جمعہ, اکتوبر 20, 2017

پیرس ، شانزے لیزے اور قطری شہزادے

پیرس   اورلی  اترنے کا فیصلہ  میرا اپنا تھا۔ تین برس قبل پیرس میں ہونے والی فارماسیوٹیکل ایکسپو CPhI میں شرکت کےلئے ہم تینوں کو جانا تھا، باقی کے دونوں  اطالوی کولیگ الایطالیہ ائیرلانز پر چارلس دے گال پر اتر رہے تھے۔ جب کے میرے دماغ میں حسب عادت رائن ائر گھسی ہوئی تھی۔ جسکے ہم عادی ہیں۔ کم قیمت اور وقت کی پابند۔ باوجود کہ  کمپنی نے ادائیگی کرنی تھی ۔ 
مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ میں نے کیا  کرلیا ہے۔ ادھر چارلس دی گال سے 2 اسٹیشن   پر ایکسپو تھا اور باقیوں کا ہوٹل بھی اگلے دو  اسٹاپ پر، جب کہ مجھے شہر کے  ایک طرف اتر کر دوسری طرف جانا تھا ہوٹل کےلئے جبکہ ایکسپو اسکے بعد دوسری طرف تھا۔ گویا شہر کے تین کونے ماپنے تھے، ا"چھا وائی جو کرے " کہہ کر ٹرین میں سوار ہوگیا  لا فرتینیلے اتر اور ادھر سے  آر ای آر پکڑی گار دے آوستریلیاس کےلئے پھر وہاں سے بوبینی  پابلو پیکاسو پہنچا۔ کوئی  27 کلومیٹر کا سفر تھا۔ گوگل میپ پر  حساب میں لگا چکا تھا۔ ٹکیں ساتھ ساتھ لیتا  گیا  اور بغیر کسی کھیچل کے پہنچ گیا اپنے ہوٹل  جو اسٹیشن کے پاس ہی تھا۔ بس 10 منٹ پیدل اور ٹیکسی کے پانچ منٹ۔ کسی سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہ پڑی، کچھ ویسے بھی ٹریولنگ کا  عادی ہوں۔ کچھ ادھر ہر طرح کی نشاندہی  موجود تھی۔ بس آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ میں نے جانا کہاں پر ہے اور کونسی ٹرانسپورٹ پکڑنی ہے۔ 


پیرس  ایک بڑا اور عالمی شہر ہے، جس میں فرینچ کم اور دوسرے ملکوں سے آنے والے زیادہ ہیں۔ کالے، عربی ، انڈینز، فلپینو، چینی ہر طرح کے لوگ  فرینچ بولتے ہوئے اپنے اپنے چکروں میں رواں دواں تھے۔ 
بوبینی شاید بنگالیوں کا گڑھ ہے۔ لگ رہا تھا کہ سارے مجھے ہی گھور رہے ہیں۔ شہر پرانا سا تھابڑی بڑی عمارات اور انکے نیچے کی طرف  کی کالی ہوئی پڑی دیواریں۔ 
ہوٹل کی ریسپشن پر ایک لڑکی تھی بہت منہ لگنی سی ، جو مجھے مراکشی لگی، عادتاُ اس سے پوچھ بیٹھا ، مروکن ہو، جواب ملا اگر ناں ہوں تو؟؟ ہیں ،اب میں  ہڑبڑا گیا۔ ارے نہیں میں نے تو بس پوچھا ہی ہے؟؟ اہو اچھا۔ میں فرینچ ہوں۔ پر میرے بزرگ الجیریا کے تھے۔ دھت تیرے کی۔ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ نہیں میں لاہور کا نہیں بلکہ جالندھر کا ہوں۔ ہلا چلو، سانوں کی۔
ہوٹل میں بیگ  رکھا، کپڑے اور شیو کا سامان رکھا اور نیچے اتر ا اور   فون  پر پھر سے شانزے لیزے ایوینیو  پر آرک دے ٹریومپف کا نقشہ دیکھا، کیمرہ اٹھایا،  ہوٹل سے نکلا اور دو میٹروز پکڑتا ہوا  2 بجے ادھر جاپہنچا ۔
ادھر اس دن گھوڑوں کی ریس کا فارمولہ ون  تھا۔ قطر اسکا آفیشل سپانسر تھا۔ شارہراہ کے دونوں طرف قطر کے جھنڈے  اور ریس کورس کے علم لہرا رہے تھے۔  کالے برقعے پہنے ہوئے  چیٹی سفید قطرنیاں اور انکے ساتھ کالے کالے قطری ، وللہ  وللہ ، ھنا، طعال کے نعرے ماررہے تھے۔ گویا پیرس اغوا ہوچکا تھا۔  یا پھر میں قطر پہنچ چکا تھا۔ اور قطری شہزادے ، شہزادیاں میرے اردگرد ہی تھے۔ شام کی روشنیوں  میں ویسے ہی  بندہ اکیلا پن زیادہ محسوس کرتا ہے

میں اپنے ساتھ کی قطری  شہزادی کے بارے سوچتا  ہوا ،  جو کہیں بھی نہ تھی ادھر ادھر کی فوٹوز کھینچتا رہا۔  فوٹو کھینچتا رہا۔ فیراری، اور ہوملیس کتے کے ساتھ اسی سڑک پر تھے، لوئیس ویٹون کے جوتے اور پانچ یورو لیکر رکشہ میں شانزےلیزے ایوینیو کی سیرکروانے والا، تیونسی نما فرینچ۔ ، دیکھتا رہا اور   بس پولے پولےفوٹو بناتا رہا۔  اور انتظار کرتا رہا باقی دونوں ساتھیوں کا جنکو شام گئے آنا تھا۔ اکتوبر کی شام صرف ایک کوٹ میں اچھی بھلی ٹھنڈی ہوجاتی ہے۔
مجھے جو چیز پیرس کی سب سے اچھی لگی وہ اسکی ٹرانسپورٹ کا نظام تھا جہاں ریل، آری آی آر، میٹرو اور بس ایک ساتھ بندے کو اسکی منزل تک پہنچا دیتی ہیں۔ میٹرو اسکی کوئی ڈیڑھ سو برس پرانی ہے، پر چل رہی، ٹرینیں پرانی ضورر ہیں، پر کوئی دھماچوکڑی نہیں اور یہی وہ چیز ہے جو پیرس کو پیرس بناتی ہے۔ اتنے بڑے شہر میں اگر آپ کسی کو کہہ دیں کہ 30 منٹ  بعد ملیں گے تو  ایسا ہوتا ہے۔ ابھی لاہور، راولپنڈی، ملتان ،  پشاور میں ماس ٹرانسپوٹیشن  کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ چلو ایک صدی بعد ہی سہی پر کچھ کام چلا تو،  لاہور کی رونقیں ہوں یا پشاور کی ، یا پھر پنڈی میں موتی محل سے راجہ بازار پیدل جانا ہو، میرے لئے ہمیشہ خوابناک رہا۔ پر پاکستان  کے شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ پر آپ نہ کہیں وقت پر پہنچ سکتے تھے اور نہ ہی کسی کے پہنچنے کی توقع کرسکتے تھے۔ 
جبکہ میں  پورے تین دن اپنے ہوٹل سے دو بسیں بدل کر اور ایک ایک ٹرین پکڑ کر  کامپو دے ناتسیون پہنچ ہی جاتا تھا۔ نہ کوئی بھولنے کا رولا اور نہ دیر سے پہنچے کا خوف۔ 
پیر کو پھر فلائیٹ ہے فرینکفرٹ کی ۔ 

مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 01, 2017

بندہ مزدور اور رومن غلام

میں اپنے اطالوی دوستوں سے یہ سوال کرتا ہوں:
تم نے جو رومن تاریخ پڑھی ہے، بلکہ اسکے ماہر ہو،     رومنز کا زمانہ غلامی کے نظام کا بدترین زمانہ سمجھا جاتا تھا، رومنز کے زمانے میں غلاموں کے کیا حقوق ہوتے تھے؟؟
جواب آتا ہے " ہیں؟؟ غلاموں کے کیا حقوق ہوئے؟؟  کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے غلاموں کے۔
ہیں؟؟ ایسا کیسے ہوا۔ کیا غلاموں کو  کھانا نہیں دیا جاتا تھا؟؟   حیرت سے، " ہاں دیا جاتا تھا"۔
کیا غلاموں کو سونے کےلئے جگہ نہیں دی جاتی تھی؟ ایک چھت ایک بستر، کوالٹی کچھ بھی ہو، چاہے "پیال" ہی ہو۔
جواب آتا  پھر حیرت سے " ہاں دیا جاتا تھا"۔
اچھا ، تو کیا انکو  لباس نہیں دیا جاتا تھا، تن ڈھانکنے کو؟؟  چاہے ایک لنگوٹ ہی ہو؟
پھر حیرت بھری تائید " ہاں  وہ بھی دیا جاتا ہے" ۔ اور ساتھ ہی اس موضوع پر "دماغی ریفلیکشن شروع ہوجاتا ہے،  تبصرہ آجاتا ہے " پر یہ سب تو انکو زندہ رکھنے کےلئے ضروری ہے، ورنہ وہ تو مر جائیں"۔
بلکل اور اگر غلام مرجاویں گے تو پھر کام کون کرے گا۔ مالکوں نے خود تو کرنا نہیں۔  اب ترتیب یہ ہوتی تھی کہ غلام کو صرف اتنا ہی دیا جائے  جو اسکو زندہ رہنے کو کافی ہے۔ اس سے زیادہ  "قطرہ " بھی نہیں۔  اسکے ساتھ ساتھ۔ غلام کا کام تھا کہ  وہ مالک کے ہر حکم کو بجالائے اور اسکی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری و اوقات کار  کا خیا ل رکھے۔
یہاں تک ٹھیک ہے۔
اب ایک تجزیہ کیجئے ہمارے آج کے مزدور کا، یورپ میں مزدور کی حالت سب سے بہتر ہے۔
ایک ہزار عمومی تنخواہ سوپچاس کم یا زیادہ، پاکستانی کرنسی میں  ایک کو ایک سو پندرہ  سے ضرب دے لیں۔  ایک یورو برابر 115 روپئے۔
اس  ایک ہزار میں سے 
 450 گھر کا کرایہ
100 مختلف یوٹیلیٹی بلز
200 کھانے  کا خرچہ
50  کپڑے جوتے اور دیگر لوازمات
باقی دوسو بچے تو وہ گاڑی کی قسط اور پیٹرول کا خرچہ، یا پھر 100 کا بس کا مہینہ بھر کا پاس۔
آپ ہی بتاؤ۔ گاڑی اسکو چاہئے کہ کام پر وقت سے پہنچ سکے۔
گھر اسکےلئے صرف سونے کی ایک جگہ ہے۔
بجلی گیس پانی  چاہئے۔
کھانا واجبی سا کھانا ہی ہے۔
آج بھی مزدور مالک کے سامنے اونچی بات نہیں کرسکتا، اسکو دیکھ کر سلام کرتا ہے اور نظر جھکا کر بات کرتا ہے۔ 
اسکے سامنے اپنی رائے نہیں رکھ سکتا۔ 
مجھے یاد ہے ہم اپنے مرغی خانے میں ملازموں کی تنخواہ  "فیڈ  کے خالی توڑے" بیچ کے دیتے تھے۔ یا پھر مرغیوں کی بیٹوں والا برادہ بیچ کر۔ 
کیا یہ سب رومن کے زمانے کے مزدوروں والے حالات نہیں؟؟؟؟ آپ ہی بتاؤ؟؟




مکمل تحریر  »

سوموار, اپریل 24, 2017

وعدہ خلافی ہمارا عمومی رویہ ہے


ڈاکٹر سلیم الموید میرے دوست ہیں کولیگ بھی، وہ فیملی ڈاکٹر ہیں اور میں اس پولی کلینک کا ہومیوپیتھ۔ ۔ دوست اسلئے کہ وہ فلسطین سے ہیں اور میں پاکستان سے۔ ہمارے بیچ اسلام علیکم کا رشتہ ہے جو ہم دنوں کو فوراُ قریب کردیتا ہے۔ میری ان سے ملاقات اکثر کام کے دوران ہی ہوتی ہے، کبھی کبھار باہر اتفاقیہ ملاقات ہوگئی۔ یا وھاٹس اپ پر کوئ چٹکلہ شئر کردیا۔ شاید گزشتہ دو برس سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں ہم۔
پرسوں مجھے وھاٹس اپ میسج آیا "کب فون کرسکتا ہوں؟" میں نے جواباُ کال کی۔
کہنے لگے "تمھاری ضرورت ہے۔ کلینک سے باہر کسی جگہ پر ملنا چاہتا ہوں"۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ابھی تو میں شہر سے باہر ہوں۔ میں کل واپس آؤں گا اور آپ کو فون کروں گا اور طے کرلیں گے کہ کہاں اور کب ملاقات ہوسکتی ہے۔
آج دن کو کال کی۔ کہنے لگے میں اولڈ ھوم سے چاربجے فارغ ہونگا، تو ملتے ہیں۔ ادھر "سابلون کیفے" میں۔ چلو ٹھیک ہے۔
میں چاربجے وہاں پہنچا تو نہیں تھے۔ فوراُ کال آگئی،"ایک مریض کی طبیعیت اچانک خراب ہوجانے کی وجہ سے ابھی نکلا ہوں۔ دیکھ لو اگر انتظار کرسکتے ہو تو دس منٹ میں پہنچتا ہوں"۔ میں نے کہا : "کوئ بات  نہیں آجاؤ"۔
دس منٹ بعد ہم کافی کا آرڈر دے رہے تھے اورایک کیس ڈسکس کررہے تھے۔


الف میرے شہر کے ہیں اور پاکستان میں بقول انکے میرے شاگرد بھی رہے۔ یہاں اٹلی میں شروع میں جب آئے تو انکو ساتھ جاب پر بھی لگوایا اور گھر میں بھی رکھا۔ ہم لوگ اپارٹمنٹ شئرنگ میں شاید کچھ برس اکٹھے رہے۔ کھانا پینا، کام کاچ سب ایک ساتھ۔
پھر وہ ایک دوسرے شہر شفٹ ہوگئے اور میں ایک اور شہر میں۔
کبھی کبھار رابطہ ہوجاتا۔
گزشتہ ہفتے انکا فون آیا۔ کہنے لگے کبھی چکرلگاؤ، میں نے بتایا کہ میرا ویک اینڈ پر کورس ہے، فلاں جگہ پر، رات کو میں نے ادھر ہی ٹھہرنا ہے ہوٹل میں۔ یا تو ہفتہ کی شام کو ملاقات ہوسکتی ہے فراغت سے یا پھر دوپہر کو کھانے کے وقفہ کےلئے ڈیڑھ گھنٹے کےلئے۔
کہنے لگے واہ جی واہ وہ تو مجھ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ بس ٹھیک ہے میں شام کو آپ کو پک کرلوں گا۔ ملاقات ہوگی۔
چلو ٹھیک ہے، میں رابطہ کرلوں گا۔
گزشتہ ویک اینڈ پر میں اس شہر میں کورس پر تھا۔
حسب وعدہ میں نے انکو وھاٹس اپ کردیا کہ جناب میں پہنچ گیا ہوں۔


شام کو انکا فون آیا کہ میں آج مصروف ہوں کل شام کو، عرض کیا کہ کل تو میری واپسی ہے۔ اچھا دوپہر کو کیا پروگرام ہے؟
دوپہر کو ڈیڑھ سے تین بجے تک فری ہوں۔ چلو ٹھیک ہے، میں ڈیڑھ بجے ادھر ہوٹل ہونگا۔ بس ٹھیک ہے۔
میں نے ڈیڑھ بجے فون کیا تو، ایک بچے نے اٹھایا۔ آپ کون ہیں؟؟ اور کس سے بات کرنی ہے؟؟ اپنا تعارف کرویا تو اس نے فون اپنی ماں کو تھمادیا، وہ فرمانے لگیں کہ "وہ" تو گھر نہیں ہیں اور فون بھی گھر چھوڑ گئے ہیں۔
میں نے "چلو ٹھیک ہے" کہہ کر فون بند کیا اور اپنے کھانے کی میز کی طرف چلا گیا۔
پھر انکی طرف سے کوئی رابطہ نہیں۔ شاید ابھی تک گھر ہی نہ پہنچے ہوں۔

 یا پھر  "وڑے" کہہ کر فون بچے کو تھما دیا ہوگا۔  کہ کہہ دو "ابا گھر پے نہیں ہے۔ بچہ شاید بات سنبھال نہیں سکا اور اماں کو پکڑا دیا ہوگا فون۔ 
اور میں کل سے سوچ رہا ہوں، کچھ بھی ہوجاوے ہم پاکستانیوں کی عادتیں نہیں بدلیں، وقت کی پابندی نہ کرنا اور وعدہ خلافی ہمارا  عمومی مزاج ہے۔ 






مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 19, 2016

گورا گاڑی کا حادثہ اور معشوقیں

منگل کو البینیازیگو ایک دوست کے میڈیکل اسٹور پر گیا۔ سڑک کے دوسری طرف گاڑی کھڑی کی، جہاں پر سفید لکیریں لگی ہوئی باقاعدہ پارکنگ تھی، جو کہ مفت ہوتی ہے، اور اسکو دیکھ کر ہی ہمارا دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ ورنہ نیلی لکیروں والی پارکنگ بھی ہوسکتی ہے۔ جو سرخ آنکھوں والے جن کی طرح گھوررہی ہوتی ہے۔ یورپ میں “فری فنڈے” کی پارکنگ کا مل جانا بندے کی خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ادھر کوئی دو گھنٹے تک بیٹھ کر “گلاں ماردے” رہے۔ ایریکا اپنی پرانی دوستوں میں سے ہے۔ میرے پاس بھی کافی فارغ وقت تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے معالجاتی تجربے شئر کرتے رہے۔ ایک دو نئی ادویات پر بھی بحث ہوئی، میں نے اسے اپنے زیر استعمال “ونکا مائیر” والے بال اگانے کے فارمولے کے بارے بتایا کہ کس طرح کام کرتا نظر آرہا ہے۔ اور میرا گنجا پن دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پس اگر یہ کام کرگیا تو میں نے بالوں کو اگانے والے بابے کی طرح اپنے آپ کو اسپیشلسٹ قرار دے لینا ہے۔ سنا ہے اس شعبہ میں بہت “ کمائی “ ہے۔ مطلب “آم کے آم اور سونے کے دام”۔

بدھ کے روز صبح گھر سے نکلا ، گاڑی کے پاس پہنچاتو دیکھا تو گاڑی کی ونڈ اسکرین پر ایک پوسٹ اٹ پڑا ہوا تھا، وائیپر کے نیچے دبا ہوا۔ اس پر 
یہ تحریر تھی: بے احتیاطی سے آپ کی گاڑی کو”ٹھوک” دیا ہے۔ نیچے فون نمبر اور ایک نام لکھا ہوا تھا۔

لوجی فوراُ خیال آیا کہ کسی نے رات کو ٹھونک دی ہے۔ کوئی بچارا نیند کا مارا کام کرگیا، یا پھر "کوئی ٹُن" ہوگا۔
 پر دیکھو جی گورے کی تربیت اور اچھائی کہ اس نے “چٹ” چھوڑ دی ہے۔ فوراُ یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاکستان میں ایسا ہوتا تو اول تو مارنے والا چپکے سے نکل لیتا، اور اگر کوئی دیکھ بھی لیتا تو بھاگ لیتا۔ پکڑے جانے پر اسکو کُٹ بھی پڑنی تھی۔ اور خرچہ بھی بھرنا پڑتا۔ پر گورے کو اپنے سسٹم پر اعتماد ہے۔ کہ انشورنس نے پیسے بھرنے ہیں۔

میں نے گاڑی کو آگے پیچھے سے دیکھا، تو کچھ کچھ نظر نہیں آیا کہ کدھر سے لگی اور کیا نقصان ہوا۔ پھر دیکھا کہ سامنے والے مڈگارڈ پر نیچے دھند والی لائیٹ کے ساتھ ایک ہلکا سا “چیر” آیا ہوا ہے۔ کچھ خاص نقصان نہ تھا۔ میں نے کہا چلو جی کچھ نہیں ہوا۔ چلو چھڈو پراں۔ ہیں جی۔ خیر ای اے۔ پرانی گاڑی ہے، کوئی گل نہیں۔


کل اس نمبر پر تجربہ کے طور پر فون کیا تو جواب ملا کہ میں تو کال کا اتنظار کررہا تھا۔ پریشان تھا کہ وہ “چٹ” کہیں ہوا میں ہی نہ اڑگئی ہو۔ بہت پریشان تھا میں، کہ منگل کو حادثہ ہوا تھا اور وہ بھی البیانیزیگو میں۔، میں نے بہانہ کردیا کہ مصروفیت کی وجہ سے فون نہ کرسکا۔ ۔ کہنے لگا کہ آپ کسی ڈینٹر سے پتا کروائیں
کتنا خرچہ آتا ہے اگر زیادہ ہوا تو انشورنس بھر دوں گا نہیں تو کیش دے دوں گا۔


آج صبح ایک ڈینٹر سے پتا کروایا تو اس نے کہا کہ مڈگارڈ تبدیل ہوگا 650 یورو کا خرچہ ہے۔ پھر ایک اور سے بات ہوئی تو کہنے لگا اس کو “جیل” لگا کر مرمت کردوں گا ، 200 یورو میں ہوجائے گا۔

میں نے میسج کردیا۔ جواب آیا کہ چار بجے ملیں جہاں آپ کہیں۔ میں نے اسی علاقہ میں ایک بار کا بتایا۔ ، میں البینیازیگو پہنچا۔ بندہ ادھر موجود تھا۔ اگلے   اس بندے نےمعذرت کی، کہ آپ کو خوامخواہ میں پریشانی ہوئی۔ اچھا چلو جو ہوا سو ہوا۔ اب چلیں بار میں کافی پیتے ہیں اور بات کرتے ہیں۔

میں نے کافی کا آرڈر کیا دونوںکےلئے  اور اس سے پوچھا: 
تو بتائیں جناب کیا کرنا ہے، میں نے کہا کہ بہتر ہے پیسے دو اور مرمت کروا لیتا ہوں مڈگارڈ کی، بدلی کروانے کی بجائے۔ اس نے  فوراُ 200 یورو نکال دئے، تب تک میں دو عدد کافی آرڈر کرچکا تھا۔ 

اور اس سے پوچھا: ہوا کیا تھا؟؟ ادھر تو پارکنگ بھی کافی تھی، میرے خیال میں۔ کہ زیادہ رش بھی نہ تھا۔ پھر؟؟
کہنے لگا کہ ہاں ایسے ہی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر کے پاس جانا تھا۔ پاس ہی، ادھرگئے تو آپ کی گاڑی کے سامنے ایک گاڑی کی جگہ خالی تھی اور پھر ایک گاڑی کھڑی ھی۔ اسکے آگے تین گاڑیوں کی جگہ خالی تھی۔

تب تک اسکی آواز بدل چکی تھی۔ کہنے لگا میرے ساتھ میری معشوقہ بیٹھی ہوئی تھی۔ اور پتا ہے میں نے گاڑی کہاں کھڑی کی؟؟ جہاں پر ایک گاڑی کی جگہ تھی۔ وہ کہ کہنے لگی، پیچے پیچھے اور پیچھےاور ، اور ، اور ، اور پھر پتا اس وقت چلا جب آپ کی گاڑی کو ٹھوک چکا تھا۔ اب میں اتنا برا بھی نہیں کہ بھاگ جاؤں، میں نے، آپ کی گاڑی پر ایک پیغام چھوڑا اور کال کا انتظار کرنے لگا۔ پر میں ایک بات بتاؤں آپ کو، بندے کو یہ معشوقیں ہمیشہ مرواتی ہیں۔

چلو سستے چھوٹے،  ہم نے کافی پی، اور ایک دوسرے کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اپنی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔ اچھا جی، پھر ملیں، گے، ضرور، پھر سے معذرت۔ ہیں جی


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

جمعہ, جون 05, 2015

چاند چڑھانے پر جھگڑا

آج کا جمعہ کا خطبہ بہت لمبا تھا۔ مولوی جی نے سارا وقت چاند دیکھنے کےساتھ ساتھ سورج اور چاند کے اپنے مقررہ محور میں رہنے کی آیات و احادیث  بیان فرمائیں۔

انتشار امت کا ذکر فرمایا۔ چانددیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید کرنے والی حدیث کو بیان فرما کراجہتاد امت کا بیان بھی فرمایا، اور پھر سائنسی ترقی کا بھی بیان فرمایا۔ امت مین انتشار پھیلانے سے سختی سے منع کیا، پھر فرمایا کہ علماء یورپ کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلا روزہ 18 جون کو بروز جمعرات ہوگا انشاء اللہ۔ تو جناب تمام اہل اسلام کو شعبان کی ساعتیں مبارک اور من تقبل رمضان۔


ہیں جی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اجتماع امت میں خیر ہے۔ امت کو چاہئے کہ علماء کے اس فیصلہ پر جمع ہوجائے۔ ہم کسی ملک بادشاہ یا حکمران کو نہیں مانتے۔

ہیں جی۔

پس ثابت ہوا، اجتماع امت صرف وہ ہے جس میں امت المولبیان الیورپ کے پیچھے چلے۔ نہ کہ امت کا اجتماع اس حدیث مبارکہ پر ہے کہ چاند دیکھو اور روزہ رکھو چاند دیکھو اور عید کرو۔ نہ نظر آئے تو قیاس کرلو۔

پاکستان میں پھر بھی کچھ نہ کچھ تردد کرتے ہیں کہ کچھ الموبیان القدیم  جو یہ موٹی سی دبیز شیشوں والی عینک لگائے موٹے حرفوں والا قرآن مجید پڑھتے ہیں، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھ رہے ہوے ہیں، جبکہ حالت انکی یہ ہوتی ہے انکو اپنی عینک تک دکھائی نہیں دیتی۔ 
بندہ کہے مولانا جی کسی جوان " منڈے " کو ہی دوربین دے دو، شاید اسکو چاند نظرآبھی جائے۔ مگر یہ شک  ہی کرتے  ہیں کہ اس نے ضرور ساتھ والی چھت پرچاند دیکھا ہوگا۔ 

وللہ اعلم میں کوئی عالم دین نہیں ہوں مگر دین کے معاملے میں  المولبیان کے پیچھے چلنے کی بجائے سنت نبویﷺ پر عمل کرنا بہتر سمجھتا ہوں، چاند دیکھو، نہ نظرآئے تو کیلنڈر دیکھ لو ، یا المولبیان کے پیچھے چل پڑو۔ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش