ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

ہفتہ, مارچ 15, 2014

ہم ناشکرے

میں نے موبائل کو وقت دیکھنے کو جیب سے نکالا تو    انجلین کا وھاٹس اپ پر میسج آیا ہوا تھا،    کہ کام سے فارغ ہو کر مجھے فون کرلیا، آجکل  ترقی ہوچکی موبائل فون کی وجہ سے گھڑی ، ڈائیری  پین وغیر ہ  سے فراغت ہے، بس فون سے ہی کام چلاتے ہیں تو بس ہر وقت ساتھ ہی ہوتا ہے اپنے۔  جس دن فون گھر رہ جائے تو بس واپس آ کر  لینا ہوتا ہے ، اسکے سوا  اپنی دنیا  ادھوری ہے، ممکن ہے سب کی ہی ہو،  آخر ہم آزادی اور ترقی یافتہ دور سے گزر رہے ہیں۔

انجلین کو فون کیا تو  کہنے لگی کہ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ذاتی قسم کی اگر فارغ ہوتو  کہیں چل کرے کافی پیتے ہیں۔
ہر ملک کا اپنا اپنا رواج ہے ،  پاکستان میں یار باش سیدھا سیدھا کہہ دیتے ہیں کہ آؤ جی خانجی گپ مارتے ہیں اورگاوں دیہات میں تو چائے کافی  کا بھی  ٹنٹہ نہیں پالا جاتا، ادھر کھیتوں کے بیچوں بیچ  کسی بنے پر بیٹھ  اور ہوگئے شروع ، چاہے تو 3 گھنٹے ادھر ہی گزر جاویں، خیر پاکستان میں اگر کسی لڑکے لڑکی کو ساتھ باتیں کرتے دیکھ لیں تو سمجھ لیں کہ بہن  بھائی ہیں اگر شکل ملتی  ہے تو اگر نہیں تو پھر میاں بیوی ہونگے، تیسری صورت میں  پھر پھانڈا ہی ہے۔ ۔  اسی طرح ملک یونان میں بھی بول دیتے ہیں آؤ جی گپ لگانے چلیں، مگر اس کی صورت یا تو چہل قدمی ہوگی یا پھر وہی کافی اور بس پھر گھنٹے ادھر ہی۔

یہ انجلین بھی ایویں ہی ہے،  ہرچھوٹی سی بات کا ایشو بنانا اسکے پیچھے بس ہے، اور باتیں کرنے کی شوقین، فارماسسٹ ہے اور ایک فارمیسی میں کام کرتی ہے، میری اسکی ملاقات  پہلی بار کام کے سلسلہ میں ہی ہوئی تھی، ہم فوراُ ہی دوست قرار پائے ، میرے لئے بہت معاون ہے، نئے شہر میں جہاں آپ کا جاننے والا کوئی نہ ہوجسکو آپ کام کے علاوہ مل سکیں یا بات بھی کرسکیں  تو ایسے میں جو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے وہ  ہی سب سے اچھا دوست ہوتا ہے۔کوئی بھی چھوٹا موٹا کام ہو، یا کوئی معلومات چاہئیں ہوں تو بھاگی پھرتی ہے، اور تب دم لے گی جب جان مار کر کام پورا کر نہ لے تو۔ دل کی بہت اچھی ہے۔ 

میں  بمطابق پروگرام سات بجے  اسکی   فا رمیسی کے سامنے گاڑی میں تھا، کچھ ہی دیر میں وہ بھی آگئی، چہرے سے ہی تھکاوٹ اور مایوسی عیاں تھی، چاؤ، چاؤ اور وہ گاڑی میں میرے ساتھ والی سیٹ پر گر سی پڑی، اسنے حسب عادت سیٹ بیلٹ کھینچا   اور ہم شہر کی دوسری طرف کوئی چار کلو میٹر دور اپنے مخصوص کیفے کی طرف رواں دواں تھے، چھٹی کا وقت ہونے کی وجہ سے گاڑیا ں ہی گاڑیاں تھیں، ٹریفک بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔  اور ہم لوگ آپس میں باتیں کرتے جارہے تھے،   وہ بولے جارہی تھی، میں نے اندازہ لگا لیا کہ اسکو کام کچھ بھی نہیں تھا، بس بچاری نے دن کی بھڑاس نکالنے کو میرا ساتھ مانگ لیا۔ اپنی سارے دن کی روداد، گاہکوں کے روئیے ، اپنے دوسرے کولیگز کی رکھائی، پھر بات ٹریفک کی طر ف چل پڑی ،    ہماری گاڑی کے آگے ایک بس لگی ہوئی تھی جی  وہی پبلک ٹرنسپورٹ  والی جو ہر پانچسو میٹر پر رکتی باقاعدہ اور سواریاں اتارتی چڑھاتی، انجلین کہہ رہی تھی کہ  دیکھو سارا دن کام کرنے کے بعد میرے ساتھ یہی ہونا تھا،  آج تو دن ہی بہت برا ہے، میری تو قسمت ہی پھوٹی ہوئی ہے،  اب دیکھو یہ بس سامنے لگ گئی ہے، گویا ایک دیوار ہی تو بن گئی  ہے ہمارے سامنے، ہمارا اتنا خوبصورت شہر ہے بند ہ اس کا نظارہ بھی نہیں کرسکتا، بس کی وجہ سے کچھ نظر نہیں آرہا، ایسے لگ رہا جیسے ہم دو اندھے ہوگئے ہوں اور سامنے اس پیلی دیوار کے سوائے کچھ  نہیں ہے۔

میں سٹرک کی دوسری طرف دیکھ رہا تھا، ادھر فٹ پاتھ پر ایک شخص اپنی سفید چھڑی لہراتا ہوا چل رہا تھا، سفید چھڑی کا مطلب یہ شخص نابینا ہے۔ ہماری گاڑی کھڑی تھی بس کے پیچھے اور بس کھڑی تھی اپنے اسٹاپ پر،  شاید سواریاں زیادہ تھیں یا آگے ٹریفک بلاک تھی،  میں  نے انجلین کی توجہ اس نابینا کی طرف دلوائی ، جو فٹ پاتھ کے کنارے ایک کھمبے کی طرف بڑھ رہا تھا،  اسکی  زمین  کے اوپر رینگی ہوئی چھڑی جب کھمبے سے مس ہوئی تو تھوڑی اوپر اٹھی  اور پھر اس نے دوسرا ہاتھ بڑھا کر کھمبے کو محسوس کیا، اور اپنا راستہ بدل لیا۔

میں انجلین سے بغیر سوچے سمجھے کہ اسے کیسا لگے  کہہ  رہا تھا کہ  دیکھو میڈم ایک ہم ہیں   کہ ایک بس سامنے ہے تو اس کو  ہی روئے  جارہے، کہ ہمارے سامنے پیلی شیٹ لگ گئی ہے، ہمیں کچھ نظر نہیں  آرہا،باوجود اسکے کہ ہم دائیں بائیں دیکھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں،    اور ایک ایک وہ شخص ہے جس کے سامنے ایک  و ہ ہے جس کے سامنے شاید اندھیری دیوار ہے،  صرف سامنے ہی نہیں  چاروں طرف، مگر اسکے چہرے پر مسکراہٹ ہے،  اور ہمارے چہروں پر  تناؤ ہے، سچ تو یہ  ہے  کہ ہم لوگ ناشکرے ہیں۔ اور بس


ترجمہ،  پنجابی سے اردو، بنا مطلب کھیت کی منڈیر، پھانڈا مطلب مارکٹائی پروگرام۔ 



مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 20, 2013

اٹلی اور یورپ میں رہنے والے ہوشیار

مشتری ہوشیار باش، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔

آپ نے فوریکس کا نام سنا ہوا ہے، تیل اور سونے مطلب گولڈ مارکیٹ میں بڑا نام ہے، کرنسی کی مارکیٹ میں بھی اس کمپنی کا اچھا حصہ ہے۔ Xforex اور euro4x کی طرح کی یا ان سے ملنے جلتے ناموں کی سائیٹس و فیس بک و دیگر سوشل میڈیا میں آپ کو نظر آئیں گی، جو آپ کو اچھی آمدن مطلب چار چھ ہزار یورو ایک ماہ میں کما کر دینے کا دعوہ کرتے نظر آویں گے۔

ہوشیارِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔سوبار ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فراڈ ہیں۔

 یہ آپ سے سب پہلے تین چار سو یور بنیادی انویسٹمنٹ کے نام پر اپنے ادھر منتقل کرولیں گے اور پھر آپ انکو ڈھونڈتے رہو، آپ ایک دفعہ انکو فون کرلو، یا اپنا نمبر دے دو کسی طریقہ سے، بس پھر آپ کو یہ کال پر کال، انکی اٹالین بولنے سے میرا اندازہ ہے کہ یہ لوگ رومانیہ یا البانیہ وغیرہ کے ہیں۔ آپ کو پہلی کال میں ہی ٹرانزیکشن کروانے کا کہیں گے۔ اپنا دفتر میلان یا کسی بڑے شہر میں بتاتے ہیں مگر آپ وزٹ کرنا چاہیں تو پبلک کےلئے کھلا نہیں ہے، کسی بندے سے ملنا انکی پالیسی میں شامل نہیں، بس فون سنو ایی میل ریسیو کرو اور پیسے دو۔


 فیر ہاتھ لگا لگا کر دیکھ کہ اے کی ہویا

مکمل تحریر  »

اتوار, ستمبر 02, 2012

پوک


پوک Poke آجکل فیس بک پر دائیں ہاتھ   دستیاب ہے،  ویسے تو اسکا کوئی خاص استعمال نہیں مگر فیس بک نے بندے کو بس "ایویں ہی انگل"  دینے کو رکھا ہوا،   کہ  "انگل ای"  ، اٹالیں لوگ اس کام کےلئے  دائیں ہاتھ کی  لمبی والی انگلی کھڑی کرکے باقی اپنی طرف بند کرلیتے ہیں۔ ویسے پرانے لوگ اسے کبیر درجہ کی گالی اور    "منڈے کھونڈے" مطلب "کالجیٹ"  اسے سلام دعا کے طور پر استعمالتے ہیں۔اٹلی کے سابق وزیراعظم  سلویو بیرلسکونی  تو اسے باقاعدہ طور پر عوام سے  جلسوں میں سلام دعا کرتے تھے۔ 

یہ ایپلیکیشن کچھ دنوں سے مجھے اپنی فیس بک پر دکھائی دے رہی ہے،   بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ موجود تو کافی عرصہ سے ہے اور کوئی اکا دکا بندہ پوک کردیتا ، بندہ بھی مروتاُ جوابی پوک  کردیتا، مگر  چند دنوں سے فیس بک نے اسکو کچھ زیادہ ہی لفٹ کرانی شروع کردی ہے،  میرے ادھر بھی دائیں ہاتھ کوئی پنج ست نام لکھے نظر آتے اور میں یہ سمجھتا کہ ان سب نے مجھے پوک کیا ہے، مطلب "ایڈےلوک" اس بندہ کو یاد کررہے ہیں،   پس مروت کے مارے فوراُ جواب دیتے رہے،  ادھر تورینو کی ایک ڈاکٹر صاحبہ میرے فیس بک پر ہیں اور انہوں نے  مروت کے مارے میرے پیج پر پیغام لکھ مارا  کہ : "حجرت جی آپ کے پوک کرنے کا شکریہ ، بندی سسٹم کی خرابی کی وجہ سے  جوابی پوک نہ کرسکنے  پر  دلی طور پر معذرت خواہ ہے"۔

اگلے دن اپنے یاسر صاحب المعروف   پیر بابا خوامخواہی  جاپان والے بھی پوچھ رہے تھے کہ میاں  خیر ہے آپ نے مجھے پوک کیا ، میں  ہکا  بکا رہ  گیا کہ اچھا  میں تو سمجھا کہ آپ نے مجھے پوک کیا ہے مگر  وہ صاف انکاری ہوگئے، تس  پر میں نے بلکل اسی طرح غورو خوص کرنا شروع کیا جیسے نیوٹن  نے سیب کے درخت کے نیچے بیٹھے کر شروع کیا تھا کہ بھئی یہ سیب نیچے کیوں گرتے ہیں اور اوپر کو کیوں نہیں نکل لیتے، اس سے دو باتیں دماغ میں آتی ہیں: اول  یہ کہ نیوٹن کی قسمت اچھی تھی کہ ادھر "بیری " کا درخت نہیں تھا نہیں تو یار لوگ  ادھر پتھر مار کے بیر وں کے ساتھ اسکا سر بھی کھول دیتے۔  دوئم  کہ نیوٹن نہایت ہی کھوتے دماغ کا تھا، کہ  بھئی جب سیب پہلے بھی نیچے کوہی گرتے تھے اور اب بھی نیچے کو ہی گررہے ہیں  میں ۔ بندہ پوچھے کہ سرکاراں تویہ جو لڑکے  بالے ہر سال اس کے قوانین کی زد میں آکر فیل  ہوجاتے ہیں   وہ دریافت کس کھاتے میں؟  بس جی کھوتا کھوہ میں ہی ڈال دیا  ا س نے بھی۔

پھر جب دماغ لڑایا   اور اگلی دفعہ  جب ادھر دائیں طرف پوک  کا چکر دکھائی دیا توغوروخوص کے بعد یہ علم حاصل ہوا  کہ مولانا فیس بک کا فرمان ہے کہ  جناب ان لوگوں کو پوک کرکے ثواب داریں حاصل کریں ، دھت تیرے کتا  رکھن آلے کی۔

آج اپنے مولبی علی طارق صاحب پوچھ رہے تھے  کہ جناب یہ  پوک کا چکر کیا ہے ؟  تو انکو تو میں نے یہ جواب  دے کرٹرخادیا کہ: " پتا نہیں، فیس بک نے کہہ دیا کہ ان بندوں کو پوک کرنا لازمی ہے، تو ہم نے پوک پر کلک کردیا ،میں سمجھا انہوں نے مجھے پوک کیا ہے، بعد میں پتا چلا کہ نہیں ایویں انگل ہی کی " ، بھلے مانس بندے  مجھے  " کالی رات  مطلب شب بخیر " کہہ کر چلتے بنے، یاد رہے  " کالی " یونانی زبان میں  اچھی کو کہتے ہیں۔ نہیں یار  وہ والی کالی نہیں ، آپ ہمیشہ الٹے پاسے ہی جاؤ گے ، یہ افریقاُ کالی نہیں ہے۔ دسو۔ ایک تو آپ کا دماغ بھی فوراُ پٹھے پاسے ہی جاتا ہے۔ 

بعد میں بمعہ صد افسوس میں نے بابا جی گوگل سے پوچھا تو بابا جی نے بتا یا کہ  بچہ  جاہل  یعنی کہ" ڈنگرا " یہ سست  المعروف  کاہل لوگو ں کا "ہائے" کہنے کا طریقہ ہےکہ  کسی کو سلام دعا کرنے کی بجائے  یا کسی کو دو چار الفاظ کا پیغام لکھنے کی بجائے اسکو پوک کردو، دھت تیرے  سستی مارے کی۔  ہیں جی

مجھے پوک کرنا جانے کیوں ایسے ہی لگا جیسے کسی کی بیل بجانا،  جب ڈور بیل نئی نئی ایجاد ہوئی تھی تو پورے محلے میں کسی ایک کی ڈور بیل ہوتی تھی۔ ہم  سارے کزنز اور مشٹنڈا پارٹی ، ادھر شکر دوپہرے  ان کی ڈو بیل بجاکر بھاگ آتے ،  ہیں جی
اور وہ  لو گ پورا آرام کا وقت  گالیاں دیتے ہوئے گزارتے کہ" کیڑا سی کسی سورے دا پاڑا "،  ہیں جی
جبکہ ہم اپنی  چھت پر مزے سے سنتے، ہیں جی
  تب تک جب تک ہمیں بھی کوئ بڑا آکر براہ راست گالیوں سے نہ نوازتا۔  



مکمل تحریر  »

سوموار, اگست 27, 2012

چلتے یونان کو

ملک یونان سے ہماری واقفیت مرحلہ وار ہوئی تو اس کو اسی تربیت سے بیان کیا جاتا ہے 


حکیم محمد یوسف  (یونانی)
یونا ن سے ہمارا واسطہ حکیم محمدیوسف  (یونانی)  آئمہ پٹھاناں والے کے مطب پر لکھی تختی سے ہی ہوتا تھا، ادھر بھی ہمارا جانا تب ہی ہوتا جب بھینسیں گم ہوجاتیں اور ہماری ڈیوٹی ادھر شمال کو ڈھونڈنے  کی ہوتی، گزرتے ہوئے اگر حکیم صاحب جو نہایت نیک صورت و سیرت بزرگ تھے  باہر سڑک پر دھوپ سینکتے نظر آجاتے ،   تو ان سے پوچھ لیتے کہ حکیم صاحب سلام، کہیں آپ نے ہماری مجھیں تو ادھر جاتی نہیں دیکھیں، باوجود اس کے کہ ہمیں انکا جواب معلوم ہوتا کہ : " پتر میں تو ابھی ایک مریض کو چیک کرکےنکلاہوں"۔

اسکندر اعظم عرف سکندر یونانی
اس شخصیت کے بارے ہمیں  اپنے  چڑھتی جوانی سے پہلے ہی علم ہوچکا تھا، میاں لطیف صاحب  اکثر جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے   نعرہ مارتے " گیا جب اسکندر اس دنیا سے تو اسکے ہاتھ خالی تھے"  تب ہم میاں جی کے علم کے اور انکے پہنچے ہوئے ہونے کے" فل  "قائل تھے ، پھر یہی نعرہ ہم  نے بعد میں بھیک شہر میں بھیک مانگنے والوں سے بھی سنا تو وہ بھی بہت دور تک پہنچتے ہوئے لگے جبکہ ہم بھی ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔  ہمارے پنڈ کے تاریخ دان بابوں کا  خیال تھا  بلکہ سرٹیفائیڈ بات تھی کہ اسکندر اعظم کی فوج نے جو دریائے جہلم عبور کیا راتوں رات تو ہو نہ ہو، یہ  ہمارے گاؤں  کے مقام سے تھا اور اس میں لازمی طور پر ہمارے گاؤں والوں کی ملی بھگت بھی رہی ہوگی،  جبکہ ہمارے دوست غ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب ماسی ضہری ادھر  گلی میں سے ککڑ تو گزرنے نہیں دیتی ، کوئی ڈیڑھ سوگالی ہمیں دیتی ہے اگر دن میں دوسری بار ادھر جاتے دیکھ لے تو،  پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسکندر یونانی ادھر سے نکل لیا ار ماسی ضہری کو پتا نہ چلا، اسلئے یہ سب بکواس ہے، بابا لوگ ایویں ہی اپنے نمبر ٹانگ رہے ہوتے ہیں،   پھر اسکے ساتھ فوجی بھی تھے،  فوجیوں کی ایسی کی تیسی جو ہمارے ادھر سے گزریں بھی ، انکوپتا ہے کہ یہ علاقہ" آوٹ آف باؤنڈ " ہے

حکمت یونانی
یونانی حکمت  کا ہم تب علم حاصل ہوا جب  علم معالجات پڑھنے کی ٹھانی، کہ یہ علم طب کی وہ قسم ہے جس کو یونان نے بہت فروغ دیا، پھر ادھر سے عربوں تک پہنچا اور پھر ادھر ہمارے پاس، اس علم میں چار علتیں بیان کی جاتیں : خون، سودا، صفرا  اور بلغم اور علا ج بلضد کے طور پر معالجات  ہیں ابتداء میں جڑی بوٹی اور پھر مختلف معدنیات وہ زہریں  استعمال ہوتیں،  ہمارے لئے دلچسپی کاباعث  "کشتے  " ہوتے ، جی بلکل وہی  والے جو " بوڑھے کو جوان  اور جوان کو  فٹ " کردیتے ہیں۔مگر ایسا کشتہ بیچنے والے تو بہت ملے مگر بتانے والا کوئی نہ ملا، اگر کوئی حکیم تب بتادیتا تو ہم بھی " دکان بڑھاجاتے"۔

مولبی انور حسین قادری
یہ مولبی جی سرائے عالمگیر سے آتے تھے اوراپنے سفید کرتے پاجامہ اور سبز پگڑی  پھر لہک لہک کے نعتیں گانے کی وجہ سے ہمارے گروپ میں فل مشہورتھے بلکہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتے، اندر سے پورے لچے اور تاڑو تھے جبکہ اوپر سے بہوت شریف ، انکی ہمارے مشٹنڈا گروپ میں شمولیت ہمارے لئے انتظامیہ  کی نظروں میں شریف بننے کی ایک کوشش تھی۔ تیسرے  درجے میں  جب ہم پہنچے تو ایک دم سے مولبی جی غائب ، معلوم ہوا کہ یونان چلےگئے، ان ہی دنوں یہ خبریں آنے لگیں کہیونان کے ذریعے  ایجنٹ یورپ میں پہنچاتےہیں،  بس بندہ کسی طریقہ سے ترکی پہنچے تو ادھر سے یونان اور پھر یورپ کی اینٹری، ہیں جی۔اور ادھر یورپ میں گوریاں، پس مولبی جی قسمت پر رشک کرتے ، ہیں جی ،  کہ لٹ موجاں گئے ہیں یہ مولبی جی تو، ہیں جی

چلتے ہو تو یونان کو چلئے
اٹلی آکر احباب  سے علم حاصل ہوا کہ ہمیں یونان پہنچنا چاہئے۔  اسکی دو وجوہا ت  تھیں  ہمارے لئے، مولبی جی  کے علاوہ  ایک تو یہ کہ ہمارے ہیلنک ہومیوپیتھیک میڈیکلایسوسی  ایشن کا  کورس اور دوسرے ادھر کاغذ کھلے ہوئے ہیں، مطلب پھر ہم ویزہ  کے جنجھٹ سے آزاد ہوجائیں گے۔ تو بس جناب پہنچ گئے ادھر کو یوں  مارچ  1998 کو،  اب ادھر اپنے جاننے والے تو کافی تھے،  ہمارا کام ہوتا پڑھنا اور فارغ رہنا، پھر کاغذوں کی فکر ہوئی تو جانے کیسے کچھ جاننے والوں نے ایک دن ایک سفید کارڈ ہمارے ہاتھ لا کر دے دیا کہ جی آپ کی  "سفید خرطی بن گئی" اور ہم اسی پر خوش،  اس کے بعد سبز ہوئیں گی اور پھر آپ ادھر پکے،  ہائے ہائے کیا دن تھے ہیں جی،  دن بھر ادھر انگریزی بولو، شام کو ہیلنااسپرانتو ایسوسی ایشن کے کسی  پنچ ست ممبران  کے ٹولے کے ساتھ گپیں اسپرانتو میں اور پھر رات کو ڈیرے پر آکر پنجابی بولو، ہیں جی،  البتہ تب  کچھ کچھ چیزیں یونانی زبان کی بھی سمجھ آتیں ، جن میں  "مالاکا " اور "ماگا" کے دوالفاظ ہمارے کانوں میں اکثر پڑتے اور پھر تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں گالیوں کے زمرے میں آتے ہیں ،  پس ہم نے بھی یونانی زبان صرف گالیوں کی حد تک ہی سیکھی ، اب ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ ہمیں صرف دو گالیاں ہی یاد تھیں، یاد تو بہت سی تھیں مگر اب یہ دو ہی دماغ میں رہ  گئی ہیں۔

پھر جناب ادھر جون اور جولائی کے دن اور بیچز "کالاماکی " کے اور ہم ،  ایک پرانی جینز کا کاٹا اور ادھر گھٹنو ں تیک اور پھر پورا  دن لگا کر اسکے دھاگے نکال کے "پھمن " بنائے اور نیچے نائیک کے کالے جوگرز ، اور  رے بین  کی عینک زیب تن کئے ہم ادھر امونیا اسکوائیر سے کالاماکی تک پھر تے کئے،  تب یونانی دیویاں  غیر ملکیوں پر اتنی کرم نواز نہیں تھیں۔  بس دور دور ہی رہتیں اور ہم راجہ اندر کی طرح اپنی کورس میٹس میں نہایت شریف اور مسلمان ہونے کے گھرے رہتے ۔  ہیں جی، کبھی کبھی  شریفت کا حجاب بھی بندے کو کھجل کرکے رکھ دیتا ہے۔  

مولبی انور قادری کوبھی ادھر ڈھونڈھ نکالا مگر معلوم ہوا کہ یہ بندہ کسی کام نہیں رہا، ادھر آکر پکا مولبی ہوگیا ہے اور یہ کہ مسجد سے باہر کسی سے ملتا ہی نہیں، کام اور پھر مسجد، گویا انک کی کایا کلپ ہوگئی ہے۔ ہیں جی

ویک اینڈ  کا مزہ
ادھر سمجھ آئی کہ وییک اینڈ کیا ہوتا ہے، ملازمین کو تنخواہ جمعہ کی شام کو ملتی اور اگر ہفتہ کو کام نہیں کرنا تو بس پھر آپ کا ویک اینڈ شروع، آپ کی جیب میں کوئ پچیس تیس ہزار درخمے پڑے ہیں جو عوامی تنخواہ تھی تو پھر  کرو موجاں، یار لوگ جمعہ کی شام کو ہی  بئیر کے گلاس پر "پارئیا" کرنے مطلب گپ لگانے چلے جاتے اور رات کو دو دو بجے لوٹتے ، جو ہفتے کو کام کرتے وہ ہفتے کی شام کو نکل لیتے۔

بتی والا گھر
ہماری یاری چوہدری رمضان کے ساتھ تھی کہ ہمارے ساتھ کے پنڈ کا تھا اور جب پاکستان میں تھا توہماری زمین میں ٹریکٹر سے ہل چلایاکرتا تھا، جانے کب ادھر کو نکل آیا،  ایک دن جمعہ کی رات کو ٹن ہوکر آیا تو کہنے لگا : :ڈاکٹر آپ بتی آلے گھر گئے؟" نہ چوہدری وہ کیا ہوتا ہے اور کدھر ہوتا؟  لو  دسو آپ کو بتی آلے گھر کا نہیں پتا ، ایسا نہیں ہوسکتا،   وائی کسمیں چوہدری نہیں پتا،  میں ماننے والا تو نہیں مگر آپ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں ، بس آپ کل تیار ہوجاؤ صبح ہی اور ہم نکل لیں گے، مگر کسی کے سامنے نام نہ لینا، اب اتنے مولبی تو ہم بھی نہ تھے سنا ہوا تو سارا کچھ تھا، پس کل کا پروغرام دماغ میں لے کر سورہے۔

دوسرے دن "ارلی ان دی مارننگ" مطلب کوئی گیارہ بجے آنکھ کھلی ، اور ناشتہ ، اگلے ہفتے کی خریداری، تین بجے فارغ ہوکر ، رمضان نے آنکھ ٹکائی کہ نکل ، اور ہم جو دیر سے اس لمحے کو "اڈیک" رہے تھے  پس نکل لئے، آج ہمارے دل میں چور تھا۔  ہیں جی۔

اومونیا اسکوارئر  کو پہنچے  اور ادھر دیکھا کہ کوئی پاکستانی تو نہیں دیکھ رہا ، کم ازکم مولبی انور تو نہیں گھوم رہا۔  ہیں جی
اور کسی چور کی طرح رمضان کے پیچھے چلتے رہے، اس دن اسکی چال واقعی کسی چوہدری کی چال تھی، پورے لطف میں تھا۔
بس پھر ہم  "پلاکا"   کی گلیوں میں گھومتے رہے، ان گلیوں میں جو ایتھنز کا قدیم مطلب انٹیک حصہ تھا۔
بس پھر رمضان نے ہمارے ہاتھ دبایا یہ یہ جو گھر ہیں جن  کے دروازے پر دن دھیاڑے جو بلب جل رہا ہے "گویا سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے" یہ ہی ہماری منزل مقصود ہے اور ادھر ہی سے وہ گوہر نایاب ملنے والا ہے۔
مگر اس میں نہیں جانا کہ ادھر مال پرانا ہوتا ہے، ادھر بھی نہیں جانا کہ ادھر مال  مہنگا ہے ، ان کے بستر گندے ہیں، یہ والے غیرملکیوں کو پسند نہیں کرتے، یہ والے ، بس ہم پہنچ گئے، ادھر کھلے دروازے میں سے ہم لوگ اندر گھسے تو بس کچھ کچھ اور ہی منظر تھا،  عجیب سرخ کی روشنی میں نہا سے گئے،  ایک بڑا سا ہال تھا اور اسکے کونے میں کرسی پر ایک پرانی پھاپھڑ قسم کی مائی نے بہت بڑا منہ کھول کر ہمیں " یاسس " کہا جواب رمضان نے ہی دیا اور لگے ہاتھوں اسکا احوال بھی پوچھ ڈالا اور یہ بھی بتادیا یہ "یاترو" ہے  جو پاکستان  سے آیا ہے اور ادھر اسکی خدمت کرنا مانگتا، رمضان نے اشارہ کیا اور اسکے ساتھ ہی میں بھی کرسی پر ٹک سا گیا۔  بس پھر غور کیا تو اس ہال میں دونوں طرف اور سامنے چھوٹی چھوٹی گیلریاں 
تھیں جنکے اندر دونوں اطراف میں دروازے تھے ، شایدکمرے ہوں گے۔

ہمارے بیٹھے بیٹھے ہی ایک دروازہ کھلا اور ایک لڑکی  اس میں سے نمودار ہوئی، بس لڑکی کیا جناب، ایک حسینہ وہ جمیلہ، وہ بھی صرف بریزیر اور چڈی میں، ہائے ہائے، ہمارا تو بس دل ہی دہل گیا، ہیں جی،  ہمارے ادھر سامنے سے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ، دیدے  مٹکاکر گزری اور یاسسس کہتی  ہوئی ، گویا ہمیں دعوت شباب   و شتاب دی جارہی ہے، ایک کمرے میں دوسری طرف گھس گئی۔   ہم تو  قریب المرگ ہی ہوگئے تھے قسمیں۔  پر رمضان نے ہاتھ تھپ تھپایا اور کہا پولا سا ہمارے کان میں کہ یہ وہ مال نہیں ، صبر۔
پھر ایک اور   ، ہیں جی
پھر ایک اور ، اور پھر ایک اور ہیں۔
اور پھر رمضان نے بڈھی سے کسی کا پوچھا  اور انکار ی  جواب پاکر ہم کو اشارہ کہ ادھر سے نکل، کہ وہ مال نہیں ہے ۔ باہر آکر بولا  کہ ادھر وہ دانہ نہیں ہے ایک اور جگہ چلتے ہیں ، راستے میں  دوچار دروازوں میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر مال دیکھا اور پھر نکل لیئے، کہیں رمضان کو مطلوبہ بندی نہ نظر آئی اور کہیں پیسے  زیادہ تھے۔ پھر ایک جگہ  بیٹھے ہوئے تھے اور "یہ چیز "کا نعرہ رمضان نے مارا ، لڑکی حسب دستور یاسس کہہ کر دیدے مٹکاتی اور کولہے ہلاتی ہمارے سامنے سے گزر گئی اور ہم دل پکڑ کررہ گئے۔ ہیں جی لڑکی تھی یا قیامت ، ہیں جی،  دل میں ہی کھب گئی اور ہم ہزار جان عاشق ہوگئے۔ ہیں جی

رمضان نے بات کی مائی سے ، چھ ہزار مبلغ میں بات طے پائی اور رمضان نے مجھے کہا کو وہ دائیں کو سامنےآلے کمرے میں ہو لو،  مگر وہی چولوں والی حرکتیں ہماری کہ نہ چوہدری پہلے تم ،  ہیں جی، آخر میں عمر میں ہم سے بڑا تھا۔ ہیں جی ،  اور وڈوں کو احترام ہی تو ہم نے سیکھا ہے۔چونکہ یہ پہلی بار تھی ادھر جانے کی تو ایک جھجک  سی بھی شاید ، یا پھر خورے کیوں؟  ہیں جی۔

رمضان  میری طرف غور سے دیکھتا ہوا ، پولا سا اٹھ کر اس دروازے میں داخل ہوگیا،  اب میں ادھر بیٹھ  ہوا تھا اور ادھر ادھر دیکھنے اور اواسیاں لینے کے علاوہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہ تھا۔  چند منٹ بعد ایک آدمی نکلا بیلٹ باندھتا ہوا،  شاید اسی کمرے سے نکلا تھا جس میں سے وہ حسینہ برآمد ہوئی تھی  یا اسکے سامنے والے سے۔ ہیں جی، پر سانوں  کی؟ ہیں جی۔
کوئی پندرہ بیس منٹ کے انتظار کے بعد وہی دل چیر حسینہ پھر برآمد ہوئی اور  ہمیں یاسس کہتی ہوئی اس بار بڈھی کے اشارے  پر رمضان کے کمرہ  میں، اس دوران ہم نے نوٹ کیا کہ ہماری طرح کے کافی لوگ آکر جابھی چکے تھے  ہر آنے والے کہ چہر ے پر ایک مسکراہٹ بھی تھی  یا کچھ روشنی سی۔ اور یہ بھی کہ مختلف اطراف سے تین چار لڑکیاں ایک گیلری کے  دروازے سے نکل کردوسری گیلری کے دروازے میں داخل ہورہی تھیں اور انکے پیچھے سے کچھ دیر بعد کوئی بندہ بھی نکلتا اور نظریں چراتاہوا  ہمارے سامنے سے گزر کے باہر کا منہہ کرتا،  تب کوئی بھی سلام دعا نہ کررہا تھا، شاید انکو یاد نہ رہتی ہوگی، ہیں جی ، آخر بندہ بے دھیانہ بھی تو ہوہی جاتا ہے، ہیں جی۔

پھر  ہم نے نوٹ کیا کہ اسی دروازے سے جدھر سے وہ حسینہ عالم برآمد ہوئی ایک آدمی بیلٹ کستا ہوا نکلا اور بڈھی تب تک ایک اور بندے سے چھ ہزار درخمے لےکر اسے اس کمرے  سے پہلے میں جانے کا اشارہ کرچکی تھی۔

کچھ دیر بعد شاید بیس منٹ کے بعد رمضان والا دروازہ کھلا اور وہ ہی حسینہ نکلی اور ہمیں یاسس کہہ کر دعوت دیتی ہوئی بڈھی کے اشارے پر دوسرے والے کمرے میں چلی گئی، رمضان بھی تھوڑی دیر بعد نکلا اور منہہ نیچے کرکے مجھے سے پوچھا" ہاں ؟ ہے پروغرام؟ " جانے کیوں میرے منہہ سے نکل گیا نہیں یار،   پر کیوں؟ رمضان پر حیرت ٹوٹ پڑی،  اس سے خوب مال پورے ایتھنز میں کہیں نہیں ملے گا،  پر میرا دل نہیں ہے،  پر کیوں؟ پیسے میں دوں گا، نہیں یار میرا دل نہیں کررہا ، چل واپس چلیں،   پر کیوں؟  کیا ہوا ؟ اگر یہ والی پسند نہیں ہے تو کسی اور جگہ چلیں؟ میری نظر میں اور بھی  مال ہے۔ نہیں یار میری طبیعت صحیح نہیں ہے، گھر کو چل۔ اچھا چل کچھ کھاتو لیتے ہیں،  تو کھالے یار میرا دل نہیں۔  چل اب آئے ہیں تو تیرو پتا  ہی کھالے ، نہیں یار میرا دل نہیں تو کھالے میں ادھر ہی ہوں  تیرے ساتھ بیٹھاتا ہوں۔
شاید میرا من ہی مارا گیا تھا۔ شاید مجھے وہ میکانزم سمجھ آگیا تھا، شاید  میں بہت سیانا تھا اور دور کی سوچ رہا تھا، نہیں شاید واقعی میری طبیعت خراب ہوگئی تھی،  مگر ایک بات ہے ، اسکے بعد بھی جب کبھی اس علاقے سے  یا اس جیسے کسی محلے سے گزر ہا تو ، اندر جھانکنے کا حوصلہ نہ پڑتا اور جب بھی اس بتی والے گھر کے بارے میں ذکر ہوتا ہے میری طبیعت اب بھی خراب ہوجاتی ہے۔ ویسے بندے کو ایڈا وی حساس نہیں ہونا چاہئے۔  ہیں جی



ایک وضاحت، رات کو نہ لکھ سکے اس پوسٹ کا عذاب ثواب علی حسن پر ہے، کہ یہ بندہ ہمیشہ ایسی آدھی سی پوسٹ لکھ کر ہمیں ٹینش دلوادیتا ہے، کہ جی بس پرانی یادوں میں غوتے لگاؤ اور کھوتے بنو






مکمل تحریر  »

بدھ, اپریل 25, 2012

یورپ میں مستقبل کی قیمت موت

بس جی کیا بتاؤں میں نے تو کہا تھا کہ ادھر آنے کا یہ طریقہ خطرناک ہے مگر وہ نہیں مانا کہ جیسے بھی ہے مجھے یورپ جانا ہے ادھر ۔    پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔  یہ چئرمین وحید آنسو پونچھتے ہوئے بتارہے تھے۔ 

آج اٹلی  میں یوم جمہوریہ کی چھٹی ہے تو کچھ احباب قدیمی سے ملاقات کا پروغرام بنا،  خان صاحب نے بتایا کہ ہمارے چئرمین وحید کے بھانجے کا انتقال دوہفتے پہلے ترکی سے یونان میں داخل ہوتے ہوئے ادھر موجود نہر کو عبور کرنے کے دوران ہوگیا  اور کوئی ایک ہفتے بعد نعش انہوں نے ادھر سے یونان جاکر تلاش کی اور پاکستان بھجوائی۔  چئرمین وحید کا تعلق  گوجرخان  کے دیہی علاقے سے ہے اور گزشتہ دس برس میں ہمارے حلقہ احباب میں  کیسے شامل ہوئے یاد نہیں مگر نہایت شریف اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ اللہ انکو اور 
مرحوم کے دیگر لواحقین کو اس مصیبت پر صبر دے ۔  آمین 

وحید  صاحب بتلا رہے تھے کہ یہ ہمارا بہت لاڈلا اور پیارا بھانجا تھا، اسکی عمر بائیس برس تھی  اور اسکا ایک بھائی عمران پہلے ہی ادھر بسلسلہ روزگار موجود ہے، یہ والا بضد تھا کہ وہ مستقبل آزمائی کےلئے اٹلی آئے گا۔ میں نے اور  عمران نے بہت کوشش کی ہے اسے ادھر قانونی طور پر بلاونے کی مگر کوئی ترکیب کاریگر نہ ہوسکی، اور پھر ایک دن وہ کہنے لگا کہ ماموں ہمارے پنڈ کے دس بارہ لڑکے ترکی کے رستہ یونان جارہے ہیں میں بھی انکے ساتھ ہی چلا جاتا ہوں، پھر یونان سے کسی طرح اٹلی پونچ جاؤں گا۔ میں نے ذاتی طور پر اسے منع کیا کہ یہ راستہ خطر ناک ہے اکثر لوگوں کی جانیں جانے کی خبر آتی رہتی ہیں، سنا ہے بارڈر کراس کرتے ہوئےپولیس گولی بھی ماردیتی ہے۔ مگر اسکا جواب تھا ماموں لاکھوں لوگ ادھر پہنچ بھی تو گئے ہیں، ادھر پاکستان میں رہ کر بھی تو گزراہ نہیں 
ہورہا، نہ کوئی کام نہ کاج، نہ کوئی حال نہ مستقبل، ٹھیک ہے خطرہ تو ہے مگر ایک دفعہ پہنچ گیا تو پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ 

مگر وہی ہوا جسکا ڈر تھا، نہر پارکرتے ہوئے کشتی الٹ گئی اور باقی تو سارے پار لگ گئے مگر یہ بچارہ جان کی بازی ہار گیا، 
میں سوچ رہا تھا کہ وہ دن کب آئے گا جب ہمارے ملک میں امن اور سکون ہوگا اور لوگ اپنا مستقبل دیکھ پائیں گے اور انکو یورپ و امریکہ جاکر اپنا مستقبل بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، نہ ہی اس مستقبل کی قیمت جان کی شکل میں دینی پڑے گی۔ یہ خون جوگیا، یہ ایک نوجوان جو مستقبل کی بھینٹ چڑھا، یہ ایک جان جو گئی ، اسکا الزام کس کے ذمے ہے،؟؟؟ 
یہ لہو کس کے ہاتھ پر تلاش کیا جائے؟؟ اس جیسے اور لوگ جو جان کی بازی ہارگئے اور جو نہیں ہارے ان کا ذمہ دار کون ہے




مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش