ مہاجر حسین بھی پاسپورٹ لےگیا، ذرداری بھی دبئی میں مکان بنا گیا، اور باقی ہر ایم این اے اور ایم پی اے بیرون ملک حسب توفیق اپنی جائداد بناچکا ہے، میں یہاں یورپ کے دل میں بیٹھ کر بیسیوں نہیں تو دسیوں کے نام گنواسکتا ہوں۔

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 05, 2011

گوگل پلس پر زبان دانیاں

دو دن سے گوگل پلس میں دوسروں کی دیکھی گئی اور اپنی پوسٹی گئی تحریرون سے لگ رہا ہے کہ یہ گوگل پر صرف اور صرف اردو کے فروغ کےلئے بنی ہے، البتہ ایک اور چیز سامنے آئی ہے وہ پنجابی کا بے دریغ استعمال ہے ، جی بلکل آپ درست سمجھے بلکل ایسے ہی جیسے ہمارے وزیراعظم پیرومرشد یوسف رضاگیلانی انگریزی کو ملا کر بولتے ہیں۔
ہر بندہ اپنی بات کو ثابت کرنے اور دوسرے کو سمجھنے کےلئے دوسری ذبان کا سہارا لیتا ہے، کہیں اسکا مقصد لفڑا کرنا بھی ہوتا ہے ، بلکہ اسی طرح جس طرح ہماری کیمیسٹری کی کتاب میں کا کے کو کے علاوہ باقی ساری عبارت انگریزی میں ہوتی ہے اردو رسم الخط میں تحریر شدہ، یعنی کہ نیوٹن کے پہلے قانون حرکت میں ولاسٹی اور ری ایکشن کا ذکر ہے ۔ اب میں تو ولاسٹی ری ایکشن اور نیوٹن کے الفاظ پر ہی اڑا رہا اور عوام اڑ گئی۔۔۔۔
سوال۔
اس سارے قضئے میں جس کی غلطی ہے اسکی نشاندہی کی جائے غلطی کی نہیں بندے کی، اور پھر اس سے سوال کیا جائے کہ اگلی دفعہ اگر تم غلطی نہیں کرو گے تو کیا کرو گے؟؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش