جمعہ, فروری 17, 2017

رب ہے

ملحدوں کےلئے۔۔۔۔۔۔۔
شکم مادر میں دو جڑواں بچے تھے ۔
ایک دوسرے سے پوچھتا ہے: تم بعد از پیدائش حیات پر یقین رکھتے ہو؟؟
دوسرا جواب دیتا ہے: "یقیناُ، کچھ تو ہوگا پیدائش کے بعد۔ شاید ہم یہاں تیار ہورہے ہیں اس دوسری حیات کےلئے۔ جو بعد میں آوے گی"۔     " ایک دم بکواس" پہلا کہتا ہے۔ "بعد از پیدائش کوئی حیات نہیں ہے۔ کس طرح کی زندگی ہوسکتی ہے وہ   والی؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " مجھے نہیں معلوم، مگر یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی، شاید ہم چل بھی سکیں گے اپنی ٹانگوں کے ساتھ اور اپنے منہ کے ساتھ کھا بھی سکیں۔ شاید ہماری اور حسیں بھی ہوں جو ہم اب نہیں سمجھ پا رہے"۔
پہلا اعتراض کرتا ہے: "یہ تو بلکل ہی بونگی ہے۔ چلنا ناممکن ہے۔ اور منہ کے ساتھ کھانا؟ ذلالت۔ ناف کے ذریعے ہمیں سب مل تو رہا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔۔۔ اور پھریہ ناف  بہت چھوٹی ہے۔ بعد از پیدائش حیات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔"
دوسرا مسلسل اپنی بات پر اڑا رہتا ہے: بہرحال، مجھے یقین ہے کہ کچھ تو ہے اور شاید جو یہاں ہے اس سے مختلف ہو۔ شاید لوگوں کو اس ناف کی ضرورت ہی  نہ ہوتی ہو"۔
پہلا پھر سے اعتراض کرتا ہے: "سب بکواس، اور باوجودیکہ، بلفرض اگر کوئی حیات بعد از پیدائش ہے، تو پھر ادھر سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟؟ پیدائش حیات کا اختتام ہے اور بعد از پیدائش کچھ بھی نہیں ہے سوائے غیرشفافیت، خاموشی اور فراموشی کے۔ پیدائش ہمیں کسی طرف نہیں لے کے جائے گی"۔
"اہو، مجھے یہ تو نہیں معلوم" دوسرا کہتا ہے "لیکن یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ ہماری دیکھ بھال کرے گی، ہمارا خیال رکھے گی"۔
پہلا گویا ہوتا ہے: "ماں؟" تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  اہو، یہ تو بکواس ہے بلکل ہی، اگر ماں بلفرض ہے، تو پھر، اس وقت کہاں ہے؟"
دوسرا جواب دیتا ہے: " وہ ہمارے ارد گرد ہے۔ ہم اسکے حصار میں ہیں۔ ہم اسکے اندر ہیں۔ اور اسکی وجہ سے ہی تو زندہ ہیں۔ اسکے بغیر تو اس دنیا کا وجود ہی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی اسکی بقا ممکن ہے"۔
پہلا جواب دیتا ہے: توپھر، میں تو اسےنہیں   دیکھ  سکتا،  پس ثابت ہوا کہ ، اصولی طور پر اسکا کوئی وجود نہیں ہے"۔
اور پھر دوسرا  گویا ہوتا ہے: " کبھی کبار، جب خاموشی ہوتی ہے،   اگر سچی میں سننے کی کوشش کرو تو، اسکی موجودگی محسوس کی جاسکتی ہے اور اسکی آواز وہاںاوپر سے سنی جاسکتی ہے"۔
اس طور پر ایک ہنگارین لکھاری سمجھاتا ہے کہ "رب" ہے۔






مکمل تحریر  »

سوموار, جون 06, 2016

روزے کی تیاریاں

اہو ہو کل روزہ پینڑاں ہے بابیو۔
ہیں جی، چل بچہ کچھ سامان ہی لے آئیں، 
دیکھ گھر میں کیا کیا ہے، کیا کیا لانا ہے
اچھا اور کچھ؟؟
پر دیکھنا روزہ بہت لمبا ہے، اوپر جون کا مہینہ بھی ہے
 
گرمی تو ہوگئی ہی ہوگی۔
 
جوس، نمبو، چار کلو چینی، شربت بھی تو پئیں گے
فروٹ، بابیو،
 
سارے فروٹ لانا، جو تازے ہیں وہ والے
ہاں اور کھجوریں بھی، وہ موٹی آلی، آچھا جی
اچار، الائیچی ہاں الائیچی اور دار چینی بھی، ان کا قہوہ پینے سے پیاس کم لگتی ہے۔
 
سالن اچھا ہو، تاکہ دن کو بھوک نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کل کا سین تھا۔
 
آج پاکستان سے نسخے آرہے ہیں
 
پھکیوں اور معجونوں کے، قلاقند کے،
 
دیسی گھی اور مکھن
سرد مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال۔
 
تاکہ دن کو بھوک نہ لگے پیاس نہ لگے۔
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ آج کا سین ہے۔
 
اور میں سوچ رہا تھا،
 
کہ اگر رمضان کے آنے کا مقصد بھوک اور پیاس سے بچنا ہی ہے تو پھر بندہ آرام سے دن کو کھانا کھائے اور پانی پئے۔ نہ رکھے روزے، آخر اللہ کو بھی تو ہماری بھوک اور پیاس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے،
 
وہ تو نیت دیکھتا ہے، وہ تو نیاز مندی دیکھتا ہے۔
 
مقصد تو تھا، کہ تو بھوک محسوس کر، پیاس محسوس کر، لڑائی جھگڑا ترک کردے، مسکین ہوجا۔
 
مسکین کی حالت کو محسوس کر، اور اسکی فکر کر۔
 
پر نہ ہم کو تو اتنا سوچنا ہی نہیں ہے۔
 اچھا آپ ہی بتاؤ روزے میں بھوک اور پیاس و کمزوری سے بچنے کے کچھ نسخے

سوری، یاد کرانا تھا، کہ رمضان میں عبادت ہوتی ہے،  نماز قرآن اور معافی  تلافی۔ دوسروں کا خیال رکھنا، 
نہ کہ پھاوے ہوئے پھرنا ۔ 





مکمل تحریر  »

جمعرات, دسمبر 04, 2014

تاریخ انسانیت اور کفار

پوری تاریخ انسانیت چاہے وہ اسلام ہو، قبل از اسلام ہویا بعد از اسلام،  اگر واہ  واہ  کئے بغیر  اسکے بغور جائزہ لیں تو  ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے لوگ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کہ انکو کچھ نہ کچھ جھگڑا کرنے کو مل ہی جاتا ہے،
پہلے زمانے میں سنا ہے کہ لوگ لڑا کرتے تھے، نعرہ نیکی اور بدی  کےنام پر جنگ جاری رہے گی
لوگ جھگڑ رہے تھے، پانی ، بکری، کھوتی، کھجور، ہر شئے پر جھگڑا۔ جنگ جاری رہی

پھر اسلام آگیا اور یار لوگوں نے نعرہ بدلی کرلیا،   اسلام اور کفر کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ باوجود اسکے کہ اسلام سارے کا سارے امن کا درس دیتا رہا،جب بھی موقع ملتا آرام سے رہنے کی کوشش کرتے مگر پھر بھی چاہتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے جنگ جاری رہی
پھر اسلام میں بھی خارجی آگئے اورنعرہ تبدیل،    خارجیوں کےخلاف جنگ جاری رہے گی۔  
پھر مسلمان ترقی کرکے سنی اور شعیہ ہوگئے۔  نعرہ لگا، شعیہ سنی کے درمیان جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے انکو مارا، انہوں نے انکو مارا، اور جنگ جاری ہے۔  جسکو موقع لگتا ہے وہ دوسرے کی کٹ اور کُٹ لگانے سے بلکل نہیں چوکتا۔
پاکستان شریف بن گیا، قلعہ اسلام کا۔
پہلے تو بنگالی اور غیر بنگالی ایک دوسرے کے لہو کے پیاسے ہوئے۔ فائدہ اٹھایا انڈیا نے جنرل نیازی نے 16 دسمبر 1971 کو ہتھیار ڈال دیئے۔

اسکے بعد قادیانی الگ کرکے واجب القتل قرار پائے۔
اب شعیہ سنی سے ترقی کرکے بریلوی دیوبندی ہوگئے اور آپس میں جھگڑرہے۔ فسادات کررہے۔  ایک کہتا ہے میں اسکو چھوڑوں گا نہیں،  دوسرے اسے تلاش کررہا ہوتاہے۔
اب قتال کی شکل تبدیل ہوگئی ہے، جس کا دل کرے وہ کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگا دے اور پھر اسکی گردن ٹوکے سے الگ اور خون معاف۔  سارے مولوی ٹوکے بنے ہوئے۔

یہ بات بھی پرانی ہوگی، وقت گزر گیا۔ توہین صحابہ کا الزام لگا کر بھی آپ کسی کو ککڑکٹ لگا سکتے ہیں، یہ نسخہ بھی قدیم قرار پایا اب آپ کسی پیر صاحب کی توھین کے مرتکب قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ حتٰیکہ آپ کو بادشاہ خان کی توہین کا مرتکب قرار دے کر بھی واصل جہنم کیا جاسکتا ہے۔

ان دنوں دو مہنگے مہنگے کرتوں والی سرکار آپس  میں گھتم گھتاہیں۔ اور ساری مسلکی پارٹیاں اپنے اپنے "وٹ"  نکال رہیں۔  بندہ جائے تو کدھر جائے، معافی مل سکتی ہے، معافی نہیں مل سکتی، کرلو جو کرنا،  کل ایک صاحب  کہہ رہے تھے کہ با ت دور تک جائے گی۔
بندہ پوچھے بھائی جان اگر لڑنا ہی ہے تو لڑو مگر کرتے تو سستے کرتے جاؤ۔

لڑمذہب کے نام پر رہے سب کے سب اور مذہب یہ کہتا ہے کہ " ملکر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت کرو"۔ مگر اس طرف کس نے دھیان دینا ،

ویسے غزہ میں آج بھی دو میزائل مارکر ایک بڑی بلڈنگ گرادی دی گئی۔ جانے کتنے لوگ مرے ہونگے، ان میں مرد عورتیں، بچے، سب نہتے۔ یہ بھی یاد کروادوں کہ غزہ میں سارے مسلمان ہیں محصور اور مارنے والے یہودی، یہودی بھی نہیں زیونسٹ۔

کافرسب کو مسلمان کرکے اپنے   ”وٹ   نکالی جارہے "  اور مسلمان  ایک دوسرے کو  "کافر قرار دے کر اپنے وٹ نکالی جارہے"۔




مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 31, 2013

نیا اسلامی انقلاب، گانا بجانا

عبدلروف روفی کی غزل پر وہ بات کرے تو سنا ہے پھول جھڑتے ہیں کو سن کر یا رسول اللہ کہنے والے مولوی باؤ محمد حمید مرحوم کے عشق رسول کی ایک عام مثال تھی، ہم ہنستے تھے کہ مولوی یار یہ کسی اور چکر میں گا رہا ہے، مگر مولوی اپنے چکر میں یارسول اللہ کہہ کر ہاتھ چومتا ہوا ہے، آنکھوں کو لگاتا ہوا، بس سر سے اوپر بالوں تک لے جاتا، مولوی کی محبت اپنی جگہ پر اور غزل گانے والے کی نظر اپنی جگہ پر  لکھنے والے نہیں جہاں لگائی وہ تو علم نہیں کیوں کہ شاعر کا نام معلوم نہ ہوسکا، مگر ہم جہاں پر لگا رہے تھے وہ وہی تھی جہاں عموماُ ایسی غزلیں لگتی ہیں، ہماری غزل کا معشوق اور تھا اور مولوی جی کی کیفیت کہیں اور لے جارہی تھی، خیر بھلے آدمی تھے بھلی نباہ گئے اور جوانی میں ہی داغ مفارقت دے گئے، 

آج جانے کیوں مجھے مولوئ جی بہت یاد آرہے، جب اس بلاگ کو لکھنے بیٹھا تو لگا کہ مولوی جی خود ہی سامنے مجسم آگئے اور کہہ رہے، یار ڈاکٹر جی سانوں بھل ہی گئے ہو، کدی یاد ہی نہیں کیتا، اب یاد تو بندہ دنیا دار جو ہے وہ دنیا والوں کو ہی کرے گا، جن سے لین ہے اور دین بھی، مگر جو ادھر سے نکل لئے انکا معاملہ اللہ کے سپرد، کبھی موقعہ ملے فرصت ہوئی تو یاد کرلیا، اور کہہ دیا اللہ مغفرت کرے۔  

مولوی محمد حمید اپنے آپ کو باؤ حمید کہلوانا پسند کرتے اور میں انکو مولبی جی کہنے پر مصر، کبھی بہت لاڈ پیار ہوا تو مولانا کہ لیا یا پھر حضرت جی تو بس پھر حضرت جی اپنا ہاتھ چوم لیتے، حضرت جی اٹلی میں ہمارے اولین رفقاء میں شام رہے، پہلے  سال کی سردیاں جب ایک کمرے میں 14 بندے ہوتے اور اوپر سے 3 مہمان بھی تو میں اور مولبی جی نے ایک سنگل بیڈ پر سوکر ایک رضائی میں گزار دی، انکے پاؤں میرا سر اور میرا سر انکا پاؤں۔ 

سدقے شالا انہاں پردیسیاں تیں گلیاں دے ککھ جہناں تیں  پہارے۔ 

مولوی جی کوئی باقاعدہ مدرسے کے طالبعلم نہیں رہے مگر بس دین نے انکو اپنے اندر سمولیا اور وہ اسلام سے زیادہ صوفی ازم کی طرف نکل گئے، مطلب پنجگانہ نماز اور ورد وظیفہ، پیروں کی باتیں، اور ولیوں کے قصے، جو شروع ہوتے ایک بزرگ نے ایک مقام پر فرمایا، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر کوئی اچھی بات ہی ہوتی، مولوی جی کی تعلیم عمومی مگر لگن پکی تھی،  ہم لوگ حوالہ مانگتے، مگر وہ اپنی بات پر پکے، بس جی جب لگن لگ گئی تو فیر لگ گئی، البتہ یہ قرآن اور حدیث کا حوالہ کم ہی ہوتا، مگر سادگی سے وہ اپنے رستے پر چلتے رہے، اور ہم اپنی لفنٹریوں پر، ہمارے حوالے اور دنیا داریاں اور انکے بغیر حوالے کی لگن اور سادگی، بس یہ درویشانہ عالم کہ کتنی باربحث ہوتی، زچ کرتے کہ مولوی تینوں ککھ پتا نہیں، مگر وہ ہنستے ہنستے نکل لیتے، سادیو ڈاکٹر جی تسیں نہیں سمجھو گے۔  البتہ ایک بات پکی تھی، مولوی جی میں کوئی شرعی عیب نہ تھا، باریش، یورپ میں بھی شلوار قمیض کہ بھئی مذہبی لباس ہے باوضو، نماز جہاں بھی وقت ہوگیا، پڑھ لینی نہیں تو موقع ڈھوندنا
 اللہ نے ان پر اپنا فضل رکھا اور دنیا کے معاملات وقت سے پہلے ہی سمیٹ کر مرحوم ہوگئے۔  اب تو شاید دو برس ہوگئے ہونگے، اللہ انکی مغفرت کرے اور انکو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا کرے۔ 

تب یہ پہلی غزل تھی نوے کی دہائی کے آخری برسوں کی بات ہے جب ہم مولوی کے ساتھ اس غزل پر جھگڑرہے ہوتے اور وہ اپنی کیفیت میں چلے جارہے، پھر اسکے بعد سنا کہ نعتیں باقاعدہ  غزل گوئی کی طرز پر گائی جانے لگیں، پھر قرآنی آیات کا گایا جانا بھی عام دیکھا گیا، پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ دکان چل نکلی ہے تو بہت سے گانے والوں نے نعتیں اور حمدیں گانا شروع کیں اور ہم نے انکو بہت برا بھلا کہا، مولبی لوگ تو فل تپے ہوئے ہوتے، پہلے غزل گو نعت پڑھنے والی طاہر سید تھی، فیر بس جیسے برسات میں کھنبیاں پھوٹتی ہیں ایسے غزل گو اپنی جون بدل کر نعتیے ہوگئے، بعئی ہمارے علم کے مطابق تو گانا اسلام میں شرعی طور پر منع کیا گیا، اور قرآن کو گاکر پڑھنے والوں پر لعنت کی گئی، تو فیر یہ اب جو چل رہا ہے، وہ کیا سین ہے۔ ؟؟؟ یہ سب اگر مولوی جی حیات ہوتے تو انکے ساتھ بحث ہونی تھی اور انہوں نےکہنا تھا سادیوں تہانوں نہیں پتا، چھڈو، انہاں نوں اپنا کم کرن دیو، تے تسیں اپنا کم کرو۔ 

تو ہم کون سا توپ لئے گھوم رہے انکے پیچھے، گائیں جی نعتیں گائیں حمدیں گائیں، ، قرآنی آیات گائیں اور ہم تو اپنا کام کررہے ہیں، پوری قوم اپنا کام کررہی ہے۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, جولائی 25, 2013

خالد ابن ولید، مزارات اور شامی باغیوں کے حمائیتی

ملک شام کے ساتھ ہماری جان پہچان تب سے ہے جب سے ہوش سنبھالا، جب اردگرد دیکھنا شروع کیا اور جب پڑھنا شروع کیا، اسلام تاریخ کے جو بڑے نام ہیں اور جن کو ہم اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، جن لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں، انکی عظمت دل میں جاگ جاتی ہے، ان سے محبت کرنے کو دل کرتا ہے، ان میں سے ایک بڑا نام حضرت خالد بن ولید، رضی اللہ عنہ، سیف اللہ کا لقب پانے والے اس عظیم سپہ سالار کا ہے، جن کے بارے حضرت صدیق اکبر کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کی وہ تلوار ہے جو نبی کریم صلی اللہ علی وآلہ وصلم نے نیام سے نکالی تو میں کیسے اسے نیام میں کردوں، پس پھر تاریخ نے قادسیہ کا معرکہ دیکھا جب مسلم افواج نے ایک کثیر تعداد میں دشمن کو ایسی شکست دی کہ وہ پھر سنبھل نہ سکا، حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ نے خلافت کی طرف سے سپہ سالار نہ ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اسلامی لشکر کو جس خوبی اور فراخدلی سے سنبھالا وہ تاریخ میں اپنی مثال نہیں رکھتا، پھر دور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میں جب حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ کو معطل کیا گیا تو آپ نے پھر نظم کی مثال قائم کی، پھر اسلامی فوج میں بغیر عہدہ کے لڑے۔ اور اللہ کی یہ تلوار کسی کافر کے ہاتھوں نیام میں نہین گئی اور آپ غازی رہے، اللہ پاک آپ کے درجات بلند کرے۔

حضرت کے زمانہ حیات میں ابھی تک فتنہ شیعہ نے سر نہ اٹھایا تھا اور وہ ایک نہایت غیر متنازعہ شخصیت کے طور پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
آپ نے بازنطینی اور ساسانی حکومتوں کی ناس ماردی، اور یہ کہ آپ کے فتح کئے ہوئے علاقہ ابھی تک مسلمانوں کے پاس ہی ہیں، سیف اللہ ہونے کی ایک بڑی دلیل۔

امیر تمور جب حمس کے پاس سے گزرہ تو وہ بھی اس جنگجو کے احترام میں اس شہر کو تباہ کئے بغیر گزر گیا، ایک بہادر جرنیل دوسرے کی قدر جانتا ہے۔۔

شام میں موجود مزار بی بی زینب رضی اللہ عنہ بھی کسی بحث کا باعث نہیں بنا کبھی بھی نہیں بنا۔ یہ مزارات صدیوں سے مراکز تجلیات و مرجع خلائق ہیں
اب جی شام ملک میں خانہ جنگی لگی ہوئی ہے اس بارے پہلے تو خبریں تھیں کہ باغیوں کی اسرائیل مدد کررہا، پھر اس میں یورپ اور امریکہ کی مدد بھی ٹپک پڑی، اب کل امریکہ نے باقاعدہ باغیوں کی اعانت اور سپوٹ کا اعلان کردیا ہے، انجمن اقوام متحدہ امریکہ کی سلامتی کونسل نے بھی باغیوں کے ساتھ گفت وشیند شروع کردی، یہ آجکی واشنگٹن پوسٹ میں لکھا ہوا،۔۔

اب میں یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوں کہ، مملکت شام اس وقت بہت نازک حالات میں ہے، یہ مزار گرانے والے متنازعہ کام انکو کرنے ہوتے تو وہ پہلے کرتے جب سب کچھ انکے قابو میں تھا، اب تو انکےلئے اسطرح کا ہر قدم خودکشی کے مترادف ہے۔

اگر حکومت یہ کام نہیں کررہی تو پھر باغی کررہے ہیں، یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے ک مسلمان تو ادھر ہمیشہ سے ہی ہیں، وہ تو مسجد پر حملہ نہیں کریں گے نہ ہی انہوں نے کیا ایسے ہی جیسے کسی ہندو کا مندر پر اور کسی عیسائی کا چرچ پر حملہ کرنا خارج از امکان ہے، میں نے اپنے انڈین دوست عبدالمالک صاحب سے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کیا ہندوستان میں جہاں سب اقوام و مذاہب موجود ہیں، وہاں پر مندر پر کون حملہ کرے گا تو جواب ملا کہ ہندو تو نہیں ہوگا
مسجد پر حملہ کرنے والا کون ہوگا، تو جواب ملا کہ مسلمان کے علاوہ کوئی ہوگا
اسی طرح چرچ پر حملہ کرنے والا عیسائی کے علاوہ ہی کوئی ہوگا۔

تو برادران یہ جو مزارات پر حملے ہورہے ہیں یہ باغیوں کے غیرمسلم معاونین کی طرف سے ہورہے ہین، تاکہ عام مسلمان کے دل میں مملکت شام کے خلاف نفرت پیدا کیا جاسکے اور کل کو  جب سکوت شام ہوگا تو اس پر کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔ مزارات پر حملے کرنے والے وہی ساسانی اور بازنطینی ہی تو نہیں ہیں جو آج اپنا بدلہ لے رہے ہیں سنا ہے کہ چلو تب تو کچھ نہ ہوسکا اب موقع ہاتھ آیا ہے تو حضرت کے مزار و منسوب مسجد سے ہی بدلہ لے لو۔ ورنہ اور کوئی کیوں ان جیسی شخصیت کے مزار پر حملہ کرنے کی جرآت کرسکتا ہے جب امیر تیمور جیسا لڑاکا اور سنگ دل بھی حضرت کے شہر سے پرے ہوکر اپنا راستہ تبدیل کرلیتا ہے۔ 

خیر مکرو، مکراللہ، وللہ خیرالماکرین

مکمل تحریر  »

اتوار, نومبر 11, 2012

ایک معجزہ قرآن کا


چونکہ ہم مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ، لہذا جبری مسلمان قرار پائے۔  جبری یوں  کہ، پیدا ہوئے اور دادا جی نے کان میں اذان انڈیل دی۔ کہ چل بیٹا  ساری زندگی مولبیوں کو سنتا رہ، بولنے کے قابل ہوئے تو  انہوں نے کلمہ پڑھادیا ، مطلب پکا مسلمان،  اور ہم نہ جانتے ہوئے بھی   "کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور محمد اللہ   کے رسول  ہیں"۔  ہم کہتے رہتے اور دادا جی خوش ہوتے رہتے،  چلنے کے قابل ہوئے تو انہوں نے ایک ہاتھ میں اپنی لاٹھی لی  اور دوسرے میں میراہاتھ تھامے مسجد لےگئے۔   لو جی پکے مسلمان۔  پھر اسکول میں  بھیجنے سے پہلے مسجد   "قرآن " پڑھنے کو بھیج دیا۔  اور ہم حافظ جی کی طرح پورا قرآن پڑھ گئے بغیر سمجھے، پھر اسکول میں اسلامیات  کی کتاب   پر رٹا مارتے رہے، آیات اور احادیث  یاد کرتے رہے، تاریخی واقعات رٹتے رہے۔ یوں ہم  پکے مسلمان ہوگئے بلکہ کچھ کچھ حافظ جی بھی، کہ کچھ آیات زبانی یاد تھیں اور کئی کے ترجمے بھی۔  بلکہ ایک بار تو ریش مبارک بھی رکھ لی تھی۔ پھر  دادا جی نے جھاڑا  کہ " اتنی مسلمانی بھی اچھی نہیں"   ابھی میں ہوں ناں باریش گھر میں،   بس ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہوسکتیں،   اور ہم نے دھاڑی منڈوادی، ویسے بھی کالج میں قاری صاحب  کہلوانا اچھا نہ لگتا تھا۔

پاکستان میں ہمارا  کل اسلام نماز جمعہ اور مولبی کی تقریر کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ مطلب مسجد سے باہر اسلام کاکوئی کام نہیں ۔ قرآن صرف صبح پڑھ لینا کافی ہے۔ مطلب کلام پاک کی تلاوت۔   اور بس، اسکے معانی پر اور مفہوم پر کبھی غورکیا بھی نہیں، ویسے بھی بزرگوں سے یہی سنا کہ دین کے معاملات میں زیادہ غور نہیں کرنا چاہئے۔ البتہ  قرآن کے سارے معجزے ہمیں زبانی یاد ہیں، چاہے وہ یوسف ؑ  کو کنویں میں ڈالنا یا نکالنا ہوا ، یا ابراھیمؑ کی آگ کا واقعہ، یا پھر  موسیٰؑ کا  اور فرعون کا قصہ۔

اسکے علاوہ ہمیں قرآن میں سے سارے ورد وظیفے بھی یاد ہیں جو مختلف مواقعوں  پڑھنے ضروروی ہیں اور کماحقہ ان سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔اور ہمارا ایمان ہے کہ چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو اسکا حل ادھر موجود ہے۔ اب ہمیں نہ ملے تو  ہماری کم علمی اور کم عقلی۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ ہماری پوری قوم کو اب تک مسائل کا حل نہیں مل سکا ، اسکا ثبوت   مسائل کی موجودگی ہے۔

کل شام کو ایک  کتابوں کی دکان میں  بہت عرصے بعد گھس گیا، پرانا شوق  پورا کیا ،  کتابی دیکھیں، کچھ نئی، کچھ وہی پرانی، سدا بہار،رومانس، تاریخ، سیاست، بچوں کے کارٹون ،   سیاحت، نفسیات ، جادو ٹونے ،  معالجات و صحت اور مذہب و ایمان،  اس ضمن میں جو بات میرے دل  میں گھس گئی کہ قرآن مجید کو سب سے اوپر والی شیلف میں رکھا گیا تھا۔ جبکہ دکان اٹالین ہے اور اس حصہ میں بائبل سے لیکر عیسائیت  پر بیسیوں  کتب پڑی تھیں ،  مگر حیرت کی بات کہ قرآن شریف کو سب سے اوپر رکھا گیا، گویا سب سےمقدس صحیفہ یہی ہے۔ اور سب سے اہم  بھی۔ مجھے تو یہ بھی قرآن کا ایک معجزہ لگا۔ اور ایمان تازہ ہوگیا۔

وللہ اعلم





مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش