اتوار, اگست 18, 2013

وصال یار

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا 
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا
تِرے وعدے پر جِئے ہم، تو یہ جان، جُھوٹ جانا
کہ خوشی سے مرنہ جاتے، اگراعتبار ہوتا
تِری نازُکی سے جانا کہ بندھا تھا عہدِ بُودا
کبھی تو نہ توڑ سکتا، اگراستوار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نِیمکش کو
یہ خلِش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
یہ کہاں کی دوستی ہےکہ، بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا
رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہوکہ، پھر نہ تھمتا
جسے غم سمجھ رہے ہو، یہ اگر شرار ہوتا
غم اگرچہ جاں گُسل ہے، پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے، شبِ غم بُری بلا ہے
مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا
ہوئے مرکے ہم جو رُسوا، ہوئے کیوں نہ غرق دریا 
نہ کبھی جنازہ اٹھتا، نہ کہیں مزار ہوتا
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بُو بھی ہوتی توکہیں دوچار ہوتا
یہ مسائلِ تصّوف، یہ ترا بیان، غالبؔ
تجھے ہم ولی سمجھتے، جو نہ بادہ خوار ہوتا

مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 27, 2012

میں کی کراں

یار یہ جو جم ہوتا ہے بہت کتی چیز ہے، قسم سے 3 دن سے شروع کیا ہوا، مگر جب تک ادھر رہو، فٹ فاٹ، فل آف انرجی اور ادھر سے نکل تو درداں، ہائے میں کی کراں

مکمل تحریر  »

جمعرات, اکتوبر 27, 2011

اپنا ہیرو

ہیرو  ہمیشہ ہی بڑا ہوتا ہے اور کچھ کرجاتا ہے یہاں کچھ سے مراد واقعی کچھ  ہے ،    ورنہ ہیرو نہیں اور جو کچھ بھی ہو،  یہ ہیرو  ہر فلم کا اپنا  ہوتا اور پوری فلم اسی کے گرد ہی نہیں بلکہ اسکی کے سر بھی ہوتی ہے۔ مگر فلم کے باہر بھی ہیرو ہوتے ہیں عام زندگی کے خاص لوگ ،     ہر محلے کا ہیرو بھی ہوتا ہے اور کالج کا بھی ،  اس طرح کے ہیرو بابے لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتے اور باباز کہتے پھرتے ہیں بڑا ہیرو بنا پھرتا ہے۔

کالج و محلے کے علاوہ کچھ عام زندگی کے خاص ہیرو ہوتے ہیں جو اکثرقومی درجہ کے ہوتے ہیں کچھ وہ جو کچھ کرتے ہیں اور نام پاتے ہیں تمغے حاصل کرتے ہیں ،   مربعے ا ور بنگلے بھی پاتے  ہیں اور کچھ وہ جو بہت کچھ کرجاتےہیں  مگرانکا  نام کوئی نہیں جانتا انکو بہت ہی گھمسانی اردو میں گمنام ہیرو کہا جاتا ہے اس سے کمزور دل لوگ یہ   نہ  سمجھ لیں کہ خدا ناخواستہ  اس کا نام کہیں گم ہوجاتا ہے بلکہ یہ لوگ اتنے غنی ہوتے ہیں کہ  بہت کچھ دینے کے باوجود کچھ بھی نہیں لیتے  انکا کوئی نام تک نہیں جانتا،   البتہ کچھ ہیرو عالمی ہوجاتے ہیں گریٹ الیگزنڈر   طرز کے جو پوری دنیا کے لوگوں کے دماغوں میں گھس بیٹھتے ہیں۔ 

ادھر اٹلی میں جب بھی کبھی تاریخ و ثقافت پر بات ہوتی ہے تو انکے اپنے ہیرو ہیں فلم کے بھی اور تاریخ کے بھی جو جولیس سیزر سے لیکر گارلی بالدی تک پھیلے ہوئے ہیں  جس طرح ہماری تاریخ پاکستان میں محمد بن قاسم سے لیکر ٹیپوسلطان اور پھر قائداعظم کی طرح کے سنگ میل قسم کے ہیرو ملتے ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم ان  کے ہیروز کو نہیں جانتے اور یہ ہمارے والوں کو ماننے کو تیار نہیں ہیں۔
 
 ملک کے اندر اس وقت جو صورت حال ہے اس میں بھی مختلف لوگوں کے مختلف ہیرو ہیں بقول   مولوی خالدصاحب کے اس وقت پانچ ہیرو موجود  ہیں  ب   ز  ن  ع  اور ف   ۔   ان میں سے ہر کوئی   اپنا  اپنا گروہ رکھتا ہے اور اسکا گروہ دوسرے کو کچھ سمجھتا  نہیں ۔   آج کل ہیرو کےلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ باکردار ہو، بہت طاقتور ہو یا پھر ہاتھ میں توپ لئے گھوم رہا ہو۔  ناں  بلکہ پکی ناں ہم اس ہیرو کو  صرف اس لئے ہیرو مانیں گے کیونکہ وہ ہمیں پسند ہے  بھلے اس پر جتنے ہی کیس ہیں رشوت خوری کے یا فیر حرام خوری کے،  بھلے وہ بندے مروا کر ولائت جا بیٹھے، یا پھر ایک دن امریکہ سے فنڈ لائے اور دوسرے دن اسکے خلاف دو دن کا دھرنا دے مارے۔  جتنی بار اسکے دل کرے وسیع ترقومی مفاد میں حکومت میں چلا جائے یہ باہر ہوجائے۔  کوئی مرے کوئی جئے کھسرا گھول پتاسے پیئے کے مطابق عوام مرے یا جئے وہ اپنے بال لگوائے گا یا کبھی کبھار کہہ بھی دے گا کہ جناب اب بس کرو۔

کسی سیانے بندے کے بقول  ہر بندے کا اصلی ہیرو وہ خود ہوتا ہے اور اپنے جیسے سارے بندے اسے اچھے لگتے ہیں،  اگر یہ صاحب قول واقعی سیانا ہے پھر تو خطرے کی گھنٹی ہے اس کی بات  کیونکہ اسکا مطلب ہے کہ ہم  سب ان ہیں جیسے ہیں اگر ہم سب  ب ز ن ع اور ف کی  طرح کے ہیں تو پھر  بطور قوم  ہمارے دن گنے گئے ہیں۔   آپ کا کیا  کہ خیال ہے  بجائے اس  کے کہ کوئی اور سیانا بھی اس طرح کی باتاں کرے  ہمیں اپنے ہیرو تبدیل کر نہیں لینے چاہئیں؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش