بدھ, نومبر 21, 2007

آئین معطل کرنا اور سزا

آئین کے مطابق اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسا کرنے والے کی سزا موت قرار دی گئی ہے۔
کیا کوئی وکیل صاحب آئین کی اس دفعہ کو جانتے ہیں، اگر ایسا ہے تو اس دفعہ کا حوالہ ضرور دیجئے گا
بندہ مشکور ہوگا

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 17, 2007

پاکستان کی ایمرجنسی اور امریکی دلچسپیاں

آج کے اخبار کے مطابق امریکہ کے مسٹر جان پاکستان پہنچ کر صدر اور جرنیلوں سے ملاقات کر کے انہیں صدرِ امریکہ بہادر کا
پیغام بھی پہنچا چکے ہیں، محترمہ بھٹو اور عاصمہ جہانگیر آزاد ہوچکی ہیں۔ نواز شریف باہر اور عمران خان ہنوز اندر ہیں۔
میں اس معاملے کو صرف پاکستان کا اندرونی معاملہ نہیں سمجھتا بلکہ میرے خیال میں یہ دہشت گردی کے نام سے شروع تیسری عالمی جنگ کے تسلسل کا ایک حصہ ہے۔ جس کے تحت افغانستان اور عراق پر حملہ کے بعد ایران پر دباؤ ڈالا گیا جسے وہ برداشت کرگئے، وجہ عوامی حکومت کا ہونا تھا۔ جبکہ پاکستان کی صورت حال اسکے برعکس ہے، عوامی حکومت کی عدم موجودگی ہمیں افغانستان اور عراق کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔ عوام حکومت کو ناپسند ہی نہیں کرتی بلکہ سڑکوں پر آچکی ہے ۔ عوام کی زبان پر مشرف کے خلاف گالیاں ہیں۔ فوج جس میں عوام ہی بھرتی ہوتی ہے، عوام سے کٹ چکی ہے۔ ایسی صورت میں شمالی علاقہ جات جہاں پہلے ہی وفاق کا اثر کم ہے اپنی آذادی کا اعلان کر رہے ہیں۔ عدلیہ کو مفلوج اور میڈیا کا بند کردیا گیا ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی اس حکومت کو گرا دے تو شاید عوام اسی طرح اسکا استقبال کریں جس طرح صدام کا مجسمہ گرانے والوں کے اس دن عراقی عوام نے کیا تھا۔
یہ ساری صورت حال پیدا کی گئی ہے اور ان حالات میں اگر امریکہ بہادر شمالی علاقہ جات پر حملہ بھی کردے تو جن سے طالبان قابو نہیں آرہے وہ امریکی فوج کا کیا مقابلہ کریں۔ گزشتہ دنوں خبر تھی کہ امریکہ نے ایمرجنسی کی صورت میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی حفاظت کےلئے ایک خصوصی فورس تشکیل دی ہے، سیاق وسباق کےمطابق یہاں حفاظت قبضہ کے مترادف لگتی ہے۔ دکھائی تو ایسے ہی دیتا ہے کہ صدر مشرف استعمال ہو رہے ہیں اور انکے بعد آنے والی حکومت بے نظیر کی ہوگی جو امریکہ سے جانے کیا وعدہ وعید کرچکی ہیں کہ وہ انکے اقتدار میں آنے کےلئے اس قدر تڑپ رہے ہیں۔ کہ ایمرجنسی ہٹاؤ، وردی اتارو، شفاف انتخابات کرو۔ میں بھی یہ کہتا ہوں اور آپ بھی یہی کہتے ہیں مگر دیکھنا ہے کہ امریکہ بہادر کو اس میں کیا دلچسپی ہے۔ کہ نواز شریف کی دوبارہ ملک بدری پر انہوں نے شور نہیں مچایا نہ ہی عمران خان اور قاضی کی قید پر۔ جبکہ بے نظیر اور عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ہر کوشش کی جارہی ہے۔ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ کہ احوال تو سانپ کا سا ہوچکا ہے جس نے چھچھوندر پکڑ لیا اب اسے نگلتا ہے تو کوڑی ہوجاتا ہے اور اگلتا ہے تو اندھا۔ مشرف اگر حکومت میں رہتے ہیں تو ملک کا ناس ہو جائے گا اور اگر ان حالات میں بے نظیر کے حوالے کرتے ہیں وہ جانے کیا گل کھلائے گی۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, اکتوبر 12, 2007

عید مبارک

یہان اٹلی میں آج عیدمبارک کا یوم تھا، رمضان المبارک ختم ہوا اور عوام نے دن دھاڑے کھابے کا مظاہرہ کیا، عید کا مطلب ہی خوشی ہے مگر پردیس میں یہ عید وطن سے دوری کے احساس کے ساتھ آتی ہے اور عید کا مطلب صرف عید کی نماز پڑھنے اور پاکستان فون کرنے تک ہی رہ جاتاہے، پھر وہی کام کاج۔
خیر یہ احساس محرومی اور آنسو بہانا تو اب عادت سی بن گیا ہے، آپ احباب دل پر مت لیں اور عید مبارک قبول فرمائیں، اللہ کرے آپ کا ہر روز یوم العید ہو۔ آمین

مکمل تحریر  »

منگل, اگست 14, 2007

یوم آذادی مبارک

میری طرف بھی تمام اہلیان وطن کو یوم آزادی مبارک ہو۔
دوسروں کی دیکھا دیکھی میں نے بھی بلاگ میں لکھ دیا شائد حب الوطنی صرف اتنی ہی رہ گئی ہے۔ مگر سوچتا ہوں کہ یہ کون سی آزادی ہے اور کس سے؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 17, 2007

زن کش پاکستانی

اٹلی کے وزیرداخلہ جولیانو آماتو نے پارلیمنٹ میں آپنی تقریر کے دوران فرمایا کہ عورتوں کی مارکٹائی کرنا پاکستانی اور سسلی کی ثقافت کا حصہ ہے۔ پس اٹلی کے سارے اخبارات میں یہ خبر صفحہ اول پر چھپی اور ساتھ ہی سسلی کے ناظم کا بیان کہ سسلی یورپ کا حصہ اور اسے پاکستان جیسے ملک کے ساتھ ملانا ہماری توہین ہے۔
جبکہ پاکستانیوں کو اس خبر کی خبرہی نہ ہوسکی جسکی ایک وجہ ناخواندہ اکثریت ہے اور البتہ جنکو علم ہوا انہوں نے خوشی سے بغلیں بجائیں, چلیں کسی طور پر تو مغرب کی برابری ہوئی، البتہ سفارت خانے کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں ہوا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی گروہ میں شامل ہیں جسے ابھی تک اس بات کا علم نہیں ہے۔

مکمل تحریر  »

منگل, دسمبر 26, 2006

مرد عورت برابر ہیں؟

برابری کے موضوع پر “محفل “ میں چھڑنے والی ایک بحث میں دیا جانے والا جواب بلاگ کے قارین کی خدمت میں
_________________
بحث تو بہت دلچسپ ہے بلخصو ص کیونکہ اس میں مذہب کا داخلہ ممنوع قرار پایا لہذا مصنف کو اپنے زورِ بازو پر ہی اکتفا کرنا
پڑتا ہے۔ اسی سلسلہ میں‌ احباب نے کچھ حوالے مغربی تہذیبوں کے دیئے اور کچھ نے اپنے ذاتی اور عمومی مشاہدات۔
چونکہ میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں‌کہ عورت اور مرد برابر نہیں بلکہ دو مختلف اصناف ہیں جنکے مختلف اختیارات و فرائض ہیں۔ بات برتری کی یا کم تری کی نہیں ہورہی ہے بلکہ مقصود صرف فراق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہے، رہی بات برتری کی تو ہم تو جانوروں کو بھی خود سے افضل سمجھتے ہیں۔
دوستوں نے مغربی تہذیبوں کے حوالے دیئے تو توجہ دلاؤں گا کہ یہاں پر بھی مرد اور عورت برابر نہیں ہیں۔ ‌عورتوں کی اکثریت آج بھی وہی “پولے پولے“ کام کرتی ہے، ٹیچر ہیں اور کلرک کی نوکری کرتی ہیں اور ساتھ ہی برابر ہونے کےلئے احتجاج بھی جاری ہوتا ہے۔ سنا ہے کہ برطانیہ میں بہت سال پیشتر عورتوں کو ایک فضیلت یہ تھی کہ انکو 60 برس کی عمر میں‌پینشن دے دی جاتی تھی جبکہ مرد حضرات کےلئے مقررہ عمر 65 برس تھی۔ اس طور کی برابری کی لئے کی جانے والی ہڑتالوں اور احتجاجوں کے نتیجہ میں حکومت نے دیگر برابریوں کے ساتھ ہی یہ برابری بھی کردی کہ ان کو بھی 65 برس کی عمر تک کام کرنا پڑے گا۔ پس لگیں مچانے شور کہ ہم نے یہ تو نہیں کہا تھا، اور کہ ایسی برابری پر لعنت ہو پھٹکار ہو، جس میں پانچ سال اور کام کرنا پڑے ۔
بات برابری کی کرنے سے پہلے ملحوظِ خاطر رہے کہ خواتین کی نبض کی رفتار اور انکا فطری وزن تک مردوں سے کم ہوتا ہے۔ اسی
طرح بلڈ پریشر اور دل ک‌‌ فطری سائیز سے لیکر ہڈیوں کی پیمائیش تک مردوں سے کم ہے۔
مجھے تو حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو برابر کرتے ہوئے بہت سے فطری معاملات تک کو ملحوظ خاطر نہیں رکھتے اور فقط اسی دلیل پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھی کر سکتے ہیں اور وہ بھی، فلاں ملک میں میں برابری ہو گئی ہے اور فلاں میں ہو رہی ہے اور ہمارے لوگ دیکھا دیکھی بقول ہمارے پروفیسر منظور ملک صاحب کے “ مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں“۔
مجھے خود یورپ میں رہتے ہوئے عرصہ ہوچکا ہے اور خواتین کے ساتھ کام کاج کرنے کا بھی اتفاق ہوا ہے ۔ عملی زندگی میں تو یہیں دیکھا گیا کہ جب کوئ زور یا خطرہ کا کام ہے، گولی کھانے کا موقع ہے تو کہا جاتا ہے کہ تم مرد ہو۔ آگے بڑھو اور جب تنخواہ بڑھانے کی بات ہوتو مردو زن برابر ہیں۔
ہم تو اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا کا نظام “لے “ پر چل رہا ہے یہ لے، وہ لے، وہ بھی لے لے، اور اس کو لے لینے کے لئے کبھی تو مردوزن کو برابر کردیا جاتا ہے اور کبھی عورت کو ماں کہ کر برتر اور کبھی لونڈی کہہ کر کم تر کردیا جاتا ہے ۔ یہ ہی احوال مرد کا ہے مگر کیا کریں فطری طور پر اس کا وزن کچھ پونڈ زیادہ جو ہے پس اسی کا فائدہ اٹھاتا پھر رہا ہے اور الزام بھی بھگتتا پھرتا ہے ورنہ تو مردوزن زندگی کی گاڑی کے دو پہئیے ہیں۔

مکمل تحریر  »

منگل, نومبر 21, 2006

قیدی عورتیں

پیر کو مقامی اسکول میں ”غیر ملکی بچوں کے مسائل اور انکے ممکنہ حل ” کے مسئلہ پر ایک میٹنگ تھی، جسکو مرحوم علامہ مضطرعباسی ”جلسہ” کہا کرتے تھے۔ اس جلسہ میں اساتذہ، ماہرین لسانیات، سماجی کارکنان اور بچوں کے والدین شامل تھے میری موجودگی بطور غیرملکیوں کے امور کے ماہر اور لسانی مددگار کے تھی۔ مختلف قسم کے مسائل سامنے آئے جن میں طلباء کا اسکول لیٹ آنا، اسکول کی طرف سے دیے گئے ہوم ورک کو نہ کرنا، ہم جماعتوں سے لڑائی جھگڑا کرنا، اسکولوں کے طلباء کے درمیان پیدا ہونے والی فطری لسانی گروہ بندی، والدین کا بچوں کا خیال نہ رکھنا، والدین اور اسکول کے درمیان روابط کی کمی اور اسی طرح کے دیگر مسائل جن میں سے کچھ والدین کی طرف سے کیئے گئے تھے اور کچھ اسکول کی طرف سے۔ پھر بات چل نکلی کہ پاکستانی بچوں کی مائیں اسکول میں کم ہی آتی ہیں اور یہ کہ ان میں سے بہت کم تعداد میں زبان جانتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
کافی کے وقفہ کے دوران ایک پروفیسر لوچیا نامی کافی کا کپ پکڑے میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور پوچھنے لگی کہ میں نے سنا ہے کہ تمھاری پاکستانی عورتیں یہاں پر بہت زیادہ ڈیپریشن کا شکار ہیں مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم اپنی عورتوں کو چھ چھ ماہ گھر سے نکلنے کی اجازت تک نہیں دیتے اور یہ کہ وہ سارا دن اکیلی گھر میں رہ رہ کر پریشان ہوتی رہتی ہیں۔ اب چونکہ بات ساری پاکستانی قوم کی ہورہی تھی تو میں نے کہہ دیا کہ نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں، ہاں البتہ کوئی اکا دکا کیس اس نوعیت کا ہوسکتا ہے۔ مطلب اپنا آپ صاف بچا لیا۔ مگر بعد میں جب اپنے اردگرد رہنے والے خاندانوں پر نظر دوڑائی تو محسوس ہوا کہ یہ تو شاید ستر فیصد خاندانوں کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہاں اٹلی میں ”ولاز” بہت کم ہیں جبکہ اکثریت دو بیڈرومز کے اپارٹمنٹ میں رہتی ہے۔ اب تین کمرے، کچن اور باتھ روم پر سترمکعب میٹر کا فلیٹ ہے اور میاں صبح چھ بجے ڈیوٹی کےلئے نکل لیئے، بچے ساتھ بجے اسکول کےلئے اب ماں اکیلی گھر میں کیا صفائی کرے گی اور کیسے وقت گزارے گی۔ گھر سے باہر اسکو نہیں جانا ہے اور گھر کے اندر کرنے کو سارا دن کچھ نہیں، ہمسایئے کے گھر نہیں جانا کہ اول تو لسانی آڑ اور پھر انکو غیر مذہب سمجھ کر قابل نفرت سمجھنا۔ اب آجا ے یا ٹی وی یا پھر سرکا درد۔
ہمارے دوست جمال بھائی بڑے مذہبی ہیں اور ہمارے گھر کے نذدیک ہی رہتے ہیں اگلے دن ان سے کوئی کام تھا تو شام کے بعد جا انکے گھر کی گھنٹی بجائی، کافی دیر کے بعد جواب نہ موصول ہوا۔ تو واپس نکل آیا ، دیکھتا ہوں کہ آگے سے جمال بھائی آرہے ہیں اور انکے چند قدم پیچھے بھابھی بھی۔ مجھے دیکھ کر وہ رکے اور بھابھی دس قدم پیچھے ہی سائیڈ میں کھڑی ہوگیں گویا انہوں نے مجھے دیکھا ہی نہیں۔ خیر سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا کہ کدھر گئے ہوئے تھے؟ تو کہنے لگے اصل میں تمھاری بھابھی کو لے کر باہر نکل گیا تھا کہ تین چار ہفتوں سے باہر نہیں نکلی اور سردرد کی شکائیت کرتی تھی۔ میں نے کہا کہ اب اندھیرا ہوگیا اور چلو تمھیں گھما پھرا لاؤں۔
مجھے اس بات کی آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ رویے ہم نے کیسے اپنا لیے ہیں کہ پاکستان میں تو یہی بیبیاں کھیتوں میں کام بھی کرتی ہیں اور گھروں کی سبزی سودا بھی لے آتی ہیں شادی ہوتو انکو روز شاپنگاں کرنی ہوتی ہیں جبکہ ادھر آتے ہی بیبی حاجن کا روپ دھار لیتی ہیں ہیں یا مجبور کردی جاتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ اپکو معلوم ہوتو مجھے بھی بتائیے گا۔

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 29, 2006

پہلا پاکستانی قتل

اٹلی میں پاکستانی کمونٹی بہت کم عرصہ سے ہے اور ابھی اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کےلئے کوششاں ہے، مجموعی طور پر پاکستانیوں کو ایک اچھی اور شریف قوم جانا جاتا ہے کہ محنتی ہیں اور فضول لڑائی جھگڑوں اور دیگر جرائم میں ملوث نہیں ہوتے۔ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور تھوڑے ہی عرصہ میں کاروباری دنیا میں تیزی سے داخل ہورہے ہیں۔ ہمارے شہر کے چھوٹے درجہ کے کاروبار کا آج شاید دس فیصد حصہ غیرملکیوں کے پاس ہے جن میں 40 فیصدی پاکستانیوں کے پاس ہے؛ گزشتہ ماہ یہاں پر پہلا پاکستانی قتل ہوا جو ایک 22 سالہ لڑکی تھی۔ جسکو اسکے باپ نے قتل کیا اور اس میں اسکے بھائی، بہنوئی اور ایک چچازاد نے مدد کی، یہ چار افراد فی الحال گرفتار ہیں، لڑکی کی نعش کو گھر کے صحن میں دفن کیا گیا جسے بعد میں لڑکی کے اطالوی معشوق کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا۔
لڑکی 8 برس پہلے فیملی کے ساتھ اٹلی میں آئی تھی اور یہاں پر ہی بنیادی تعلیم حاصل کی، پھر بقول کچھ لوگوں کے ”حنا آوارہ گردی میں ملوث تھی، شراب و چرس کی دل دادہ اور اس کی مجلس اطالوی اور دیگر غیر ممالک کے لڑکوں کے ساتھ تھی۔”۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ انڈین کے ایک پب میں کام کرتی تھی اسکا لباس مختصر یورپی طرز کا ہوتا تھا۔ گھر میں کم ہی جاتی تھی اور ایک اطالوی لڑکے کے ساتھ بغیر شادی کے رہتی تھی۔ گھر والے کوشش کرتے رہے ہیں کہ اسے پاکستان لے جاکر بیاہ دیا جائے مگر ہو ان کی باتوں میں نہیں آئی اور مبینہ طور پر ان وجوہات کی بنیاد پر اسے قتل کردیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی پولیس کے پاس ماں باپ کے خلاف کئی مرتبہ جاچکی ہے کہ اسے مارا پیٹا اور زدوکوب کیا جاتا ہے۔ بقول وہ کہا کرتی تھی کہ ” میں روشنی میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں جبکہ میرے گھر والے مجھے پھر پاکستانی معاشرے کے اندھیرے میں دھکیلنا چاہتے ہیں، زندگی بار بار نہیں ملتی لہذا اسکا پورا حظ اٹھانا لازم ہے”۔
ایک نظر موجودہ حالات پر بھی ڈالی جائے تو مناسب ہوگا، ان ہی دنوں میں اطالوی حکومت نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا کہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے مستقلاُ رہائشی غیر ملکیوں کو شہریت دی جائے، جسکی مدت فی الحال دس برس اور کاغذات و شرائط کی ایک طویل فہرست ہے، جبکہ اپوزیشن اور دائیں ہاتھ کی راشسٹ پارٹیاں اس قانوں کی جان توڑ مخالفت کر رہے ہیں۔ اب یہ قتل اپوزیشن کے ہاتھ ایک ہتھیار کے طور پر لگ چکا ہے کہ غیر ملکی جرائم پیشہ ہیں، جو اپنی اولاد کو قتل کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ پھر ان دنوں مسلمانوں کے خلاف جو ہوا ساری دنیا میں چلی ہوئی ہے اسکی تیزی کا بھی یہ قتل باعث بنا کہ مسلمان اپنی اولاد کو قتل کردیتے ہیں اور دوسروں کو قتل کرنا انکےلئے ایک معمولی سی بات ہے۔ یہ بہت سنگدل ، غیر مہذب اور خون خوار ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پھر جلتی پر تیل کا کام ہمارے یہاں کے جاہل عوام نے یہ بیان کر دیا ہے کہ ” یہ بہت اچھا ہوا ہے، اسکے باپ کو ایسا ہی کرنا چاہئے تھا، یہ عین اسلام کے مطابق ہے، ہمارے ایک مشہور عوامی لیڈر کے مطابق یہ پاکستانی ثقافت کا ایک حصہ ہے، اور عین قانون کے مطابق ہے وغیرہ وغیرہ۔
یہاں قارئین سے چند سوالات ہیں:
کیا جو ہوا ٹھیک ہوا؟
کیا وہ باپ بدنصیب نہیں تھا جو اپنی اولاد کا قتل کرنے پر آمادہ ہوا؟
کیا یہ اسلام و پاکستانی معاشرتی قدروں کے مطابق درست فعل تھا؟
کیا ہم بطور پاکستانی، مشرقی و مسلمان اس مغربی مادر پدر آزاد معاشرہ میں جذب ہوسکیں گے؟
کیا ہمیں آپنی اولاد کو وہ سب کچھ کرنے کی اجازت دینی چاہئے؟

مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 25, 2006

عید مبارک

میری جانب سے جملہ اہل اسلام و اہلیان پاکستان کو عید مبارک ہو، جملہ اہل اسلام تو خیر میں نے رسماُ کہہ دیا ہے ورنہ امسال جو صورت احوال عید کے متعلق ہے اس سے تو احباب واقف ہی ہیں، کہ یورپ کے کافی ممالک میں اور مشرق وسطٰی میں عید سوموار کو ہوئی، جبکہ کچھ ممالک میں منگل کو اور پاکستان سمیت کچھ ممالک بدھ کو یعنی کل عید کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ عید رحمتوں و برکتوں کا دن ہوتا ہے اور اس دن روزوں کا اجر عطا ہوتا ہے یعنی عام معافی ہوتی ہے تو جناب اس سال عالم اسلام نے تین دن کی معافی کا اہتمام کرلیا، مگر اس سارے قضئے میں ایک مسئلہ مستقبل کے مسلم تاریخ دانوں کو ہوگا۔ کہ اگر ان کو لکھنا پڑ گیا کہ فلاں ہجری بتاریخ یکم شوال کو یہ واقعہ پیش آیا تو ان کو بتلانا پڑے گا کہ کس ملک کی یکم شوال کا ذکر ہے خود پاکستان میں یکم شوال سرحد میں سوموار کو اور ملک کے باقی حصوں میں کہیں منگل اور جہلم بدھ کو ہوگی۔ خیر اللہ دے اور بندہ لے۔ عید مبارک

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 01, 2006

سحرخیزی

رمضان المبارک کے لمحات ہمیشہ ہی یادگار سے ہوتے ہیں، دوسروں کا تو معلوم نہیں مگر میں اپنے آپ کو کچھ افضل اور آزاد سا محسوس کرتا ہوں، کھانے پینے سے مکمل طور پر آزاد، نہ چائے کی طلب، نہ کافی کا فکر، نہ پیو نہ پوچھو۔ دوستوں کے گھر جانا ہو تو وہ بھی کچن میں گھسنے کے بجائے گپ شپ کےلئے وقت دیتے ہیں۔
ابھی تک احباب تعزیت کو آرہے ہیں البتہ ان سے پوچھنا پڑتا ہے کہ روزہ ہے کہ نہیں، خیر جن کا روزہ نہ بھی ہوتو وہ بھی ”ہے” کہہ دیتے ہیں۔ یہاں اٹلی میں روزہ کا کافی رواج ہے بلکہ اس برس ہم تو مکہ مکرمہ کے ساتھ ایک دن پہلے ہی روزہ رکھ بیٹھے جبکہ کچھ علاقوں میں اتوار کو رمضان کا آغاز ہوا۔ اس سال سے ہی روزہ کی طوالت اپنا احساس دلاتی ہے۔ کہ صبح ساڑے پانچ بجے سے لیکر شام سات بجے تک افطار اپنا آپ دکھاتی ہے۔ شام کے بعد خیر سے جہاں پڑ رہے پڑے رہے۔ کہیں آنے جانے سے قاصر ہیں اور نہ ہی نیٹ کے لئے فراغت ملتی ہے۔ خیال ہے کہ آئیندہ کچھ برسوں کے بعد روزہ صبح تین بجے سے لیکر شام ساڑے دس بجے تک ہوگا تب افطار کو ہی سحری تصور کیا جائے گا۔ بقول ہمارے شاہ صاحب ” تب تو کوئی ایمان والا ہی روزہ رکھ سکے گا” ۔ ویسے بھی اٹلی کی گرمیاں گرمی کی وجہ سے مشہور ہیں اور اور درجہ حرارت 40 گراڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ امسال ریکارڈ حرارت 43 گراڈ تھی۔ کل سکول کی نئے سال کے آغاز پر اسمبلی تھی مگر بوجہ افطار شرکت ممکن نہ تھی کہ انہوں نے شام سات بجے کا وقت مقرر کیا ہوا تھا اور یہ وقت افطار کا ہونے کی وجہ سے میں نے معذرت کرلی۔ البتہ پرسوں یعنی منگل شام سے نئی کلاس لے رہا ہوں مگر طلباء سے ہنوز ملاقات نہیں ہوسکی۔
رمضان کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ہم سحر خیز ہوگئےاور سحری کے لئے جب اٹھےتو دیکھا کہ کچن میں ایک عدد چوہا سیروتفریح میں مصروف تھا۔ اب چونکہ اسے ہمارے ٹائیم ٹیبل میں اس اچانک تبدیلی کا علم تھا جسکی ممکنہ وجہ اسکا ان پڑھ ہونا تھا۔ زاہد صاحب کے بقول ”وہ بھول میں مارکھا گیا” کہ اسکے خیال میں وہ یورپ میں ہے اور یہاں جانوروں پر عدمِ تشدد کا قانون لاگو ہے۔ مگر اسے معلوم نہ تھا کہ ”ہم بھی تو ہیں”۔ پس ہم نے ملکر چوہے کا شکار کیا جس پر دو گھنٹے لگے اور پانچ پلیٹیں، دو کپ، آٹھ گلاس، اور ایک جگ کا نقصان ہوا۔ خیر چوہے کا وزن کوئی ڈیڑھ کلو کے قریب تھا۔ مگر افسوس کہ آس پاس کوئی چائینی نہیں بستا ورنہ اس کے ہاتھ بیچ دیتے ، اسکی ایک وقت کی ہنڈیا چڑھ جاتی اور ہمارے برتنوں کا خرچہ پورا ہوجاتا۔

مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 22, 2006

یکم رمضان المبارک

ہماری مقامی مسجد نے کل یکم رمضان المبارک ہونے کی توثیق کردی ہے، میری طرف سے جملہ اہل اسلام کو رمضان المبارک کی رحمتیں و برکتیں مبارک ہوں۔ احباب سے درخواست ہے کہ رحمتوں کے اس مبارک ماہ میں اپنی عبادات میں ہماری والدہ مرحومہ کی مغفرت کےلئے بھی دعا کیجئے گا۔
اللہ ہم سب کی عبادات و دعاؤں کو قبول فرمائے اور رمضان المبارک کی رحمتیں و برکتیں سمیٹنے کی توفیق دے۔ آمین

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 14, 2006

انا للہ و انا الیہ

والدہ کی موت میرے لیے اچانک اور نہ سہہ سکنے والا صدمہ ہے
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
یقیناُ انکی کمی کا خلا ہنوز موجود ہے اور رہے گا۔ اس سے بڑھ کر دکھ یہ کہ میں ایک ہفتہ پہلے ہی بعد از اپریشن انکو تیزی سے روبصحت ہوتے ہوئے چھوڑ کر آیا اور یہ کہ ان کی ناگہانی موت نے اتنی مہلت بھی نہ دی کہ جنازہ میں ہی شریک ہو سکتا۔
میں جملہ احباب کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھے تعزیتی پیغامات بھیجے اور میں انکے جوابات نہ دے سکا۔
والدہ مرحومہ کو اور ہم سب کو آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے اور رہے گی
تمام احباب سے مرحومہ کی مغفرت کےلئے دعا گو رہنے کی استدعا ہے
جزاک اللہ لخیر

مکمل تحریر  »

منگل, جولائی 25, 2006

الجھا ہوا نقشہ

یہ تحریر بی بی سی ڈاٹ کام پر پڑھی اور لکھنے والے اور چھاپنے والے دونوں کی ذہانت پر داد دینے کو جی چاہا۔ بی بی سی کو تو شروع سے ہی مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں سے خداواسطے کا بیر ہے۔ اچھے برے ہر معاشرے میں ہوتے ہیں مسلمانوں میں بھی ہیں اور پاکستانیوں میں بھی۔ یہ بھی کوئی بات تو نہ ہوئی کہ اگر کوئی خبر اسلام یہ مسلمانوں کے حق میں ہو تو وہ نیچے ہوگی اور شام کو اتار دی جائے گی۔ اگر کوئی خبر ان کے خلاف ہو، اس سے ہتک کا کوئی پہلو نکلتا ہو، کوئی بدی یا جرم کی
خبر ہو یا پھر فوج کا خلاف کوئی بات، لازم ہے کہ بی بی سی کے صفحہ پر دو ماہ تک رہے اور کسی واضع جگہ پر بھی ہو۔
اس خبر یا تحریر بلکہ مجھے تو یہ خبر سے زیادہ ایک برین واشر تحریر لگتی ہے جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسلمانوں تم تو سو جاؤ رات ابھی باقی ہے۔ حزب اللہ ڈاکوں کا ایک گروہ ہے جس کی سرکوبی کرنے کا اسرائیل کو پورا حق ہے بے شک اس میں معصوم عورتیں اور بچے مارے جارہے ہیں، اورجو مارے نہیں جارہے وہ بیوہ و یتیم ہورہے ہیں، ہاں البتہ ان لوگوں کا کوئی حق نہیں کہ ان مارنے والوں کو روکیں اور انکے خلاف مداخلت کریں۔ یہ تو ایسے ہے کہ قانون کے مطابق انسان کو مارنے جرم ہے لہذا اگر آپ کے گھر میں کوئی چور گھس آئے تو اسکومارئے مت بلکہ کھانا کھلا کر گھر کا سامان دکھلا دیجئے کہ میاں جو چاہے لے جاؤ ” جیسے صدام نے عراق میں کیا اور پھر معائینہ کاروں نےہی حملہ کردیا”۔
بات تحریر کی طرف: بیان کیا جاتا ہے کہ ”حالیہ تصادم میں اسرائیل کا مفاد یہ ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کا صفایا کر کے وہاں لبنانی فوج یا بین الاقوامی امن فوج کا قیام ممکن بنایا جا سکے۔ اس سے اسرائیل کا یہ دیرینہ مقصد پورا ہوتا ہے کہ مصر اور اردن کی طرح لبنان کے ساتھ ملنے والی اسرائیلی سرحد کو بھی محفوظ بنایا جا سکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔اس تصادم میں حزب اللہ کا بھی ایک ممکنہ مقصد ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر ایران کے ایٹمی پروگرام سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے۔۔۔۔۔۔اس تصادم کو منطقی انجام تک پہنچانے میں امریکی حکومت کا ممکنہ مفاد یہ ہے کہ خطے میں حزب اللہ جیسی ماورائے ریاست مسلح تنظیم کو مفلوج کرنے سے ایران اور شام جیسی حکومتوں کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سعودی عرب، مصر اور اردن جیسی حکومتیں مشرق وسطیٰ میں ماورائے ریاست تنظیموں مثلاً حماس اور حزب اللہ کے عمل دخل پر زیادہ خوش نہیں ہیں۔۔۔۔۔ مذہبی حوالے سے سیاست کرنے والی بنیاد پرستی ہے۔ لبنان کے تصادم سے بنیاد پرست قوتوں کو موقع ہاتھ آئے گا کہ مذہبی تفرقے کے شعلے کو مزید ہوا دی جائے۔ مزید یہ کہ مسلم اکثریتی ممالک میں حکمران قوتوں اور ریاستی اداروں کو لتاڑا جائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاسی معیشت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ پندرہ برس میں عالمی معیشت نے عالمگیریت کے جس مرحلے میں قدم رکھا ہے، اس میں ماورائے ریاست مسلح تنظیموں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ گروہ جس ریاست میں داخل ہو جائیں، افغانستان ہو یا لبنان، اسے مکمل تباہ کر کے چھوڑتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”۔
اس سارے قصہ میں صاحب قلم نے اسرائیل، امریکہ، کا بھلا بھی کردیا، ایران و شام کو بھی ثواب پہنچا، بی بی سی کی پالیسی کے مطابق بنیاد پرستی بھی شامل تحریر ہوگئی مگر اس سارے قضئیہ و قصہ میں ” لبنان: الجھا ہوا نقشہ، لہو کی تحریر” کہاں ہے لبنان و اہلیانِ لبنان کا تو ذکر ہی گول ہوگیا؟ اس خون کا ذکر کیوں نہیں ہو سکا جو ایک تین سال کے معصوم بچے کا تھا؟ اس باپ کا ذکر نہیں ہوا جو خاندان کا واحد کفیل تھا؟ اس بزرگ کا ذکر نہیں ہوا جو چلنے سے بھی معذور تھا اور اس کی بلڈنگ پر بمباری کردی گئی؟ اور اس بیوہ کا ذکر کہاں گیا جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو بھوک سے چلا رہے ہیں؟ کیا بےوقوفی حنان کی بات سے ان کا پیٹ بھر جائے گا؟ کیا کونڈا رائیس کے دورہ سے انکے ذخم مندمل ہوجائیں گے؟
لبنان ایک انسانی سانحہ تو بن ہی چکا ہے مگر اس سے بڑا انسانی سانحہ یہ ہے کہ انسان اس سے بے پرواہ ہیں۔ ”احساس زیاں جاتا رہا”۔

مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 19, 2006

بیروت اور ضمیرِ عالم

بہت دنوں سے بلاگ پر کچھ نہ لکھ سکنے کا وہی قدیم بہانہ عدیم الفرصتی ہے، بقول شخصے ”خوامخواہ کی مصروفیت” پال رکھی ہے اور سر پیر کا ہوش نہیں ہے۔ مگر آج صبر کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔ بیروت پر اسرائیل کے جاری حملوں اور ان پر عالم کی معنی خیز خاموشی اور یورپی و امریکی رسائل و اخبارات کے ”حزب اللہ کے خلاف اور اسرائیل کے حق میں تبصرہ جات” کوئی اور ہی کہانی بیان کررہے ہیں۔
بلا تبصرہ بی بی سی کی سائیٹ سے چند چیدہ چیدہ سرخیاں ملاحظہ ہوں: ”اسرائیلی فوج مسلسل آٹھویں روز بھی لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ ملک کے جنوب اور مشرق میں تازہ حملوں میں کم از کم پچپن شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
اسرائیل کا تازہ آپریشن صدر بش کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے شام پر الزام لگایا ہے کہ وہ لبنان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیئے اس بحران کا استحصال کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی کارروائیوں کی سرپرستی دمشق سے کی جارہی ہے۔ صدر بش نے اپنا موقف دہرایا ہے کہ ’اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔ تاہم ہم نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ نئی لبنانی حکومت کا خیال رکھے‘۔ ”
”اسرائیلی فوج مسلسل آٹھویں روز بھی لبنان پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک ان حملوں میں کم از کم دو سو ستر لبنانی
افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر عام شہری ہیں۔ دوسری جانب حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں پچیس اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے تیرہ عام شہری ہیں۔ فی الحال اس تشدد آمیزی میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی۔ لبنان کے ہزاروں خوفزدہ مکین ملک چھوڑ کرجارہے ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے آگے کیا ہوگا؟ کیا جنگ بندی کے لیے حزب اللہ کو اغوا شدہ اسرائیلی فوجیوں کو واپس کر دینا چاہیے؟”
ان دو خبروں سے کا اختتام لکھاری شائع کرنے والے کی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے” کہ فوجیوں کا اغواء ایک بہانہ ہے دو ماہ پہلے جب شام کی فوجیں لبنان میں موجود تھیں تو ساری دنیا بمعہ انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ”یورپ، امریکہ اور اسکے چمچے بےوقوفی حنان” نے باں باں مچارکھی تھی کہ شامی فوجیں لبنان سے نکلیں، میاں اب تم کہاں ہو؟ جب فوجیں نکلوائی تھیں تو اب اسکے خلاف ہونے والی جارحیت پر اسکے دفاع کی ذمہ داری تم پر ہے مگر مجال ہے جو ضمیر عالم نے کچھ غیرت کھائی ہو۔ ادھر عالمِ اسلام کی بے غیرتی کی حد تک خاموشی قابلِ فکر ہے۔ خادم الحریمن الشریفن سے لے کر اسلام کے قلعہ تک سب ”کوما” کی حالت میں ہیں، مجال ہے جو اف تک بھی کی ہو، شاید اس ہدائیت پر عمل کررہے ہیں، ” اپنے ماں باپ کے سامنے اف تک نہ کرو”۔ اگر اس سارے قضیے کو گزشتہ تین سالوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو سامنے آتا ہے کہ امریکہ کا مقصد مشرقِ وسطیٰ پر جو عالم اسلام کا گڑھ ہے ہر صورت میں قبضہ کرنے کا تہیہ کیے نظر آتا ہے جسکے لیے گیارہ ستمبر کے ڈرامہ، افغانستان پر حملہ، عراق پر فوج کشی، شام کے خلاف ایک طویل پراپیگنڈہ مہم اور پر ایران کے پیچھے پڑنا شامل ہیں، یہ اور بات ہے کہ ایران کے سلسلہ میں اسے دنیا کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اسے اپنی چال بدلنی پڑی؛ ایک فوجی کے اغواء کا بہانہ بے گناہ فلسطینیوں کا خون بہانے کا معقول بہانہ رہا، پھر دو فوجیوں کا اغواء بیروت پر مسلسل بمباری کی وجہ بنتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسکے بعد شام پر اسرائیلی حملہ کی کیا وجہ سامنے آتی ہے؟
آپ کے خیال میں یہ امریکہ ہی کی ایک چال نہیں ہے کہ اس نے خود سامنے آنے کی بجائے اسرائیل کو آگے کردیا ہے اور خود اس کو ہر جگہ پر مکمل تحفظ فراہم کیئے ہوئے ہے؟
کیا اسکے بعد اس طرز پر اگے بڑھتے ہوئے کسی معقول بہانے کا سہارا لے کر شام سے بھی دو دو ہاتھ کیئے جائیں گے یا نہیں؟

مکمل تحریر  »

اتوار, جون 04, 2006

گلاب و نصیب

بہت عرصہ پہلے زمانہّ طالبعلمی میں جب ہم بسوں پر اسٹوڈنٹ کہہ کر مفت سفر کرنے کی کوشش میں اکثر پکڑے جاتے، تب بسوں پہ لکھا ہوتا تھا کہ ”پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا”۔ خیر بسوں پر تو اور بھی بہت سے اشعارو محاورہ جات منقش ہوتے تھے جو آجکل عنقا ہیں۔ اور وہ کچھ نہیں لکھا ہوتا تھا جو آج کل لکھا ہوتا ہے۔ اس ہونا اور نہ ہونا کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے اور ایک اہم مسئلہ ہیں۔
انگریزوں کے چچا شیخ اسپی ایر کا کہنا ہے” کہ اگر گلاب کو گلاب نہ کہا جائے تو اسکی خوشبو کم نہیں ہوتی” ، اور ادبی طور پر ہم اس فقرہ کو دھراتے ہوئے نہیں تھکتے؛ یہ اور بات ہے کہ اس کا مقصد صرف اور صرف سامعین پر اپنے باادب بلکہ صاحب ادب ہونے کا رعب جمانا ہوتا ہے۔ اب بندہ شیخ صاحب سے پوچھے کہ اگر ”گلاب” کو گلاب نہ کہا جائے بلکہ ”کھجور” کہا جائے اور بلترتیب ” کھجور” کو ”گلاب” کہا جائے تو اس سے لازمی فرق پڑے گا۔
لوگ اپنی محبوباؤں کو گلابوں کی بجائے کجھوریں پیش فرما رہے ہوتے اور محبوبائیں شاید ان کو چھوہارے”، اور ہم یہ شعر قطعی طور پر نہ پڑھ رہے ہوتے ” کھوتی چڑھی کجھور اُتے، ٹُک ٹُک نیمبو کھاوئے”۔ اب یہ اس کی قسمت ہی خراب تھی ورنہ گلاب پر چڑھنا زیادہ ” رومانٹک” لگتا ہے۔ اور وہ بھی بغیر کانٹوں کے۔ نیمبو کے فوائد آپ خود بیان کریں کہ ضروری تو نہیں کہ سب کچھ ہم ہی لکھیں آخر آپ بھی تو سمجھدار ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

اتوار, مئی 21, 2006

تنظیِم عمل جہلم

تنظیم عمل جہلم ایک ایسا سماجی فلاحی ادارہ ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی خدمات کے ذریعے صحت سے متعلق سہولیات فراہم کرنا ہے۔ جن بنیادی نکات پر یہ تنظیم عمل پیرا ہے وہ درج ذیل ہیں:

۔ لوگوں میں بنیادی صحت سے متعلق شعور پیدا کرنا۔

لوگوں کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کرنا۔

لوگوں میں عطیات خون سے متعلق شعوری آگاہی پیدا کرنا۔

لاوارث، مستحق اور حادثات میں زخمیوں کو خون کی فراہمی۔

خون کے کینسر میں مبتلا بچوں کو مستقل بنیادوں پر خون کی فراہمی۔

تنظیم نے اپنے مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایسے منصوبے شروع کئے جس سے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد مستفید ہوں اور صحت کے حوالے سے ان کی مشکلات میں کمی لائی جاسکے۔ اپنی مدد آپ کے تحت تنظیم عمل مندرجہ ذیل فلاحی منصوبے ”بلا منافع” مستقل بنیادوں پر چلارہی ہے:

بلڈ بنک، کلینیکل لیبارٹر ی، ادویات کی فراہمی، ماں بچے کی صحت، ایمبولنس سروس، تھیلاسیمیاکئیرسینٹر، لاوارث لاشوں کی تدفین، بلڈ گروپنگ، بلڈ کولیکشن، بلڈ سکرینگ کیمپ، صحت عامہ کیلئے آگاہی و تربیتی کیمپ، تعمیری منصوبوں میں حکومتی اور سماجی تنظیموں سے تعاون مندرجہ بالا منصوبوں میں سب سے اہم منصوبہ بلڈ بینک ہے جس کے ذریعے سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں میں داخل مریضوں اور جہلم کی حدود میں شاہراہوں میں ہونے والے حادثات کے زخمیوں کی خون کی ضروریات پورا کرنے کیلئے تنظیم کے کارکن ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ جوصرف ایک پکار پر انسانیت کی خدمت کے جذبہ سے سرشار لبیک کہتے ہوئے فوراُ پہنچ جاتے ہیں۔ تنظیم کے خون دینے سے متعلق مندرجہ ذیل چند بہت بنیادی اور سادہ سے اصول ہیں جن کے تحت لوگوں کو خون فراہم کی جاتی ہے۔

ا) خون کسی قیمت پر فروخت نہیں کیا جاتا۔ ب) ایمرجنسی کے علاوہ خون صرف تبادلے میں دیا جاتا ہے۔ج) ایمرجنسی سے مراد شاہراہ پر حادثہ میں زخمی ہونے والے ایسے افراد جن کے لواحقین بر وقت نہ پہنچ سکتے ہوں ان کو خون بغیر تبادلہ کے فراہم کیا جاتا ہے۔ د) ایسے لاوارث مریضوں کیلئے خون بغیر تبادلہ کے فراہم کیا جاتا ہے، جس کی اطلاع ہسپتال انتظامیہ خود کرتی ہے ۔ق) تھیلاسیمیا میں مبتلا بچوں کی تمام ضرورت کے خون کا پچاس فیصد خون بغیر تبادلہ کے فراہم کیا جاتا ہے۔ گ) تنظیم کے رجسٹرڈ رضاکار کی سفارش پر خون بغیر تبادلے کے فراہم کیا جاتا ہے۔ ل) خون دینے کیلئے آنے والے کے تمام بلڈسکرینگ ٹیسٹ بالکل صحیح ہونے پر ہی خون لیا جاتا ہے۔

تنظیم عمل اب تک لامحدود تعداد میں مستحق لوگوں کو خون کی فراہمی کر چکی ہے اور یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے مذید معلومات کے لئے مندرجہ زیل پتہ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

تنظیم عمل جہلم

بلمقابل میجر اکرم شہید پارک شاندارچوک جہلم

فون: 0544627115 اور 628115

مکمل تحریر  »

بدھ, اپریل 12, 2006

لہو کے آنسو

آج ہمارا سب کا دل لہو کے آنسو رو رہا ہے۔ کسی پل قرار نہیں اور کسی کو چین نہیں احباب فون پہ فون کررہے ہیں اور ایک دوسرے سے تعزیت کررہے ہیں مگر کیا کریں، وطن سے دوری بھی تو ایک مسئلہ ہے۔ خیر جو نزدیک ہیں وہ کیا کرسکتے ہیں۔
کراچی کا الم ناک سانحہ ملک کی صورت حال میں ایک اور سیاہی کی مانند ہے۔ اللہ تعالٰی شہداء کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ
عطا فرمائے اور زخمیوں جو جلد صحتیابی سے بہرہ مند فرمائے اور جملہ لوحقین اور قوم کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ تو خیر سے ایک روایتی جملہ بن چکا ہے کہ بھی اللہ کی مرضی مگر بات یہیں تک ختم نہیں ہوجاتی۔ خیر اس ایمان پر تو ہم سب قائم ہیں کہ ہر مصیبت اور نصرت اللہ کی طرف سے ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سسٹم یا نظام بھی تو اسی کا ہے۔ اور اس میں کیوں دخل اندازی ہوتی ہے اور کون کرتا ہے؟ کون ہے جو اس دخل اندازی سے روکنے کا ذمدار ہے؟ اور اگر پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اس بات کا تعین ہوجانا چاہیےکہ کیا ذمدار نا اہل ہیں؟ یا پھر ایسے تو نہیں کہ خاکم بدہن وہی چوروں سے ملے ہوئے ہیں۔ اور ساتھ میں شور مچائے ہوئے ہیں کہ چور، چور، چور، چور یہاں اٹلی کے میڈیا نے بھی اس واقع کو پوری طرح مقامی خبروں میں جگہ دی ہے اور اس انداز سے بیان کیا ہے کہ گویا سنی شیعہ جنگ اور ازلی معرکہ آرائی کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ فائیل فلمز اور بیک امیجز کی بھی مدد لی گئی ہے۔
اب صورت حال مذید دشوار اورگمبھیر ہوتی جارہی ہے، حکومتی ادارے سوائے الزام ترشیوں اور بیانات کے کچھ کرکے نہیں دے رہے ہیں اور عوام لازمی اشتعال کی طرف جارہی ہے۔ مجھے تو یہ ایک لاوا لگتا ہے جو بس حکومت کی بد عنوانیوں اور بد نظمیوں کے خلاف نکلا ہی چاہتا ہے۔ مزید نمک پاشی ہمار سیاہ ست دان کررہے ہیں۔ کہ غیر ملکی ہاتھ ہے تو میاں اس ہاتھ کو کون آکے نکالے گا؟ کس کی زمداری ہے؟ تم کس کام کے ہو؟ اور کیوں ہو؟
ایک دوست کہہ رہے تھے کہ میاں عراق میں جہاں جنگ لگی ہوئی ہے وہاں روز 30 بندے مرتے ہیں اور ہمارے ملک میں جہاں جمہوریت ہے وہاں 40 اللہ کو پیارے ہوتے ہیں ۔ عراقیوں کا لہو تو امریکیوں کے سر لازم ہوا مگر جو قتال ہمارے ملک میں ہورہا ہے اس کا الزام کس کو دیں؟
چمن ہے مقتلِ نغمہ اب اور کیا کہیے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے جسے نواکہئے
اسیرِ بندِ زمانہ ہوں اے صاحبانِ چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے

مکمل تحریر  »

چوربھی کہے۔۔۔

چوربھی کہے چور چور جب ہم کالج میں پڑھا کرتے تھے تو امتحان کی تیاری میں درسی ماڈل ٹیسٹ پیپرز سے طوطا رٹا مارنےاور بعد ازاں نقلیں تیار کرنے کا کام لیا جاتا۔ تب درسی کے ہر ٹیسٹ پیپر کی خاص پہچان اسکی جلد کی الٹی طرف لکھا ہوا چور بھی کہے چور، چور۔ چوروں سے ہوشیار رہے۔ مگر اس کی سمجھ نہ آتی۔ سیکنڈ ائیر میں انگلش کی تیاری میں استعمال کےلئے چندہ جمع کرکے احباب نے جو اجتماعی ٹیسٹ پیپر خریدا اور اس کا رٹا بھی مار لیا تب فوٹو کاپی کروانی کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی رواج تھا بلکہ احباب مل بانٹ کر اس میں موجود سارے مواد کو بطور نقل ایک مرتبہ عام تحریر میں لکھتے اور پھر اس کی مائیکرو نقل تیار ہوتی تاکہ اگر موقع ملے تو کمرہّ امتحان میں لے جا سکیں، یہ اور بات ہے کہ ایسا موقع آجتک نہیں ملا۔ جب ساری تیاری مکمل ہوچکی تو کسی سیانے کو بات سمجھ آئی کہ بھائی جی یہ ٹیسٹ پیپر تو جعلی ہے اور یہ کہ اس میں سے دو ابواب اور کئی سوالات سر پیڑ سے غائب ہیں۔ اب کیا ہوسکتا تھا سوائے اسکے کہ نیا ٹیسٹ پیپر لیا جائے مگر رقم کہاں سے آتی؟ پس ایک اور حلقہ سے ادھار مانگ کر رات ہی رات اسکی کاپیاں تیار کرنا پڑیں پھر مائیکروز اور اسکے بعد احساس ہوا کہ یہ ٹیسٹ پیپر تو سارے کا سارے ہمیں زبانی یاد ہوچکا ہے۔ خیر فائدہ یہ ہوا کہ اس برس کیسی کی کم سے کم انگلش میں کمپارٹمنٹ نہیں تھی۔

مکمل تحریر  »

کالی بھیڑیں

ایک فورم میں گوشہء حضرات کے نام سے کالم شروع کیا گیا مگر بہت عرصہ گزرنے کے بعد بھی کیا دیکھتا ہوں کہ یہاں سے بندہ بشر غائب ہے اور اسکی واحد وجہ غالباُ بیویوں کا خوف ہی ہو سکتا ہے۔ جو صاحبان بیوی یافتہ ہیں وہ تو ویسے ہی پرہیزی میں ہونگے ایسی محفلوں اور ایسے موضوعات میں آواز بلند کرنے پر اور باقی کے اپنے غیر محفوظ مستقبل کے ہاتھوں مجبور ہیں ویسے ایک بات کہنے میں تو کوئی امر مانع نہیں کہ اگر یہ موضوع ’’آذادیّ نسواں’’ یا ’’بحالی حقوق خواتین’’ کے طرز کا ہوتا تو ہمارے ہم جنس اس میں بڑے بڑے جھنڈے اٹھائے نظر آرہے ہوتے، میں جب پاکستان میں تھا تو ان دنوں خواجہ صاحب کے بقول ’’اسلام آباد کی سڑکوں پر ریلی، ریلی کھیلا جا رہا تھا، ’’ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف، شہری آذادی کےلیے، تحفظِ جنگلات، خواندگی وغیرہ وغیرہ کی طرح کے ’’ڈیشی’’ موضوعات۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے بھی کئی ریلیوں میں حصہ لیا اور کئی مرتبہ ریلی کے آخیر میں ہونے والی دھنگا مشتی میں بھی جس میں اکثر پلہ ’’ مشٹنڈا پارٹی’’ کا ہی بھاری ہوتا جو ہر ریلی میں ہوتے اور صرف اسلئیے ہوتے کہ ریلی ہے کوئی ’’ ریل’’ تھوڑی ہے جسکا ٹکٹ لینا پڑتا ہو، یہ اور بات ہے کہ ہم بھی جہلم سے اسلام آباد بغیر ٹکٹ کے ہی جاتے تھے، جی بلکل کالج کی ملازمت کے دوران بھی ’’ بطورِ اسٹوڈنٹ’’۔ آخر کیوں نہ چلتا بہت سے تلامذہ کی عمر استاد جی سے زیادہ تھی۔۔۔۔۔۔خیر عمروں میں کیا رکھا ہوا ہے بات ریلی کی ہو رہی تھی کہ ایک ریلی چلی ’’ تحفظ حقوقِ نسواں’’ کے موضوع پر تو پہلی لائین میں کیا دیکتھے ہیں کہ دو تین مرد حضرات بھی موجود ہیں، خواجہ صاحب کہنے لگے کہ یہ کالی بھیڑیں ہیں جو بھنوروں کی طرح نظر آرہی ہیں، بھلا کوئی ان سے پوچھتا کہ میاں یہ خواتین تو چلو اپنے حقوق کو مردوں سے بچانے کےلیے تگ و دو کررہی ہیں مگر یہ آپ کس چکر میں ہیں؟؟؟ کہیں ’’چور بھی کہے چور چور’’ والا قصہ تو نہیں کیونکہ حقوق کو جنسِِ مخالف سے بڑھ کر کس سے خطرہ ہو سکتا ہے؟

مکمل تحریر  »

اتوار, اپریل 02, 2006

تنگ آمد۔۔۔۔۔

تنگ آمد بجنگ آمد یہ کہاوت بہت زمانوں سے چلی آرہی ہے اور اسکا ماخظ معلوم کسی کو معلوم نہیں کم سے کم مجھے معلوم نہیں، خیر گئے زمانوں کی اس کہاوت سے ثابت ہوتا ہے کہ تب لوگ تنگ اگر جنگ شروع کرتے تھے اور پھر جنگ بندیاں ہوجاتی تھیں مگر آج کے زمانے میں تنگ آمد سے پہلے ہی جنگ آمد ہوجاتی ہے اور پھر علان ہوجاتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جاری رہے گی، یعنی جنگ بندی کے امکانات ختم۔
جنگ میں مورچہ بندی لازم ہے بلکہ جنگ کے بغیر بھی آپنے مورچہ میں ہی رہنا چاہئے نہ کہ دوسروں کے مورچہ میں تاک جھانک کی جائے، کہ گولہ بارود کدھر رکھا ہے کہ تاک جھانک سے بھی جنگ چھڑنے کے واقعات قدیم تاریخ میں رونما ہو چکے ہیں، ہمارے شاہ جی کے خیالِ غیر عالیہ میں جنگ کی تیاری کا مقصد جنگ کرنا نہیں بلکہ جنگ سے بچنا ہوتا ہے، اور اگر کوئی ملک یا قوم جنگ کی تیاری جنگ کرنے کےلیئے شروع کردے تو سمجھ لو کہ اسکا فنا ہونا لکھ دیا گیا ہے۔ بہر حال ہم اپنے مورچہ میں ہی ہیں اور کیا ہے کہ ڈٹے ہوئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ پیسٹھ کی جنگ میں پاکستانی فوجیوں نے کتے کی دم کے ساتھ ڈائنامیٹ باندھ کر اسے آگ لگا دی اور کتے کو بھگا دیا ہندوستانی مورچےکی طرف، بس کیاہونا تھا وہی جسکی آپکو اور مجھے توقع ہے کہ کتا ادھر گھسا دشمن کے مورچے میں ادھر ڈائنا میٹ کا دھماکہ ہوا اور رہی سہی کسر ادھر موجود گولہ بارود نے نکال دی۔ پس دشمن کا ناس ہوا اور دوستوں نعرہ بلند کیا۔ اب معلوم نہیں ہوا کہ اس میں قصہ میں بہادری کا تمغہ فوجیوں کو دیا جائے یا کتے کو جس نے اس دیدہ دلیری سے وہ ڈائنامیٹ بندھوا لیا۔ خیر ہمیں کیا؟
یہی یا اس سے ملتا جلتا واقعہ مجھے پہلے بھی کسی صاحب نے سنایا تھا، پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ جنگ اور پیار میں سب کچھ جائز ہے۔
البتہ شکر کریں کہ یہ واقعہ اردو میں ہے اسکا انگریزی، اٹالین، اسپرانتو یا کسی دوسری زبان میں ترجمہ نہیں ہو سکا ورنہ الزام لگتا کہ ’’ مسلمانوں نے کتے پر ظلم کیا لہذا سارے ملکر پاکستان پر حملہ کردو’’ ، خود بھلے عراق، فلسطین، شام، اردن، افغانیستان میں جو مرضی کرتے پھریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر اپنا مورچہ تو بچانا ہے انہوں نے بھی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش