جمعہ, نومبر 18, 2016

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:


ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد 
اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک
ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

 
کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست
کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-

"
ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی
دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”

Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, مئی 17, 2015

ہنزہ خوبانیاں اور کینسر

تو جنابو حاضر ہے داستان ہنزہ، 
Hunza apricotes and cancer 
یہ داستان امیر حمزہ نہیں ہے، نہ ہی اتنی پرانی ہے اور نہ ہی اتنی تاریخی  اور نہ ہی مذہبی ۔  بلکہ یہ داستان اٹلی سے شروع ہوتی ہے اور اٹلی میں ہی ختم ہوجاتی ہے۔ 
ڈاکٹر  "کاجانو"  بہت ماہر مالج ہیں، ایک فیملی ڈاکٹر ہیں وینس کے صوبے میں اور مشہور ہیں کینسر اور ٹیومرز کا نہ
صرف علاج کرنے میں بلکہ ان  امراض میں مبتلا مریضوں کی دلجوئی کرنے میں بھی، انکی ہرممکن خدمت کرتے ہیں، سو کلومیٹر کا سفر کرکے مریض کی دلجوئی کو چلے جائیں گے۔ صرف سرکاری طریقہ علاج پر ہی نہیں بلکہ ہومیوپیتھی ، و ہربل میڈیسن پر کماحقہ عبور رکھتے ہیں اور جہاں ضرورت پیش آئے استعمال بھی کرتے ہیں۔ 
میری ان سے ملاقات  ایک مشترکہ دوست ڈاکٹر جوانی آنجیلے کی وساطت سے ہوئی اور پھر کیا تھا کہ ہم بھی دوست ٹھہر ے، مختلف سیمینارز   و جلسوں میں ملاقات بھی ہونے لگی اور کھانے کی دعوتیں بھی شروع ہوگئیں۔ 
بس جناب  اپریل  میں انکا دعوت نامہ پہنچ گیا کہ ایک کانفرس ہورہی ہے، " خدائی ٹیومرز والے"   مطلب کینسر میں مبتلا مریضوں کی صورت حال، انکی امداد کے کچھ متبادل ذرائع۔  ڈاکٹر کاجانو ، کے علاوہ ایک ماہر نفسیات اورایک ہربل میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر بھی تھیں، جو کہ اس صورت حال میں اپنا سالوں پر محیط تجربہ رکھتی ہیں۔  نہ صرف حاضری کا کہا گیا بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ " ہمیں خوشی ہوگئی اگر آپ بھی اس شعبہ میں  اپنے کچھ تجربات کو ہومیوپیتھیک معالجات کے حوالہ سے بیان کریں، جلسہ عام پبلک کے لئے ہے، تاکہ لوگوں کو تربیت دی جاسکے کہ ایسے صورت میں اگر کوئی مریض ہوتو اسکی کیسے معاونت کی جاسکتی ہے۔ میں نے کہہ دیا کہ ادھر میں ایک ایسے خطہ کے بارے بات کروں گا جہاں پر کینسر نہیں ہے۔ 
جلسہ شروع ہوا تو ڈاکٹر کاجانوں  نے اپنے کچھ کیسز بیان کئے، کہان پر مریض کی کیسے مدد ممکن تھی نہ ہوسکی اور کہاں پر کیا کیا گیا۔ آپریشن کے بعد مریض کی دیکھ بھال اور کیموتھیراپی اور ریڈیوتھیراپی کب ضروری ہوتی ہے، اور اسکے اثرات مابعد۔ ان سے بچنے کی تراکیب۔ اسکے بعد سائیکولوجسٹ کی باری تھی۔ ان محترمہ نے بہت ہی جانفشانی کے ساتھ " ذہنی دباؤ ، اسٹریس stress   " کو ٹیومرز کی ایک بڑی وجہ بیان کیا۔ ایک اسٹڈی کا بھی حوالہ دیا کہ 20 چوہوہوں کے دوگرپس کو  پنجروں میں، انفرریڈ شعاؤں کے سامنے رکھا گیا۔ ایک گروپ  عام حالت میں رہتا جبکہ دوسرے گروپ  کے پنجرے کے پاس لومڑی کا پیشاب چھڑکا جاتا، لومڑی کے پیشاب سے چوہے ، بہت خوفزدہ ہوتے ہیں، تو جناب تین ماہ بعد پہلے گروپ کے تین چوہوں میں ٹیومرز پائ گئیں اور دوسرے گروپ کے  16 چوہوں میں، پس ثابت ہوا کہ  اسٹریس فیکٹر ٹیومرز کی پیدائش میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر آ پ  ٹیومز یا کینسر سے بچنا چاہتے ہیں تو جنابو اسٹریس سے جان چھڑاؤ، ٹینشن نہ لو نہ دو۔ ۔ 
پھر میری باری آئی اور اسکے بعد ڈاکٹر دے لازاری نے اپنے تجربات اس سلسلہ میں بطریق احسن بیان کئے۔ تو میں نے ہومیوپیتھک معالجات پر بات نہین کی بلکہ اپنی سلائیڈز کےذریعے جلسہ کے شرکاء کو پاکستان کی ہنزہ وادی  hunza vally  میں لے گیا :


وادئ ہنزہ  پاکستان کے شمال میں پائی جاتی ہے، اور اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور سیاحتی مقام ہے۔ اسکے چاروں طرف ہندوکش اور قراقرم سلسلہ کے برف پہاڑ ہیں، گلیشئرز ہیں، معدنیات قدر ت نے اتنی ہی دی ہیں جتنے پھل ، تازہ اور ٹھنڈے پانی کی آبشاریں اور جھرنے، وادی کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ 
ہنزہ کے لوگ ہندوستانی کالے  نہیں بلکہ نیلی آنکھوں والے یورپین لگتے ہیں، کچھ کا یہ بھی دعوہ ہے کہ یہ کیلاش کی طرح
اسکندر اعظم کے دستوں کی باقیات ہیں، جبکہ کچھ دعوجات کے مطابق یہ شمال مغربی روسی علاقوں  سے تعلق رکھنے والے خضر Khazar  ہیں ، وللہ اعلم، مگر ایک بات جوہ بہت اہم ہے وہ یہ کہ  یہ لوگ طویل قامت ، صاف رنگتے رکھتے ہیں ، نیلی آنکھیں اور سنہرے بال ادھر کی خواتین کے حسن کو چارچاندلگائے پڑے ہیں۔ 
ان کی وجہ شہرت ہنزہ لوگوں کی طویل العمری ہے۔ عام عمر سو برس ہے، جبکہ ایک سو پینتیس چالیس برس کے بزرگ آپ کو گلیوں کوچوں میں بازاروں میں عام دکھائی دیتے ہیں، صرف عمر ہی نہیں انکی صحت عامہ بہت زبردست ہے۔ سوسال کی عمر میں بچے پیدا کرنا انکی وہ خاصیت ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے۔  کینسر ، دمہ ٹی بی۔ سانس کے دیگر امراض، جوڑوں کے درد گنٹھیا اوسٹیوپوروزی  gout and osteoporosi عدم موجود ہے۔  اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ہنزہ لوگ وادی سے باہر جاتے ہیں تو بیمار پڑتے ہیں ۔ 
ہنزہ لوگوں میں کینسر نہیں پایاجاتا اس بات کا انکشاف  پہلی بار r. Robert McCanison نے  1922 میں امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے رسالے میں کیا تھا۔ اسکی وجہ وہ  یہ قرار دیتا ہے کہ "ہنزہ لوگوں خوبانی کی بہت زیادہ پیدوار رکھتے ہیں، ان کو دھوپ میں خشک کرتےہیں اور اپنی خوراک میں بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ 
پس اسکا جو نتیجہ ہونا تھا وہی ہوا۔ پوری دنیا کے سائینسدان جو طویل عمری  Geriatria پر کام کررہے ہیں ریسرچ کررہے
ہین ادھر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ 
ان لوگوں کے رہن سہن اور عادات کے بارے میں کچھ باتیں یہاں پر آپ سے شئر کرنا خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔ 
پانی:  ہنزہ لوگ دریائے ہنزہ کا تازہ اور بہتا ہوا پانی پیتے ہیں ، کوک اور اس قبیل کے دیگرکیمیائی مشروبات استعمال نہیں کرتے۔  دریا کا پانی گلیشرز سے آتا ہے اور معدنیات سے بھرپور ہے۔ اسکے علاوہ اسکی پی ایچ الکلائن Ph   ہے ۔ جبکہ جو پانی باقی عام دنیا میں استعمال ہوتا ہے وہ تیزیابی کی طرف ph  رکھتا ہے۔ 
خوارک: ہنزہ لوگ اپنی خوراک بہت سادہ رکھتے ہیں، سبزیاں، پھل اور دالیں انکی خوراک کا عام حصہ ہیں۔ گوشت کبھی کبھار، بہت کم۔ مطلب عیدو عید۔ 
خوبانی:ہنزہ لوگوں کی زندگی میں خوبانی کا بہت دخل ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہنزہ وادی میں خوبانی کی بہتات ہے، اور اسکی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ کسی ہنزہ فرد کی امارت کا جائزہ اسکی ملکیت میں خوبانی کے پودوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے اسکے نام کا خوبانی کا پودہ لگادیا جاتا ہے۔ جبکہ بیٹیوں کےلئے باغ لگائے جاتے ہیں جو انکو جہیز میں دئیے جاتے ہیں۔ 
خوبانی کو دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے اس طرح یہ وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی کینسر کی روک تھام اور عمرکے اثرات کو ذائل کرنے میں اہم کردار اداکرتا ہے۔ 
عام ہنزہ فرد کھانے کے بعد پندرہ سے بیس خوبانیاں بطور سویٹ ڈش ٹھونگ جاتا ہے، اسی طر چائے کے ساتھ بھی خوبانی یا خوبانی سے بنا ہوا کیک یا مٹھائی پیش کی جاتی ہے۔ 


خوبانی کے بادام یا اسکی گریاں apricote kernels پیس کر انکا آٹا بنایاجاتا ہے اور اسکی روٹی اور کیک وغیرہ روز مرہ میں استعمال ہوتے ہیں  جو کہ Amigdalina, vitamina B17 سے بھر پور ہے اور اسکے حصول کا سب سے بڑا ریسورس ہے۔ 
وٹامن بی 17 ایک   glicosidi cianogenetici, ہے جو rosacea کی نسل کے پھلوں کے بیجوں میں پایاجاتا ہے۔ جیسے کہ سیب  آڑو، خوبانی۔ جبکہ ہنزہ کی خوبانی اس نعمت سے مالا مال ہے اور اسکا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ 
اماگدالینا  کو جاننے والے یا اسکے اسپورٹرز اسے Laetrile "the perfect chemotherapeutic agent  قرار دیتے ہیں جو کینسر سیلز کو ھلاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 
پب میڈ جوکہ امریکہ کا سرکاری میڈیکل پبلشنگ ادارہ ہے اس کے ریکارڈ میں اس موضوع پر 630 تحقیقی مطالعہ جات موجود ہیں 
ایک بڑا نام ہے Dr Ernst T Krebs Jr., the biochemist who first produced laetrile (concentrated amygdalin) in the 1950s  اسکا  کہنا ہے کہ بندے کو کینسرسے بچنے کےلئے ہروز پندرہ خوبانی کے بادام کھانے چاہییں اور پھر بھلے وہ چرنوبل  CHERNOBYL  میں گھس جائے اسے کچھ نہ ہوگا۔  یہ ایک بڑا دعوہ ہے مگر ڈاکٹر کریبز کے دعوہ کو مسترد کرنا شاید اتنا آسان نہ ہوگا۔ 

کچھ باتیں اور 
ہنزہ لوگ صرف خوبانیاں ہی نہیں پھانکتے بلکہ انکی زندگی میں دو اہم باتیں میں نے نوٹ کی ہیں، ایک تو ہے پیسے کی عدم موجودگی۔ ہنزہ لوگ آپس میں لین دین پیسے سے نہیں کرتے بلکہ ابھی تک آپس میں اشیاء کے تبادلہ بارٹر سسٹم سے کام چلائے ہوتے ہیں، جو اسٹریس STRESS  کو بہت حد تک کم رکھتا ہے، 
دوسرے ہنزہ لوگ بہت ایکٹو اور متحرک زندگ گزارتے ہیں۔ سخت پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ہمسائے کے گھرجانے کےلئے بھی اترائی چڑھائی کرنی پڑتی ہے۔ پھر کھیتی باڑی، گلہ بانی  کرتے ہیں، اس میں بھی اچھی خاصی بھاگ دوڑ ہوجاتی ہے۔ پانی لانا لکڑی اکٹھی کرنی۔ اگر پھر بھی انرجیاںہوں تو کوہ پیمائی کی جاسکتی ہے۔ ویسے وہ ڈانس اور ناچ کے بھی بہت شوقین ہیں آئے دن کوئی نہ کوئی وجہ مقررکرکے ناچ کے اپنے جسم کے متحرک کیئے ہوتےہیں ہیں سوسالہ بزرگ تک اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے کو میدان میں اتر آتےہیں۔ 


تو پھر کیا نتیجہ نکالتے ہیں آپ ؟؟ صرف خوبانیاں چبائی جاویں یا پھر تازہ پانی، سادہ خوراک، متحرک زندگی  اور پریشانی و اسٹریس سے بچکر بھی کیسے بچنے کی کوشش کی جاسکتی ہے؟؟؟ میرا تو یہی خیال ہے کہ ہم لوگ اگر سادہ خوارک استعمال کریں، اپنے آپ کو جسمانی طور پر متحرک رکھیں اور اسٹریس سے بچنے کےلئے لالچ کم لیں اور اللہ پر توکل زیادہ رکھیں تو کینسر، ٹیومرز یا ان جیسے دیگر موزی امراض سے بچا جاسکتا ہے۔

ممکن ہے کہ ساری ریسرچ غلط ہی ہو مگر پھر بھی اتنے سادہ طریقہ کو اپنانے میں کونسا بل اتا ہے؟؟ 

ایک شکریہِ یہ مضمون مجھے سے زبردستی لکھوایا گیا ہے، فیس بک کے گروپ پہچان کےلئے، تو اسکی انتظامیہ کے اصرار کےلئے انکا میں بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ بھی کردیں۔ 

مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 11, 2015

اسلام میں سوالات کرنے کی روایات

یاد کیجیے اس وقت کو جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے موقع پر دباؤ کے ساته صلح کیے جانے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال فرما رہے تهے اور آپ نہایت اطمینان کے ساتهہ ان کے ہر سوال کا جواب دے رہے تهے.
عمر رض: کیا آپ واقعی اللہ کے نبی نہیں ہیں ؟
رسول الله صلى الله عليه و سلم: کیوں نہیں.
کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟
کیوں نہیں.
تو پهر ہم اپنے دین کے معاملے میں اتنی رسوائ کیں اٹها رہے ہیں ؟
میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا اور وہی میری مدد فرمائے گا.
آپ ہی تو ہم سے بیان کیا کرتے تهے کہ ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟
بالکل، کیا میں نے یہ بهی بتایا تها کہ یہ سب اسی سال ہوگا ؟
نہیں.
تو بس جو کہہ دیا وہ ہو کر رہے گا. تم بیت اللہ پہنچ جاؤگے اور طواف بهی کروگے.
پهر بعینہ یہی سوال عمر رض ابو بکر رض سے بهی کرتے ہیں.
لیکن ابو بکر رض کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے ذرا بهی مختلف نہیں ہوتا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کو جانشین رسول مقرر کیا گیا.آپ کی تقرری امت مسلمہ کا پہلا اجماع کہلاتی ہے.بار خلافت سنبھالنے کے بعد آپ نے مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا.


میں آپ لوگوں پر خلیفہ بنایا گیا ہوں حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ میں آپ سب سے بہتر ہوں. اس ذات پاک کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے یہ منصب و امارت اپنی رغبت اور خواہش سے نہیں لیا، نہ میں یہ چاہتا تھا کہ کسی دوسرے کے بجائے یہ منصب مجھے ملے، نہ کبھی میں نے اللہ رب العزت سے اس کے لئے دعا کی اور نہ ہی میرے دل میں کبھی اس (منصب) کے لئے حرص پیدا ہوئی. میں نے تو اس کو بادل نخواستہ اس لئے قبول کیا ہے کہ مجھے مسلمانوں میں اختلاف اور عرب میں فتنہ ارتدار برپا ہوجانے کا اندیشہ تھا. میرے لئے اس منصب میں کوئی راحت نہیں بلکہ یہ ایک بارعظیم ہے جو مجھ پر ڈال دیا گیا ہے. جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں سوائے اس کے اللہ میری مدد فرمائے. اب اگر میں صحیح راہ پر چلوں تو آپ سب میری مدد کیجئے اور اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح کیجئے. سچائي امانت ہے اور جھوٹ خیانت، تمہارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کے میں اس کا حق اس کو دلواؤں . اور جو تم میں قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں. ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی قوم نے فی سبیل اللہ جہاد کو فراموش کردیا ہو اور پھر اللہ نے اس پر ذلت مسلط نہ کی ہو،اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ کسی قوم میں فحاشی کا غلبہ ہوا ہو اور اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا نہ کرے.میری اس وقت تک اطاعت کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلوں اور ا گر میں اس سے روگردانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں (طبری. ابن ہشام)


امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ ایک بار منبر پر خطبے کےلئے کھڑے ہوئے اور کہا ”لوگو سنو اور اطاعت کرو“۔
 ایک عام شخص مجمع میں کھڑا ہوگیا اور کہا امیر المومنین !ہم نہ تمہاری بات سنیں گے اور نہ ہی اطاعت کریں گے۔ اس لئے کہ تمہارے جسم پر جو چوغہ لگا ہے وہ اس کپڑے سے زائد کا معلوم ہوتا ہے جو کپڑا مال غنیمت میں سے بحصہ مساوی آپ کو ملا تھا لہٰذا یہ خیانت ہے اور خائن خلیفہ کی اطاعت قوم کےلئے جائز نہیں ہے۔
 امیر المومنین حضرت عمرؓ نے اپنا خطبہ دینا روک دیا
اور اپنے بیٹے، عبد اللہ بن عمرؓ کی طرف اشارہ کیا، عبد اللہ بن عمرؓ نے کھڑے ہو کر کہا لوگو! یہ سچ ہے کہ مال غنیمت سے سب کو ایک ایک چادر ہی ملی تھی اور امیر المومنین کو بھی ایک ہی چادر ملی تھی۔ ان کا قد اونچا ہے اور لمبے قد کے اعتبار سے ان کا کُرتا ایک ہی چادر میں بننا ممکن نہیں تھا اس لئے میں نے اپنے حصہ کی چادر بھی امیر المومنین کو دے دی تھی اور دو چادروں سے میرے والد یعنی امیر المومین کا کرتا بنا۔ اب فرمائیے۔
عبد اللہ بن عمرؓ کی گواہی کے بعد معترض نے کہا میرا شک دور ہوگیا ہے۔ امیر المومنین اب فرمائیے ہم آپ کے حکم کی تعمیل بھی کریں گے اور آپ کی اطاعت بھی کریں گے۔
یہ حضرت عمرؓ کی عدالت کا انصاف تھا کہ ایک عام سے عام شخص بھرے مجمع میں سے کھڑے ہو کر خلیفہ وقت کو اس وقت تک خطبہ دینے سے روک سکتا تھا جب تک اس کا خلیفہ وقت پر لگایا گیا الزام غلط ثابت نہیں ہو جاتا تھا۔

اور ایک ہمارے علماء  ہیں جنکے  اوپر سوال  کرنے والے یا انکی مخالفت کرنے والے پر کفر کے فتوے لگ جاتے ہین۔

شاید یہی وجہ ہے ہماری امت کے زوال کی، عام آدمی تو عام آدمی  ، عالم دین کہلوانے والے بھی دین سے دور ہیں، دین کو صرف اپنے فائدہ کےلئے استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی ان پر اعتراض کرے یا اختلاف کرے تواسے کافر قرار دے دیا جاتا۔  حد تو یہ ہے کہ اس وقت ہرفرقے کو کوئی نہ کوئی کافر یا مشرک قرار دے چکا ہے۔
جبکہ واضع حکم ہے کہ " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت کرو۔ "
مگر ہمارے علماء نے تفرقہ کو حلال کرکے بہت سے فرقے بنالئے ہیں۔
انا للہ و انا لیہ راجعون

مکمل تحریر  »

جمعہ, فروری 27, 2015

آج کے بے لگام بچے

گھر میں سب بیٹھے ہوئے تھے ، ادھر ادھر کی گپیں ہانک رہے تھے ، 

اچانک کسی نے کہہ دی کہ ایک فقرے میں فعل ماضی، فعل حال اور فعل مستقبل کو  استعمال کرنا ہے ،   
" تو فیر کوئی مائی کا لال؟؟  "

پس فورا ہی ہماری خاتون اول الواحد نے ہاتھ کھڑا کردیا کہ " میں دساں؟؟"   

چلو جی آپ بتاؤ، بسم اللہ، اب کسی اور کی کیا مجال جو،  "چوں"  کرجائے۔

اچھا دسو۔

تو بیان ہوتا ہے ایک لمبی سانس لےکر" میں خوبصورت تھی، خوبصورت ہوں اور خوبصورت رہوں گی"۔

سب کو سانپ سونگھ گیا ، اب کسی کی ہمت  نہ تھی کہ اس جلالی فقرے کی تردید کرتا ۔

ایسے میں سب ایک دوسرے کا منہ  دیکھ رہے تھے۔ ہکے بکے۔

 تو ہماری بیٹی نے ہاتھ کھڑا کردیا۔  اب میری باری ، اب میری باری۔

چلو جی آپ بتاؤ

تو وہ کچھ یوں گویا ہوئیں " ماما یہ آپ کا وہم تھا، آپ کا وہم ہے اور آپ کا وہم رہے گا۔


اس پر لگا صاحبو وہ فلک شگاف قہقہہ

 اور محترمہ روہانسی ہوکر اٹھاجوتی لگیں چھوٹی کے پیچھے،

ایسے میں بچے کس کے ہاتھ آتے ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, جنوری 22, 2015

علی بھائی بسم اللہ

علی بھائی ہمارے سب جاننے والوں کے علی بھائی ہیں،   یہ ہمارے کوئی سگے بھائی نہیں ہیں، مگر جانے کیوں سب انکو علی بھائی ہی کہتے ہیں
ویسے بھی ہم اس شہر میں پاکستانی ہیں بھی کتنے ساٹھ نہیں تو ستر ہونگے،  ہیں جی، وہ بھی ہر کوئی اپنے کام کاج میں مصروف ، جیسے یورپ کی پھڑلو پھڑلو والی زندگی ہوتی ہے۔ صبح کے گئے شام کو آئے،  تو ایسے میں جو واقف ہیں ان سے ملکر بہت ہی خوشی ہوتی ہے، اور علی بھائی جیسا بندہ کیا کہنے۔

علی بھائی کوئٹہ کا ہوں ، بتاتے ہیں، اردو بولتےہیں اور اس میں کافی مہارت رکھتے ہیں، گو انکے لہجے سے میں پشتون سمجھتا رہا، مگر کہنے لگے  ”نہیں نہیں بھائی جان  میں ہزارہ ہوں"۔  یہ اسٹیشن کے سامنے ہی میں اسٹریٹ پر انکا ٹیک اوے   Take away  ہے ، چار پانچ بندے کام کرتے ہیں ، مگر یہ خود  ہروقت ادھر موجود ہوتے ہیں۔
یہ درمیانہ سا جسم، جھک  کر دونوں ہاتھوں سے سلام کرنے والے،  "اسلام 
علیکم  بھائی، کیسے ہیں آپ، سب خیر خریت ہے، الحمدللہ الحمدللہ، بس اللہ کا بہت شکر ہے، آپ کی دعا ہے آپ کی دعا ہے، اچھا تو جناب کام کا ٹیم ہے ، اجازت؟؟ اسلاما لیکم ۔ انشاء اللہ پھر تفصیلی ملاقات ہوگی، کبھی لگائیں چکر، تو جناب خدا حافظ، اسلام علیکم "۔ 

اب ایسے ملنسار و بااخلاق بندہ میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا، ہاں کتابوں میں پڑھا ہے، وہ لکھنو کے لوگوں کے رکھ رکھاؤ یاد آجاتے ہیں۔ بس۔  تو جب بھی ملاقات ہوتی ہے بہت محبت چاہت سے ، وللہ بہت خوشی ہوتی ہے۔ انکے چہرہ پر مسکراہٹ بھی ہروقت ہوتی ہے، جھکے ہوئے کندے ظاہر کرتے ہیں  کہ دوسروں کا بہت احترام کرتے ہیں، ایسی شخصیات  جو آپ کو خال خال ہی نظر آتی ہیں۔

 میں کبھی کبھی آتے جاتے انکے پاس ہی اپنے مولوی صاحب کے پاس رک جاتا ہوں ،   مولوی ثاقب ہمارے یاران غار میں سے ہیں، بس پھر دیسی دودھ والی چائے مولوی صاحب خود کہہ کر آتے ہیں  اور علی بھائی دینے آتے ہیں ، اہو ہو ڈاکٹر صاحب آپ بھی آئے ہوئے ہیں، بسم اللہ جناب، مجھے تھوڑا شک ہوا تو میں خود چائے دینے چلا آیا۔ کہ ڈاکٹر صاحب کی بھی زیارت ہوجائے گی۔  تو جناب کیسے ہیں  مزاج شریف؟؟  کبھی چکر لگائیں ناں۔ میں تو آپ کا انتظار ہی کرتا رہتا ہوں۔



اب ایسے میں ان سے ملاقات کرنے انکے ٹیک آوے پر کب تک بندہ نہ جاتا۔  مروتاُ ہر بار وعدہ کرلیتا، مگر اس بار سوچا کہ ملاقات کرتے ہیں، مولوی صاحب کو ساتھ لیا اور ادھر جا پہنچے، تو جناب علی بھائی کا معلوم ہوا کہ اندر نماز پڑھ رہے ہیں،  ہم رک گئے، سلام پھیرا،  انہوں نے، مختصر سی دعا مانگی۔ جائنماز کو تہہ کیا اور ایک کلائی پر ڈال لیا، اور یوں چہک اٹھے۔
آخا، آج ہمارے حضرت صاحب آئے ہوئے ہیں، بسم اللہ بسم اللہ
اور آج تو ڈاکٹر صاحب بھی آئے ہوئے ہیں زہے نصیب بسم اللہ بسم اللہ،
ساتھ میں ہی ہمارے پیچھے کاؤنٹر پر ایک "مروکی "   بھی کھڑا تھا،  اور کاؤنٹر پرلڑکی کو عربی نہیں آتی تھی اور مروکی کو اٹالین شاید نہیں آتی تھی۔ ،  تو ہم سے فورا مصافحہ کرکے، آپ تشریف رکھیں  ، اگر اجازت ہو تو میں اس گاہک کو دیکھ لوں۔

جی ضرور ، ضرور، تو جناب اس مروکی کی طرف متوجہ ہوئے، اسی طرح ، سر پر سفید ٹوپی، بازو پر جانماز،  اس مروکی کی طرف متوجہ ہوئے، " اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ۔
وعلیکم سلام۔
اسکے بعد انکی آپ س میں گفتگو عربی میں ہوئی، اور پھر کاؤنٹر پر لڑکی سے یوں گویا ہوئے،
بسم اللہ، بھائی کو ایک ٹھنڈی بئر دے دو۔ بسم اللہ بسم اللہ،   مروکی نے بئیر لی اور جزاک اللہ کہہ کر پیسے دے کر چل دیا۔ میں اور  مولوی جی ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ 





مکمل تحریر  »

جمعرات, جنوری 08, 2015

خطبہ حجتہ الوداع

9 زوالحجہ 10 ھ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات کے میدا ن میں تمام مسلمانوں سے خطاب فرمایا۔ یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اور اسلام کے سماجی ، سیاسی اور تمدنی اصولوں کا جامع مرقع ہے، اس کے اہم نکات اور ان کے مذہبی اخلاقی اہمیت حسب ذیل ہے۔

خطبہ

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہم اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اسی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس سے معافی مانگتے ہیں۔ اسی کے پاس توبہ کرتے ہیں اور ہم اللہ ہی کے ہاں اپنے نفسوں کی برائیوں اور اپنے اعمال کی خرابیوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے تو پھر کوئی اسے بھٹکا نہیں سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے۔
اللہ کے بندو! میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید اور اس کی اطاعت پر پر زور طور پر آمادہ کرتا ہوں اور میں اسی سے ابتدا کرتا ہوں جو بھلائی ہے۔
لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں۔
ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں؛ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے ۔
خدا سے ڈرنے والا انسان مومن ہوتا ہے اور اس کا نافرمان شقی۔ تم سب کے سب آدم کی اولاد میں سے ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔
لوگو! تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر ایسی حرام ہیں جیسا کہ تم آج کے دن کی اس شہر کی اور اس مہینہ کی حرمت کرتے ہو۔ دیکھو عنقریب تمہیں خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال فرمائے گا۔ خبردار میرے بعد گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے رہو۔
جاہلیت کے قتلوں کے تمام جھگڑے میں ملیامیٹ کرتا ہوں۔ پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ بن حارث عبدالمطلب کے بیٹے کا ہے۔ (ربیعہ بن حارث آپ کا چچیرا بھائی تھا جس کے بیٹے عامر کو بنو ہذیل نے قتل کر دیا تھا)
اگر کسی کے پاس امانت ہو تو وہ اسے اس کے مالک کو ادا کر دے اور اگر سود ہو تو وہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ہاں تمہارا سرمایہ مل جائے گا۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ اللہ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ سود ختم کر دیا گیا اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب کا سود باطل کرتا ہوں۔
لوگو! تمہاری اس سرزمین میں شیطان اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے لیکن دیگر چھوٹے گناہوں میں اپنی اطاعت کئے جانے پر خوش ہے اس لیے اپنا دین اس سے محفوظ رکھو۔
اللہ کی کتاب میں مہینوں کی تعداد اسی دن سے بارہ ہے جب اللہ نے زمین و آسمان پیدا کئے تھے ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ تین (ذیقعد ذوالحجہ اور محرم) لگا تار ہیں اور رجب تنہا ہے۔
لوگو! اپنی بیویوں کے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو۔ خدا کے نام کی ذمہ داری سے تم نے ان کو بیوی بنایا اور خدا کے کلام سے تم نے ان کا جسم اپنے لیے حلال بنایا ہے۔ تمہارا حق عورتوں پر اتنا ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو نہ آنے دیں لیکن اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسی مار مارو جو نمودار نہ ہو اور عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کو اچھی طرح کھلاؤ ، اچھی طرح پہناؤ۔
تمہارے غلام تمہارے ہیں جو خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناؤ۔
خدا نے وراثت میں ہر حقدار کو اس کا حق دیا ہے۔ اب کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ لڑکا اس کا وارث جس کے بستر پر پیدا ہو، زناکار کے لیے پتھر اوران کے حساب خدا کے ذمہ ہے۔
عورت کو اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں۔ قرض ادا کیا جائے۔ عاریت واپس کی جائے۔ عطیہ لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔
مجرم اپنے جرم کا آپ ذمہ دار ہے۔ باپ کے جرم کا بیٹا ذمہ دار نہیں اور بیٹے کے جرم کا باپ ذمہ دار نہیں۔
اگر کٹی ہوئی ناک کا کوئی حبشی بھی تمہارا امیر ہو اور وہ تم کو خدا کی کتاب کے مطابق لے چلے تو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔
لوگو! نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ کوئی جدید امت پیدا ہونے والی ہے۔ خوب سن لو کہ اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور پنجگانہ نماز ادا کرو۔ سال بھر میں ایک مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ خانہ خدا کا حج بجا لاؤ۔
میں تم میں ایک چیز چھوڑتا ہوں۔ اگر تم نے اس کو مضبوط پکڑ لیا تو گمراہ نہ ہوگے وہ کیا چیز ہے؟ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ۔
اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
لوگو! قیامت کے دن خدا میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے خدا تو گواہ رہنا‘‘ اے خدا تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔

خطبہ حجۃ الودع کی اہمیت

1۔ یہ خطبہ تمام دینی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اس کا نقطہ آغاز اللہ اور اس کے بندے کے درمیان صحیح تعلق کی وضاحت کرتا ہے اور بھلائی کی تلقین کرتا ہے۔
2۔ خطبہ حجۃ الوداع اسلام کے معاشرتی نظام کی بنیادیں مہیا کرتا ہے۔ معاشرتی مساوات ، نسلی تفاخر کا خاتمہ ، عورتوں کے حقوق ، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک ایک دوسرے کے جان و مال اور عزت کا احترام، یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر اسلام کا معاشرتی نظام ترتیب پاتا ہے۔
3۔اس خطبہ نے معاشی عدم توازن کا راستہ بند کرنے کے لیے سود کو حرام قرار دیا کیونکہ سود سرمایہ دار طبقہ کو محفوظ طریقہ سے دولت جمع کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور ان کی تمام افائش دولت سودی سرمائے کے حصول ہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
4۔ اس خطبہ نے بہت سے اہم قانونی اصول متعین کئے ہیں۔ مثلاً انفرادی ذمہ داری کا اصول وراثت کے بارے میں ہدایت ۔ 5۔ سیاسی طور پر خطبہ اسلام کے منشور کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر کو اس خطبہ کے ذریعہ بتایا گیا کہ اسلامی حکومت کن اصولوں کی بنیاد پر تشکیل پائے گی ۔ اور ان اصولوں پر تعمیر ہونے والا یہ نظام انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہوگا۔ اسی بناء پر ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے انسانیت کا منشور اعظم قرار دیا ہے۔
6۔ یہ ہمارے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری پیغام ہے اور اس میں ہم ہی مخاطب بنائے گئے ہیں۔ اس کی نوعیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کی سی ہے۔ اس کے ایک ایک بول پر حضور نے درد بھرے انداز سے آواز بلند کی ہے۔ کہ میں نے بات پہنچا دی ہے لہٰذا لازم ہے کہ اسے پڑھ کر ہماری روحیں چونک جائیں۔ ہمارے جذبے جاگ اٹھیں۔ ہمارے دل دھڑکنے لگیں۔ اور اہم اپنی اب تک کی روش پر نادم ہو کر اور کافرانہ نظاموں کی مرعوبیت کو قلاوہ گردنوں سے نکال کر محسن انسانیت کا دامن تھام لیں۔ اس لحاظ سے یہ ایک دعوت انقلاب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بغیر کسی کمی بیشی کے برائے اپنی راہنمائی لکھ دیا ہے، کہ ہر بار تلاش کرنا پڑتا ہے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش