سوموار, مئی 01, 2017

بندہ مزدور اور رومن غلام

میں اپنے اطالوی دوستوں سے یہ سوال کرتا ہوں:
تم نے جو رومن تاریخ پڑھی ہے، بلکہ اسکے ماہر ہو،     رومنز کا زمانہ غلامی کے نظام کا بدترین زمانہ سمجھا جاتا تھا، رومنز کے زمانے میں غلاموں کے کیا حقوق ہوتے تھے؟؟
جواب آتا ہے " ہیں؟؟ غلاموں کے کیا حقوق ہوئے؟؟  کوئی حقوق نہیں ہوتے تھے غلاموں کے۔
ہیں؟؟ ایسا کیسے ہوا۔ کیا غلاموں کو  کھانا نہیں دیا جاتا تھا؟؟   حیرت سے، " ہاں دیا جاتا تھا"۔
کیا غلاموں کو سونے کےلئے جگہ نہیں دی جاتی تھی؟ ایک چھت ایک بستر، کوالٹی کچھ بھی ہو، چاہے "پیال" ہی ہو۔
جواب آتا  پھر حیرت سے " ہاں دیا جاتا تھا"۔
اچھا ، تو کیا انکو  لباس نہیں دیا جاتا تھا، تن ڈھانکنے کو؟؟  چاہے ایک لنگوٹ ہی ہو؟
پھر حیرت بھری تائید " ہاں  وہ بھی دیا جاتا ہے" ۔ اور ساتھ ہی اس موضوع پر "دماغی ریفلیکشن شروع ہوجاتا ہے،  تبصرہ آجاتا ہے " پر یہ سب تو انکو زندہ رکھنے کےلئے ضروری ہے، ورنہ وہ تو مر جائیں"۔
بلکل اور اگر غلام مرجاویں گے تو پھر کام کون کرے گا۔ مالکوں نے خود تو کرنا نہیں۔  اب ترتیب یہ ہوتی تھی کہ غلام کو صرف اتنا ہی دیا جائے  جو اسکو زندہ رہنے کو کافی ہے۔ اس سے زیادہ  "قطرہ " بھی نہیں۔  اسکے ساتھ ساتھ۔ غلام کا کام تھا کہ  وہ مالک کے ہر حکم کو بجالائے اور اسکی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری و اوقات کار  کا خیا ل رکھے۔
یہاں تک ٹھیک ہے۔
اب ایک تجزیہ کیجئے ہمارے آج کے مزدور کا، یورپ میں مزدور کی حالت سب سے بہتر ہے۔
ایک ہزار عمومی تنخواہ سوپچاس کم یا زیادہ، پاکستانی کرنسی میں  ایک کو ایک سو پندرہ  سے ضرب دے لیں۔  ایک یورو برابر 115 روپئے۔
اس  ایک ہزار میں سے 
 450 گھر کا کرایہ
100 مختلف یوٹیلیٹی بلز
200 کھانے  کا خرچہ
50  کپڑے جوتے اور دیگر لوازمات
باقی دوسو بچے تو وہ گاڑی کی قسط اور پیٹرول کا خرچہ، یا پھر 100 کا بس کا مہینہ بھر کا پاس۔
آپ ہی بتاؤ۔ گاڑی اسکو چاہئے کہ کام پر وقت سے پہنچ سکے۔
گھر اسکےلئے صرف سونے کی ایک جگہ ہے۔
بجلی گیس پانی  چاہئے۔
کھانا واجبی سا کھانا ہی ہے۔
آج بھی مزدور مالک کے سامنے اونچی بات نہیں کرسکتا، اسکو دیکھ کر سلام کرتا ہے اور نظر جھکا کر بات کرتا ہے۔ 
اسکے سامنے اپنی رائے نہیں رکھ سکتا۔ 
مجھے یاد ہے ہم اپنے مرغی خانے میں ملازموں کی تنخواہ  "فیڈ  کے خالی توڑے" بیچ کے دیتے تھے۔ یا پھر مرغیوں کی بیٹوں والا برادہ بیچ کر۔ 
کیا یہ سب رومن کے زمانے کے مزدوروں والے حالات نہیں؟؟؟؟ آپ ہی بتاؤ؟؟




مکمل تحریر  »

جمعہ, فروری 27, 2015

آج کے بے لگام بچے

گھر میں سب بیٹھے ہوئے تھے ، ادھر ادھر کی گپیں ہانک رہے تھے ، 

اچانک کسی نے کہہ دی کہ ایک فقرے میں فعل ماضی، فعل حال اور فعل مستقبل کو  استعمال کرنا ہے ،   
" تو فیر کوئی مائی کا لال؟؟  "

پس فورا ہی ہماری خاتون اول الواحد نے ہاتھ کھڑا کردیا کہ " میں دساں؟؟"   

چلو جی آپ بتاؤ، بسم اللہ، اب کسی اور کی کیا مجال جو،  "چوں"  کرجائے۔

اچھا دسو۔

تو بیان ہوتا ہے ایک لمبی سانس لےکر" میں خوبصورت تھی، خوبصورت ہوں اور خوبصورت رہوں گی"۔

سب کو سانپ سونگھ گیا ، اب کسی کی ہمت  نہ تھی کہ اس جلالی فقرے کی تردید کرتا ۔

ایسے میں سب ایک دوسرے کا منہ  دیکھ رہے تھے۔ ہکے بکے۔

 تو ہماری بیٹی نے ہاتھ کھڑا کردیا۔  اب میری باری ، اب میری باری۔

چلو جی آپ بتاؤ

تو وہ کچھ یوں گویا ہوئیں " ماما یہ آپ کا وہم تھا، آپ کا وہم ہے اور آپ کا وہم رہے گا۔


اس پر لگا صاحبو وہ فلک شگاف قہقہہ

 اور محترمہ روہانسی ہوکر اٹھاجوتی لگیں چھوٹی کے پیچھے،

ایسے میں بچے کس کے ہاتھ آتے ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 17, 2015

زبان دانی یا زبان درازی

چرب زبانی اپنی جگہ اور بدزبانی اپنی جگہ ،   ہمارا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں، آج کا موضوع ایک عام پاکستانی غریب طالبعلم کا المیہ ہے، جس ناکامی کی بڑی وجہ زبان ہے۔ ماہر لسانیات کا خیال ہے ، بلکہ انکو پکا یقین ہے کہ زبان علم نہیں ہے، بلکہ علم سیکھنے کا وسیلہ ہے، ایک ذریعہ ہے۔

تو صاحبو اس حساب سے تو ہمارے ساتھ ہاتھ ہی ہوگی، جسے انگریزی میں  "ھینڈ ہوگیا" کہا جائے گا۔






واقع  یو ں ہے کہ اللہ اللہ کر کے ہم نے جب بات چیت شروع کی تو سنا ہے کہ گالیاں سیکھیں اور وہ بھی پنجابی میں، یہ موٹی موٹی گالیاں۔ کہ  " وڈے نکے" توبہ توبہ کرجاتے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ تو ایسی مفصل گالیاں دیا کرتا تھا کہ بس ۔ 

کہا جاتا ہے کہ گالی اور لطیفے کا اصل مزہ آپ کی مادری زبان میں ہی ہوتا ہے، یعنی کہ گالی اور لطیفے پنجابی کے،  جوکہ ہماری مادری زبان قرار پائی۔  یعنی کہ گالی اور لطیفہ پنجابی زبان میں ہی سواد دیتا ہے،  آج بھی یہی حال ہے کہ جب فل غصہ آئے تو پھر پنجابی ہی منہ سے نکلتی ہے۔

ویسے اس بارے سنا بھی ہے کہ اگر گالیوں اور لطیفوں میں کوئی زبان پنجابی کا مقابلہ کرسکتی ہے تو وہ عربی ہے اور پھر اٹالین،  اگر ثانی الزکر آپ کی مادری زبانیں ہون تو۔

خیر جب اسکول میں داخل ہوئے تو الف ب پ ت ٹ ث شروع ہوئی اور یہ اردو تھی۔ ساتھ میں ہی مسجد میں قرآنی پٹی شروع کروا دی گئی   ،  الف مد آ  ، آ ب الف با، با ، ت الف تا، تا۔ یہ ہماری عربی شریف تھی۔

یعنی مجھ پانچ سالہ " مشوم" پر ظلم بسیار ، ہیں جی۔  فیل کروانے کا فل پروگرام۔ جانے کیسے اسکول میں بھی پاس ہوتے رہے اور مسجد میں بھی  " پٹی سے قرانی قیدہ" اور قرانی قیدے سے پٹی  تک منتقل ہوتے ہوتے، جانے ایک دن استاد جی نے اعلان کردیا کہ کل سے "توں پہلاسپارہ لیا"۔ بس جی دوسرے دن پہلا سپارہ اور "مکھانڑیں"  مسجد پہنچ گئے۔

پانچویں جماعت پاس کر کے  "منڈا" پڑھے لکھوں میں شمارہوتو گیا مگر آگے کچھ انگریزی اور فارسی بھی ہمارا راہ دیکھ رہی تھی۔ تب تک گو ناظرہ قرآن شریف ، مسنون دعوائیں، ایمان کی صفتیں یاد کرکے عربی پر کم از کم قرآت کا عبور ہوچکا تھا۔ چھ ماہ پڑھ کر علم ہوا کہ فارسی تو ختم ہوگئی ہے، اور اسکی جگہ ڈرائینگ آگئی ہے،  ماسٹر لاٹری کو ہمارا ڈرائینگ کا استاد مقررکردیا گیا۔ اس بچارے کو خود بھی ڈرائینگ نہیں آتی تھی۔  خیر انگریزی ایسے چمٹی جیسے غریب کو بھوک، ۔ بس برس ہابرس تک نہ انگریزی نے جان چھوڑی نہ ہم نے سیکھی۔  یعنی کہ تادم تحریر سطور ھذا انگریزی سے ہمارا ہاتھ تنگ ہی رہا۔

آٹھویں  جماعت تک یہ عالم تھا کہ گھر میں پنجابی بولی جاتی، نیم پوٹھوہاری۔ اسکول میں ماسٹر سارے گالیاں اور بھاشن  پنجابی میں دیتے اور پڑھاتے اردو میں ۔  قرآن مجید کی کئی بار دھرائی کرکے عربی ناظرہ پر گرفت مضبوط ہوچکی تھی، بہت سی سورتیں، آیات، دعائیں وغیرہ بمعہ تراجم از بر ہوچکی تھیں۔ فارسی البتہ ایں چیست۔ پکوڑہ است، ایں صندلی است تک ہی رہی۔فارسی تو نہ آئی مگر ڈرائنگ کی کچھ لکیریں سیکھ ہی گئے۔ بس جی، شکر ہے، پھر فارسی کا حملہ ہوا کلام اقبال اور میرزا غالب کے خطوط کے ذریعے، جسے کسی نہ کسی طرح برداشت کر ہی لیا گیا۔ ایک یاد یہ رہی کہ سن پچانوے میں جب پشاور بطور سپرٹینڈینٹ امتحانات میری اتفاقیہ تعیناتی ہوئی تو، میرا ہوٹل  " خانہ ء فرھنگ ایران" کے پاس ہی تھا۔ کیا کرتا ادھر جاکر لائیبریری میں تلاشی لیتا رہتا، غالب اور اقبال کے نام دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتا رہتا۔ مگر سنا ہو ا تھا کہ " پڑھو فارسی ، بیچو تیل" پس  ہم فارسی سے دور ہی رہے، اب پچھتارہے کہ سیکھ ہی لیتے تو اچھا تھا۔ بلکہ اب کوئی موقع ملے تو، ورنہ اب تک " خانم خوبے"  تک ہی چل رہا۔ 

پھر ہم شہر میں  "انتقال " کرگئے ، اناللہ واناالیہ راجعون ، پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ وہ والا اتنقال نہیں جس میں بندہ اس جہان سے اگلے جہان میں منتقل ہوتا ہے، بلکہ یہاں مرآد گاؤں کے "کھوتی اسکول" سے شہر اسکول میں منتقل ہونا تھا۔ وہاں پر خیر سے سارے استاد اردو میں ہی بات چیت بھی کرتے، سر عنایت اللہ خان اور فاضل بڈھی، گالیاں بھی اردو میں ہی دیتے۔ طلباء بھی اپنے آپ کو شہری بچہ ثابت کرنے کےلئے صاف اردو بولنے کی کوشش کرتے، اس کوشش میں میرا خیال ہے کہ راقم سب سے آگے تھے، آخر احساس کمتری اور کس بلا کا نام ہے؟؟ یہاں پر خان صاحب سے اردوئے معلیٰ پڑھی، کہ بس، جنابو، پوچھ کچھ نہ، انہوں نے اسکول میں نصاب کی مروج کتاب کے ساتھ ساتھ غالب اقبال حالی، سےلیکر ابن انشاء اور اکبر الہ آبادی جیسے مزاح نگاروں سے بھی متعارف کروادیا، تب ہی علم ہوا کہ اردو مٰیں بھی لطیفے ہوتے ہیں، مگر بہت عرصہ تک تو سمجھ نہ آتی کہ ہنسنا کب ہے اور یہ کہ اب لطیفہ ختم ہوچکا ہے۔ 
تب دوسرے شعراء کے کلام کی ٹانگ مروڑ کے اپنے نام سے دوسرے ہم جماعتوں کو سنانا بھی عام تھا۔  تبھی معلوم ہوا کہ اردئے معلٰی اور اردوئے محلہ میں کیا فرق ہے، جب روؤف نے لیٹ آنے کی وجہ دریافت کرنے پر بتایا کہ " سر ہمارا راستہ کاچا ہے" ۔  اور اس پر قہقہ پڑا، بعد میں سب محتاط ہوگئے میرے سمیت۔ 


انگریزی میں بھی پاس ہوتے ہی رہے۔ مضامین سارے اردو میں تھے،   پھر کالج میں وہی مضامین انگریزی میں تھے اور ہم پاگل بلکہ "پھاوے " ہوچکے تھے۔ ہیں جی۔سبجیک، اوبجیکٹ، تینس اور ہم ٹینس، بس پورا کُت خانہ ہی سمجھو جی، پھر انگریزی کی لکھائی الگ بول چال الگ، اسپینگنگ انگلش الگ، گرائمر کے کورسز الگ، مضامین و خطوط کا سیکشن الگ۔ بندہ پوچھے یہ زبان ہے یا شیطان کی آنت۔ قابو انے میں ہی نہیں دے رہی۔ 

ہومیوپیتھی معالجات کی تعلیم شروع ہوئی تو پہلے سال اردو میڈیم طے پایا اس میں بھی پنگا یہ تھا کہ ساری اصطلاحات عربی اور فارسی کی اردو میں گھسیڑدی گئی تھیں۔ کچھ چیزیں عربی ڈکشنری میں ملتیں تو کچھ فارسی سے غائیب ہوتیں۔ پھر انگریزی اصلاحات کو بھی کیا گیا۔
بعدمیں اسے بدلی کی اور انگریزی میں آسانی سے دستیاب مواد کی بنیاد پر محسوس کیا کہ انگریزی میں زیاد ہ آسانی ہے۔

سنہ 1992 میں، گزرتے ہوئے اسپرانتوزبان کا بورٹ جہلم شاندار چوک کے پاس لگا دیکھا، کہ مفت سیکھئے، مفت تو ہمیں کوئی موت دے تو ہم نہ کریں، چلے گئے۔ آگے جمیل صاحب بھی کھڑے تھے انتظامیہ میں، اوئے توں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ واہ جی واہ، بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی ، ہیں جی۔

 ویسے یہ زبان بہت آسان ہے اور آپ  ایک ماہ کی محنت سے اچھی سیکھ جاؤگے، فائدے۔ انگریزی جیسی ہے، لکھتے دیکھ کر لوگوں پر رعب رہے گا کہ بندے کو انگریزی آتی ہے، پھر بیرون ملک سے اس زبان میں قلمی دوستی کا بہت رواج ہے۔ کسی گوری سے قلمی دوستی کرلینا، کیا پتا۔ فلاں نے تین گوریوں سے قلمی دوستی کی ہوئی اور فلاں نے پانچ سے۔ یہ لو رسالہ اس میں قلمی دوستی کے انٹرنیشنل اشتہارات ہیں۔ شبابشے، ویسے ایک فائدہ ہوا کہ اس زبانے کے بولنے والے تو تھوڑے ہیں مگر ہیں پوری دنیا میں، بس جہاں بھی جاؤ، سالوتون سالوتون کرنے کو کوئی نہ کوئی مل ہی جاتا ہے۔  

سن ستانوے میں جب عازم اطالیہ ہوئے تو اطالویں بھی پولی پولی سیکھ ہی لی۔ مجبوری تھی کہ یہاں پر پہلے سے سیکھی ہوئی کوئی زبان کارآمد نہ تھی، اسپرانتو کے بولنے والے صرف چالیس پچاس بندے تھے پورے شہر میں۔ اردو بولنے والے تین، پنجابی بولنے والے کوئی سو کے قریب۔ انگریزی تو انکو آتی ہو تو کام پر نہ بولیں۔

پھر اٹالین سیکھی، کئی برس سکھائی بھی، اسپرانتو بھی بولی، عربی بول چال، کچھ گالیاں سیکھ لیں، یہی حال یونانی کا بھی تھا مگر اسکا استعمال نہ ہوسکا۔ تو بھول ہی گئ۔ پھر اسپین میں اور برازیل مین بار بارجانے کی وجہ سے اسپینش میں بھی "اولا بوئناس دیاس، قوئے تال؟ " وغیرہ وغیرہ کرلیا ،  آخری تجربہ گزشتہ برس فرانس جانے  پر موقع پاکر فرینچ کے دوچارلفظ بھی یاد کرلئے۔ میسی مسیو۔ میسی بکو۔

عالم یہ ہے صاحب، بلکہ ظلم یہ ہے کہ جو اردو اور انگریزی میں پڑھا تھا وہ اطالوی میں پڑھانا پڑ رہا۔ بہت بڑی معصیت ہے۔ 
اب بندہ کس کی جان کو روئے، پڑھانا ایک طرف پورا سمجھانا پڑتا ہے بحث کرنی پڑتی ہے، پڑھا ہوا اردو اور انگریزی ملا کر ہے، اب اسکو اطالوی میں تبدیل کرنا ، بندے کو پسینہ آجاتا ہے۔ 

اب یہ بندے کے ساتھ زیادتی ہے کہ نہیں، کہ ساری زندگی زبانیں سیکھتے ہی گزاردی، علم توں پڑھیا ای نئیں، اور کھوتے کے کھوتے ہی رہے ،  کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ زبان دانی ہے، اللہ ہی جانے کہ یہ زبان دانی ہے کہ زبان درازی۔
دن میں کئی بار تو دماغی کمپوٹر کی لینگیوئج بدلی کرنی پڑتی ہے، اسکو تو چھڈو، موبائیل فون میں اردو، انگریزی، اطالیانو، اسپرانتو موجود ہیں، اور بار بار ایک زبان سے دوسری میں سلپ ہونا پڑتا ہے، "ہنرں ایتھے کوئی مرے"   توبہ توبہ
 اتنی زبان، بے شرم ، بے حیا



مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 22, 2014

سولہ دسمبر ڈھاکہ سے لیکر پشاور تک، کردار وہی

سنہ اکہتر سے لیکر دوہزار چودہ تک، سقوط ڈھاکہ سے لیکر ، پشاورکے دھماکہ تک
کچھ کردار اور انکے بیچ مشابہت و تعلق بہت ہی عجیب ہے، میں جانتا گیا اور حیران رہتا گیا۔ 
 عوامی لیگ کا نام پہلے عوامی مسلم لیگ تھا بعد میں عوامی لیگ ہوگیا  مسلم  لیگ سے تعلق توڑلیا گیا ، اور پھر اسکا لیڈر بنا  شیخ مجیب الرحمان، جلاؤ گھیراؤ کی پالیسی اپنائی
پھر نئی عوامی مسلم لیگ بنی  اور اسکا سربراہ شیخ رشید پھر نعرہ جلاؤ گھراؤ کی پالیسی اپنانے کی کوشش کی۔


جرنل غلام عمر کو اکہتر وار میں چیف وار کریمنیل  ڈیزائینر  کہا گیا۔  
اسکا بیٹا اسد عمر آجکل پاکستان  تحریک انصاف کا روح رواں ہے۔ اور احتجاجی تحریک کے صف اول کے لیڈران میں سے ایک ہے۔

جرنل امیر عبدللہ خان نیازی    نے اکہتر کی جنگ میں ہتھیار ڈلوائے، اور سرینڈر کی دستاویز پر دستخط کئے۔ اکرام اللہ خان نیازی کا چچازاد ہے جو عمران خان نیازی کا والد ہے۔

 وہ تاریخ  16 دسمبر تھی۔ تب  فسادی کردار مکتی باہنی تھی اور جیت ہندوستان کی ہوئی۔

ان تینوں نے چارماہ سے پاکستان کا گھیراؤ کئے رکھا اور پھر 16 دسمبر کو پاکستان بند کرنے کا اعلان کردیا،  سوشل میڈیا کی جوت پرچھات کے بعد اٹھارہ کی تاریخ تبدیل کی۔ مگر

16 دسمبر کی علامتی تاریخ  کو  140 معصوم بچوں کی جانیں گئیں اور پھر سے زخم ہرے ہوگئے۔ 
اب اس خونریزی کا ذمہ دار پاکستانی طالبان کو قراد دیا گیا مگر جیت کس کی ہوئی؟؟؟؟؟
اللہ کرے باقی سب وہ نہ ہوجو تب ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ16 دسمبر سے پہلے لکھا تھا، مگر آج شئر کرہی دیا۔ 


مکمل تحریر  »

جمعرات, دسمبر 04, 2014

تاریخ انسانیت اور کفار

پوری تاریخ انسانیت چاہے وہ اسلام ہو، قبل از اسلام ہویا بعد از اسلام،  اگر واہ  واہ  کئے بغیر  اسکے بغور جائزہ لیں تو  ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے لوگ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کہ انکو کچھ نہ کچھ جھگڑا کرنے کو مل ہی جاتا ہے،
پہلے زمانے میں سنا ہے کہ لوگ لڑا کرتے تھے، نعرہ نیکی اور بدی  کےنام پر جنگ جاری رہے گی
لوگ جھگڑ رہے تھے، پانی ، بکری، کھوتی، کھجور، ہر شئے پر جھگڑا۔ جنگ جاری رہی

پھر اسلام آگیا اور یار لوگوں نے نعرہ بدلی کرلیا،   اسلام اور کفر کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ باوجود اسکے کہ اسلام سارے کا سارے امن کا درس دیتا رہا،جب بھی موقع ملتا آرام سے رہنے کی کوشش کرتے مگر پھر بھی چاہتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے جنگ جاری رہی
پھر اسلام میں بھی خارجی آگئے اورنعرہ تبدیل،    خارجیوں کےخلاف جنگ جاری رہے گی۔  
پھر مسلمان ترقی کرکے سنی اور شعیہ ہوگئے۔  نعرہ لگا، شعیہ سنی کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے انکو مارا، انہوں نے انکو مارا، اور جنگ جاری ہے۔  جسکو موقع لگتا ہے وہ دوسرے کی کٹ اور کُٹ لگانے سے بلکل نہیں چوکتا۔
پاکستان شریف بن گیا، قلعہ اسلام کا۔
پہلے تو بنگالی اور غیر بنگالی ایک دوسرے کے لہو کے پیاسے ہوئے۔ فائدہ اٹھایا انڈیا نے جنرل نیازی نے 16 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈال دیئے۔

اسکے بعد قادیانی الگ کرکے واجب القتل قرار پائے۔
اب شعیہ سنی سے ترقی کرکے بریلوی دیوبندی ہوگئے اور آپس میں جھگڑرہے۔ فسادات کررہے۔  ایک کہتا ہے میں اسکو چھوڑوں گا نہیں،  دوسرے اسے تلاش کررہا ہوتاہے۔
اب قتال کی شکل تبدیل ہوگئی ہے، جس کا دل کرے وہ کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگا دے اور پھر اسکی گردن ٹوکے سے الگ اور خون معاف۔  سارے مولوی ٹوکے بنے ہوئے۔

یہ بات بھی پرانی ہوگی، وقت گزر گیا۔ توہین صحابہ کا الزام لگا کر بھی آپ کسی کو ککڑکٹ لگا سکتے ہیں، یہ نسخہ بھی قدیم قرار پایا اب آپ کسی پیر صاحب کی توھین کے مرتکب قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ حتٰیکہ آپ کو بادشاہ خان کی توہین کا مرتکب قرار دے کر بھی واصل جہنم کیا جاسکتا ہے۔

ان دنوں دو مہنگے مہنگے کرتوں والی سرکار آپس  میں گھتم گھتاہیں۔ اور ساری مسلکی پارٹیاں اپنے اپنے "وٹ"  نکال رہیں۔  بندہ جائے تو کدھر جائے، معافی مل سکتی ہے، معافی نہیں مل سکتی، کرلو جو کرنا،  کل ایک صاحب  کہہ رہے تھے کہ با ت دور تک جائے گی۔
بندہ پوچھے بھائی جان اگر لڑنا ہی ہے تو لڑو مگر کرتے تو سستے کرتے جاؤ۔

لڑمذہب کے نام پر رہے سب کے سب اور مذہب یہ کہتا ہے کہ " ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت کرو"۔ مگر اس طرف کس نے دھیان دینا ،

ویسے غزہ میں آج بھی دو میزائل مارکر ایک بڑی بلڈنگ گرادی دی گئی۔ جانے کتنے لوگ مرے ہونگے، ان میں مرد عورتیں، بچے، سب نہتے۔ یہ بھی یاد کروادوں کہ غزہ میں سارے مسلمان ہیں محصور اور مارنے والے یہودی، یہودی بھی نہیں زیونسٹ۔

کافرسب کو مسلمان کرکے اپنے   ”وٹ   نکالی جارہے "  اور مسلمان  ایک دوسرے کو  "کافر قرار دے کر اپنے وٹ نکالی جارہے"۔




مکمل تحریر  »

بدھ, اکتوبر 01, 2014

الزام لگانے کا پروگرام

قائدہ کیا ہے؟؟ 

جو کسی پر الزام لگائے وہ اس کا ثبوت دے کہ میرا الزام سچا ہے یا پھر ملزم کو اپنی بےگناہی کا ثبوت دینا ہوتا ہے؟؟


اگر ملزم کو ہی اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا ہے تو پھر کوئی آدمی بھی کسی پر الزام لگا دے اور جواباُ اگلا اپنی بے گناہی ثابت کرکرکے پھاوا ہوجائے۔ 

ہمارے ملک میں جو انصاف کا دور دورہ ہے وہ ایسے ہی ہے۔ الزام لگانے والا مزے کرتا ہے اور ملزم جس پر الزام لگایا جاتا ہے وہ بچارہ کھجل ہوجاتاہے۔ 
جبکہ ترقی یافتہ معاشروں میں اگر آپ کسی پر الزام لگاتے ہیں اور ثابت نہیں کرسکتے تو جو اسکا جو نقصان ہوتا ہے وہ اور مقدمہ کی فیس، پلس اس الزام کے سزا، الزام لگانے والے پر ہوتی ہے۔ پس کوئی بندہ ایویں ای کسی کو رشوت خور یا چور، یا فراڈیا نہیں کہہ دیتا منہ اٹھا کے۔ جب تک ثبوت نہ ہو۔

اور اگر ثبوت ہوں تو پھر ملزم کا بولو رام ہی سمجھو

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش