ہفتہ, جولائی 16, 2011

شب برات اور والدہ کی برسی

آج کی شب شب برات کے نام سے ہے، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں سب پر، آج ہمارے محترمہ والدہ کی برسی بھی ہے انہوں نے 5 برس قبل 15 شعبان کو اس دارفانی سے کوچ کیا تھا جملہ آحباب سے درخواست ہے کہ آج کی شب بیداری عبادات اور دعائیں میں مرحومہ کے لئے مغفرت اور ہمارے لئے رحمت کی دعا کیجئے گا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 14, 2011

فرمائیش

بابا پیسے بھیجو بیٹا کتنے بھیجوں آپ نے کیا کرنے ہیں؟ ،ما ما سے لے لو؟؟ نہیں بابا آپ بھیجو یا پھر لے کے خود آجاؤ، بابا ٹوٹے ہوئے پیسے بھیجنا ، میں نے گڑیا لینی ہے اور ماما کہتی ہے کہ میرے پاس ٹوٹے ہوئے پیسے نہیں ہے۔ آپ بھیج دو گے ناں

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جولائی 09, 2011

تقسیم پاکستان کے خواب

پاکیستانیوں جاگو اور آنکھیں کھولو، تمھارے دشمن تمھارا گلا ہی بس دبانے والے ہیں، یہ سارا چکر ہے، جناح کا اردو کے ساتھ کیا تعلق وہ تو انگریزی بولتے تھے، مگر اس سارے چکر میں جناح کا نام اور اردو کو استعمال کیا جارہا ہے، جناح کا خواب جناح پر نہیں تھا مگر پاکستان ہے، یہ سید جال الدین میرجعفر کا کوئی لگتا ہے اس کو چاہئے کہ اخلاقی طور پر جعفر پر کا نام استعمال کرے نہ کہ جناح کا۔ مگر وہ پنجابی میں کیا کہتے ہیں کہ بے شرماں کی تشریف پر آک اگا تو کہنے لگے یاراں نے تو چھاؤں ہی بیٹھنا ہےیہ سب پاکستان اور مسلمان دشمن قوتوں کے کارندے ہیں جنکا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کو توڑنا، چاہے ہو مزہب کے نام پر ہو یا لسانی وجہ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس پاکسان نہیں تو دہشت گردی نہیں ، میں پوچھتا ہوں کہ کتنے پنجابیوں نے سندھیوں کو مار ہے اور کتنے سندیوں نے بلوچیوں کو اور کتے بلوچیوں نے پشتوں کو، کیا ہر صوبے میں باہر کے لوگ نہیں بسے، ادھر یورپ کچھ بھی مشترک نہ ہونے کے باوجود ایک ہورہا ہے اور ہمیں تقسیم کررہے ہیں، آج ہی سوڈان کو تقسیم کردیا گیا دو حصوں میں، جو مصر کے ہمسایہ میں بڑا افریقی مسلمان ملک تھا۔ اگر یہ سید واقعی مسلمان ہے تو اللہ کی کونسی رسی کو مضبوطی سے پکڑرہا ہے؟؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 08, 2011

ادھر تم ادھر ہم

ویسے بزرگوں ہمارے ملک میں باقاعدہ طور پر جنگی قانون نافذ کرنے میں اب اور چیز رکاوٹ ہے؟؟؟؟ کیا یہ انتظار کر رہے ہیں کہ مشرقی پاکستان کی طرح ایک بار پھر کچھ ٹکڑے ہوں مگر اب کے پی پی کی وجہ سے اگر وہی ادھر تم ادھر ہم والا چکر چلا تو پھر ککھ نہ رہے گا باقی

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 07, 2011

بچہ جمہورا

آج کل ہرطرف ملکی مفادات کا دورہ پڑا ہوا ہے بقول شاہ جی کہیں یہ ملکی مفاد میں یہ ملک ہی نہ بیچ دیں کہ بھائی لوگو کرلو گل، ہم نے ملکی مفاد میں ملک بیچ دیا ہے، ویسے شاہ جی خیال اتنا غلط بھی نہیں ہےکہ مشرف ملکی مفاد مین امریکہ کو ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی دے گیا ہے، اپنی نہیں قوم کی، کہ بھئی اب مار لو تم بھی۔
نواز لیک اور متحدہ قومی مار ملکر ذرداری پارٹی سے بڑھ کر عوامی دھنائی کا پروگرام بیان کررہی ہیں، انکا کہنا ہے کہ ہم قومی مفاد میں ایک دوسرے کی حرامزدگیوں اور یینکی پھینکیوں کو بھلا کر عوام کو ذرداری سے نجات دلا کر اسے پر سواری کریں گے۔
میں خود چند برس پہلے بہت بڑا مسلم لیگی تھا کیون کہ ہمارے باپ دادا بھی تھے، مگر اس نواز شریف کے کے چالے دیکھ کر پریشان ہوگیا ہوں، اس مسلمان نے ملکی مفاد میں کیا کیا نہیں کیا، ذرداری کو تخت پر چڑھایا، اپنے بال لگوا لیے، تین بھائی کو پھر سے وزیر اعلٰی بنوادیا، ملکی مفاد میں اپنے اثاثے ملک سے باہر رکھے کہ کل کلاں اکر خاکم بدھن ملک نہ رہے تو اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ اس کے اثاثے بھی جاتے رہیں، یہ ہی سوچ کر غالباُ مہاجر حسین بھی پاسپورٹ لےگیا، ذرداری بھی دبئی میں مکان بنا گیا، اور باقی ہر ایم این اے اور ایم پی اے بیرون ملک حسب توفیق اپنی جائداد بناچکا ہے، میں یہاں یورپ کے دل میں بیٹھ کر بیسیوں نہیں تو دسیوں کے نام گنواسکتا ہوں۔

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 05, 2011

گوگل پلس پر زبان دانیاں

دو دن سے گوگل پلس میں دوسروں کی دیکھی گئی اور اپنی پوسٹی گئی تحریرون سے لگ رہا ہے کہ یہ گوگل پر صرف اور صرف اردو کے فروغ کےلئے بنی ہے، البتہ ایک اور چیز سامنے آئی ہے وہ پنجابی کا بے دریغ استعمال ہے ، جی بلکل آپ درست سمجھے بلکل ایسے ہی جیسے ہمارے وزیراعظم پیرومرشد یوسف رضاگیلانی انگریزی کو ملا کر بولتے ہیں۔
ہر بندہ اپنی بات کو ثابت کرنے اور دوسرے کو سمجھنے کےلئے دوسری ذبان کا سہارا لیتا ہے، کہیں اسکا مقصد لفڑا کرنا بھی ہوتا ہے ، بلکہ اسی طرح جس طرح ہماری کیمیسٹری کی کتاب میں کا کے کو کے علاوہ باقی ساری عبارت انگریزی میں ہوتی ہے اردو رسم الخط میں تحریر شدہ، یعنی کہ نیوٹن کے پہلے قانون حرکت میں ولاسٹی اور ری ایکشن کا ذکر ہے ۔ اب میں تو ولاسٹی ری ایکشن اور نیوٹن کے الفاظ پر ہی اڑا رہا اور عوام اڑ گئی۔۔۔۔
سوال۔
اس سارے قضئے میں جس کی غلطی ہے اسکی نشاندہی کی جائے غلطی کی نہیں بندے کی، اور پھر اس سے سوال کیا جائے کہ اگلی دفعہ اگر تم غلطی نہیں کرو گے تو کیا کرو گے؟؟؟

مکمل تحریر  »

سوموار, جون 20, 2011

مرغی چور اور بخار

معلوم ہوا کہ شاہ جی کو بخار چڑھا ہوا ہے اور ہذیان میں اول فول بک رہے ہیں
 بالے کا خیال تھا کہ چونکہ پچھلے ماہ شاہ جی کو ہلکی کتی نے کاٹا ہے اس لئے شاہ جی کا بخار اب انکو کسی اور طرف ہی لے جانے والا ہے، اور یہ بھی کے انکی خیریت معلوم کرنے والا بھی خطرے سے زیادہ دور نہیں ہوگا، کیا جانے شاہ جی کب کسی کو کاٹ کھائیں، مگر میرا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہے ، پرسوں شام کو شاہ جی بھلے چنگے تھے ایک دن میں کون سا طوفان آنے والا ہے۔ ہوگا کوئی معمولی سا بخار۔۔۔۔۔۔

 خیر شام کو ہم شاہ جی کے گھر پہنچےجب گرمی کا زور کم ہوا،      شاہ جی ادھر دیوار کے سائے میں گاؤ تکیہ لگائے پڑے تھے ، خیریت دریافت کی تو جواب ملا کہ دو دن گھر میں ابا جی سامنے گزرنے سے سارا خون سوکھ چکا ہے اور یہ کہ منہہ پریہ پپڑی بخار کی وجہ سے نہیں بلکہ ابا جی کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔ پھر ادھر ادھر دیکھ کر ہولے سے بولے کہ یہ ککڑی دیکھ رہے ہو کالی، یہ ہماری ہمسائی" ماسی باتاں "کی ہے پر میں دیکھ رہا ہوں کل سے کہ یہ پکی ہمارے ادھر ہی ہے، چونکہ اس ہفتے کسی "کنجر "کو ککڑی پکڑنے کی توفیق نہیں ہوئی اسی لیئے مجھے یہ بخار چڑھا ہے اور پھر اس بخار کی وجہ سے کمزوری بھی بہت ہوگئی ہے۔

 اس طرح کا پروگرام ہے کہ تم لو گ کل صبح دس بجے ادھر سے گزرو جب ابا جی اخبار پڑھنے گئے ہوتے ہیں اور اماں اپنے کام کام مکا کےہمسائیوں کے اور پھر اسکا کچھ کرتے ہیں، "اللہ کی قسم لے لو کہ یہ کمزور اب اس ککڑی کے بغیر نہیں جانے والی"۔ 

ہمارا کیا "اندھے کو دو آنکھیں "بس اگلے دن وقت مقررہ پر پہنچے شاہ جی کا پہلے سے تیار شدہ کمانڈو اپریشن ہوا اور ککڑی بیس منٹ میں ٹوکرے کے اندر شاہ جی نے پکڑی اور ہمارے ہاتھ میں دی اور ہم ادھر ادھر، بارہ بجے تک پک پکا کے کھا پی عوام دریا نہانے پہنچی ہوئی تھی۔

شاہ جی بھی لمبی لمبی ڈکاریں لیتے ہوئے ہمارے ساتھ دریا میں تیرتے پھر رہے تھے۔ شام کو واپسی ہوئی اور سارے اپنے اپنے گھر کو چلے گئے کہ شام کی نماز مسجد میں پڑھیں گے اور پھر بعد از عشاء تاش کی بازی کا مقام مقرر ہوگا۔ ادھر مسجد کی طرف آئے تو شاہ جی پہلے ہی ادھر باہر کھڑے پائے گئے۔ کیوں شاہ جی آج خیریت کیسے سب سے پہلے؟؟؟ شاہ جی کہنےلگے یار ایک بڑی گڑ بڑ ہوگئی ہے ، میں چونکہ گھر میں کبھی رہا نہیں اور ککڑی دیکھ کر یہی سمجھتا رہا کہ ماسی باتاں کی ہے، مگر وہ ہماری اپنی ہی تھی۔ اب میری اماں گاؤں کے سارے لڑکوں کو یہ بڑی بڑی گالیاں دے رہی ہے کہ وہ ہماری ککڑی چوری کر کے کھا گئے ہیں۔ تم سارے میرے ساتھ چلو اور اماں کے سامنے قسم اٹھاؤ کہ ککڑی تم نے نہیں پکڑی ،" تم نے تو پکڑی بھی نہیں"، نماز کے بعد ہم گئے تو شاہ جی کی اماں چور کی ماں بہن کو ایک کررہی تھیں کہ ہماری ایک ہی ککڑی تھی جو روزانہ بلا ناغہ انڈہ دیتی تھی۔ ہم نے قسم اٹھائی کہ ماسی ہم ابھی سیدھے مسجد سے نماز باجماعت پڑھ کر آرہے ہیں، ہم نے نہیں پکڑی اور شاہ جی خاموش مسکین صورت بنائے کھڑے تھے کہ کوئی بندہ اپنی ککڑی خود تو چوری نہیں کرتا، شاہ جی کی اماں چور کی ماں کو منہ منہ بھر بھر کر گالیاں دے رہیں تھیں، مگر اپنے آپ کو تو گالیاں نہیں لگتی ناں

مکمل تحریر  »

سوموار, جون 06, 2011

چوں چوں کا مربہ

ہمارے بہت ہی محترم حکیم علی صاحب سے لندن میں تین دن تک تفصیلی ملاقات کی روداد یوں ہے کہ وہ ہمارے میزبان تھے، ایک دن تپے ہوئے یوں روایت کرتے ہیں کہ ، معلوم ہوا ہمارے محلے بیکرز آرم اسٹریٹ کا ایک گورا مسلمان ہوگیا ہے، ہم سب یار لوگ اسکو مبارک دینے گئے مٹھائیاں لیکر، ایک دوسرے کو بھی مبارکاں دیں، کہ لو جی ایک کافر کے منہ سے لگی چھٹ گئی ہے۔ وہ بھی سب کا بشمول ہمارے نہیایت خوشی سے استقبال کررہا تھا، گویا عید کا سماں ہے، ہر بندے کو جپھے پر جپھے پڑ رہے ہیں ، نشست کے دوران ہی میں نے محسوس کیا کہ اسکےلئے ہر کس وناکس ایک عالم جید بنا ہوا ہے، صلاحیں دی جارہی ہیں ، فتوے جاری ہورہے ہیں کہ میاں پانچ وقت کی نماز باوضو ہو کر پڑھنی لازم، ہر ملنے والے کو پہلے سلام کرنا اور ہر سلام کا جواب لازم ، باتھ روم میں یہ یہ کام نہیں ہوسکتا، اور یہ یہ باتھ روم کے باہر نہیں ہوسکتا، ایک صاحب جن کے منہ سے شراب کے بھبھکے آرہے تھے اسے اسلام میں شراب نوشی پر سختی سے ممانت کے احکامات مفصل بیان کررہے تھے، ایک صاحب نے انکو لباس کی بابت شدید لیکچر دیا اور جب وہ اٹھے تو انکی اپنی کمر ننگی ہورہی تھی، ایک صاحب اسے دافع العورات ہونے کے مشورے دےرہے تھے اور اگلے ویک اینڈ پر ہمار ے سامنے ایک پب میں دو گوریوں کو باہوں میں لئے ٹن حالت میں چوم چاٹ رہے تھے۔خیر دن گزرا ایک اور گزرا پھر ایک اور، بات آئی گئی ہوگئی۔۔۔۔۔ ایک دن وہی گورا پھر سب کو مبارکاں دے رہا تھا، کہ لو جی میں فیر عیسائی ہوگیا ہوں، میں حریاں و پریشان اس سے پوچھنے پر مجبور ہوگیا کہ کیوں؟؟ پس وہ پھٹ پڑا کہ میں مسلمان ہوا تھا کہ اچھا اور سادہ مذہب ہے جس میں جبر کوئی نہیں مگر ادھر تو سارا کچھ الٹ ہے، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ مسلمان تو مجھے ملے ہی کوئی نہیں، کوئی سنی ہے تو کوئی شیعہ ، کوئی وہابی تو کوئی مرزئی، کوئی منہاجی تو کوئی مدنی، کوئی شافعی تو کوئی مالکی۔ کوئی کوفی تو کوئی صوفی۔ مگر مسلمان ؟؟؟؟؟؟ سود کھانے کو سارے تیار ہیں ، مگر سور کھانے کو کوئی بھی نہیں، حالانکہ دونوں حرام بلکہ اول الزکر بلکل ہی حرام ہے۔ غیبت اور جھوٹ ہر بندہ فرض سمجھ کر دن بھر استعمال کرتا ہے، وضو کرنا صفائی کےلئے مگر وضو کی جگہ نہیایت گندی اور کراہت سے بھرپور۔ نماز اللہ کی مگر دھیان بندوں کی طرف ، مسجد میں نماز باجماعت تاکہ تمجھارا پیار و اتفاق بڑھے مگر کیا ہے کہ یہ مولوی صاحب اس کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کو تیار نہیں ہیں۔ اللہ کی منت کم اور پیروں کی منتیں زیادہ، اللہ سے کم ڈرنا اور مولوی سے زیادہ۔ اس طرح اٹھو اور اس طرح بیٹو، یہ پیو اور یہ نہ کھاؤْ۔۔ یہ تو سارا چوں چوں کا مربہ ہی ہے یہ سب دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر یہی کچھ کرنا ہے تو پھر مجھے مسلمان ہونے میں کیا حاصل؟؟

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جون 04, 2011

چاروں سوار

امریکہ کے چار بندے بلکہ بندہ صاحبان و جنابان کو پاکستانی پولیس نے شہری علاقہ میں پورادن آوارہ کردی کرنے کے بعد روک لیا، کوئی چالیس منٹ کے بعد انہوں نے نہ تو کوئی تلاشی دی اور نہ ہی اپنی شناخت کروائی، بعد ازاں بقول ایک عدد پولسے عرف عام چھلڑ کے ان کے پاس چونکہ امریکن پاسپورٹ تھے اور باقاعدہ ویزے لگے تھے۔ لہذا انکو چھوڑ دیا گیا ہے میں سوال کرتا ہوں کہ امریکہ پاسپورٹ ہونا اور اس پر پاکستانی ویزہ کا ہونا ، انکو ہر قانون سے بالاترکرنے کو کافی ہےّ؟؟؟ کیا لازم نہ تھا کہ انکی اور انکی گاڑی کی تلاشی لی جاتی؟؟؟ ان سے سارے دن کی آوارہ گردی کے بارے میں تفتیش کی جاتی؟؟؟ ہوسکتا ہے کہ انکی گاڑی سے اسامہ بن لادن ہی نکل آتا؟؟؟ ہوسکتا ہے اس گاڑی سے کوئی امریکن پالتو خود کش بممبار نکلتا؟؟؟؟ ہوسکتا ہے کہ اس میں سے 6 من چرس نکلتی؟؟؟؟ ہمارے اگر وزیر صاحب بھی ادھر جائیں تو انکے جوتے بھی اسکین بھی ہوتے ہیں۔ کیا اچھا نہیں کہ یہ ملک ویسے ہی امریکہ کے حوالے کردیں کم سے کم فضول میں ذردواریوں، گیالانیوں ، کیانیوں، اور تتے پانیوں سے تو جان چھوٹے

مکمل تحریر  »

بدھ, مئی 25, 2011

تیرواں نشان حیدر

پنجابی زبان بہت ہی قدیم اور تلخ ہے بندے کے سر میں اینٹ مارنے کے بعد ہنس کے کہہ دیا جاتا ہے پاہیو اسیں تے مزاک کررہے سی۔ کر لو گل۔ یہ کیسے ہے سکتا کہ بندہ جہلم میں پیدا ہو اور فوج کے معاملات سے دور رہے جائے، ہمارے ادھر ہر دوسرا بندہ فوج کا موجودہ یا سابق یاپھر ہونے وال سروس مین ہے۔ مطلب انہوں جی ایچ کیو ادھر پنڈی میں بنا کر غلطی کی ہے کہ بھی ادھر جہلم میں ہوتا تو سارے جی رات کو گھر آرام فرماتے۔ مگر خیر۔ آرام تو وہ اب بھی کررہے ہیں، جہاں بھی افسر ہو اسکو آرام تو ملتا ہی ہے۔ اسکول کے زمانے سے ہی کتابوں میں نشان حیدر کہ بارے میں اتنا کچھ پڑھ چکے تھے پھر گھر میں چچاجان اپنی بقول انکے اپنے پی لیو پر آتے تو دو ماہ میں تمغہ بصالت سے لیکر نشان حیدر تک سارے مردان غازیان اور شہیدگان کے نام بمعہ جملہ کارنامہ جات زبانی ازبر کرواجاتے۔ پھر تاریخی کتاباں پڑھ پڑھ کر اپنے آپ کو کم از کم تاریخ اسلام یعنی اسلامی جنگجوؤں کا عالم سمجھتے اور دوسروں کو اس پر قائل کرتے رہے۔ پھر جان پھنسی شکنجے اندر اور فکرمعاش نے سب کچھ بھلا دیا، یہ کتاب اور وہ کتاب اس موضوع پر ریسرچ اس پرمسائل کا تازہ ترین حل۔ مگر یہ فوجی ہیرو کبھی کبھی آکر رات کو دماغ میں ٹھونگے مارتے ہی رہتے اور ساتھ میں ہمارے بزدل اور کم عقل ہونے پر قہقہے بھی لگاتے۔۔۔۔ کہ دیکھو کونسا بندے مارنے والے پیشہ اس نے اختیار کرلیا ہے اور مرنے کے فوائید اور شہید ہونے کے ثواب کو اسلامی کتابوں میں ہی پڑھ پڑھ کر خوش ہوتا ہے۔ خیر دل کے پھھولے جلاتےر ہے مگر بقو ل ابے اب کے ہوئے کا کیا ہوت جب کھوتے چگ گئے کھیت۔ چڑیوں والا محاورہ صیح نہیں ہے۔ جملہ احباب آئندہ سے کھوتے ہی چگایا کریں اور کوشش کر کے محاورے غلت نہ بولا کرٰیں۔ کارگل کی جنگ کے ہیروز کو تمغہ جات کی تقسیم کے بارے میں ہم چپ رہے کہ ہمیں نہیں بھی ملا تو خیر ہےکہ ہماری حیات مبارکہ میں یہ پہلی تقسیم تھی۔ مگر اب کے ہم چپ رہنے کو نہیں ، سنا ہے کہ باباجی حاکم علی ذرداری یعنی کہ جناب والد گرامی حضور صدر پاکستان و پیپلز پارٹی و قبلہ دادا حضوور جناب بلاول ذرداری پہلے و بعد ازاں بلاول بھٹؤ ذرداری پکے چیئرمین پی پی پی پی پی مطلب پکی پکائی پانڈہ پھوڑ پارٹی و سسر مبارک مندجنابہ بے نظیر بھٹو مرحومہ و شہید شہدہ کو اس لیئے نشان حیدر دیا جارہا ہے کہ وہ اللہ آئی سے عین اسی دن بقول ہماری باجی جاناں کے اسی دن فوت فرما گئے تھے جس دن کراچی پی این ایس پر حملہ ہوا اور سست گاؤں والوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ لٹ کر لے گے۔ ( نوٹ جو ان نکات کا مطلب جان گیا ہے وہ دوسروں کو کان میں بتادیے) ۔ یہ بلاول بھٹؤ زرداری کے بارے میں یاد آیا کہ عربی زبان میں اگر کسی کو گالی دینا ہو تو اس کو ابن امی کہ کرپکارتے اور اسکی ہتک کرتے ہیں مطلب اس کے والد گرامی کا صحیح اندازہ لگانے کےلئےڈی این ایے ٹیسٹ کی ضرورت ہے۔ اٹلی میں بھی سرنیم باپ کا ہی لیا جاتا ہے البتہ اگر با پ کا معاملہ شک و شہبہ میں مبتلا ہو تو ہی ماں کا سر نیم دیا جاتے ہے۔ بلاول بھٹو ذرداری کے نام نامی کے بارے بندہ صحیح اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔ یعنی کہ سوچ سوچ کر مت ہی ماری گئی ہے۔ وزیر اعظم جناب سیدیوسف رہ گیر گیلانی جنکے کچھ رشتہ دار قریشی اور باقی میانے کہلاوت ہونگے نے صدر پاکستان عرف صدر بی بی شہید کروا پارٹی کو اس نشان حیدر کی سفارش کردی ہے۔ تو جناب قاریئن آپ سے التماس ہے کہ آپ میں سے کل کلاں کوئی وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوجائے، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے غلطی سے کچھ بھی ہوسکتا ہے ( یہاں تک کہ ساتھ اور دو گیا رہ ہوسکتے ہیں، آپ وزیر اعظم بن سکتے ہیں اور بندہ کو تیرواں نشان حیدر مل سکتا ہے، بقول غالب دل بہلانے کو یہ خیال اچھا ہے۔) تو وہ کسی بھی جگہ ہونے والے بم دھماکے سے ایک دن پہلے بندہ کو اطلا ع کردیں تاکہ ہم موقع کی مناسب سے فوت فرما کر نشان حیدر حاصل کرلے اور یاد رہے کہ یہ تیرواں نشان حیدر ہوگا۔ بیچ کے نمبروں کی گنجائیش حفظ ماتقدم کےطور پر بہت سوچ بچار کرکے رکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ بندہ کو صرف نشان حیدر سے دلچسپی اسکے ساتھ ملنے والی لمبی رقوم اور مربعوں سے، باقی بندوق وردی، جھنڈا تو ہماری لحد مبارک پر رکھ دیے جائیں گے اور ڈنڈا کے آپ کو دینے بارے اسی دن یعنی کہ قبل از مرگ وصیت کردی جائے گی بقلم خود تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے ۔ کون جانے کل کلا ں آپ کو ہی کوئی پوچھ بیٹھے کہ میں یہ ڈنڈا آپ کو کس نے دیا ہے؟

مکمل تحریر  »

منگل, مئی 03, 2011

پہلا سفر

شاہ جی کا خیال تھا کہ پیدل چل کر تین سو بچائے جاسکتے مگر داؤد بلکل راضی نہ تھا، اس کے خیال میں شاہ جی صرف اور صرف کنجوس ہیں اور کچھ بھی نہیں، میں البتہ شاہ جی کے ساتھ متفق تھا کہ ناران سے سیف الملوک جیپ پر جانے میں نہ صرف پیسے خرچ ہونگے بلکہ راستے کے بہت سے نظاروں سبھی محظوظ ہونے سے رہ جائیں گے، صابر کا خیال تھا کہ ہم دونوں غلط ہیں مگر وہ جو کڑیوں کی ٹولی ہے اگر وہ پیدل جائے تو ہم بھی پیدل اور اگر وہ جیپ پر جائے تو ہمارا جیپ پر جانا ہی لازم ٹھہرا، پس اسی بات پر داؤد کا بھی اتفاق ہے اور کہ وہ ہم سب کو کنجوسوں میں اور کھتریوں میں شامل کرتا ہوا چل پڑا، ظلم یہ ہوا کہ آدھ گھنٹا پیدل چلنے کے بعد ہم کڑیوں کے ٹولے سے آگے نکل گئے تھے اور صابر کی راہنمائی میں انکا انتظار کرنے لگے ایک پتھر پر بیٹھے، میں اور شاہ جی ادھر ایک چٹان پر لپک کرجھیل سے گرنے والے شور مچاتے دریا کو اپنے پرانے سے یوشیکا کے اندر بند کرنے کی احمقانہ کوشش کرنے لگے، داؤد کسی بکروال کے ساتھ گپیں ہانکنے لگا، اور صابرکڑیوں کے اس دریائے کنہار کی طرح کھنکھناتے ہوئے ٹولے کا انتطار کرنے لگا، کافی وقت گزرا تو شاہ جی کو فکر ہوا کہ لڑکیاں کدھر گئیں اور پر تشویش انداز میں صابر سے پوچھنے اوپر چلے گئے تو معلوم ہے کہ وہ تو نیچے سے جیپ میں بیٹھ چلی گئی ہیں، پس داؤد اور صابر کی وہی پرانی کتا کھائی چل پڑی کہ میں نے تجھے کہا تھا مگر تم یہ اور کہ میں وہ میں سفرکٹتا گیا اور اوپر جاکر معلوم ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جیپ ادھر تک ہی جا سکتی ہے اور اسکے بعد کڑیوں کو پیدل ہی جانا ہوگا، اب پھر صابر کی باچھیں کھل گئیں اور اس کے منہ سے رالیں ٹپکتی ہوئی صاف دکھ رہی تھیں، ابھی جاری ہے۔

مکمل تحریر  »

سوموار, مارچ 28, 2011

باپ ہونے کا ٹیسٹ

یہ ایک اٹالین ویب سایئٹ ہے جو باپ ہونےکے ٹیسٹ کو آفر کررہی ہے، کہ اگر آپ کو اپنے بچے کا باپ ہونا مانگتا ہے تو مڑا ادھر کو آؤ ڈی این آے کا ٹشٹ پاس کرو اور لازم ہے کہ انہیں پیسے بھی دو، پھر باپ کہلاؤ، بھائی اسکے بعد ہی کہلوایا جاسکے گا۔ اسلام نے اس بارے میں چودہ سو برس قبل ترتیب واضع کردی تھی کہ میں چار شادیاں کرلو مگر شادی سے باہر پنگے مت لو، طلاق کو آسان کردیا گیا، بیوہ کا پھر سے شادی کرنا برحق، مگر تاکا جانکی کرنے والے اور ادھر ادھر منہ مارنے والی اور والے کو پھنیٹی ، کسی صورت اجازت نہیں، یعنی کہ مشتری ہوشیار باش، مگر نہیں چونکہ ہم اس نئی صدی میں پیدا ہونے والی روشنی کی نئی کرن ہیں تو ہمیں مذہب جیسی وقیانوسی باتوں سے کیا لینا اور کیا دینا، ہم تو ٹھہرے ماڈرن لوگ بھئی پرانے وقتوں کی باتیں ہمیں ایک آنکھ نہیں بہاتییں۔ مگر پھر دل میں ایک انجانا سا خوف ہے کہ اگر کسی کا ٹیسٹ نیگیٹو نکل آیا تو اس پر کیا بیتے گی؟؟؟ اسکا حل یورپ والوں نے تو یوں دیا ہے کہ بچہ کی پیدائیش پر اگر ماں اسکے باپ کا نام نہ بھی بتانا چاہے تو صر ف آپ نام لکھوا سکتی ہے کہ اس کی باپ بھی وہی ہے۔ ممکن میں پاکستان ابھی تک کسی نے ایسی صورت حال کے بارے نہ سوچا ہو تو ہو جائیے ہوشیار ۔۔۔۔ ہاں پھر خیال آتا ہے کہ اگر ماں کے نام سے ہی ہرجگہ کام چل جاتا تو پھر اس ٹیسٹ کو بیچنے کا لفڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟؟ مطلب دال میں کچھ کالا ہے جی بلکل ہے ۔ تو صاحب پھر ذرا بچ کہ

مکمل تحریر  »

سوموار, مارچ 21, 2011

لیبیا پر حملہ، جنگ ابھی جاری ہے

افغانستان کےبعد عراق حملہ ہوتا ہے اور اسے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔ بش کے بعد اسکا پیش رو اوباہامہ تخت نشین ہوتا ہے مگر پروگرام جاری ہے، تیونس کے ساتھ مصر سے شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی تیل پیداکرنے والے سارے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ صدام کی طرح قزافی کو بھی ڈکٹیٹر قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ادھر بھی عراق کی طرح کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے شہبہ کا اعلان کرکے اپنے جنگی جنون کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں اپنے آپ سے بطور تاریخ کے ایک طالبعلم یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم پھر سے صلیبی جنگوں میں نہیں گھرے ہوئے؟؟؟ کشمیر میں ہونے والا ستم کبھی امریکہ بہادر اور فرانس و اٹلی کو دکھائی نہیں دیا نہ ہی اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ اور لبنان پر حملہ نظر نہ آیا، امریکہ اپنی حفاظت میں افغانستان پر حملہ کرسکتا ہے اور ایران کو دھمکیاں دے سکتا ہے لبیا پر عوام کو فوجی ستم سے بچانے کےلئے جا سکتا ہے اور فلسطین کے حق میں پیش ہونے والی قرارداد کو ویٹو کردیتا ہے۔ عالمی مچھندروں کا یہ دھرا معیار ہمیں بھی تو دیکھنا ہوگا، اس بارے بات توکرنی ہوگی نہیں تو دل میں برا ضرور جاننا ہوگا کہ یہ ایمان کا آخری درجہ ہے

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 18, 2011

پاکیستانی مچھندر

نجابی زبان میں اکڑ بکڑ بمبا بو کا مطلب کسی کو بھی معلوم نہیں نہ پنجابی بولنے والوں کو اور نہ اکڑ بکڑ پڑھنے والوں کو، چوہدری ریمنڈ گرفتار ہوا، تو ملک میں افراتفری آزاد ہوا تو بھی، سیاست کرنے والے سیاست کرتے رہے اور جان چھڑانے والے جان چھڑاتے رہے، ملک ہے کہ آج ہے کہ نہیں ہے مگر عوام کو سڑکوں پر لانا اور ہڑتالیں کروانا ہمیشہ ہی کسی نہ کسی کا من پسند کھیل رہا ہے۔ جہمھوریت صرف اسی کےلئے ہے جو حکومت میں ہے اور جو حکومت سے باہر ہے اسکے بدترین آمریت ہے مگر ، یہ سارے قضئے اس وقت تک ہیں جب تک ملک باقی ہے۔ دنیا ساری میں جاسوس پکڑے جاتے ہیں اور چھوڑے بھی جاتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ملک ہی داؤ پر لگادو، ملک میں اتنا رولا ڈال دو کہ اسکا ستیاناس ہی ہوجائے۔ میں تو کہتا ہوں کہ ملک کا ستیاناس کرنے کو یہ ذرداری کافی نہیں ہے جو اس کھیت میں عمران خان اور جماعت سلامی والے بھی سلامی لینے کو کود پڑے رہی رہ ایم کیو ایم تو وہ تو متحدہ قومی مرڈر کے پروگرام پر چل رہی ہے۔ آخر کو ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگا لے گی۔ نواز شریف نے اس پردرد موقع پر خود کو در دل میں مبتلا کرلیا۔ پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ ہر موقع کی طرح اس بار بھی ملک صرف عوام کی ذمہ داری ہے۔ اس کا بچانا اسے سنوارنا اور آگے لے کر جانا جہاں یہ اسلام کا قلعہ بن سکے اگر سب کچھ مچھندروں پر چھوڑا تو پھر بجلی پانی تیل کچھ بھی تو نہیں بچا ملک میں رہا سہا ایک نام ہے اسکو مچھندروں سے بچا لو بچا لو بچالو

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 04, 2011

جنگی جرائم اور عالمی ضمیر

تیونس اور مصر کے بعد مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کے اکثر ممالک اندرونی شورش کا شکار ہیں، جن میں سے لیبیا اور بحرین کے اندر تو باقاعدہ خانہ جنگی کی حالت ہے۔ میں ایک عام آدمی کی نظر سے ٹی وی دیکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کسی بین الاقوامی شازش کا نتیجہ ہوِ جیسا کہ گزشتہ اتنخابات کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہرے جن پر پوری مغربی دنیا ٹینشن لے گئی تھی اور پھر تہران میں برطانوی ایمبیسی کے درجن بھر اہلکاروں کی گرفتاری کی خبر آئی اور سب کچھ جہاں پر تھا اور جیسے تھا ایسے ہی ختم ہوگیا۔ جیسے ریمنڈ صاحب کی گرفتاری کے بعد سے پاکستان بھر میں خود کشی کے واقعات میں حیران کن کمی آگئی۔ امریکہ بہادر اور سلامتی کونسل صاحب کو کشمیر، فلسطین، لبنان عراق، افغانستان میں ہونے والے جنگی جرائم تو نظر انداز نہیں آرہے مگر قزافی کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات ہونے کی باتیں بہت زور و شور سے ہورہی ہیں، یورپین یونین لے پالک کی طرح اس میں پوری طرح ہاں میں ہاں ملا رہی ہے، میں قذافی کے حق میں نہیں ہوں اور اس بات سے متفق ہوں کہ لیبیا میں انسانی حقوق کی پامالی بند ہونی چاہیے اور وہ بھی فی الفور، مگر اسکی قیمت لیبیا کی قومی آزادی نہ ہو۔ ایک عام آدمی سوالاٹھاتا ہے کہ کیا عراق اور افغانستان میں جنگی جرائم نہیں ہوئے؟ انکی تحقیقات کس نے کیں؟ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ہونے والے ڈرون حملوں میں بے گناہوں کا مرنا کیا جنگی جرائم میں نہیں آتا؟ کیا اسرائیل کا فلسطین اور لبنان پر بار بار حملے کرنا اور شہری آبادیوں پر بمباری کرنا جنگی جرائم میں نہیں آتا؟ کیا کشمیر ی عوام پر جاری مسلسل تشدد جنگی جرم نہیں ہے؟ امریکہ اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل قرارداد کو ویٹو کرے تو اسے جنگی جرم کیوں نہ کہا جائے؟ جواب ہے کہ چونکہ ان سارے خطوں میں امریکہ بہادر کو بلاواسطہ یا بلواسطہ فائدہ ہے لہذا یہ سارے سوالات اٹھانا گناہ عظیم ہےاس ضمن میں میرے اس مضمون اور اس جیسے دیگر مضامین پر سلامتی کونسل کی جانب سے اگر پابندیاں لگ جائیں تو عین حق بات ہے۔ آج کے عالمی ضمیر کے مطابق سچ اور حق صرف وہی ہے جس سے عالمی چوہدریز کو فائدہ ہے اور اگر کوئی صرف اپنے مفاد کی بات کرے تو لازم ہے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 19, 2011

تین سو یورو اور تین بندے

تین سو یورو اور تین بندے روم ایمبیسی میں پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست معمول کےمطابق جمع کروا کر سوچا کہ اب آئے بھی ہیں توایک صاحب جاننے والے ادھر فائیز ہیں انکے دیدار ہی کرتے چلیں، ڈاکٹر سمیر صاحب کہ ہمیشہ کی طرح جلدی میں تھے کے شدید اصرار کے باوجود اندر پیغام بھجوادیا، اور ہمیں انتظار کرنے کا کہاگیا، خیر سے دس منٹ ایک گھنٹہ اور پھر ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بقول کھلتے کھلتے افسرکھلا کے مصداق موصوف قریشی صاحب نمودار ہوئے کہ اہو لو جی کرلو گل میں ذرا اٹالینز کے ساتھ میٹنگ میں تھا اس لئے دیر ہوگئی، یہ پہلی چکری، یعنی چھوٹا چکر، اپنے دفتر میں لے گئے، خیریت دریافت ہوئی، چائے کا آرڈر دیا گیا اور پھر فرمانے لگے کہ ادھر رہنے کےلئے ضروری ہے کہ آپ اٹالین سیکھیں کہ روزمرہ کی ضرورت ہے میں نے انکو بتایا کہ صاحب میں تو عرصہ سے سکھلا رہا ہوں، فرمانے لگے کہ تو پھر ہمیں بھی سکھلا دیں، اب کے مکری، ہم حیرت زدہ تھے کہ یہ بندہ ایمبیسی میں روم کے اندر تعینات کردیا گیا ہے اور اس کو اٹالین نہیں آتی، خیر تعجب نہیں ہوا کہ یہ صاحب نہ تو اولین میں سے ہیں اور نہ ہی آخرین میں سے ، کہ انکے سابقین بھی صرف انگریزی سے اپنا کام چلاتے رہے ہیں اور چلا رہے ہیں جبکہ برطانوی اور امریکی سفارتخانوں کا عملہ اٹالین بولتا ہے، اٹالین تو درکنار اردو، پنجابی پشتو تک بولتے ہیں اپنے میاں ریمنڈ لاہور والے کی مثال ہی لیجئے۔ افسرانہ انداز میں ارشاد ہوا کہ ہمارے لائق کوئی خدمت، میں نے عرض کیا کہ دیرینہ مطالبہ ہے کہ میلان میں ڈیجیٹل پاسپورٹ شروع کروادیں کہ سارے پاکستانی تو شمال میں ہیں ان کو سہولت ہو جائے گی، روم کا چھ سو کلومیٹر کا سفر کرنے سے بچ جائیں گے ، تو حضرت یوں گویا ہوئے کہ منصوبہ پاس ہو چکا ہے مگر ابھی وقت لگے گا یہاں پر ایک ہزار یورو کی خریداری کرنی پڑ جائے تو اس کا بل پاس نہیں ہوتا، وغیرہ وغیرہ۔ مکری کیوں کہ ڈیجیٹل پاسپورٹ کے نام پر کون سی توپ چلانی ہوتی ہے، ایک ڈیٹا انٹری کا کمپوٹر، ایک فنگر اسکینر اور ڈیجیٹل کیمرہ ، بس ہوگیا شروع کام۔ اتنا تو ہم تین بندے روم جانے آنے میں خرچ کر چکےہیں اگر ہمیں ہی کہتے تو ان پیسےسے ہی کام چل سکتا تھا کہ ہم نے وہ پیسے سفر کی مد میں بھی تو خرچ کرہی دیے اور منافع کے طور پر 1200 کلو میٹر گاڑی بھی چلائی، پندرہ منٹ کے کام کےلئے اگر یہ پیسے ہماری جیب میں رہتے تو دو ہی مصرف تھے یا پاکستان جاتے یا اپنی جیب میں رہتے اور جب جاتے تو خود سے ساتھ لے جاتے، کون جانے ہر روز کتنے لوگ روم جانے میں دو تین سو یورو کا نقصان کرلیتے ہیں، مگر یہ تو کچھ بھی نہیں ہم تو تین بندے مروا کر بھی اس سوچ میں ہیں کہ ریمنڈ کو سفارتی تحفظ حاصل ہے کہ نہیں۔ تین سو یورو تو کچھ بھی نہیں

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 15, 2011

مایا کا ہاتھ نہ آنا

میری دوست لوچیانا کا خیال تھا کہ اگر ہم لندن گے اور مایا کا سر نہ دیکھا تو پھر کیا دیکھا اور یہ کہ ایک دفعہ دیکھا تو پھر دیکھتے ہی رہ جاؤ کے اور یہ بھی کہ یہ کسی پرانے خناس قسم کے جادو گر کا ہے جو مرکربھی آپ کے حواس پر چھا جاتا ہے۔ مجھے خود بھی مایا سے بہت لگاؤ ہے، بس جی چاہتا ہے کہ بہت سی مایا جمع ہو، پھر کچھ ہو یا نہ ہو۔ یوری اور میں خیر سے برٹش میوزیم کے سارے حصوں کا فوری دورہ کرکے جب جنوبی امریکہ کے حصہ میں پہنچے جہاں پر مایا صاحب کا ایک عدد سر موجود تھا تو معلوم ہوا کہ یہ حصہ تو دوپہر کے وقفہ کے سلسلہ میں بند ہے اور تین بجے دوبارہ کھلے گا، شام سات بجے ہماری فلایئٹ کا وقت مقرر تھا اور قائدہ کے مطابق پانچ بجے ادھر سٹین سٹیڈ کے ائرپورٹ پر ہونا چاہئے تھا مطلب ہمارے پاس صرف دو گھنٹے کا وقت تھا کہ ہم نے اسی میں برٹش میوزیم سے والتھم اسٹو پہنچ کر ہوٹل سے اپنا سامان لینا تھا اور پھر وکٹوریہ سے ٹرین پکڑنی تھی۔ خیر دو گھنٹے انتظارکرنا تھا، اس دوران سوچا کہ چلو مصر کے حصہ میں توتن کامن صاحب کے سونے کے ماسک کی ہی زیارت کرلیتے ہیں کہ اتنا سونا ایک ساتھ اور ایک چھت تلے شاید ہے کہیں اور دیکھنا نصیب ہو ، معلوم ہوا کہ ماسک صاحب کو دو ہفتہ قبل مصر کے قائرہ میوزیم میں روانہ کردیا گیا ہے۔ یعنی جہاں کی خاک وہیں کو لوٹی۔ بقول یوری بہت افسوس ہوا اپنے اوپر کہ ہم دو ہفتے پہلے کیوں نہ آئے اور میوزیم والوں پر بھی کہ انہوں نے ماسک کی واپسی جہاں انہوں نے کئی دھائیاں روکے رکھی ہمارا بھی انتظار کرلیتے تو کون سی قیامت برپا ہوجاتی، اس موقع پر ہمیں گورا صاحب کی بے بسی دیکھائی دی کہ دنیا بھر کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود ہماری آمد سے باخبر نہ تھے۔ پھر کیا تھا بھاگم بھاگ مایا صاحب کی طرف لوٹے تو وہاں پر ایک کالی کلوٹی افریقن بیٹھی تھی پہرے پر شاید انکو شک تھا کہ ہم اس کھوپڑی کو چرا کرآلہ دین کے چراغ کی طرح رگڑتے پھریں گے، حالانکہ ہمارے جی میں ایسی کوئی بات نہ تھی، مایا صاحب کی العمروف کھوپڑی کی تلاش شروع ہوئی، ہم کسی جانب مایا جی کو نہ پا کر اس سے پوچھے بغیر نہ رہ سکے، خاتون نہیایت درشت لہجےمیں بولی بلکہ دھاڑی کہ تمھیں معلوم نہیں کہ مایا صاحب کا ایک دانت خراب ہوگیا تھا اور اسی کی مرمت کےسلسلہ میں دو دنوں کےلئے ہسپتال میں داخل ہیں۔ پس اگلے ہفتے آؤ، چونکہ اگلے ہفتے تو درکنار اگلے گھنٹے آنا بھی ممکن نہ تھا، پس ہوگئی بقول لیاقت بھائی کے پھڑلو پھڑلو ، ہم بھاگم بھاگ والتھم اسٹو اور پھر وہاں سے ائیرپورٹ کو کیسے پہنچے ہمیں خود بھی معلوم نہیں، البتہ جب رائین ائر کے جہاز میں اعلان ہو اکہ اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لو میں کہ اب تو ہوا کے دوش چلے تو یقین ہوا کہ ملاتو کچھ بھی نہیں مگر ہاتھ سے بھی کچھ نہیں گیا۔ نتیجہ مایا کم ہی کسی کے ہاتھ آتی یا آتا ہے چاہے وہ اردو کی ہو یا ساؤتھ امریکہ والی ہو۔

مکمل تحریر  »

اتوار, فروری 06, 2011

ہمت مرداں

مصر میں ہمارے ہم مذہب اس بات پر مصر ہیں کہ انکے صدر مبارک انکےلئے مضرہیں، گو اس سارے قضیہ میں امریکہ بہادر کی کوئی غلطی نہیں مگر پھر بھی کچھ عناصر اسے بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں، کیوں یہ تو وہ ہی بتلا سکتے ہیں آج شام کو گزرتے ہوئے زاہد صاحب کہ صرف نام کے ہیں سے ملاقات ہوگئے میں نے گاڑی کی کھڑکی کھول کر احوال دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ میاں کیا بتلاؤں کہ امریکہ بہادر کی مہربانیوں سے ادھر مصر، اردن لبنان میں پنگا پڑا ہوا ہے۔ اب امریکہ بہادر کو اور کوئی راستہ نہیں مل رہا اور القائدہ کے خلاف بے قائدہ جنگ کو بھوت بھی غائیب ہورہا ہے۔ لہذا یہ مصیبت اسلامی ممالک پر افتاد کردی گئی ہے۔ قسم سے یہ بلکل وہ صورت حال ہے اور احتجاج ہے جو ایران میں پس از الیکشن ہوا تھا، اور تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا پھر کیاہو ؟ یہ کہ برطانوی سفارت خانےکے کم و بیش ایک درجن ایرانی ملازمین گرفتار اور قضیہ ختم ہوا، لوگ بھاگ اپنے اپنے گھروں کو گھر گھرستی کےلیے چل دیے۔ ستم یہ ہے کہ ان دنوں میں اس طرح کی بنیاد پرست حکومت صرف ایران میں ہی ہےجو یورپی سفارت خانوں کے ملازمین کو انکے ناجائز معاملات پر بازپرش کرسکتی ہے۔ ورنہ تو سارے حکومت پاکستان کی طرح ایک بندہ پکڑلیا ہے اور اسی بارے میں معافیاں مانگ رہے ہیں کہ جناب غلطی ہوگئی، اوریہ کہ یہ تو سارا پنجاب حکومت کا پنگا ہے اور پھر عدالتوں کا کیا دھرا ہے۔ انہیں ہی فیصلہ کرنا ہے ، ورنہ ہمارا کیا ہم تو آپ کے غلام ہیں آج پنجاب کی حکومت تڑوادیں عدالتیں اپنے ہاتھ میں دے دیں اور بس پھر دیکھں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کیا لکھوں آگے آپ خود ہی سیانے ہیں

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 27, 2010

حکایت ہے کہ ایک آدمی کو غم سے نڈھال روتے دیکھ کر فقیر نے پوچھا کہ میاں کیوں رو رہے ہو؟ اس نے بتایا کہ میری ماں مرگئی ہے۔ فقیر بولا غم نہ کر پرسوں میری ہانڈی ٹوٹی مگر میں نے بھی صبر ہی کیا تھا تو بھی صبر ہی کر۔ آج پاؤل مرگیا، جسکا تھا اسے غم تو لازم ہوگا مگر بقول فقیر صبر کرے کہ 4 برس قبل ہماری ماں مری تو ہم نے بھی صبر ہی کیا تھا۔ آخر ک...ار

مکمل تحریر  »

سوموار, اکتوبر 04, 2010

دوسری پاکستانی عورت بھی قتل

اٹلی کے شہرمودنہ میں ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی کا خاتمہ ہوا، یوں کہ بیٹی کے رشتہ کے تناظر میں صاحب صاحب خانہ نے اپنی بیوی کو ماردیا اور بیٹی شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچ گئی ، اس سارے قضیہ میں انکے بڑا بیٹا جسکی عمر تقریباُ 19 برس تھی وہ بھی اپنے اباجی کے ساتھ شامل تھا۔ اٹالین اخبارات نے حناسلیم کو فوراُ بعد حوالہ دیا کہ اس سے اس کے قتل کی یاد تازہ ہوگئی ہے، اس فیملی کے اٹھارہ برس سے کم کے اور 3 بچے ہیں۔ خیر سے جو ہو ا سو ہوا مٹی پاؤ، مگر بھائی جی مرنے والی تو مرگئی، مارنے والاسزا پاگیااور رہے گا جیل میں عمر بھر، سوال ہے کہ ان بچوں کا کیا مستقبل ہوگاجن کی ماں ماردی گئی اور باپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا، بھائی ماں کے قتل میں ملوث ہے تو بہن اس سارے قضئے کی وجہ ہے۔ صبح سے کئ مقامی لوگ فون کرکے پوچھ چکے ہیں کہ یہ تم لوگ کیا کررہے ہو۔ ایک اور بڑا مسئلہ ہےکہ اگر ایک اٹالین نے اپنی ماں کو گولی ماردی تو ایک خاندان کا کرائسس ہوا، اور ایک پاکستانی نے اپنی بیوی کو قتل کردیا تو سارے پاکستانیوں کو مؤرد الزام ٹھہرایا گیا۔ گویا اٹالین نے وہ حکم پڑھ لیا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا ساری انسانیت کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ کیا یہ صرف اہل مشرق پر ہی لاگو ہوتا ہے ؟؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش