اتوار, اکتوبر 30, 2005

اردو ڈیجیٹل لائیبریری پراجیکٹ

Dear friends, AssalamOAlaikum. As you all know, we at urduweb.org are striving to promote Urdu on the net. Our aim is to provide a common platform to the Urdu community for doing collaborative efforts for promoting Urdu and we do need a combined effort to achieve our goals. Recently there has been a discussion on the Urdu Mehfil Forum about creating an online libray in the style of Project Gutenberg and work has actually started on this. Our friend Mohammad Shakir Aziz is coordinating this project. In the following, Mr Shakir explains the need and aims of this project and invites you to join this effort.
عزیز دوستو، السلام علیکم جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، اردو ویب انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کے لیے کوشاں ہے۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ اردو ویب کی صورت میں ہم اردو کمیونٹی کو اردو کی ترویج کے سلسلے میں مشترکہ کاوشوں کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کر دیں اور یہ کام ہم سب مل جل کر ہی سر انجام دے سکتے ہیں۔ حال ہی میں اردو محفل فورم پر پراجیکٹ گٹن برگ کی طرز پر انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل لائبریری تشکیل دینے کے بارے میں تجاویز پیش کی گئی اور اس سلسلے میں باقاعدہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے دوست محمد شاکر عزیز اس پراجیکٹ کی کوآرڈینیشن کی ذم داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ ذیل کی تحریر میں شاکر اس پراجیکٹ کے اغراض و مقاصد کے بارے بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ بھی اردو کی ترویج کےاس کام میں شریک ہوں۔ —————————————————————————————————————————- اردو ہم جس کو کہتے ہیں داغسارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہےاردو اور سائنس آجکل اردو کے چاہنے والوں کا پسندیدہ موضوع ہے۔ کچھ کریں یا نہ کریں مگر یہ ضرور کہیں گے کہ ہر چیز اردو میں ہو۔ استعمال چاہیں نہ کریں ۔ کمپیوٹر بھی سائنس میں شمار کیا جاتا ہے ۔ زندگی میں کمپیوٹر کے عمل دخل نے جہاں ہمیں اور پہلوؤں سے متاثر کیا ہے وہاں ہماری زباندانی پر بھی اثرات اور بڑے بد اثرات چھوڑے ہیں ۔ اس کی مثال یہ لے سکتے ہیں کہ رومن میں چیٹ کر کر کے اب میرا یہ حال ہو گیا ہے کہ بعض اوقات شبہ ہونے لگتا ہے کہ شاید اردو میں لکھے اس لفظ کے ہجے ٹھیک نہیں حالانکہ ٹھیک ہوتے ہیں ۔ بات چلی تو عرض کرتا چلوں اردو کا ہاتھ سے لکھنا بھی چونکہ تقریبا عنقا ہوتا ہے، بعد از میٹرک تو اس کا حال بھی برا ہے۔ اس بات کا انکشاف ہم پر اس وقت ہوا جب بی کام پارٹ ون کا اسلامیات کا پرچہ دے رہے تھے اور کسی سے لکھا نہیں جا رہا تھا اردو لکھنے کی عادت نہیں تھی ہاتھوں کو پچھلے ٣ سالوں سےتو کیا خاک لکھا جاتا نتیجتًا تمام لڑکے پرچہ دینے کے بعد دیر تک ہاتھ اور بازو ملتے رہے کہ درد ہو رہا تھا۔ خیر یہ تو بات سے بات تھی۔ ذکر ہو رہا تھا کمپیوٹر میں اردو کا ۔ کمپیوٹر کی بات ہو اور انٹرنیٹ کی نہ ہو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ اردو کا نام بھی کمپیوٹر کے لیے حرام تھا چند سال پہلے تک مگر اب کچھ نئی تکنیکوں اور کچھ ٹوٹکوں نے کمپیوٹر پر اردو لکھنا اردو پڑہنا ممکن بنا دیا ہے۔ جب یہ سب ہو گیا تو اردو کے چاہنے والوں کو ہوش آیا کہ اب انٹرنیٹ پر بھی بس ہر طرف اردو ہی اردو کر دیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر اردو ویب آرگ کا قیام عمل میں آیا ۔ جہاں سے ناچیز کے اصرار پر ایک پراجیکٹ یا منصوبہ بسلسلہ اردو ای بکس شروع کیا گیا۔ اگرچہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل مریض کی طرح اس کی حالت نازک ہے مگر امید ہے کہ بہتری ہوگی۔ اردو ای بکس یوں تو موجود ہیں انٹرنیٹ پر مگر یہ سب تصویری اردو میں ہیں تحریری اردو میں نہیں ۔ تصویری اردو وقتی حل ہے مستقل حل نہیں چناچہ یہ منصوبہ جو اردو محفل کے اراکین کی طرف سے ترقی پذیر ہے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اردو کی کتابیں مہیا کی جائیں جو:1۔تحریری اردو میں ہوں 2۔مفت اور ہر ایک کے لیے ہوں3۔ خصوصًا اردو کی کلاسیکل کتابیں جن کے نایاب ہونے کا خدشہ ہے یا کم ملتی ہیں یا انھیں اردو میں ایک مقام حاصل ہےاور صاحبان ذوق ان کو سینت سینت کر رکھنا پسند کرتے ہیں۔4۔اسلامی کتابیں جیسے قرآن بہ ترجمہ و تفسیرقرآن،احادیث کی کتب،سیرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کتب، صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی سیرت وغیرہ۔5۔اردو کی لغات جن سے اردو داں طبقے میں اردو کی صلاحیت بڑھے۔6۔ایسی کتابیں جن کی کاپی رائٹ نہ ہو یہ ختم ہو گیا ہو ہو یا متعلقہ ادارہ انکی آن لائن اشاعت کی اجازت دے دے۔ اس سلسلے میں ہمیں ہرممکن تعاون درکار ہے ہم فی الحال علمی تعاون مانگ رہے ہیں۔ اگر:1۔ آپ کے پاس کوئی کتاب ان پیچ یا کسی بھی اردو اڈیٹر میں لکھی ہوئی موجود ہے، آپ اپنی غیر مطبوعہ تحاریر(بشرطیکہ معیار پر پوری اتریں ) یا اپنی یا اپنے ادارہ کی کسی کتاب کا کاپی رائٹ دے سکتے ہوں۔2۔آپ کچھ وقت نکال کے ہمارے ساتھ اس کام میں ہاتھ بٹا سکتے ہوں لکھنے کے سلسلے میں(اور انشاءاللہ مستقبل قریب میں تحاریر کی پروف ریڈنگ کے سلسلے میں جب کام کی رفتار زیادہ ہوگی) 3۔آپ اس کام کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں ہمیں کوئی مفید مشورہ دینا چاہتے ہوں کوئی تکنیکی بات جس سے اس منصوبے کو نکھارنے میں مدد ملے۔4۔اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی بات، کوئی تعاون جو آپ کے خیال میں اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتا ہواگر ہمیں فراہم کریں گے ہم بصد شکریہ اسے قبول کریں گے اور اسے آپکے نام کے ساتھ اپنے منصوبے میں شامل کریں گے۔ اس صدقہ جاریہ کا صلہ تو اللہ ہی دے سکتا ہے مگر دنیا میں جو خوشی اس سے آپ کو اور اردو کے چاہنے والوں کو ملے گی اس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا ۔ اللہ کریم ہمیں توفیق دے ۔خیر اندیشwww.urduweb.org کی جانب سے‘دوست‘

مکمل تحریر  »

جمعہ, اکتوبر 28, 2005

حالات سے فائیدہ

آج جب کہ امریکہ افواج پاکستان میں ہیں اور نیٹو والے بھی پہنچ رہے ہیں تو عام آدمی جس کا دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے یہ
ضرور سوچتا ہے کہ پاکستان کی اس مشکل سے ، اس آفت اور مصیبت کے وقت سے لازم فائیدہ اٹھائے گا۔ مگر کیسے؟امریکہ افواج کا پاکستان میں داخلہ کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ الحمدللہ ہمارا ملک اسقابل ہے کہ جب بھی چاہے انکو ایک نوٹس پہ نکال دے جس طرح اس سے پہلے ایوب خان، ضیاّ الحق اور خود مشرف کے دور میں افغان امریکہ جنگ کے بعد ہوا ہے۔ اصل خطرہ پاکستان کو دو اور سمتون سے ہیں ایک تو معاشی طور پر ملک کا ڈھانچہ ہل گیا ہے اور ماہرینِ معاشیات کے مطابق ”یہ تیزی سے ترقی کرنے والا ملک آج بہ یک جنبش دس برس پیچھے چلا گیا ہے” امریکہ اسرائیل و بھارت اس سے لازم فائیدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور دوئیم آج کل ملک کے اندر اور باہر افواجِ پاکستان کے خلاف ایک پراپیگنڈہ مہم چل رہی ہے ۔ چونکہ ملک میں فوج ہی واحد ادارہ ہے جس میں کچھ نظم اور جامعیت باقی ہے ورنہ باقی کے ادروں کا احوال تو آپکے سامنے ہی ہے۔ اس آفت میں سارے سول اداروں کی ناکام ایک حقیقت ہے جسکو وجوہات چاہے پہاڑی علاقہ ہوں یا سیاسی تانہ کھینچی۔ ظاہر ہے ان حالات میں فوج بھی ایک محدود کردار ادا کرسکتی تھی۔ میں بی بی سی، سی این این اور دیگر یورپی خبررساں ایجنسیوں کی خبروں اور تبصروں کے انداز سے یہ تاثر لے رہا ہوں کے فوج کے خلاف معاملات اور شکایات کو زیادہ اچھالتے ہیں اور دیر تک نمایاں رکھتے ہیں۔ جس کا مقصد سراسر عوام اور افواج
کے درمیان ایک خلیج کو حائل کرنا ہے، ایک دوری کو پیدا کرنا ہے

مکمل تحریر  »

سوموار, اکتوبر 10, 2005

قومی آفت

اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک زلزلے سے بیس ہزار سات سو پینتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تقریبا سینتالیس ہزار افراد زخمی ہیں۔ ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے جن میں سے سینکڑوں ابھی بھی زندہ ہیں۔ حکام کے مطابق زلزلے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک مرنے والوں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان ہزاروں لوگوں کی گنتی نہیں ہو سکتی جو ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے یونیسف کے حوالے سے بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس سے چالیس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔
اس عظیم قومی المیہ میں ہم سب قوم کے دکھ میں شریک ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ متاثرین کی بحالی کےلئے جلد از جلد اقدامات کئے جائیں اور جولوگ ابھی تک ملبہ کے نیچے پھنسے ہوئے ہیں، جو کھلے آسمان تلے بے یارومدگار پڑے ہوئے ہیں ان تک امداد اور بقا کےلئےامدادی کاروائیاں تیز کی جائیں کیونکہ گزرنے والا ہر ایک لمحہ ان کو موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔ اللہ تعالٰی سب کو اپنی امان میں رکھے اور ہماری قوم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے آمین امداد کےلیے اسلام آباد میں جناب افتخار اجمل بھوپال سے رابطہ

مکمل تحریر  »

جمعرات, اکتوبر 06, 2005

علمی فقیر

یورپ میں نیو لاطینی زبانوں کا ایک بہت بڑا گروپ جس میں اطالوی، فرنچ، ہسپانوی، پرتگیزی، اسپرانتو اور رومینی زبانوں کے علاوہ بہت سی مقامی زبانیں بھی شامل ہیں مثلاً سسلی، ناپولین، سوئس اٹالین، کتان وغیرہ۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ساری زبانیں یورپ کے جنوبی حصہ میں موجود ہیں اور یہ حصہ افریقہ اور ایشیا کے ساتھ جغیرافیائی طور پر مربوط ہے مثلاً اسپین میں مراکشی عربوں کی حکومت، اٹلی پر قرطاجنہ کے ہنی بال کی ہاتھیوں پر چڑہائی اور کوہِ الپس کا عبور کرنا، اطالویوں کا لیبیا اور ایتھوپیا کو کالونی بنانا، سسلی پر مسلمانوں کی صدیوں حکومت، رومانیہ پر ترکوں کی چڑھائی۔ یہ سارے رابطے تاریخی طور پر مستند ہیں۔ اسی وجہ سے نیولاطین زبانوں میں عربی جو کہ مشرق کی ایک بڑی زبان کے اثرات واضع نظرآتے ہیں مثال کے طور پر فندق (ہوٹل) فنداکو، ال اور اِیل کا آرٹیکل، رقم کو دینارو کہنا، افریقہ سے آنے والی ہوا کو شروکو کہنا- کہا جاتا ہے کہ جب اہلِ اسلام دنیا میں علم و فن کی قندیلیں روشن کر رہے تھے تو یورپ میں یہ خطہ چونکہ اہلِ شرق سے رابطہ میں تھا تو علوم و فنون سارے کے سارے عربی سے ان ہی زبانوں میں پہلے پہل منتقل ہوئے تھے اس وقت کی مستند سائینسی اصطلاحات آج بھی ہمیں ان زبانوں میں ملتی ہیں۔ پھر حالات بدلتے ہیں اور دنیا دیکھتی ہے کہ اہلِ اسلام اپنے چھٹے فرض ‘‘ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘ کو بھول کر آج علمی فقیر ہوچکے ہیں اور اہلِ غرب کی علمی اصلا حات کو دھڑادھڑ اپنا رہے ہیں۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, اکتوبر 01, 2005

حق

بہت سالوں کے بعد اس دفعہ خوش قسمتی سے پاکستان میں تقریباُ ٣ ماہ رہنے کا اتفاق ہوا، تمام اہلِ خانہ اور جملہ احباب بہت خوش تھے کہ چلو آخر کار لمبی لمبی ملاقاتیں ہونگی اور گپ چلے گی۔ چند دن گزرتے ہیں تو کیا دیکھتا ہوں کہ پوسٹر اور بینرز کی بھر مار ہو رہی ہے اور ایک نیا کام جو دیکھا اس دفعہ کہ کاروں کی عقبی اسکرین پر نام لکھے گئے ہیں ساتھ امیدوار برائے فلاں وغیرہ۔ اسکا ایک فائدہ البتہ ہوا کہ ملنے والوں کا تانتا بندھا رہا، اول تو گھر سے نکلنا محال تھا پہلے تو دوست احباب ملنے آتے رہے پھر امیدوار اور پھر انکے حمائتی کہ لوجی چونکہ ہم آپ کے یہ لگتے ہیں اور ہم ووٹ دے رہے ہیں مرزا صاحب کو لہذا آپ نے بھی مرزا صاحب کو ووٹ دینی ہے، ہمارے دوست ماسٹر طارق صاحب بھی مرزا صاحب کے زبردست حمائیتی ہیں اور ہر روز بلا ناغہ آکرمرزا صاحب کو ووٹ دینے کی تاکید کرتے رہے، ایک دن میں نے از راہّ تفنن کہہ دیا کہ میں تو چوہدری صاحب کو ووٹ دے رہا ہوں آپ بھی انکو ووٹ دیں تو ناراض ہوگئے کہ لو اب تم بڑے آدمی بن چکے ہواور تم پر ہمارا اتنا حق بھی نہیں، لو جی آج سے ہماری تمھاری ختم اور ہم جارہے ہیں۔ میں انکے جانے کے بعد سوچتا رہ گیا کہ انکا تو مجھ پر حق ہے مگر میرا ان پر کیوں نہیں؟ بعد میں ماسٹر صاحب کو راضی بہت مشکل سے راضی کیا اس وعدہ کے ساتھ کہ ہاں ووٹ مرزا صاحب کو ہی دیں گے تو کہنے لگے صرف اپنی ووٹ نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد اور مجھے حامی بھرنی پڑی۔ اور ایک میرے اطالوی دوست سنیور دوریانو ہیں، پچھلے برس الیکشن کے چند دنوں کے بعد ہم اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے ایک کیفیٹیریا میں اور ڈاکٹر فرانکو باتوں ہی باتوں میں پوچھ بیٹھے کہ سنیور دوریانو تم نے کس کو ووٹ دی تھی اب سنیور دوریانو راشن لے کر چڑھ گئے ڈاکٹر پر کہ تم دنیا کے انتہائی جاہل آدمی ہو جس کو دوسروں کے حقوق کا پاس تک نہیں، ووٹ میری ہے یا تمہاری، تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے وغیرہ وغیرہ، اور ڈاکٹر صاحب معذرت کرتے نظر آئے کہ غلطی سے کہہ دیا معاف کردو۔ مجھ سے انتہائی غیر جمہوری اور جاہلانہ حرکت سرزد ہو گئی ہے

مکمل تحریر  »

جمعہ, جون 24, 2005

عمرِرفتہ کو آواز

گزشتہ چند ماہ سے اچانک تعلیمی سلسلہ دوبارہ چل نکلا ہے اور ہم پھر سے مکتب کا حظ اٹھارہے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ پروفیسرمارکو نے میل بھیجی کہ بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر درجہ کا ایک کریش کورس آرہا ہے جس کا دورانیہ مختصر تو ہوگا مگ داخلہ لے لو کہ مستقبل میں فائیدہ دی گا، بس ایک دم میں لنگوٹی کس، ساری مصروفیت سائیڈ پر پھینک، اور پچاس کلو میٹر ڈرائیوکرکے پہنچے یونیورسٹی تو ایک صاحب بڈھے کھوسٹ، ساٹھ کا سن اور اللہ اللہ کرنے کے دن دروازے پر کھڑے ہیں، میر سمجھ گیا کہ لا محالہ طورپر یہی پروفیسر ہیں نہیں تو انظامیہ کے کوئی قنوطی قسم کے افسر۔ بعد از سلام مجھ سے گویا ہوئے کہ آپ ادھر پڑھنے آئے ہو۔ میں نے کہا جی، جواب میں اچھا کہ کر خاموش ہوگئے، مجھے چونکہ گاڑی پارک کرنا تھی لہذا گردو نواح میں فری پارکنگ کا پوچھا تو وہ صاحب میرے ساتھ گاڑی میں سوار ہوگئے اور ہسپتال کی فری پارکنگ تک پہنچادیا، راستہ میں حدِادب قائم رہی، کلاس روم میں داخل ہونے پر معلوم ہوا کہ ہمارے ہم مکتب ہیں۔ ساٹھ سال عمر ہے اور 35 سال پیشتر انہوں نے عمرانیات میں گریجویشن کیا تھا، ہمارے ملک میں ہوتے تو اول تو عازمِ جنت ہوچکے ہوتے یا پھر بسترِمرگ پر ہوتے۔ فوٹو بطورِ تصدیق لگادیا ہے گلابی شرٹ میں ہیں ہمارے ہم مکتب عسایہ

مکمل تحریر  »

ہفتہ, مئی 28, 2005

دروغ بر گردن۔۔۔۔۔

دروغ بر گردن۔۔۔۔۔ فارسی زبان کا بہت قدیم محاروہ جو تاریخ کی کتابوں میں اکثر ملتا ہے، مثلاً علامہ ابن کثیر کی تاریخ میں قدیم جنگوں کے بیانِ احوال کے بعدمرنے والے اور زخمیوں کی تعداد طرفین کی طرف سے مختلف روایتوں کے حوالہ سے بیان ہوتی ہے اور چونکہ ہر روایت کا راوی مختلف ہونے کی وجہ سے بیان کردہ تعداد بھی کم و بیش ہوتی رہتی، اب عام فہم سی بات ہے کہ ایک جنگ میں مقتول و مجرع افراد کی تعداد تو ایک ہی ہوتی ہے۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہاایک ہی جنگ میں تین سو چالیس بندے مرے ہوں اور پانچ سو بیس بھی مگر ایسی صورت اکثر سامنے آتے رہتی ہے نہ صرف قدیم تاریخ میں بلکہ جدید تاریخ یعنی گزشتہ کل کی جنگوں، عراق، افغانستان وغیرہ، تو تعداد کی کم بیشی لازمی طور پر ایک اختلاف کو ظاہر کرتی ہے، جسکا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سچا تو ایک ہی ہے جبکہ باقی کے لوگ ’’دروغ گو’’ یعنی ’’جھوٹے ’’ ہیں۔ اب یہ بھی لازم نہیں کہ راوی ہی دروغ گو ہو بلکہ ایسے بھی ممکن ہے کہ بھول چوک، غلط فہمی اسکی وجہ ہو یا پھر راوی بھی ذاتی طور پر صرف روایت ہی بیان کر رہا ہو، اب اس سارے قضیے کو جو ہزار سال پہلے ہو چکا ہو کون نمٹاتا پھرے اور دماغ کھپائے علامہ موصوف اس سارے قضیہ کا فیصلہ کرنے کی بجائے اپنی جان چھڑاتے اور لکھ مارتے ’’ دروغ بر گردنِ راوی’’۔ میں نے جو سنا لکھ دیا۔ علامہ صاحب تو اپنی جان چھڑا کر ’’راوی صاحب کی گردن کو پھنسا کر چلتے بنے کہ بھئی اگر کوئی شک ہے تو صاحبِ روایت کو پوچھیے، مگر اردو ادب کے کچھ اہل ذوق لوگوں نے راوی کو دریائے راوی لکھ کر راوی صاحب کی جان بخشی کروادی۔ ’’دروغ بر گردنِ دریائے راوی’’ اور اگر آپ کو بات میں کوئی جھوٹ یا شک نظر آتا ہے تو ہماری بجائے دریائے راوی کو پکڑیے اب بھلے ہم جھوٹ ہی بولیں دریائے راوی تو ترید کرنے سے رہا

مکمل تحریر  »

جمعرات, مئی 05, 2005

موجیں ہماری

ایک زمانہ تھا کہ ’’یاہو’’ پانچ ایم بی اور ’’ہاٹ میل’’ تین ایم بی کی جگہ ای میل باکس کےلیے صارفین کو مفت فراہم کرتا تھا، روز یاہو اور ہاٹ میل کی ای میل ملتی جو ’’ٹیم سٹاف’’ کی طرف سے ہوتی کہ آپ کا میل باکس فل ہو چکا ہے، اب اسے خالی کرلیں تاکہ مذید میل آ سکیں نہیں تو آپ کو ارسال کردہ میل واپس کردی جائے گی وغیرہ وغیرہ، اور ہاٹ میل تو کچھ زیادہ ہی ’’ کاروباری’’ ہوگیا تھا، روز میل باکس کا سرخ حد کو چھوجانے کا پیغام ملتا اور ساتھ ہی بڑا زیادہ گنجائیش والا پچیس ایم بی والا میل باکس خریدنے کی دعوت ہوتی۔ پھر 3 سال قبل میرے ’’سرور پروائیڈر’’ کی طرف سے ڈی ایس ایل کنیکشن خریدنے پر مجھے پچاس ایم بی کا میل باکس فری میں دیا گیا اور خوشی کا ٹھکانہ کوئی نہ تھا۔ پھر ادھر خبروں میں معلوم ہو کہ ’’گوگل’’ ایک جی بی کا میل باکس بنانے کے چکر میں ہے، ہم نے ڈھونڈ شروع کردی، برازیل کی ایک دوست کی دعوت پر ہم جی میل کے ایک جی بی اکاونٹ کے مالک ہو چکے تھے، اب ایک عجیب سا احساسِ تفاخر تھا، دوستوں کو بتاتے پھرتے گویا شیخیاں ماری جا رہی ہیں اور دعوتیں دی جاتیں کہ بھئ آو بڑی گنجائیش کا میل باکس لے لو۔ پھر معلوم ہوا کہ یاہو والے بھی مارکیٹ میں کود پڑے ہیں، اور انہوں نے بھی اپنا میل باکس سو ایم جی کردیا ہے، اب ’’ہاٹ میل’’ انکے پیچھے ہی سو تک پہنچی تو یاہو نے اگلے دن ہی 250 ایم بی کا علان کردیا اور پھر ان انکھوں نے دیکھا کہ میرا ہاٹ میل بھی 250 ایم بی کا ہو چکا ہے۔ اگلے دن ایک سایٹ میل میں معلوم ہوا کہ یاہو کا میل باکس بھی ’’ایک جی بی’’ کا ہورہا ہے اور میرا میل باکس بھی، پھر جی میل کا پیغام آیا کہ آپ کا میل باکس ’’دو جی بی’’ کا ہو چکا ہے اور ساتھ ہی اعلان کردیا کہ ہمیں آپنے معزز صارفین کا بہت احساس ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں آپ کے میل باکس کی گنجائیش میں اور اضافہ کردی جائے، جو غیر معینہ ہو۔ ویسے آپ کی اطلاع کے لیے آجکل جی میل اکاونٹ کی گنجائیش 2300 ایم بی سے زیادہ ہے۔ بھلے ہماری تو موجیں ہی نہیں ہوگیں، مقابلہ کاروباری لوگوں کا اور مزے ہمارے۔ دیکھئے مائیکروسوفٹ کا مقابلہ کون اور کب شروع کرتا ہے۔ نئی ونڈوز کی قیمت جو 450 یورو ہے

مکمل تحریر  »

جمعہ, اپریل 29, 2005

کچھ حالِ دل

اگلے دن ایک کتاب پڑھ رہا تھا الکیمسٹ اب مجھ پتا نہیں کہ اسکا اردو ترجمہ ہے مگر با وثوق کہ سکتا ہوں کہ احباب کو انگلش میں مل سکے گی کیوں کہ میرے ہاتھ اٹالین میں لگی تھی اسکے مصنف ہیں پاولو کوہلو، لاطینی امریکہ کے۔ اس کتاب میں جہاں موضوعات اور کیفیات کا تنوع ہے وہاں ساری کتاب ’’ دل کی باتوں ’’ سے بھری پڑی ہے اندلس کے ایک غریب چروہے کی کہانی جسکے والدین اسے پادری بنانا چاہتے تھے مگر اسکا دل اسے دنیا دکھانے چاہتا تھا، پھر اسکا دل اسے مراکش لے گیا اور صحرا کا عبور کرتا ہوا مصر کے اہرام تک پہنچا، دوسری طرف مصنف عیسائیت اور مسلم عقاید اور اسپرانتو جیسے متنوع موضوعات پر بحث کرتا ہے مگر دل کی بات بار بار ہو رہی ہے، اور دل کی بات بھی سنی جا رہی ہے۔ محبت بھی دل کی ایک کیفیت ہے اور خوف بھی، کچھ کرنے کی خواہش بھی ایک دلی کیفیت ہے اور کسی سے بچھٹرے کا غم بھی، دولت پانے کی خوشی بھی مگر اس سے ذیادہ کسی چیز کی حسرت بھی۔ دل آخر دل ہے ایک عضو بھی اور ایک راہنما بھی۔ مگر کون ہے جو صرف دل کی ہی سنتا ہے اور اسکے پیچھے چلتا ہے؟ عام زندگی میں دیکھا گیاہے کہ میرے جیسے بہت سے لوگ کام اورکمائی میں لگے رہتے ہیں اور وقت کٹ رہا ہے، اور کچھ جو صرف دل کی سنتے ہیں، وقت صرف کمائی کے بجائے کسی دھن میں لگے رہتے ہیں، شاید دنیا کے ’’ذہینوں’’ کے بقول کسی کام کے نہیں رہتے مگر انکا نام رہ جاتا ہے۔ ذرا دیکھئے اپنے ارد گرد

مکمل تحریر  »

بدھ, اپریل 20, 2005

بقا اور دہشت گردی

جی یہاں انسانوں پر ظلم صرف برداشت ہی نہیں کیا جارہا بلکہ باقاعدہ ظلم منصوبہ کے تحت کیا جارہا ہے اور پھر اگر وہ جوابی کاروائی کریں تو ٹی وی پر بیان آتا ہے کہ عراقی دہشت گردی کر رہے ہیں اور ہم دہشت گردی کے خاتمہ تک جنگ جاری رکھیں گے، اٹلی میں چند ماہ پیشتر ایک جج صاحب نے دو عراقیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمہ میں یہ فیصلہ دیا کی یہ لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، لہذا انکو بری کیا جاتا ہے، اور مقننہ کو چاہیے کہ دہشت گردی اور جنگِ آزادی میں واضع فرق کرے۔۔ دس دن پہلے اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر تھی کہ ان جج صاحب کے خلاف جواب طلبی کا نوٹس جاری ہو چکا ہے ’’کہ میاں ذرا بتاو تو کیوں ہمارے کام میں ٹانگ اڑا رہے ہو، جج ہو تو مقدموں کے فیصلے ہماری مرضی سے اور فائدہ کے مطابق کرو، یہ کیا ہے جو ضمیر نے کہا لکھ دیا، ایسے تو نہیں چلے گا مشٹر جج’’

مکمل تحریر  »

منگل, اپریل 19, 2005

جوک یا جونک

انگریزی کے لفظ ’’جوک’’ سے یاد آیا کہ جب چھوٹے ہوتے تھے تو دریا میں نہانے جاتے، ادھر جونکیں ہوتی تھیں۔ اب جونک کو تو وہی جانتے ہیں جو گاوں میں رہتے ہوں اور ’’ ساون’’ میں ہماری طرح دریا میں تیراکی اور غسل فرماتے ہوں اور اگر دریا دستیاب نہ ہو تو جوہڑوں میں نہاتے پھرتے ہوں، جونک کیچوئے کی شکل کا ایک پانی میں بسنے والا نہایت بدنما کیڑا ہوتا ہے جو ادھر ادھر تیرتا پھرتا ہے اور کوئی جانور یا انسان نزدیک آئے تو اسکی جلد پر چمٹ کر خون چوسنا شروع کردیتا ہے، خیر وہ دن اور تھے اب جونک کو دیکھنے کے لیئے ضروری نہیں کہ آپ گاوں میں جائیں اور جوہڑوں میں نہاتے پھریں تاکہ جونکیں آپ کو چمٹیں اور پھر آپ انکو دیکھتے رہیں، کیونکہ جونکیں تو آجکل ملک میں ہر جگہ دستیاب ہیں، وزیروں، مشیروں اور پیروں کی ملک میں کثرت دیکھیں کیا یہ ساری جونکیں ہی نہیں جو ملک اور خزانے کا خون جوس رہی ہیں، اور دیکھنے میں بھی بدنما ہیں اور رہتے بھی گندگی اور جوہڑوں(اخلاقی) میں ہیں

مکمل تحریر  »

اتوار, مارچ 27, 2005

آوّ بات کریں

آوُ بات کریں دعوتَ عام تو ہے مگر بات کرنے والا کوئی نہیں معلوم نہیں کہ اسکی وجہ عدیم الفرصتی ہے یا عدیم التوجہی، مسئلہ تو فی الحال درپیش ہے کہ بات کرنے والا کوئی نہیں تو کیا بات کی جائے، بس بات برائے بات ہی کی جا سکتی ہے اس بارے میں ہمارے دوست شاہ جی کا خیال ہے کہ بات برائے بحث تو ممکن ہے مگر بات برائے بات کی ترکیب تو سرے سے ہی غلط ہے۔ اب اپنے دوست شاہ جی کے خیال کو درست ثابت کرنے کےلیے ہم بات برائے بات کی بجائے بات برائے بحث شروع کر دیں تو لازماً پھر بحث برائے تکرار کا مرحلہ بھی آئے گا، جسکے اختتام پر سر بہ گریباں کے مناظر بھی اہلِ ذوق احباب کے دیکھنے کو مل سکتے ہیں، بحث برائے تکرار سے ایک اور شاہ جی سر سید احمد خاں کا مضمون بحث و تکرار یاد آیا جسکے کرداروں کو انہوں نے اس جانور سے تشبیہ دی تھی جسکی گھر میں موجودگی قدیم علماء کے مطابق دافع فرشتگانِ رحمت ہے جدید علماء کا اس بار ے میں کیا خیال ہے آپ مروتاً خود انسے دریافت کریں اگر انکو آپس کی بحث برائے بحث سے فرصت ملی تو۔۔۔۔۔اب ہم اپنے دوست شاہ جی کے خیالِ غیر مبارک کو سر سید احمد خاں صاحب پر ترجہیہ نہیں دیتے کہ وہ بھی قدیم ہی سہی مگر ایک شاہ ہیں۔ اب شاہ شاہوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟؟ جو انکی مرضی کریں چونکہ ہم شاہ نہیں ہیں لہذا اس سے قطعی دلچسپی نہیں۔ ویسے بھی بزرگ کہہ گئے ہیں کہ شاہوں، بادشاہوں کے معاملات سے عوام کو دور ہی رہنا چاہیے۔پس ہم بات برائے بحث کی بجائے بات برائے بات شروع کرتے ہیں کہ عوامی طور ہے۔ مگر کس کے ساتھ یہاں تو کوئی بات کرنے والا موجود ہی نہیں۔

مکمل تحریر  »

اتوار, مارچ 20, 2005

تیمارداری کے آداب

بیمار ہونا یوں تو کسی کو بھی موافق نہیں آتا مگر کیا ہے کہ اس سے کچھ احباب کی قلعی واقعی کھل جاتی ہے، ایسی ہی کچھ ہمارے ساتھ بھی ہوا، ایک دو کام کرنے تھے اور چھٹیاں ختم ہونے کے باعث ڈاکٹر سے بیماری کا لیٹر لینا پڑا، احباب کی کثرت چونکہ ہمارے بارے میں بخوبی جانکاری رکھتی ہے لہذا تیمارداری کی کوئی خاص نوبت نہیں آئی، مگر اگلے ہی جمعہ کی شام چند چھینکوں کے ساتھ جو آغاز ہوا زکام کا تو 39 درجہ بخار کے ساتھ گلے میں خراش اور ہم صاحبِ فراش، صاحبو دو دن تو دوست مذاق ہی سمجھتے رہے اور ادھر نوبت ’’ کوئی تیماردار نہ ہو’’ رات کو اٹھ اٹھ کر خود ہی ٹھنڈا پانی پیتے رہے اور گلہ کو بند کرتے رہے، صبح فون پر خیریت بتانے سے قاصر تھے، پھر جب دوستوں کو یقین آنا شروع ہوا تو ہم روبصحت ہوچکے تھے، بس تیمارداری کا حملہ شروع ہوگیا، گھر پر گھنٹیاں بج رہی ہیں، فون پر تیمارداری، موبائیل پر ٹیکسٹ، ای میل کے ذریعے بھی کیا ہوا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا، ہر بندہ کے لیے رٹی رٹائی ڈسک چلانی پڑتی ورنہ ’’ ہمیں لفٹ نہ کروائی’’ کا الزام لگتا۔ ایک محترمہ نے انگلینڈ سے فون پر خیریت دریافت کی اور دوسرے دن اعلان کردیا کہ ہمیں بعذریہ فون چھوت کے جراثیم لگ چکے ہیں، گھر اماں کو فون کیا اور انکو بیماری کا احوال گوش گزار کیا تو کہنے لگیں ’’ آہو جی اب تو تمہیں گوری والی پولی پولی بیماریاں لگیں گی بھلا آج تک کو زکام، اور نزلہ سے بھی مرتا سنا ہے، گھر میں کیوں پڑے ہو کام کاج کیا کرو’’ بخار اور دیگر جملہ امراض کا ہم نے قصداُ ان سے ذکر نہیں کیا تھا کہ خوامخواہ پریشان ہونگی

مکمل تحریر  »

منگل, مارچ 08, 2005

انگلیاں شخصیت کا آئینہ ہوتی ہیں

مردوں کی انگلیوں کی لمبائی سے یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتنے غصے والے یا جھگڑالو ہیں ۔ کینیڈا کے سائنس دانوں نے 300 لوگوں کی انگلیوں کا جائزہ لینے کے بعد ایک جریدے بائیولوجیکل سائکلوجی کواس تحقیق کی تفصیل بتائی ہے۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ انگلیوں کی لمبائی اور مردوں کے جنسی ہارمونز کی مقدارکا براہِ راست تعلق ہے ۔ عورتوں میں عموماً درمیانی انگلیوں کو اگر ہتھیلی سے ناپا جائے تو ان کی لمبائی تقریباً برابر ہوتی ہے۔ جبکہ مردوں میں درمیانی انگلی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے لمبی ہوتی ہے۔ انگلیوں کی لمبائی سے متعلق دوسرے جائزوں کے اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مردوں میں درمیانی انگلی کا لمبا ہونا اس بات کی سمت اشارہ کرتا ہے کہ اس طرح کے مردوں میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اور اگر عورتوں کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی لمبی ہو تو ان میں بھی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انگلیوں کی ساخت اور لمبائی سے کسی انسان کی شخصیت کے بارے میں بھی پتہ چلتا ہے۔ ایک اور جائزے سے پتہ چلا ہے کہ جن مردوں کی درمیانی انگلی چھوٹی ہوتی ہے ان میں کم عمر میں ہی دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے اس تازہ جائزے میں ڈاکٹر پیٹر ہرڈ اور ان کے جونئیر نے اپنی یونیورسٹی کے 300 طالب علموں کی انگلیوں کا جائزہ لیا جس سے پتہ چلا کہ جن لڑکوں کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی چھوٹی ہے ان میں زیادہ غصہ پایا گیا۔ یہ جائزہ عورتوں پر لاگو نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ہرڈ ہاکی کھلاڑیوں کی انگلیوں کا جائزہ لے کر اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا ان کی انگلیوں کی لمبائی اور ان کے پنالٹی ریکارڈ کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ ڈاکٹر ہرڈ اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جن مردوں کی انگلیوں کی ساخت نسوانی ہوتی ہے کیا وہ آسانی سے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انسان کی شخصیت کا زیادہ تر حصہ اس وقت نشونما پالیتا ہے جب وہ ماں کی کوکھ میں ہوتا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کے بارے میں صرف انگلیوں کی لمبائی یا ساخت کو دیکھ کر اندازے لگانا ٹھیک نہیں ہے ۔ تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان تمام باتوں کی تصدیق کے لئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام

مکمل تحریر  »

اتوار, مارچ 06, 2005

ہم کون ہیں؟؟؟

ہم کون ہیں؟؟؟
روم جانا چھ سو کلومیٹر کا سفر ہے اور ایک مصیبت سے کم نہیں، مگر کیا ہے کہ ہر طبقہّ عوام سے تعلق رکھنے والے ہر پاکستانی کو چونکہ پاکستان ایمیسی جانا ہی پڑتا ہے اور اسکےعلاوہ چارہ نہیں، لہذا مجھے بھی جانا ہوتا ہے کوئی چھ یا سات مرتبہ گیا ہونگا مگر لازم ہے کہ ہر بار واپسی پر بخار کا ہوجانا، اور پھر بقول چچاغالب کے ’’ پڑیے جو بیمار تو کوئی تیماردار نہ ہو’’ ۔ وقت کی کمی کے باعث سارا سفر بھاگم بھاگ ہی گزرتا ہے، پہنچنا بھی صبح سویرے ’’ بڑے میاں کی بانگ’’ سے پیشتر ہوتا ہے کہ پہلے آوّ ، پہلے پاوّ پر عمل کرتے ہوئے شام کو فارغ ہوئے اور پھر واپسی کےلیے رات کی ٹرین پکڑلی۔۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ نومبرمیں میرا آخری چکر لگا، جسکے دو اسباب تھے اولاً ایمیسی میں کچھ کام تھا اور ثانیاً روم اسپرانتو ایسوسی ایشن نے ’’ اٹلی میں موجود کلچرز’’ کے عنوان سے ایک روزہ پروگرام رکھا ہوا تھا جس میں بندہ کے ذمہ ’’ اردو زبان اور پاکستانی ثقافت’’ کے بارے میں کچھ بیان فرمانا تھا، خیر روم حسب سابق صبح سویرے پہنچ اور سب سے پہلے حملہ ایمبیسی پر کردیا، وہاں سے ’’ جان بچی سو لاکھوں پائے’’ اور بھاگتے، گرتے پڑتے دو بجے کے بعد دوپہر سیشن میں جلسہ میں جا شامل ہوئے، شام کا کھانا شرکاّ کے ساتھ انتظامیہ کے خرچہ پر تناول فرمانے کے بعد رات کی ٹرین کا ٹکٹ لیا اور ٹرین کا انتظار شروع ہوگیا، دیکھتا ہوں کہ دو اور آدمی بھی چھ نمبر پلیٹ فارم پر ہی ٹہل رہے ہیں اور لگتے بھی پاکستانی ہیں۔ خیر مروتاً سلام دعا کے بعد معلوم ہوا کہ ہماری منزل ایک ہی ہے۔۔۔ اب طے یہ پایا کہ ٹرین آتے ہی ایک خالی کمپارٹمنٹ پر قبضہ کرلو جس میں چھ سیٹیں ہوتی ہیں، دروازہ بند کردو اور رات سوکر سفر کرو، ٹرین آئی اور ہم نے یہی کیا۔۔۔ قابض ہوکر ٹانگیں پسار لیں اور پردہ آگے کردیا، تھوڑی دیر میں دستک ہوئی۔ پردہ ہٹایا تو دو لڑکیاں، اٹالین اور وہ بھی جوان۔۔۔ہماری تو سیٹی ہی گم ہوگئی۔ بس جی آوُ دیکھا نہ تاوُ اور جھٹ سے دروازہ کھولا، تو ان میں سے ایک بعد از تعظیمات گویا ہوئی کہ ہماری تو دو سیٹوں کی ’’ویرونا’’ جی رومیو کی جولیٹ کا شہر، کی بکنگ ہے، ہم نے ’’ نہ جائے رفتن’’ کے مصداق ان کو ست بسم اللہ کہا اور ٹانگیں سکیڑلیں، اب کیا دیکھتے ہیں کہ انکے پیچھے پیچھے ایک اور اٹالیں لڑکا بھی آ دھمکا ہے۔ یعنی سب سیٹ بائی سیٹ اور ہاوُس فل۔۔۔۔ ٹرین کو رات کے ساڑے دس بجھے چلنا تھا سو چلی، کھڑکی والی سیٹوں پر تو ایک لڑکی اور وہ لڑکا تو ایک دوسرے کی ٹانگوں میں ٹانگیں پسار کے سوتے بنے درمیان میں آمنے سامنے دونوں پاکستانی دوست پڑے خراٹے لے رہے تھے، اور ادھر دروزہ کے پاس تھے ہم اور دوسری لڑکی، ایک دوسرے کے آمنے سامنے بلکہ گھٹنوں سے گھٹنے ٹکائے ہوئے۔۔۔ مجھے تو سفر میں ویسے ہی نیند نہیں آتی اور پھر ایک لڑکی کی قربت، نیند کس کافر کو آتی، بلکہ آنکھ تک نہ جھپکی۔ ’’ رات کاٹی خدا خدا کرکے’’ وقت گزاری کے لیے اسکے ساتھ بات چیت شروع ہوئی، موسم کی باتیں، سفر کی باتیں، کام اور اٹلی میں سخت مشینی زندگی کا رونا، پاکستان سے بھاگنے کی وجہ، کچھ اسکی سنی اور بہت اپنی سنائی اور یوں رات بیتائی۔۔۔ ٹرین اپنے مقررہ وقت پر ’’ویرونا’’ پہنچی، ہم نیچے اترے، انہوں کہیں اور جانا تھا سو ہاتھ ملایا، خوشگوار رفاقت کےلیے ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا، ہاتھ ملایا، سفر بخیر کہا، ہم نے اپنے شہر کی ٹرین پکڑی اور انہوں نے اپنے پلیٹفارم کا رُخ کیا۔۔۔ بعد میں بہت دیر تک میں سوچتا رہا کہ رات کا یہ سماں اور دو تنہا جوان لڑکیاں یوں اجنبی لوگوں کے ساتھ تھیں اور انکے دل میں کوئی خوف نہ تھا اور نہ ہی ہم لوگوں میں اتنی ہمت پڑی کہ انکے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کرتے، ایک ہمارے ملک میں ہے کہ لڑکیاں باہر تو کیا گھروں تک میں محفوظ نہیں، لڑکیاں تو لڑکیاں خود مرد حضرات صبح گھر سے نکلیں تو امام ضامن بندھواکر اور پستول نیفہ میں لے کر نکلتے ہیں کہ حفاظت کےلیے دونوں ضروری ہیں۔۔۔۔ آج بھی جب کبھی روم کے سفر کی بات ہوتی ہے تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ آخر ہم کون ہیں؟؟؟؟

مکمل تحریر  »

جمعرات, مارچ 03, 2005

ایسا کیوں ہے؟

پتا نہیں کیوں آجکا اور ’’ گزاگ ڈاٹ کام’’ پر پہلا بلاگ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں شاید کبھی کا عنوان آیا۔ ہاں واقع دراصل کچھ یوں ہے کہ آج شام کو چند پاکستانی دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا اتفاق ہوا ایک مقامی ’’بار’’ میں، ان میں سے چند احباب ایسے بھی تھے جن سے پہلی ملاقات تھی، اور پھر حسبِ روایت بات پہنچی تیری جوانی تک کے مصداق پاکستان کے بارے میں گفتگو چل نکلی۔ گھومتی گھامتی حالاتِ حاضرہ پر، پھر احباب لگے گیت گانے وطن کی مٹی کے، حب الوطنی کا اظہار ہونے لگا اور بیانات وطن کی ترقی کے بارے میں اور ایک عظیم قوم کے طور پر ابھرنے والی قوم جو اسلام کا قلعہ بھی ہے اور بقول خودے لیڈر بھی، ایک صاحب کہنے لگے کہ ’’ لو جی ہمارا ملک اسلام کا بازوّ شمشیر زن ہےاور قوم مجموعہ مجاہدین، جملہ احباب نے ان ساری لن ترانیوں میں باقاعدہ بلکہ بہت زورو شور سے حصہ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔ بات سے بات نکلتی رہی اور موضوع بدلتا رہا۔۔۔۔۔۔ ایک صاحب جو نے بڑے فخر سے بتایا کہ کل ہی اسکا بھائی پاکستان سے آیا ہے اور بتا رہے تھا کہ وہاں پر بہت ترقی ہو رہی ہے، گلیاں نالیان، پل سڑکیں سب نئی بن چکی ہیں اور جو رہ گئی ہیں وہ بھی بہت تیزی سے بنائی جا رہی ہیں اور تو اور ان پر چلنے کو گاڑیاں بھی نئی ’’کرولا ٹو ڈی’’ کی بھرمار ہو چکی ہے، پھر بتانے لگے کہ وہ بھائی سیر کو نہیں آیا بلکہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے مبلغ بارہ لاکھ روپیہ ایجینٹ کو دے کر ’’ اللہ کی وسیع زمین پر پھیلے ہوئے رزق کی تلاش میں آیا ہے اور اب یار دھیان میں رکھیو اگر کوئی کام ہاتھ آئے تو بتانا بڑی مجبوری ہے کچھ پیسے ادھار پکڑے تھے، پھر بات چل نکلی کے آخر ہمار ے ملک پر کون سی آفت آنے والی ہے کہ لوگ یوں ملک چھوڑ کر بھاگنے کو ہیں گویا ’’سڑے ہوئے گاوں میں سے جوگی’’ ، یا آندھی سے پہلے گھنسلوں کو اڑتے ہوئے کوئے، مجھے یاد آیا کہپچھلے سال اگست میں جب پاکستان تھا تو ہمارے جاننے والی ایک نہایت ہی محترم خاتون بڑی شفقت سے پوچھنے لگیں ’’ پترا کو ویزے بھی لیایا ہیں؟؟’’ نہیں خالہ، اچھا بیٹا ہمارے ’’ طارق’’ کا خیال رکھنا۔ ہمارا جی چاہتا ہے کہ وہ بھی تیری طرح باہر چلا جائے، ’’ مگر کیوں خالہ ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے اور پھر ابھی وہ زیرِ تعلیم بھی ہے اسے کم سے کم اپنی تعلیم تو مکمل کرنے دیں، خالا کہنے لگیں’’ بس بیٹا بات تو تیری ٹھیک ہے مگر ادھر کے حالات بھی تو تجھے پتا ہیں، چوریاں ڈاکے ، قتل، اغوا، مقدمہ بازی۔۔۔۔ بس سب دیکھ دیکھ کے ڈر سا لگتا ہے، چلو باہر ہوگا تو نظروں سے تو اوجھل رہے گا، اللہ میرے بچے کو اپنی حفاظت میں رکھیو۔۔۔۔۔۔۔۔

مکمل تحریر  »

میرا پہلا بلاگ

لو جی یہ میرا پہلا بلاگ ہے اور کیوں ہے اسکے بارے میں تو میں خود بھی نہیں جانتا بھلے آپ کو کیا معلوم ہوگا، چونکہ بلاگ میرے خیال میں صرف ایک خود کلامی ہے اور پبلک کو بلکہ صرف ان لوگوں کو بےوقوف بنانے یا متاثر کرنےکا ایک موثر ذریعہ، بعض اوقات ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ جب ہم اپنے آپ کے ساتھ خود کلامی کر رہے ہوں تو کوئی دوسرا اچانک آکر مداخلت کردے، بالفاظ دیگر حملہ کر دے تو سمجھ لیں کہ یہ صاحب صر ف قاری ہی نہیں بلکہ ’’ چھپے ہوئے بلاگر’’ ہیں اب انکو باہر کیسے نکالنا ہے اپنی ذات کے خول میں سے اسکے بارے میں قدیم شاسترون میں بھی کچھ واضع نہیں کیا گیا ہے اور چونکہ شاستریں جدید زمانہ میں نہیں ہیں بلکہ احباب بلاگ پر بلاگ لکھ کر عوام الناس کا ’’ ناس’’ مار رہے ہیں لہذا ایسے موضوع پر بحث سرے سے ہی فضول ہے، بھائی میرے آپ اس سارے قصہ کو پڑھ کر یہ سوچ رہے ہونگے کہ اس بندہ نے بلا گ لکھنے کی زحمت آخر کیوں کی ہے تو جنابِ من اسکی وضاحت تو میں آغاز میں ہی کر چکا ہوں کہ یہ صرف ایک خود کلامی ہے اور اسکا مقصد صرف ایک بلاگ لکھنا تھا تجرباتی طور پر اور پھر قدیر صاحب کہ میرے نیٹ پر آن لائین ’’ماشٹر’’ ہیں کی ضد پوری کرنا ہے کہ بھائی اپنے بلاگ کا ایڈریس دو۔ اب اگر لکھوں گا نہیں تو لازم ہے کہ ایڈریس بھی نہیں ہو گا اور ایڈریس کے حصول کےلیے آپ کو یہ بے مقصد تحریر پڑھوائی جارہی ہے، ویسے اردو کو اردو میں لکھنا اچھا لگتا ہے، خاص طور پر جب آپ اپنے وطن سے بھاہر ہوں اور زبانیں ہی سیکھ اور سکھلا رہے ہوں تب اپنی زبان کی کم مائیگی کاٹنے کو دوڑتی ہے، جی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش