منگل, فروری 23, 2010

دورہ کیا

آج کل مختلف اخبارات میں خبریں کم ہیں اور صاحبان اخبار جو عرف عام میں صحافی کہلواتے ہیں نے مختلف دکانوں اور کاروباریوں کے دورے کرنا شروع کردیے ہیں، مثلاُ آج کل خبر یوں ملتی ہے، کہ فلاں اخبار کے شیخ صاحب نے فلاں شیخ صاحب کی دکان کا دورہ کیا، یہ نہیں لکھا کی کیا خریدا اور کیا گاڑی کی مرمت کروائی تو لکھ دیا کہ ورکشاپ کا دورہ کیا۔ کسی ٹریول ایجنسی پر پاکستان کےلئے ٹکٹ کی معلومات لینے گئے تو ٹریول ایجنسی کا دورہ ہوگیا ، گوشت لینے کی حاجت ہوئی تو قصاب کی دکان کا دورہ ہوگیا، بلکہ تو بعض خبروں میں تو یہ بھی لکھا مل سکتا ہے جیسے کہ بریشیا کے فلاں اخبار کی ٹیم نے فلاں نائی کی دکان کا دورہ کیا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ نہ لکھیں وہاں پر انکی حجامت ہوئی کہ نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آج کل ہمارے یہاں بھی کوئی صحافی صاحب دورہ پر نازل ہوجائیں۔ بقول شخصے وہ آئیں آفس میں ہمارے ہم انکی راہ تاکتے ہیں دروغ بر گردن دریائے راوی

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 18, 2010

Il nome che propongo per l’A380 Lufthansa

Il nome che propongo per l’A380 Lufthansa: "Il più grande e moderno aereo passeggeri del mondo cerca nome. Contribuisca anche lei e potrà vincere 1 milione di miglia premio Miles & More: su lufthansa.com/A380"

مکمل تحریر  »

لسانی تضاد کو ہوا کیوں؟

میں نے فیس بک میں ایک بحث ایک پوسٹ پڑھی جو اس بات پر تھی کہ جہلم کو نیا ڈویژن بننا چاہئے یا چکوال کو؟ چونکہ گروپ کا نام ہی ہمارا چکوال ہے تو لازم ہے کہ اس میں شریک لوگ بھی چکوال سے متعلقہ ہونے چاہئیں میں بھی اس لئے اسکا ممبر ہوں میں جہلم اور چکوال کو ایک ہی سمجھتا ہوں، مگر اس بحث کو بغور پڑھا اور مجھے بہت حیرت ہوئی کہ لوگ ایک چھوٹے سے معاملہ میں کس طرح لسانی، تہزیبی اور تمدنی امور کو استعمال کرتے ہیں، جہلم اور چکوال میں تمدنی طور پر نہ پہلے کوئی فرق تھا اور نہ اب ہے۔ صرف جہلم جی ٹی روڈ پر ہونے اور چکوال کے نہ ہونے کی وجہ سے ایک کی معاشی حالت بہتر اور دوسرے شہر کی کم بہتر تھی، اب چکوال موٹر وے پر ہے تو دیکھئے گا کہ مذید چند برسوں میں وہاں بھی بہتری آئے گی، بات رہی ڈویژن کی تو وہ جہلم ہی ہونا چاہئے کہ ہر طور علاقہ کا سماجی مرکز ہے اور بات رہی دور دراز علاقوں کی تو عوام کو ڈویژن کے ساتھ کیا لینا یہ تو صرف ایک انتظامی معاملہ ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو چکوال سے سال میں ڈویزن کے کاموں کےلئے پنڈی جاتے ہیں؟ شائد کوئی نہیں، ہاں انتظامیہ کےلوگ ضرور ہیں جن میں سے کسی کو نزدیک ہوگا تو کسی کو دور ۔ اوپر دوست تہذیبی اور لسانی تفرقہ کی بات کررہے تھے؟ ان سے میرا سوال ہے کو جہلم اور چکوال میں کونسی لسانی اور تہذیبی دوریاں ہیں؟ کیا چکوال کی تہذیب رومن اور جہلم کی یونانی ہے؟ یا ایک کا تعلق آرین سے اور دوسرے کا تعلق مصریوں سے ہے؟ کیا جہلم میں فارسی اور چکوال میں سنسکرت بولی جاتی ہے؟ بھائیوں کچھ خوف کھاؤ اور غیر اہم معاملات میں تفرقہ بازی کو ہوا دینے سے گریز کرو

مکمل تحریر  »

سوموار, فروری 01, 2010

انہے کتے ہرناں دے شکاری

ڈاکٹر سمیر صاحب ہمارے کالج کے زمانہ کے لنگوٹیے ہیں جسے وہ انڈرویر فرینڈ ہونا ترجمہ کرتے ہیں، آجکل ہمارے شہر کے دورے پر ہیں اور اکثر ملاقات کا حظ اٹھایا جا رہا ہے ڈاکٹر صاحب موصوف پنجابی محاوروں کے کشتے کے پشتے لگادیتے ہیں۔ آج جناب تشریف لائے تو ساتھ میں ڈونر کباب بھی پکڑتے لائے کو لنچ اکھٹے ہوگا۔ کھانا کھاچکنے کے بعد ہر انسان کی طرح ان پر بھی فلسفہ کا نزول شروع ہوجاتا ہے۔ کہ جناب دیکھو یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ حضرت خمار طعام کی مد میں ایک انگڑائی لے کر گویا ہوئے، انہے کتے ہرناں دے شکاری، یعنی نابینا کتے اور ہرنوں کا شکار، شکار انہوں نے کیا کرنا ہے بس ادھر ادھر دھکے ہی کھانے ہیں اور لڑھکتے پھرنا ہے۔ بس ایسے ہی زندگی بیت گئی ہے کہ خود نہیں معلوم ہوا کہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور کیا کررہے اور جو نہیں کرنا چاہ رہیں وہ ہو رہا ہے۔ بس دھکے کھاتے اور لڑھکتے زندگی گزر رہی ہے۔ اس قصہ میں آپنی طرف سے یہ اضافہ کرتا ہوں کہ ہر پردیسی کی زندگی ایسی ہی ہے۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 29, 2010

جمعرات, دسمبر 31, 2009

نیا سال مبارک

میری طرف سے جملہ قارئین، اہل وطن، اہل اسلام اور اہل عالم کو نیا آنے والا سال مبارک ہو اس دعا کے ساتھ کہ یہ سال ہم سب کےلئے رحمتوں برکتوں اور کامیابیوں کا سال ہو۔ آمین

مکمل تحریر  »

جمعہ, دسمبر 18, 2009

پاگل موسم

لگتا ہے کہ اس دفعہ موسم پاگل ہوگیا ہے، کہ صبح عام سردیوں کی سی ٹھٹھرتی ہوئی، منفی دو کے قریب درجہ حرارت بقول گاڑی کے ڈیش بورڈ کے، دس بجے زور کی برفباری کوئی آدھے گھنٹہ کےلئے لگاتار برفباری گویا روئی کے گالے اڑ رہے ہوں، پھر بارہ بجے کے قریب واہ واہ دھوپ ، یورپ کے دیگر ممالک کی طرح یہاں بھی سردیوں کی دھوپ بھی خنک ہی ہوتی ہے۔ مگر ابھی نکلنے لگا تو کیا دیکھتے ہیں کہ جناب پھر سے برفباری شروع ہے۔ بقول موسمی پیشن گویاں کرنے والی ویب کے یہ آنکھ مچولی چلتی رہےگی۔ البتہ سردی کافی ہے ان دنوں میں رات منفی چار تک بھی چلی جاتی ہے۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, دسمبر 17, 2009

ہمارا گاؤں

جہلم شہر سے تیرہ کلومیٹر شمال کو ہمارا گاؤں گٹیالی دریائے جہلم کے کنارے واقع ہے حد یہ کہ نوجوانی کے زمانہ میں صبح شام دریا کے پانی میں ڈبکی لگائے بغیر نہ دن شروع ہوتا اور نہ ہی ختم، ہمارے گردونواح کا حصہ بمعہ بیلہ جو تقریباُ بیس برس پہلے تک جب ہمارے دادا جی زندہ تھے کاشت بھی ہوتا تھا مونگ پھلی، تربوز اور تمباکو کی پیداوار کے گردو نواح میں مشہور، بعد میں تعلیم نے کاشکاری کو زوال پزیر کیا اور سب نے ہاتھ کے بجائے دماغ سے کمائی کرنے کی کوششیں شروع کردیں، آج آپ کو سارے فوج کی سروس میں، ڈاکٹرز، وکلاء، انجنئیر اور بیرون ملک ڈش واشر وغیر ملیں گے، بیلہ کے علاقہ میں کاشتکاری ختم ہوچکی البتہ آزاد کےعلاقہ میں اکا دکا کاشتکاروں اور مویشی پالنے والوں کے ڈیرے مل جائیں گے۔ جہاں ہماری حد ختم ہوتی ہے وہاں سے آزاد کشمیر کی سرحد شروع ہوجاتی ہے۔ محکمہ مال کے نقشہ دیہہ جسے عرف عام میں لٹھہ کہا جاتا ہے کہ سوت کے ایک کپڑا پر کسی ماہر پٹواری نے ہاتھ بنایا تھا اور اتنا پیچدہ ہے کہ ہر مقدمہ میں اسکی تشریح اتنی مختلف ہوتی ہے کہ مقدمہ ختم تک نہیں ہوپایا۔ اس کے مطابق جو آخری بار انیصد چالیس میں مرتب ہوا۔ آزاد کشمیر اور ہمارے دیہہ کی سرحد تقریباُ 3 کلومیٹر ایک ساتھ میں چلتی ہے، اس علاقہ میں مچھلی اور سؤروں کا شکار بکثرت ہوتا ہے اور سردیوں میں مرغابی اور تلیر بھی پھڑکائے جا سکتے ہیں نشانہ اچھا ہونا شرط ہے، اور غیر قانونی طور پر کتوں اور مرغوں کی لڑائیاں بھی بیلہ میں ہوتی ہیں۔ آپ اسے جہلم کا علاقہ غیر ہی سمجھیں کہ اکثر اوقات مفروروں وغیرہ کی موجودگی کی بھی افواہیں اٹھتی رہتی ہیں اور پولیس کی طرف سے چھاپوں کی بھی اطلاع ملتی ہے اور پھر تماشایوں کی بھاگھم بھاگ کی بھی جسے لیاقت بھائی پھڑلو پھڑلو کا نام دیتے ہیں

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 07, 2009

ہم چاروں سوار

مکمل تحریر  »

سوموار, نومبر 30, 2009

وطن جانے کے بارے افواہ

اٹلی سے شائع ہونے والے اکثر پاکستانی اخبارات، ویب سائیٹس میں پرمیسو دی سوجورنو کی تجدید کی درخواست کی رسید کے ساتھ اپنے ملک جانے پر پابندی کی خبر قطعی طور پر بے بنیاد ہے ۔
اس خبر کے بعد پاکستانیوں میں چہ مگویاں شروع ہو گئی تھیں اور وہ لوگ جو اپنے سفر کا باقاعدہ طور پر پروگرام بنا چکے تھے بہت پریشان تھے، مجھے گزشتہ تین دنوں میں کوئی تیس کے قریب دوست/احباب نے فون کیا اور اس بارے میں تصدیق چاہی مگر انکو کچھ نہ بتا سکا، کہ مصدقہ ذرائع سے اس بارے کوئی خبر مجھ تک نہیں پہنچی تھی۔ مگر اپنے طور پر تردید بھی نہیں کرسکتا تھا۔ البتہ آج صبح میری ہمارے شہر کے امگریشن آفس کے ساتھ بات ہوئی ہے اور ان کے بقول اس طرح کی کوئی خبر موجود نہیں ہے اور نہ ہی انکے پاس کوئی اپڈیٹ ہے۔
پرانے طریق پر ہی لوگ اپنے وطن کو سدھاریں، براست یورپ ہوائی سفر نہیں کرسکتے البتہ دیگر ممالک میں ٹرانزٹ کرسکتے ہیں، اسی طرح اٹلی کی جس ائرپورٹ سے روانگی ہوگی آمد بھی ادھر ہی ہونی جاہیے اور یہ کہ ائیرپورٹ امیگریشن سے پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ رسید پر بھی خارج/داخل کی مہر لگوائی جائے۔
ہمارے اخبار نویسوں سے میری التماس ہے کہ کوئی بھی خبر جاری کرنے سے پہلے اسکی صداقت کرے بارے میں جانچ ضرور کرلیا کریں، تاکہ کہ عوام پریشان نہ ہو۔ اللہ آپ کا بھلا کرے

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 21, 2009

بلا تبصرہ

یہ میل کافی دن پہلے موصول ہوئی، اس طرح کی ڈاک کافی عرصہ سے آرہی ہے جس میں افریقہ کے کسی دور دراز ملک کی کوئی بڑی شخصیت فوت شدہ ہوتی اور اسکے مشیر یا ناجائز ورثاء کی طرف سے بندہ کو بہت ایمناندار مان کر اس رقم کی ذاتی اکاؤنٹ میں ترسیل کی درخواست ہوتی، حتٰی کہ علی کیمیکل کے کزن صاحب کی طرف سے بھی عراق جنگ کے فوراُ بعد ایسی ہی درخواست موصول ہوئی۔ مگر موصوف کا موضوع نرالا ہی ہے۔ آپ خود پڑھیے اور اسکو داد دیجئے
date30 October 2009 16:25subjecthelloSigned bygmail.com hide details 30 Oct Dear Sir/Madam, I am an auditor in Virgin Bank of United Kingdom and Benazir Bhutto's Financial Advicer till death. She died without accomplishing her mission.she mapped out £50million for her political campaign under my custody; I only need your help to transfer the money to avoid any trace on me.I will share the money equal with you, if only you will follow my instructions with the details I will provide to enhance the transfer to your account without any problem. Find more info in the website below to clear your curiosity; http://www.achievement.org/autodoc/page/bhu0bio-1,http://news.bbc.co.uk/1/hi/in_depth/south_asia/2007/death_of_benazir_bhutto/default.stm Please assure me that you will act accordingly as I stated herein, hope to hear from you soon.Cheers Chippy owenachippowena@aol.com

مکمل تحریر  »

اٹلی سے پاکستانی ممبئی حملوں کے الزام میں گرفتار

آج صبح ٹی جی 5 پر خبر کے مطابق 2 پاکستانیوں کے ممبئی میں ہونے والے گزشتہ دہشت گرد حملوں میں معاونت کے الزام میں بریشیا شہر سے گرفتار کر لیا گیا ہے،
ٹی وی پر چلنے والی اس خبر سے پورے شہر میں چہ مگویوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پاکستانی محنت کش ایک بار پھر دہشت گردی کے لیبل کا شکار ہوچکے ہیں، امید ہے کہ گزشتہ روایت کے مطابق ان لوگوں کو بھی تفتیش کرکے چھوڑ دیا جائے گا مگر کیا ہوگا کہ اول تو ہمارے اخبارات کو آج تک اسکی خبر نہیں سکی اور حکومت پاکستان کو بھی لازم علم نہیں‌ہوگا، بی بی سی کی سائیٹ کے علاوہ ابھی تک کسی بھی قابل ذکر اخبار/سائیٹ نے اسے اہمیت نہیں دی، لازمی طور پر ہمارا سفارتخانہ بھی بے خبر ہوگا۔
ان کی متوقع رہائی کے موقع پر مقامی میڈیا میں بھی کوئی خبر جاری نہیں ہوگی، اس طرح یہ لیبل پاکستانی محنت کشوں پر ہمیشہ رہے گا

مکمل تحریر  »

جمعہ, اکتوبر 09, 2009

من ترا ملا بگویم

من ترا ملا بگویم و تو میرا حاجی بگو کا محاورا اس وقت کا ہے جب ہم لوگ کالج میں تالاب علم ہوتے تھے، خیر سے وہ تو اب بھی ہیں، ہمارے دو پروفیسر صاحبان ایک دوسرے کی تعریف میں موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے اور اس موقع پر سر منظور کی طرف سے یہ محاورا بزبان فارسی شائع ہوتا۔ ترجمہ کچھ یوں ہوا کہ میں تجھے ملا کہا کروں اور تو مجھے حاجی کہا کر۔
اس محاورہ کا عملی استعمال غیرملکیوں کے نمایندہ دو آن لایین اخبارات بزعم خود، گجرات لنک اور دی جزبہ ڈاٹ کام پر دیکھا،
بریشیا میں پاکستانی صحافیوں ، لکھاریوں کی تنظم بندہ کی تحریک پر بنی اور کہلایِی ہے بریشیا اردو پریس کلب۔ یہی دو ہفتوں کی بات ہے۔ کل ملا کہ چھ صحافی ہونگے اور چھ کے چھ ہی عہدیداران چن لیے گیے ہیں یعنی جو کوءی بھی ہے وہ صاحب کرسی ہی ہے۔ بقول شخصے سب ناخدا ہوءے۔ گجرات لنک میں اٹلی سے شایع ہونے والی کل خبروں دس میں سے پانچ مبارک
باد، ایک تعزیت اور ایک کسی سیاسی کارکن کو کسی بچے کا سر مونڈتے ہوءے دکھایا گیا ہے۔ دوسرے میں پانچ خبریں صرف مبارک باد کی۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 24, 2009

پیرمیسو دی سوجورنو کی بڑی ڈیلیوری

مصدقہ اطلاعات کے مطابق کستورہ دی بریشیا اس ماہ کی چھبیس اور ستایس تاریخ کو پرمیسو دی سوجورنو کی غیر معمولی ڈیلیوری کررہا ہے، جن اصحاب کے نام اے سے لیکر جے تک ہیں انکو چاہیے کہ کستورہ جاویں اور اپنی سوجورنو کے بارے میں معلومات حاصل کریں، بلخصوص وہ حضرات جنکی سجورنو طویل عرصے سے کستورے میں پھنسی ہوءی ہے۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اگست 22, 2009

رمضان المبارک

آج یہاں پر اٹلی میں رمضان المبارک کی پہلی تاریخ ہوءی، جبکہ مولوی توفیق صاحب کل سے روزہ رکھے ہوءے ہیں، فرماتے ہیں کہ یورپین اسلامک یونین نے اعلان کردیا تھا کہ چاند دیکھ لیا گیاہے، مگر بہت سے ممالک میں اس پر عمل پیرا نہ ہوا، جرمنی ترکی، مروک، میں بھی جزوی طور پر روزہ تھا، حد ہے کہ ہم لوگ اس مذہب میں اختلافات بناءے بیٹھے ہیں جو ہمیں اتحاد و یگانگی سکھلاتا ہے۔
جو غیرمسلموں کو بھی دعوت دیتا ہے کہ آءو اس بات پر اکھٹے ہوجاءیں جو ہم میں اور تم میں یکساں ہے، یعنی اللہ ایک کی عبادت کرو اور نیک اعمال کرو، مگر ہمارا تو قبلہ بھی ایک، نبی بھی ایک، دین بھی ایک، پھر ہم ایک کیوں نہیں ہوتے؟ مولوی صاحب بھلے اس پر بھی اختلاف بنا لیں کہ اس بندے نے یوں کیوں لکھا ہے اور یوں کیوں نہیں، خیر انکی مرضی

مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 12, 2009

اللہ کا کرم ہے؟

گزشتہ ہفتہ کی شب اسلم بھائی جان نے مجھے فون کیا کہ چوہدری صاحب تشریف فرما ہیں اگر ملنا ہے تو چلو، چوہدری صاحب ہمارے گراءیں، مشہور سیاسی خاندان کے سپوت اور ممبر صوبائی اسمبلی بھی ہیں آجکل اٹلی کے دھواں دھار دورے پر ہیں، اٹلی میں تو ہم بھی ہیں‌مگر ترتیب اور ہے، ہم ادھر کام کرنے اور پاکستان زرمبادلہ بھیجنے آئے ہیں مگر وہ زرمبادلہ خرچ کرنے اور کام سے جان چھڑانے آئے ہیں، یعنی کہ سرکاری دورے پر، مگر معلوم نہیں کیوں بریشا میں آ ٹپکے، بقول ہمارے شاہ جی کے، ہم لوگ ان کی وجہ سے ادھر آئے ہیں اور یہ ہیں کہ ہمارے پیچھے پیچھے، مرکے بھی چین نہ پائیں تو کدھر جائیں کے مصداق جانے کی حامی بھری، ہفتہ کی شام سیاہ ست دان کے نام، ورنہ اس شام کو ہم یاروں کے ساتھ گھپیں ہانک رہے ہوتے ہیں کسی اوپن بار میں بیٹھے یا پھر بچوں کو ساتھ لے کر کسی پارک میں جھولوں کے گرد جھول رہے ہوتے ہیں، بچے جھولے جھول رہے ہوتے ہیں اور ہم پورے ہفتے کے کام کی تھکاوٹ کی وجہ سے جھول رہے ہوتے ہیں، خیر، مقام جلسہ پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ لیٹ ہوگئے ہیں
چوہدری صاحب سے ہاتھ ملایا، مسکراہٹوں کا تبادلہ، خیریت مطلوب و موجود کے کلمات اور پھر وہ آخری کونے میں جگہ لی، ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو خیر سے ہونگے کوئی پچاس کے قریب شرکاء اور اکثریت جہلم کے اور ہمارے جاننے والے، گویا ایک مقامی یا علاقائی ملاقات ہوئی۔ جلسہ کا آغاز ہوا محبی عامر بٹ صاحب نے اٹھ کر چوہدری صاحب کا انکی مہمانداری کروانے پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بریشیا میں قدم رنجہ فرمایا اور اس شہر کی عزت افزائی کی، کیسے میں آج تک نہیں سمجھ سکا؟ پھر چوہدری صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔
خیر سے خطاب شروع ہوا، سامعین کا شکریہ ادا کیا گیا اور حاضرین کا بھی جنہوں نے اپنی گونا گوں مصروفیت سے وقت نکالا اور تشریف لائے، پھر انہوں نے موضوع پکڑا کہ آپ لوگ خوش نصیب ہیں جو یہاں پر آ گئے ہیں اور یہ آپ کی اولادوں کو بھی یہاں آنا نصیب ہوا ہے، جہاں پر زندگی معیاری ہے اور مواقع زیادہ ہیں۔ کہنے لگے کہ آپ پر اللہ کا کرم ہوا ہے جو آپ اٹلی میں ہیں، میں حیران رہ گیا کہ یہ ایک ایم پی اے بول رہا ہے؟ میاں کونسا اللہ کا کرم، پاکستان میں گزٹڈ پوسٹ پر تھے ادھر مزدور ہیں، ادھر راجہ صاحب، نمبردار صاحب، ڈاکٹر صاحب، پروفیسر صاحب سر تھے ادھر صرف اور صرف ایک غیر ملکی اور مہاجر ہیں؛ مہاجر ہونا، پردیسی ہونا، اپنے دیس میں رزق نصیب نہ ہونا، کیا یہ اللہ کا کرم ہے؟ یا سزا ہے؟ ماں مرگئی منہ نہ دیکھ سکا، کوئی ہم سے پوچھے، پردیس کیا ہے؟ سال میں تین دفعہ فلیٹ تبدیل کرنا پڑتا ہے، دو دفعہ نوکری ڈھونڈنی پڑتی ہے، نہیں تو ہر دوسرے برس شہر تبدیل کرلیا کہ جہاں دانہ پانی لے جائے۔ کیا یہ اللہ کا کرم ہے یا عذاب ہے؟

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 23, 2009

اٹلی میں غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت، کچھ مذید

جیسا کہ کہا جاتا ہے "خاندانوں کی معاونت اور بحالی و بہبود کا ڈیکلیرشن" کولف (گھریلو معاون) بادانتے (معذور فرد کی دیکھ بھال کرنے والا) کو قانونی طور پر وہ مالکان جو اطالوی شہریت کے حامل ہیں یا پھر اطالیہ میں مقیم غیرملکی جو کارتا دی سوجورنو کے حامل ہیں، ملازم رکھتے ہوئے انکی قانونی طور پر پیرمسودی سوجورنو کی درخواست جمع کرواسکیں گے۔ یہ درخواست بعوض مبلغ پانچ صد یورو سکہ رائج الوقت کے داخل دفتر کروائی جا سکے گی، جسکےلئے مقررہ مدت 1 سے 30 ستمبر ہوگی۔ اطالوی اور یورپی شہری ایک فارم INPS میں جمع کروانے کو بھریں گے، جبکہ غیریورپی مالکان کی درخواستیں بعذریہ انٹرنیٹ کو جائیں گی۔ SPORTELLO UNICO PER L'IMMIGRAZIONE
ہر فیملی جسکی سالانہ آمدن بیس ہزار یا اس سے زیادہ ہے ایک کولف کو قانونی طور پر ملازم رکھ سکے گی جبکہ خاندان کے افراد ایک سے زیادہ ہونے کی صورت میں حد 25000 ہوگی جبکہ بادانتے کےلئے دو بھی رکھے جاسکیں گے مگر اس کےلئے خاندانی ڈاکٹر کو ایک بیان حلفی جمع کروانی ہوگی اور اسکےلئے آمدن کی کوئی حد مقرر نہیں ہوگی۔
بادانتے کےلئے درخواست بابا خود یا پھر اسکے رشتہ دار کے ذریعے جمع ہوگی جو اسکے ساتھ نہ بھی رہتا ہو، اس صورت میں مثال کے طور پر بابے کا بیٹا جو کسی دوسری جگہ رہائش پزیر ہے جمع کرواسکے گا

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 17, 2009

قانونی حیثیت کا حصول، طریقہ کار

ما بعد اعلانات اور تبدیلیوں کے، گزشتہ روز حکومت نے اسمبلی میں گھریلو ملازمیں کو قانونی حیثیت دینے کے بارے قانون کا مسودہ پیش کردیا ہے، بعذریہ حلف نامہ خاندانوں کی معاونت و مرفحالی کےلئے کی گئی کاروائی کے۔
اٹالین، یورپی نیشنل، یا وہ غیریورپی جوکارتادی سوجورنو کے حامل ہیں، ان گھریلو ملازمین کو باقاعدہ طور پر کام دے سکیں گے جو 30 جون سے انکے پاس غیرقانونی طور پر ملازم ہیں۔ اس کے ثبوت کے طور پر مالک کو ایک بیان حلفی جمع کروانی پڑے گی جس کے عوض بطور جرمانہ اسے مبلغ 500 یورو فی ملازم خزانہ میں جمع کروانا پڑے گا اور اسکے علاوہ اسکے خلاف کوئی مذید قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گی۔
ہر خاندان زیادہ سے زیادہ ایک فرد کو بطور گھریلو ملازم اور 2 افراد کو معذوروں اور عمررسیدہ افراد کی دیکھ بھال کی مدد میں رکھ سکے گا۔ اس کےلئے انکو کم سے کم 20 ہزار یورو کی سالانہ آمدن ظاہر کرنا ہوگی، اگر خاندان میں صرف ایک بندہ کمائی کرنے والا ہے اور اگر ایک سے زیادہ کمانے والے ہوں اور کم سے کم آمدنی کی مد میں 25 ہزار یورو ہیں۔
معذور و عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال کےلئے ملازم رکھنے کےلئے کم سے کم آمدن کی حد کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن اس صورت میں ذاتی معالج یا محکمہ صحت asl کی طرف سے خاندان میں معذور فرد کی موجودگی کے بارے میں ایک سرٹیفیکیٹ کی ضروت ہوگی۔ مگر یہ خاندانی معالج ہی ہوگا جو دو افراد کی معاونت کی ضرورت ہونے کے بارے سرٹیفیکیٹ جاری کرے گا۔
جس نے گزشتہ فلوسی 2007 اور 2008 کے تحت ملازم کےلئے درخواست جمع کروائی تھی وہ اس کی قانونی حیثت کےلئے درخواست دے سکے گا مگر اس صورت میں خود بخود فلوسی کے ذریعے جمع کروائی گئی درخواست کو خارج کردیا جائے گا۔
ملازمین و مالکان کو اٹلی سے اسوقت تک نہ ہی نکالا جاسکے گا اور نہ ہی انکے خلاف کوئی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی مد میں فوجداری مقدمہ قائم ہوسکے گا جب تک انکی درخواستیں زیر غور ہوں گی اور قانونی حیثیت کے حصول کی صورت میں انکے خلاف بلکل کسی قسم کی کاروائی نہ کی جا سکے گی۔
ایک دفعہ درخواست کے معائنہ کے بعد اسکے قابل قبول ہونے کی صورت میں مالک اور ملازم دونوں کو امیگریشن آفس میں کونٹریکٹ پر دستخطوں کے بلایا جائےگا۔ اس موقع پر، ملازم اپنے اخراجات پر پرمیسو دی سوجورنو کے حصول کےلئے درخواست دے سکے گا، جس کے اخراجات آج تک مبلغ 70 یورو ہیں اور سیکورٹی کے قانونی کے لاگو ہونے کےبعد ان میں اضافہ ہوجائےگا۔
وہ شخص جس کو ماضی میں کاغذات کی عدم موجودگی یا اسکی پرمیسو دی سوجورنو کے ختم ہوجانے کی وجہ سے اٹلی سے نکالا گیا یا نکلنے کا حکم دیا گیا بھی اپنی قانونی حیثیت کے لئے درخواست دے سکے گا۔ البتہ جس کو سیکیورٹی، دہشت گردی اور مجرمانہ کاوائیوں کی مد میں، یا کسی ایک جرم کی مد میں جسے کے لئے باقاعدہ گرفتاری عمل میں لائی جاسکے، نکالا گیا یا نکلنے کا حکم دیا جا چکا ہے کے بارے کچھ نہ ہو سکے گا۔
احتیاج، زیادہ ہوشیار بننا مناسب نہ ہوگا کہ اگر آپ غلط بیان حلفیاں جمع کروائیں گے تو یہ ایک جرم ہوگا اور جعلی کاغذات کا پیش کرنے کی سزا چھ سال تک قید ہوسکتی ہے

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 16, 2009

عورتیں مردوں کے برابر

آج کے اخبار لیگو کے مطابق، یہاں پر خواتین کی پینشن کی عمر کو ترتیب وار بڑھا کر مردوں کے برابر 65 برس کردیا جائےگا، اسوقت سرکاری ملازم خواتین کو 60 برس کے بعد جبکہ مردوں کو 65 برس کے بعد پینشن پر جانے کا حق ہے،
گزشتہ کئی برسوں سے عورتیں ہر شعبہ زندگی میں مردوں کی برابری کےلئے کوششاں ہیں، چند ماہ پہلے روم میں پارلیمنٹ کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں عورتوں اور انکو بےوقوف بنانے والے مردوں نے احتجاجی جلوس کا اہتمام کیا تھا۔ نعرہ تھا کہ ہمیں مردوں کے برابر کرو۔ حکومت نے کہا کہ لوجی ہوجاؤ مردوں کے برابر اور انہی کی عمر میں پینشن کو جاؤ، پس2010 میں پیشن کی عمر 61 برس اور بلترتیب 2018 میں 65 برس ہوجائے گی۔
اور برابری کرو۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, جولائی 10, 2009

اٹلی میں غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی۔

آج کی خبروں کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ اور فلاحی امور کے وزیرا کے درمیان اٹلی کے اندر موجود بغیر کاغزات کے غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دی جائے گی، اس قانون کا اطلاق ستمبر سے ہوگا البتہ ابھی تک اسکی تکنیکی تفصیلات کا طے ہونا باقی ہے، اس قانون کے مطابق اٹلی کے اندر موجود بغیر کا غزات کے لوگ چاہے انکا تعلق کسی بھی ملک سے ہو گھر میں کام کا کرنے کا معاہدہ جمع کروا کر رہائشی پرمٹ حاصل کرسکیں گے، یہ معاہدہ اطالوی نیشنل یا پھر زیادہ عرصہ سے یہاں پر رہنے والے لوگ جو کارتا دی سوجورنو کے حامل ہیں ہی جاری کرسکیں گے۔
یاد رہے کہ چند ہی دن پہلے یہا ایک نیا قانون تحفظ کے نام سے پاس ہوا ہے جس کے مطابق اٹلی میں غیر قانونی رہنا ایک جرم قرار دیا گیا ہے جس کی سزا مقرر کی گئی ہے اور غیرقانونی رہنے والوں کی مدد کرنے والے بھی پہلے جرمانہ کیا جائے گا، اس کی مخالفت تمام انسانی حقوق کی تنظیموں اور ویٹیکن نے اسے وحشیانہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کی تھی۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش