جمعہ, نومبر 18, 2016

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:


ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد 
اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک
ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

 
کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست
کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-

"
ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی
دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”

Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 10, 2015

کچھ ھیکرز کے بارے میں۔

ھیکرز جنات ہوتے ہیں اور انکے پاس وہ طاقت ہوتی ہے کہ بس بندے کے کمپوٹر میں سے ہرچیز کھینچ کے لے جاتے ہیں، پاسورڈ، کریڈٹ کارڈز کی معلومات اور جانے کیا کیا ، یہ سب وہ خبریں ہیں جو ہمیں اخبارات اور رسائل سے دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ حال وائرس کا بیان کیا جاتا ہے۔
بقول چچا غالب کے :

پس از مرے گھر سے یہ ساماں نکلا،۔۔۔۔۔ کچھ حسینوں کے خطوط  چند تصویر بتاں
اگر یہ شعر الٹا محسو س ہورہا ہے آپ کو تو برائے مہربانی ادھر ادبی تنقید کرنے کی بجائے، سائنسی موضوع پر توجہ مرکوز فرمائیں،  تو
جب آپ کے کمپوٹر میں ہی کچھ نہیں ہونا تو نکلنا کیا؟؟؟  توجنابو، ایویں ای ٹینشن لینے کی لوڑ  نہیں ہے۔ آپ کے کمپوٹر میں سے ھیکرز کو مرتے مرجائیں  "مینگو مطلب امب" بھی نہیں ملنے  والا۔
تو صاحبو اگر آپ کا تعلق اس گروہ سے ہے تو اس تحریر کو پڑھ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں اور فوراُ سے پیشتر  اس لنک پر کلک کرکے نکل لیں اور اپنے وقت کو کسی اچھے کام میں برباد کریں۔ تہاڈی مہربانی۔
چونکہ آپ ابھی تک یہی سطور پڑھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ آپ پڑھتے جائیں۔ عین ممکن ہے کہ اس تحریر کے اختتام تک آپ خود ھیکر بن چکے ہوں، یا محلے میں دستیاب پانچ سات ھیکرز کو پہنچاننے کے قابل ہوجاویں گے۔
تو جناب ایسا بھی کچھ نہیں ہونے والا، بس یہ ہوگا حد سے حد کہ آپ  کو کچھ اندازہ ہوجائے گا کہ آپ پر ھیکرز نے حملہ کردیا ہے اور آپ کی تھوڑی سی توجہ اپنے کمپوٹر کو انا للہ وانا الیہ راجعون ہونے سے بچا سکتی ہے۔
مقاصد۔
ھیکنگ کے جو مقاصد ہیں ان میں تو شامل ہے کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات،  آپ کے کریڈیٹ کارڈز کے بارے میں معلومات، اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیلات  آپ کے کمپوٹر سے اڑا لی جائیں۔
اب بندہ پوچھے کہ ان کا وہ کریں گے کیا؟؟ تو جناب یہ کریں گے کہ آپ کے بنک میں سے  پیسے اڑانے کی کوشش کی جائے گی۔ آپ کے کریڈٹ کارڈز میں  سے پے منٹس کی جائیں گی۔ اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیل آپ کے کاروباری مخالفین کو بیچ کر پیسے کمانے کی کوشش  کی جائے گی۔ مگر یہ سب کچھ ایک عام کمپوٹر یوزر سے متعلقہ نہیں ہے، اگر آپ اپنے کمپوٹر سے اپنا بینک اکاؤنٹ  نہیں آپریٹ کرتے، کریڈٹ کارڈ آپ کے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو وہ اپ عیدو عید ہی استعمال کرتے ہیں یا صرف رشتہ داروں کو جلانے کو رکھا ہوا ہے ۔ آپ بزنس کی بجائے کسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرتے ہیں تو پھر جناب آپ دودھ پی کر سوجائیں، آپ کا کوئی کچھ نہیں اکھاڑ سکتا۔ 
ہاں آپ کے ساتھ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا فیس بک  اکاؤنٹ ھیککردیا جاوے اور آپ کو زک پہنچانے کی کوشش کی جائے  یا ای میل ھیک  کرلی جائے اور آپ کی میلز ضائع ہوجائیں۔ تو جناب  ایسی صرف میں آپ کا مالی نقصان تو ہوگا نہیں البتہ خواہ مخواہ کی ٹینشن البتہ ہوگی اور وہ بھی مفت میں۔
پس آپ کو اگلی قسط کا انتظار کریں
جس میں ہم ان کا طریقہ  واردات بیان فرمائیں گے اور اسکے بعد انکا تدارک بھی بیان ہوگا۔
تب تک آپ اسی پر کمنٹس کرتے رہیں 

مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 17, 2014

فیس بک کی یکیاں۔ آج کی یکی

چند لمحے قبل مجھے فیس بک پر ایک فرینڈ ریکویسٹ موصول ہوئی، میں چونکہ فیس بک کو بہت زمانے سے اور مختلف زبانوں مین استعمال کرتا ہوں جیسے، اردو، انگلش اٹالین اور اسپرانتو، میں تو روانی سے کام چلتا ہے، باقی کی زبانیں توڑ موڑ کر گوگل ٹرانسلیٹر کی مدد سے، اسی طرح ملک ملک گھوم گھوم کر، اپنے کام کے سلسلہ مین بھی لوگوں سے رابطہ رہتا ہے، تو اس وجہ سے کافی سارے لوگ اپنے ساتھ رابطہ میں ہیں، کچھ جاننے والے ہیں اور کچھ نہیں، پر میں ایڈ تقریباُ سب کو ہی کرلیتا ہوں۔ کبھی کبھار ہی نوبت آتی ہے، ایسے ہی بہت کم بندوں کو ان فرینڈ کرتا ہوں۔ آج ایک بہت عجیب سے فرینڈ ریکوسٹ موصول ہوئی، ایک بہت ہی خوبصورت چہرے والی لڑکی کی طرف سے، مگر ہیں اسکی پروفائل میں تو کچھ بھی نہیں ہے، صرف ایک ڈی پی اور بس نہ کوئی فرینڈ، نہ کوئی ایکٹوییٹی۔

چونکہ بی بی کی شکل ممارخ بہت خوبصورت تھی، تو سوچا کہ ایسے اگنور کرنا اچھی بات نہیں ہے خان صیب۔ کسی دا دل نہ ڈھائین جے رب دلاں وچ رہندا

اور وہ بھی کسی بی بی کا دل ڈھانا، نہ جی نہ، توبہ توبہ، اللہ معافی، ایسی غلطی، ناں ناں ناں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بس پھر کیا پوچھ مارا  کہ بی بی آپ کون ہو، جواب ملا کہ میں آپ کو وینس مین ملی تھی، سوچا، اچھا خان جی ملی ہوگی،  پر یاد نہیں آرہا، اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اپنی یاداشت بری ہے، چہرے اور جگھہیں تو یاد رہتی ہی ہیں، اسی طرح لکھا ہوا بھی یاد رہتا ہے، خیر ایڈکرکے تو دیکھو، میں نے ایڈ کرلیا تو اسکے بعد غائیب۔  نہ کوئی سوال نہ کوئی جواب

مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ یہ فلم کیا ہے، اور کس چکر میں اس طرح کے لوگ ایڈ کرتے ہیں پھر غائیب ہوجاتے ہیں، مجھے تو کوئی یکی ہی لگتی ہے، پر کیا اسکی سمجھ اپنے کو نہیں آئی ابھی تک, اگر کسی اور کو سمجھ آئی ہو تو بتا دو

مکمل تحریر  »

منگل, ستمبر 10, 2013

ہمارے رویئے

ایک فون کال
اور بھاگتا ہوا کوئی گیا
بن کے ہوا
مسئلہ حل ہوا
خدا کا شکر ادا کیا
پھر خدا حافظ کہا
پھر ملیں گے کا وعدہ
جب فراغت ہوگی
فون پر بات ہوگی
اچھا تفصلی ملاقات ہوگی
پھر کئی دن گزر گئے
موسم بدل گئے
نہ کوئی فون نہ سلام
نہ کوئی ای میل نہ پیغام
میں نے سوچا
کیا ہوا
میں ہی فون کرتا ہوں
احوال پوچھتا ہوں
فون کی گھنٹی بجی
اور بجتی ہی رہی
جواب ندارد
پھر نمبر ملایا
چوتھی بیل پر اٹھایا
جی کڑا کر بولے
بہت بزی ہوں
اور اوپر سے تم بار بار
فون کرکے تنگ کررہےہو
میں کہا تو تھا کہ پھر کبھی بات ہوگی
فراغت کے ساتھ
تفصیلی ملاقات ہوگی
یہ نہ پوچھا کہ خیریت تو ہے
کسی کام سے تو یاد نہیں کیا
سوکھے منہ بھی نہیں 


یہ ایک آزاد نظم ہے، شاید بہت ہی آزاد ہے، کچھ زیادہ ہی، مگ یہ نظم خود ہی سے لکھتی چلی گئی، گویا ایک نظم نہیں بلکہ ایک واردات ہے ، روز مرہ کی واردات، یہاں یورپ میں رہتے رہتے اب تو ان رویوں سے دل بھی دکھنا بس کرگیا ہے۔ 
مگر کبھی کبھی پھر ایک احساس سا جاگ اٹھتا ہے


مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 30, 2013

جھگڑا کرنا

جھگڑا دو یا دو سے زیادہ بندوں کے بیچ فساد کو قرار دیا جاتا ہے، جس کی حد زیادہ سے زیادہ ہاتھا پائی تک ہے اور کم سے کم منہ بنانا اور ایک دوسرے کو آنکھیں دکھانا۔  شہدے لوگ سنا ہے سڑی ہوئی باتوں سے بھی کام چلا لیتے ہیں، مگر میں اسے شہدہ کام ہی سمجھتا ہوں۔  

جھگڑے کی وجوہات
یوں تو جھگڑے کی بہت سی وجوہات ہیں، مگر سب سے بڑی وجوہات دو ہوتی ہیں اول تو جھگڑا کرنے کی نیت۔ دوئم دوسرے بندے کا چوول خانہ، مطلب جھگڑے میں جو دوسرا فریق ہوتا ہے وہ ہمیشہ ہی شہدہ اور بد نیت ہوتا ہے اور ہمیشہ کچھ ایسا کرتا ہے جس کی وجہ سے جھگڑا ہوتا ہے، راوی ہمشہ نیک اور شریف، ہمہ تن گوش بلکہ خرگوش ہوتا ہے۔ کہ میں تو اگیوں اک لفظ نہیں پھوٹیا، اور  اگر وہ مان لے کہ ایسا نہیں  اور کچھ غلطی اسکی بھی ہے  تو یہ اس فریق مخالف سے بھی بڑا چوول اور شہدہ ہے۔ 

جھگڑے کے درجات
چونکہ ہم،  آپ جھگڑے کو بہت سے درجات میں تقسیم کرسکتے ہیں حسب ضرورت یا  و بلکہ اور حسب لیاقت،  سنا ہے کہ ماہرین ابھی تک اسکی ساری اقسام دریافت نہیں کرسکے، کہ آئے دن اسکی کوئی نہ کوئی نئی قسم دریافت یا ایجاد ہوتی رہتی ہے۔

 ذیل میں کچھ مثالیں دی جاتی ہیں تاکہ قارئین  کے علم میں اضافہ ہو اور پھر وہ اسکی مزید اقسام دریافت کرسکیں، مطلب چاند ماری کی دعوت۔

 دوستوں کے بیچ جھگڑا۔ یہ جھگڑے کی وہ قسم ہے  جو عام پائی جاتی ہے اور عموماُ وقتی کیفیات کے نتیجے میں پائی جاتی ہے، اسکی وجہ عمومی طور پر کوئی بھی لایعنی قسم کی اور غیر مطقی ہوسکتی ہے، اور اسکا اختتام بھی ایسے ہی ہوتا۔ 

رشتہ داروں کے بیچ جھگڑا۔ یہ ہے تو بہت عام مگر عمومی کیفیات کے نتیجے میں نہیں پائی جاتی بلکہ یہ کیفیت مستقل رہتی ہے۔ یہ جھگڑے کی عالمگیر قسم ہے اور دنیا کے ہر ملک میں بکثرت پائی جاتی ہے، اس سے تنگ آکر کے پاکستان میں کہتے ہیں کہ رشتہ دار ماردو سپ چھڈ دو۔ اٹلی والے کہتے ہیں رشتہ اور سپ ایک برابر، مطلب دونوں ہی ماردو۔ دیگر ممالک  میں مروج اقوال کے بارے ان ممالکے کے اہل زباں سے دریافت کیا جاوے۔ 


میاں بیوی کے بیچ جھگڑا، یہ جھگڑے کی وہ واحد قسم ہے میرے خیال سے جس میں طرفین کے علاوہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جن میں نندیں، دیورانیاں، ساس اور دیگر پھپھے کٹنیوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، اکثر مار کٹائی پر ختم ہوتا ہے اور ہفتے میں تین سے چار بار اس کی براڈکاسٹنگ ہو تو پھر طلاق پر نوبت پہنچے کے چانس زیادہ ہیں، طلاق کے بع یہ پھپھے کٹنیاں دونوں کو  الگ الگ دلاسے دے رہی ہوتی ہین، یہ صبر تینون ہور لب جاسی۔ بھئ جب اور ہی تلاشنی تھی یا تھا تو اسی کے ساتھ نباہ کرلیتے، مگر عقل کسی دکان سے ملتی تو۔ 

عاشق و معشوق کے درمیان جھگڑا، یہ عمومی طور پر بہت کم ہوتا ہے اور اگر تسلسل سے ہفتے میں دو سے تین بار ہونے لگے تو نتیجہ منگنی کے اختتام پر ہوتا ہے، اورشتہ دار و قریبی لوگ اکثر بعد میں مثبت کردار بن جاتے ہیں۔ 

والدین بچوں کے درمیان جھگڑا، اس صورت میں اکثر تھپڑ بھی چل جاتے ہیں اور قصور وار بچے ہی ہوتے ہیں، والدین جوانی کی عمر میں اور بچے بچپن میں پائے جاتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ والدین کا ٹیمپر بھی لوز ہوتا ہے، مگر یہ کیفیت وقتی ہونے کے ساتھ ساتھ نیک نیتی پر مبنی ہوتی ہے۔  بہت کم مگر کئی بار دیکھا گیا ہے کہ والدین کے آپس کے جھگڑے کے سائیڈ ایفکٹ کے طور پر بچے پھنڈے جاتے ہیں، اس طرح کرنے والی عموماُ پھوہڑ عورتیں ہوتی ہیں۔ 

بچوں اور والدین کے درمیان جھگڑا۔ اس صورت میں بھی تھپڑ چل سکتے ہیں قصور وار ادھر بھی بچے ہی ہوتے ہیں اور اپنا ٹمپر بھی لوز کرلیتے ہیں، تب والدین بوڑھے ہوتے ہیں اور بچے جوان، اکثر اسکی وجہ والدین کی پنیشن کا نہ ہونا یا پھر کم ہونا ہوتا ہے۔

محلے میں جھگڑا۔   اسکی وجہ بے وقتا چاند دیکھنا اور دوسرے محلے کے چاند پر نظر رکھنا ہی ہوتی ہے، جب گلیاں نالیاں بن رہی ہوں تو بھی ان جھگڑوں کا موسم عروج پر ہوتا ہے۔ ہیں جی۔ 


مالک نوکر کا جھگڑا، یہ ایک مکمل طور پر یک طرفہ کاروائی ہوتی ہے، اسکی شدت کا پیمانہ مالک کی معاشی و سماجی قوت ہے اور اسکے ملک اور قومیت پر اسکا انحصار ہے، مثلاُ ادھر یورپ میں مالک صرف اونچی آواز میں چخ چخ کرسکتا ہے، زمین پر پاؤں پٹخ سکتا ہے، پاکستان میں کتوں کو بھی کھلایا جاسکتا ہے، عربوں میں سنا ہے، خروج لگوا کر وطن کو روانہ کردیا جاتے ہے، اور اس  سے پہلے کچھ ماہ جو بیسیوں بھی ہوسکتے ہیں جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ مطلب طوبہ پہلے سے ہی کرلینی چاہئے۔ 

بچوں کے درمیاں جھگڑا، یہ جھگڑے کی سب سے خالص قسم ہے اس کےلئے کسی وجہ کا ہونا درکار نہین، بس کسی بات پر بھی ہوسکتا ہے اور بلا بات بھی، مگر اس کا دورانیہ حد سے حد کچھ گھنٹے ہے یا پھر اگلی صبح تک، پھر سب باہم شیرو شکر 

ضروری اوزار
جھگڑے میں ہونے والے ضروری اوزار میں سے گالیوں کا بخوبی یاد ہونا، اور بوقت ضرورت انکے مفصل استعمال پر ملکہ ہونا سب سے بڑا ہتھیار ہے، جو پوری دنیا میں امریکہ کے ڈرون کی طرح بغیر پائیلٹ کے استعمالا جاسکتا ہے۔ 
پھر جسمانی پھرتی، برادری، رشتہ دار، اور ڈانگ سوٹا، بندوقیں، چھڑی، سوٹی اور چھمکین بھی حسب موقع مفید ثابت ہوسکتےہیں۔ 

احتیاج۔ پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 
اگر مخالف پارٹی زور آور ہے، جسمانی طور پر یا افرادی قوت کے طور پر تو فوراُ ادھر سے نکل لو، یورپ میں رہنے والے فوراُ پولیس کو فون کریں۔ بچے سوشل سروس کا سہارا لینا بخوبی جانتے ہیں، پاکستان میں رہنے والے ان سروسز سے پرھیز کرتے ہوئے اپنے چاچے مامے کو بلائیں۔
انتباہ 

جھگڑا کرنے کی حد تک خیریت ہی ہوتی ہے اگر اس میں طوالت نہ ہو تو، ہاں اگر اسکو ناراضگی پر مشتمل کرلیا جاءے تو پھر نہ حل ہونے والی پیچیدگیا جنم لتی ہیں اور نتائج، تھانہ کچہری، طلاق، ڈانگ ماری، گالی گلوچ، پھینٹی، و قتل عمد تک پہنچ سکتی ہے۔ 


مشورہ
جمہ احباب کو مشورہ ہے دل کی اتھاگہرائیوں سے کہ بھائیوں جھگڑا کرنے کی اجازت ہے مگر اسکو ناراضگی میں تبدیل مت کرو، اگر لازم ہو تو بچوں کے درمیان جھگڑے کو اپنایا جاوے۔ جو دوسرے دن تو لازمی ایک ہوئے پھرتے ہیں۔ 




مکمل تحریر  »

بدھ, اگست 14, 2013

جشن آزادی 2013 مبارک



چونکہ اب رات کے ہمارے ادھر بارہ بج چکے ہیں تو کمپوٹر نے وی تاریخ بدلی کردی ہے، مطلب چودہ اگست ہوئی، سن سنتالی سے لیکر سنا ہے منارہے ہیں، مگر ہمیں بھی کوئی 30 برس باہوش ہوگئے تب سے کی تو پکی گواہی ہے، جلسے، جھنڈیاں، تقریریں، سب یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے دیوانے ہیں، 

سربراہاں مملکت کی تقریریں، قوم سے خطابات پہلے بھی ہوتے رہے اور کل بھی ہوگا، شاید نواز شریف کرے گا۔  وہی بڑی بڑی باتیں ہونگی، بلند بانگ قسم کے دعوہ جات اور حال جو ہے وہ آپ کے سامنے ہے، ہمارے ساتھ کے حالات یا بدتر حالات والے ممالک میں چین اور انڈیا کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، ایران کو دیکھا جاسکتاہے، ملائشیا و انڈونیشیا وغیرہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر 

مگر یہ کہ آپنا ایک قدم پیچھے کوئ ہی آرہا ہے، امریکہ نے کہا تھا کہ میں تھمیں پتھر کے زمانے میں پہنچادوں گا، تو انہوں نے ذرداری بھٹو اینڈ کو ہمارے اوپر مسلط کرکے وہ کام کردیا، آج ملک میں نہ امن ہے نہ امان، نہ بجلی نہ پانی، سفر کی سہولیات، ہوائی ریلوئے اور جہاز رانی بیٹھ گئی ہے، اسٹیل مل سے لیکر چھوٹے ادارے تک خسارے میں ہیں گوڈے گوڈے


میں بندہ قنوطی نہیں ہوں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ نئی حکومت کل ہی یہ باندر کلے باندھ دے، مگر کچھ نہ کچھ کرتے تو نظ آئیں، بہت سے کام ہونے والے ہیں جو گزشتہ 18 برس میں انفراسٹرکچر کی ترقی رکی ہوئی ہے وہ بحال کرنا ہوگا، ادارے بنانے ہونگے۔ 

ابھی ہماری حکومت چاہے وہ مرکزی ہے  کہ خیبر پختون خواہ کی یا بلوچستان کی وہ اپنی گڈ ول شو کررہی ہیں، رہی بات سندھ میں تو وہاں وہ پرانی چوولیں ہی ہیں، جو برسوں سے اقتدار اور حکومتی پارٹیوں سے چمٹ کر اپنے وزراء بنوا کر انقلاب کا نعرہ لگاتے ہیں
نئی مرکزی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے نہیں بلکہ ان پر فرض ہے کہ وہ فوراُ عوامی فلاح اور ملکی بہبود کے کام کریں، فیصلے مشکل بھی لینے ہونگے، قوم پر بوجھ بھی ڈالنا ہوگا۔ قوم بوجھ اٹھائے گی بھی، مگر کچھ ہوتا ہوا تو دکھے، ایک قومی پالیسی سامنے آئے، اور ساری جماعتیں بلکہ آنے والی حکومتیں تک اسی پر چلیں جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ وللہ 

یاد رہے پی پی کو صرف ووٹ نہیں ملے اور اسکا بمعہ اے این پی اور ایم کیو ایم دھڑن تختہ ہوا ہے، اور اگر ان حکومتوں نے ڈیلور نہ کیا، کچھ کر نہ دکھایا تو عوام اب کو کھانے والی جگہ پر بھی ماریں گے اور تشریف پر بھی چھترول ہوسکتی ہے، کچھ سیاہ ست دان ٹنگے بھی جاسکتےہیں، تو مشتری ہوشیار باش، پھرنہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 

رہی بات ملک دشمنوں کی تو انکو معلوم ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کوئی کاغذ کی پتنگ نہیں ہے جو بو کاٹا ہوجاوے گی، چاے وہ آزادی کے دنوں کی ریشہ دوانیہ ہوں اور بیانات کہ یہ ملک تو ایک برس نہیں چل سکے گا یا اکتہر کی خباثت، کارگل کا پنگا اور مشرف کا ڈرامہ ہو یا نیو ورلڈآرڈر کی ریشہ دوانیہ مگر پاکستان ہے اور رہے گا۔ 

ایک طرف ہم نے سپریم کورٹ، فوج اور نادرہ جیسے ایکٹو اور کارکردگی والے ادارے بنا لئے ہیں تو دوسری طرف دفاع کی فل تیاری ہے۔  اب وقت ہے کہ سیاہ ست دان بھی سیکھ لیں پارلیمان بھی ایک ڈیلیور کرنے والا ادارہ بن جاوے تو فیر ستے ہی خیراں ہیں جی


سب کتا کھائی اور چوول خانے کے سب کو جشن آزادی مبارک، ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی دعا کے ساتھ، اور امن و امان کی تمنا کے ساتھ

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش