جمعہ, نومبر 18, 2016

عزت طوائف میراثی شریف اور پانامہ لیکس

 آپ نے اکثر فلموں میں ایک عدالتی سین دیکھا ہوگا جس میں ایک خاتون اپنی عزت لوٹنے والے ولن پر مقدمہ کرتی ھے، اور پھر اس ولن کا وکیل اس عورت سے کچھ اس قسم کے سوال کرتا ھے کہ:


ملزم نے تمہاری عزت بستر پر لوٹی یا زمین پر؟

کیا عزت لوٹتے وقت ملزم نے شراب پی رکھی تھی؟ کیا اس نے تمہیں بھی زبردستی پلائی؟

عزت لوٹنے سے پہلے کیا ملزم نے تمہیں چوما، یا جسم کے کسی حصے پر ہاتھ لگائے؟ اگر ہاں، تو عدالت کو بتایا جائے کہ کیسے لگائے؟

کیا ملزم نے تمہارے کپڑے پھاڑے تھے یا تم نے ڈر کر خود اتار دیئے؟

اس پورے عمل میں کتنی دیر لگی؟

یہ سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہوتا ھے کہ غریب دکھیا لڑکی جو پہلے تنہائی میں اپنی عزت لٹوا چکی تھی، اب وہ ساری دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر اپنی عزت لٹوائے۔ ان سوالات سے تنگ آکر وہ لڑکی اپنا کیس چھوڑ دیتی ھے۔ یہ سین آپ کو بھارتی فلم دامنی، اعتراض اور ایسی دوسری کئی فلموں میں ملے گا۔

پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ عمران خان کی غیرت نے گوارا نہ کیا تو وہ اپنے حامی لے کر سڑکوں پر نکل آیا تاکہ تاریخ اس قوم کو مکمل بے غیرت کے طور پر یاد نہ کرے۔ 7 مہینے کی لگاتار جدوجہد 
اور احتجاج کے بعد خان صاحب نے سپرم کورٹ کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور کردیا۔

اب سپیرم کورٹ میں عمران خان کے علاوہ تمام لوگ بشمول جج، ن لیگ سمیت دوسری پارٹیاں اور ان کی حامی عوام بڑی تسلی سے یہ جاننے کی کوشش کررھے ہیں کہ

نوازشریف نے قوم کی عزت لوٹنے سے پہلے کیا اس کے کپڑے پھاڑے؟ اگر پھاڑے تو ان کی ٹاکیاں کہاں گئیں؟

نوازشریف جب اس قوم کی عزت لوٹ رہا تھا تو کیا قوم کو درد ہوئی؟ اگر ہوئی تو اس نے چیخیں ماریں یا سسکیاں بھریں؟ اگر درد نہیں ہوئی تو کیا قوم کو مزہ آرہا تھا؟

نوازشریف نے اس قوم کی عزت فرش پر لوٹی یا بستر پر؟

معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک
ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

 
کچھ عرصہ قبل ایک میراثی کا رائےونڈ سے گزر ھوا۔ رات کا وقت تھا- میراثی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی، اس نے سوچا کہ کیوں ناں رات یہاں ہی گزار لی جائے- لہذا اس نے قریبی گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک شریف شخص باہر نکلا میراثی نے ان سے رات  گزارنے کے لئے ایک چارپائی کی درخواست
کی، شریف بزرگ نے میراثی کو بتایا کہ ان کے گھرصرف 5 چارپایاں ھیں جن پر گھر والے کچھ اس طرح سوتے ہیں:-

"
ایک چارپائی پر میں اور میری بہو دوسری پر میرا داماد اپنی ساس کے ساتھ تیسری پر میرا بڑا بیٹا چھوٹی بہو کے ساتھ چوتھی پر میرا چھوٹا بیٹا نوکرانی کے ساتھ اور پانچویں پر میرا نوکر میری بیٹی کے ساتھ سوتا ہے لہذا ان کے پاس کوئی چارپائی نہ ہے- میراثی یہ تفصیل سن کر تلملا اٹھا اور شریف بزرگ کو کہا مجھے چارپائی
دیں یا نہ دیں مگر اپنے سونے کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں:”

Morale of the story:-


پانامہ لیک میں فلیٹس کسی کے ہیں یا نہیں لیکن کم از کم تمام گھر والے اپنے بیانات کی ترتیب تو ٹھیک کر لیں😂


-------------------------------


خبردار: اس تحریر کے مصنف کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہے۔ 

مکمل تحریر  »

جمعرات, جون 23, 2016

شہید، مقتول اور فسادات

اگرکوئی گھر سے نکلے مزدورکرنے، بچوں کےلئے کھانے کا سامان لینے، بہن کےلئے کپڑے لینے یا کسی دوست سے ملنے۔ اسکول جانے، مسجد نماز کےلئے جانے یا کسی بھی اور کام سے جو اسکی ذات سے متعلق ہے اور کسی دوسرے سے اسکا کوئی مطلب مقصد نہ ہو۔ ایسے کو راہ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکو شہادت کہا جائے گا، کہ حادثاتی موت مرنے والا شہید ہے اور اللہ اسکو اسکا اجر دے گا۔ ہم انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ کہ "چنگا وائی جو اللہ دی مرضی"۔


اور اسکے برعکس اسکو کوئی شخص جان کر اور پلاننگ کرکے اسکو "ٹھوک" دے، دو گولیاں۔ تو یہ قتل ہے، بلکہ اسکو قتل عمد کہا جائے گا۔ ایسا ہی دنیا کے ہرقانون میں ہے اور اسلامی شریعت میں بھی ایسا ہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی قتل کا لفظ استعمال ہوا جبکہ مقتول اور قاتل کے الفاظ بھی ہیں اور اسکا بدلہ قتل مقررہ ہوا، یا پھر قصاص و دیت یا پھر معافی۔ بلترتیب۔


اور اگر یہ قتل کسی "پبلک پلیس" پر ہوا، جس میں زیادہ لوگ ملوث ہوں یا جس سے زیادہ لوگ متاثر و خوفزدہ ہوں تو اسکو " دہشت گردی " کہا جائے گا۔ قرآن میں فساد اور فتنہ  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ایسا کرنے والے کےلئے  "فسادی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں دیت معافی کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ بلکہ "ملٹری کورٹس" میں فوری مقدمہ چلایا جاتا ہے اورمجرمین کو براہ راست" ٹھونک" دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

کتاب  اللہ میں فساد  پھیلانے اور فساد کی روک تھام کےلئے بہت ہی سختی کی  گئی ہے۔ قرآن مجید میں کل گیارہ مقامات پر فساد کا بیا ن آیا  ہے۔ 

فساد کا پہلا ذکر سورہ بقرہ میں ملتا ہے۔ 

( 204 )   اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
( 205 )   اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
( 206 )   اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

  سورہ المائدہ میں بیان ہوتا ہے۔ 
( 32 )   اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

اور اگلی آیت مبارکہ میں ایسوں کی سزا مقرر کردی جاتی ہے۔ اور وہ بھی وہی سزا جو خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کرنے والوں کی ہے ۔ 

( 33 )   جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے


امجد صابری قتل کیس میں پوری قوم متاثر ہوئی، اسکو دھشت گردی قرار دیا جائے گا۔ مرنے والا مقتول ہے جو اسکی مظلومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاتلوں کے پکڑنے اور سزا پانے تک ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسے ہیں ہم عوام کو بھی یہ جھگڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ وہ شہید تھا کہ نہیں تھا۔


یاد رہے، ہر مرنے والا شہید نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت خالد ابن ولید، سیف اللہ کا لقب پانے والے رسول اللہ ﷺ سے اپنے آخری وقت میں شہادت کےلئے رو نہ رہے ہوتے۔




مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 30, 2015

تبدیلی Chang

بہت کچھ تبدیل ہو سکتا تھا ،  
نئے چہرے لائے جانا ایک بڑی تبدیلی ہوتی، نوجوان قیادت ہوتی،  چالیس برس سے اوپر کے کسی بندے کو ٹکٹ نہ ملتی کہ یہ لوگ اپنے پانچ سال کے مقامی حکومتوں میں تجربے  کو اور مقامی مسائل کو سمجھ کر آگے لے جا سکتے تھے۔

تبدیلی  یہ ہوتی کہ سب لوگ نئے ہوتے، چہرے نہیں بلکہ نئے، ایسے لوگ  جو پہلے سے ہی مشہور اور کرپٹ سیاہ سی خاندانوں کے سپوت نہ ہوتے۔

تبدیلی یہ ہوتی کہ یہ سارے لوگ پڑھے لکھے ہوتے،  اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ آگے آتے۔ جو اپنے  علم اور تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے  عوام کے مسئلے  حل کرتے۔

پرانی "سیاہ سی"  پارٹیوں سے تو امید کم ہی  رہی ہے مگر تحریک انصاف خاص طور پر اس بات کا نعرہ لگاتی رہی ہے، اور انکے "چالے" دیکھ  دیکھ کہ ہم یہ کہتے رہے کہ یہ بھی ایک سیاہ سی پارٹی ہے، باقیوں کی طرح۔ ہم دیکھتے رہے کہ وہی مچھلیں ایک مرتبان سے دوسرے میں چھلانگیں مارتی رہیں۔ 



صرف نعروں  سے تبدیلی نہیں آتی، اگر ایسا ہوتا تو سب سے بہترین نعرہ   پیپلز پارٹی کا تھا، "روٹی ، کپڑا اور مکان"۔ مگر چونکہ یہ صرف ایک نعرہ ہی رہا عملی کام کچھ بھی نہ ہوا ، تو جنابو موقع ملتے ہی عوام  نے اس پارٹی کا دھڑن تختہ کردیا۔ بھٹو "زندہ  ہے " کا نعرہ دب گیا ہے۔
اب تبدیلی اگر صرف آسکتی ہے تو تو وہ ہے کچھ کرنے سے، دوسروں پر تنقید ضرور کرو، مگر خود بھی کچھ کرو، تاکہ جو دوسرا کچھ کررہا ہےاسکو اپنے نمبر بنانے کو کچھ بڑا کرنا پڑے۔

کچھ بھی تو تبدیل نہیں ہوا۔ 
کا بیٹا، کا بھتیجا، کا بھائی، کا کزن ، ہی ناظم بنا،
تحریک انصاف سمیت باقی پارٹیوں کا بھی حال ایک سا ہی رہا
باوجود ناامیدی کے ایک بار پھر بہت دکھ ہوا۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, جولائی 08, 2015

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ کا خطبہ خلافت

حضور  کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد دوسرے روزمسجد میں بیعت عامہ ہوئی، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ممبر پر بیٹھ کر ان الفاظ میں اپنے طرز عمل کی توضیح فرمائی:

یا ایہاالناس! فانی قد ولّیت علیکم و لست بخیرکم فان احسنت فاعینونی و ان اسأت فقومونی، الصدق امانۃ و الکذب خیانۃ والضعیف فیکم قوی عندی حتی ازیح علیہ حقہ انشاء اللہ ، والقوی فیکم ضعیف عندی حتی اٰخذ الحق منہ انشاء اللہ، لا یدع قوم الجھاد فی سبیل اللہ الا ضربھم اللہ بالذل ، ولا تشیع الفاحشۃ فی قوم الا عممھم اللہ بالبلاء و اطیعونی ما اطعتُ اللہ و رسولہ فاذا عصیت اللہ و رسولہ فلا طاعۃ لی علیکم فقومولی صلاتکم یرحمکم اللہ ۔ (۸)

"صاحبو! میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں ، حالانکہ میں تم لوگوں میں سب سے بہتر نہیں ہو،اگر میں اچھا کروں تو میری اعانت کرو اور اگر برائی کی طرف جاؤں تو مجھے سیدھا کردو، صدق امانت ہے اور کذب خیانت ہے، انشاء اللہ تمہارا ضعیف فرد میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک میں اس کا حق واپس دلادوں ، انشاء اللہ اور تمہارا قوی فرد بھی میرے نزدیک ضعیف ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق دلادوں ، جو قوم جہاد فی سبیل اللہ چھوڑدیتی ہے اس کو خدا ذلیل و خوار کردیتا ہے اور جس قوم میں بدکاری عام ہوجاتی ہے خدا اس کی مصیبت کو بھی عام کردیتا ہے، میں خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو، لیکن جب خدا اور اس کے رسول  کی نافرمانی کروں تو تم پر اطاعت نہیں ، اچھا اب نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ، خدا تم پر رحم کرے"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو صاحبو میں نے ادھر لکھ دیا یاد دہانی کےلئے بغیر کسی ترمیم و اضافہ کے، تاکہ بار بار پڑھتا رہوں اور سمجھ آتی رہے کہ ہمارے دین کی حکمرانی کیا ہے اور حاکمیت کیا ہے۔ 
رضی اللہ عنہ

مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 11, 2015

اسلام میں سوالات کرنے کی روایات

یاد کیجیے اس وقت کو جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے موقع پر دباؤ کے ساته صلح کیے جانے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال فرما رہے تهے اور آپ نہایت اطمینان کے ساتهہ ان کے ہر سوال کا جواب دے رہے تهے.
عمر رض: کیا آپ واقعی اللہ کے نبی نہیں ہیں ؟
رسول الله صلى الله عليه و سلم: کیوں نہیں.
کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟
کیوں نہیں.
تو پهر ہم اپنے دین کے معاملے میں اتنی رسوائ کیں اٹها رہے ہیں ؟
میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا اور وہی میری مدد فرمائے گا.
آپ ہی تو ہم سے بیان کیا کرتے تهے کہ ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟
بالکل، کیا میں نے یہ بهی بتایا تها کہ یہ سب اسی سال ہوگا ؟
نہیں.
تو بس جو کہہ دیا وہ ہو کر رہے گا. تم بیت اللہ پہنچ جاؤگے اور طواف بهی کروگے.
پهر بعینہ یہی سوال عمر رض ابو بکر رض سے بهی کرتے ہیں.
لیکن ابو بکر رض کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے ذرا بهی مختلف نہیں ہوتا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کو جانشین رسول مقرر کیا گیا.آپ کی تقرری امت مسلمہ کا پہلا اجماع کہلاتی ہے.بار خلافت سنبھالنے کے بعد آپ نے مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا.


میں آپ لوگوں پر خلیفہ بنایا گیا ہوں حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ میں آپ سب سے بہتر ہوں. اس ذات پاک کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے یہ منصب و امارت اپنی رغبت اور خواہش سے نہیں لیا، نہ میں یہ چاہتا تھا کہ کسی دوسرے کے بجائے یہ منصب مجھے ملے، نہ کبھی میں نے اللہ رب العزت سے اس کے لئے دعا کی اور نہ ہی میرے دل میں کبھی اس (منصب) کے لئے حرص پیدا ہوئی. میں نے تو اس کو بادل نخواستہ اس لئے قبول کیا ہے کہ مجھے مسلمانوں میں اختلاف اور عرب میں فتنہ ارتدار برپا ہوجانے کا اندیشہ تھا. میرے لئے اس منصب میں کوئی راحت نہیں بلکہ یہ ایک بارعظیم ہے جو مجھ پر ڈال دیا گیا ہے. جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں سوائے اس کے اللہ میری مدد فرمائے. اب اگر میں صحیح راہ پر چلوں تو آپ سب میری مدد کیجئے اور اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح کیجئے. سچائي امانت ہے اور جھوٹ خیانت، تمہارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کے میں اس کا حق اس کو دلواؤں . اور جو تم میں قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں. ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی قوم نے فی سبیل اللہ جہاد کو فراموش کردیا ہو اور پھر اللہ نے اس پر ذلت مسلط نہ کی ہو،اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ کسی قوم میں فحاشی کا غلبہ ہوا ہو اور اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا نہ کرے.میری اس وقت تک اطاعت کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلوں اور ا گر میں اس سے روگردانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں (طبری. ابن ہشام)


امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ ایک بار منبر پر خطبے کےلئے کھڑے ہوئے اور کہا ”لوگو سنو اور اطاعت کرو“۔
 ایک عام شخص مجمع میں کھڑا ہوگیا اور کہا امیر المومنین !ہم نہ تمہاری بات سنیں گے اور نہ ہی اطاعت کریں گے۔ اس لئے کہ تمہارے جسم پر جو چوغہ لگا ہے وہ اس کپڑے سے زائد کا معلوم ہوتا ہے جو کپڑا مال غنیمت میں سے بحصہ مساوی آپ کو ملا تھا لہٰذا یہ خیانت ہے اور خائن خلیفہ کی اطاعت قوم کےلئے جائز نہیں ہے۔
 امیر المومنین حضرت عمرؓ نے اپنا خطبہ دینا روک دیا
اور اپنے بیٹے، عبد اللہ بن عمرؓ کی طرف اشارہ کیا، عبد اللہ بن عمرؓ نے کھڑے ہو کر کہا لوگو! یہ سچ ہے کہ مال غنیمت سے سب کو ایک ایک چادر ہی ملی تھی اور امیر المومنین کو بھی ایک ہی چادر ملی تھی۔ ان کا قد اونچا ہے اور لمبے قد کے اعتبار سے ان کا کُرتا ایک ہی چادر میں بننا ممکن نہیں تھا اس لئے میں نے اپنے حصہ کی چادر بھی امیر المومنین کو دے دی تھی اور دو چادروں سے میرے والد یعنی امیر المومین کا کرتا بنا۔ اب فرمائیے۔
عبد اللہ بن عمرؓ کی گواہی کے بعد معترض نے کہا میرا شک دور ہوگیا ہے۔ امیر المومنین اب فرمائیے ہم آپ کے حکم کی تعمیل بھی کریں گے اور آپ کی اطاعت بھی کریں گے۔
یہ حضرت عمرؓ کی عدالت کا انصاف تھا کہ ایک عام سے عام شخص بھرے مجمع میں سے کھڑے ہو کر خلیفہ وقت کو اس وقت تک خطبہ دینے سے روک سکتا تھا جب تک اس کا خلیفہ وقت پر لگایا گیا الزام غلط ثابت نہیں ہو جاتا تھا۔

اور ایک ہمارے علماء  ہیں جنکے  اوپر سوال  کرنے والے یا انکی مخالفت کرنے والے پر کفر کے فتوے لگ جاتے ہین۔

شاید یہی وجہ ہے ہماری امت کے زوال کی، عام آدمی تو عام آدمی  ، عالم دین کہلوانے والے بھی دین سے دور ہیں، دین کو صرف اپنے فائدہ کےلئے استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی ان پر اعتراض کرے یا اختلاف کرے تواسے کافر قرار دے دیا جاتا۔  حد تو یہ ہے کہ اس وقت ہرفرقے کو کوئی نہ کوئی کافر یا مشرک قرار دے چکا ہے۔
جبکہ واضع حکم ہے کہ " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت کرو۔ "
مگر ہمارے علماء نے تفرقہ کو حلال کرکے بہت سے فرقے بنالئے ہیں۔
انا للہ و انا لیہ راجعون

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 05, 2015

یوم یک جہتی کشمیر

آج پانچ فروری ہے، یوم یک جہتی کشمیر، 
عام آدمی کی حالت، مار مار نعرے شام تک گھلے بٹھا لیں گے، پھر چار دن تک گرم پانی مین نمک ڈال کر غرارے کرتے رہین گے۔ یہ وہ ہین جو اسکے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ آواز اٹھارہے ہیں 

حکمرانوں کی حالت، لوٹ کھسوٹ مین مگر، ممکن ہے کوئی ویلا آدمی ایک ادھا بیان دے بھی دے، مگر اپنی تماشبینی میں مگن، یہاں حکمرانوں سےمراد سیاہ ست دان ہیں، چاہے وہ کسی پارٹی کے ہوں، ٹی پارٹی کے بھی، وہ اپنے آپ کو حاکم تصور کرتے ہیں۔ 

حالانکہ ثانی الزکر کشمیر کےلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں، مگر اس سے پہلے انکو پاکستان کےلئے کچھ کرنا ہوگا، ایک مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کے اور وہاں پر لوگوں کے حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے، کشمیری عوام کے ساتھ یک جہتی کرنے سے پہلے اپنے اندر یک جہتی پیدا کرلو،  یہ بات تو بہت اچھی ہے اور لازم بھی ، 

مگر

لگتا اایسے ہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کی عوام سے نہ صرف یہ کہ ہمدردی کوئی نہیں، بلکہ لگتا یہ ہے کہ انسے کوئی خدا واسطے کا بیر ہے۔ 
ویسے اس بیر کی وجہ کیا ہے؟؟ کوئی ہے بھی کہ نہین؟؟



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش