جمعرات, جون 23, 2016

شہید، مقتول اور فسادات

اگرکوئی گھر سے نکلے مزدورکرنے، بچوں کےلئے کھانے کا سامان لینے، بہن کےلئے کپڑے لینے یا کسی دوست سے ملنے۔ اسکول جانے، مسجد نماز کےلئے جانے یا کسی بھی اور کام سے جو اسکی ذات سے متعلق ہے اور کسی دوسرے سے اسکا کوئی مطلب مقصد نہ ہو۔ ایسے کو راہ میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اسکو شہادت کہا جائے گا، کہ حادثاتی موت مرنے والا شہید ہے اور اللہ اسکو اسکا اجر دے گا۔ ہم انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ کرخاموش ہوجاتے ہیں۔ کہ "چنگا وائی جو اللہ دی مرضی"۔


اور اسکے برعکس اسکو کوئی شخص جان کر اور پلاننگ کرکے اسکو "ٹھوک" دے، دو گولیاں۔ تو یہ قتل ہے، بلکہ اسکو قتل عمد کہا جائے گا۔ ایسا ہی دنیا کے ہرقانون میں ہے اور اسلامی شریعت میں بھی ایسا ہی ہے۔ قرآن مجید میں بھی قتل کا لفظ استعمال ہوا جبکہ مقتول اور قاتل کے الفاظ بھی ہیں اور اسکا بدلہ قتل مقررہ ہوا، یا پھر قصاص و دیت یا پھر معافی۔ بلترتیب۔


اور اگر یہ قتل کسی "پبلک پلیس" پر ہوا، جس میں زیادہ لوگ ملوث ہوں یا جس سے زیادہ لوگ متاثر و خوفزدہ ہوں تو اسکو " دہشت گردی " کہا جائے گا۔ قرآن میں فساد اور فتنہ  کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اور ایسا کرنے والے کےلئے  "فسادی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ایسی صورتوں میں دیت معافی کا کوئی چکر نہیں ہوتا۔ بلکہ "ملٹری کورٹس" میں فوری مقدمہ چلایا جاتا ہے اورمجرمین کو براہ راست" ٹھونک" دیا جاتا ہے، تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔

کتاب  اللہ میں فساد  پھیلانے اور فساد کی روک تھام کےلئے بہت ہی سختی کی  گئی ہے۔ قرآن مجید میں کل گیارہ مقامات پر فساد کا بیا ن آیا  ہے۔ 

فساد کا پہلا ذکر سورہ بقرہ میں ملتا ہے۔ 

( 204 )   اور کوئی شخص تو ایسا ہے جس کی گفتگو دنیا کی زندگی میں تم کو دلکش معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی مانی الضمیر پر خدا کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے
( 205 )   اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
( 206 )   اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

  سورہ المائدہ میں بیان ہوتا ہے۔ 
( 32 )   اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

اور اگلی آیت مبارکہ میں ایسوں کی سزا مقرر کردی جاتی ہے۔ اور وہ بھی وہی سزا جو خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کرنے والوں کی ہے ۔ 

( 33 )   جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے


امجد صابری قتل کیس میں پوری قوم متاثر ہوئی، اسکو دھشت گردی قرار دیا جائے گا۔ مرنے والا مقتول ہے جو اسکی مظلومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قاتلوں کے پکڑنے اور سزا پانے تک ریاست کو خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ ایسے ہیں ہم عوام کو بھی یہ جھگڑا کرنے سے گریز کرنا چاہئے کہ وہ شہید تھا کہ نہیں تھا۔


یاد رہے، ہر مرنے والا شہید نہیں ہوتا، اگر ایسا ہوتا تو حضرت خالد ابن ولید، سیف اللہ کا لقب پانے والے رسول اللہ ﷺ سے اپنے آخری وقت میں شہادت کےلئے رو نہ رہے ہوتے۔




مکمل تحریر  »

سوموار, اپریل 25, 2016

غیر محرم خواتین سے ہاتھ ملانا

مسلمان، بلکہ اچھے مسلمان 1400 سو برس سے غیر محرم خواتین سے مصافحہ نہیں کررہے، فوراُ منع ہوجاتے ہیں۔
نظریں جھکا لیتے ہیں۔
عرض کردیتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں جائز نہیں۔
اور دوسرے مزاہب والے بھی برا نہیں مناتے،
اگر کوئی کم ظرف سوال اٹھائے بھی تو
"پھاں" کرکے اسکا منہ بند کردیا جاتا ہے۔
کہ مذہب ساڈا ہے، تہاڈا نئیں۔ "ہیں جی" ۔
پھر تو اگلا چپ ہی کرجاتا ہے۔
اگر کسی موقع پر کوئی " بُڑ بُڑ" کرے تو
اسکا "کھنہ بھی سینکا" جاتا ہے۔
کہ توں ساڈے مذہب دے وچ پنگے کریں، سانوں دسیں گا ہنڑں؟؟
پھر اگلا چپ ہی سمجھو۔ مجال ہے جو چوں بھی کرجائے۔


مگر


اسکے باوجود بھی ہمارے مسلمانوں کی حالت خاصی پتلی ہے۔
پوری دنیا میں "چوہڑے" ہوکر رہے گئے ہیں۔
ادھر حجاب کرکے ٹائلٹ صاف کررہے ہوتےہیں۔
دنیا کی ترقی میں نام کردار نہیں ہے۔
معاشرتی اور اخلاقی ہر برائی موجود ہے۔
غریبی سے لیکربے حیائی، جھوٹ، فریب، بے ایمانی، کم تولنا، دوسرے کا حق مارنا، رشوت، سفارش اقربا پروری ہمارے اندر رچی پڑی ہے۔
اور ہم کسی گندے "رینو" کی طرح اس کیچر میں لت پت پڑے ہوئے ہیں۔




غامدی صاحب نے اگر عمومی طور پر خاتون سے مصافحہ کرنے کے بارے کہہ ہی دیا ہے کہ اس بارے دین نہین منع کرتا تو انکی بات پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے اس کا قرآن و سنت سے رد کیا جائے، نہ کو اسکو  گالیاں دینے، ٹھٹھہ کرنے، اور تذلیل کی جائے، اس کی بجائے کیون نہ اس کو یکسر مسترد کیوں نہ کردیا جائے۔


اور توجہ دی جائے ان امور پر جن کی وجہ سے آج ہم پوری دنیا میں جوتے کھا رہے ہیں۔
جن کی وجہ سے آج ہم چھترو چھتری ہورہے ہیں۔
مگر کیوں؟؟ اگر ایسا ہوتو پھر ہم وہ رینو تو نہ ہوئے۔




اچھا چھڈو یہ رینو والی فوٹو ویرونا والے سفاری پارک میں بنائی تھی میں نے اصلی ہے


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 13, 2016

سفرنامہ روم۔ ویتوریانو Vittoriano

ویتوریانو Vittoriano   المشہور قیصر روم کا محل

اطالیہ  یا اٹلی کا  "انتخابی نشان"  یہ عمارت جوکہ منصوب ہے،اطالیہ  کے پہلے بادشاہ ویتوریو ایمانیویلےدوئم   Vittorio Emanuele II کے نام سے۔  

دیکھنے میں یہ ایک بہت بڑا محل ہے، عام  طور پر پاکستانی اسے  قیصرروم کا محل  کہتے ہیں ۔ یہ ایک  یادگاری عمارت ہے، جس
کو ویتوریانو یا پھر سرزمین  کی قربان گاہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ ایک قومی یادگار ہے جو اٹلی کے دارالحکومت روم میں واقع ہے۔ اور مشہور اطالوی ماہرتعمیرات Giuseppe sacconi کا  ڈیزائنر کردہ  ایک شاہکار ہے۔ اس عمارت کا نام  "ویتوریانو" اطالیہ کے پہلے بادشاہ  ٗویتوریو ایمانیولے دوئم  کے نام سے لیا گیا ہے۔  اس بادشاہ نے آج کے اطالیہ متحد کیا تھا جو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ بس پھر کیا ہے اطالیہ میں ہر شہر میں ان صاحب کے نام کی مرکزی گلی ہوتی ہے،  کوئی کھلی سی سڑک، اسی طرح دالخلافہ میں انکے نام کی یادگار تعمیر کردی گئی، جو ریاست عوام اور حکومت کی علامتی طور پر نمائندگی کرتی ہے۔ 

جب 1921 میں یہاں  ایک گمشدہ سپاہی کو دفن کیا گیا ، تب اس عمارت کو ایک نئی علامتی حیثیت ملی، اس مقبرے میں پہلی جنگ عظیم  کے دوران  ھلاک ہونے والے ایک ایسے سپاہی  کی نعش کو دفن کیا گیا جسکی شناخت نہ ہوسکی۔ ، یوں  حقیقتاُ   یہ  عمارت  اطالیہ کی قومی،  ریاستی اور سرزمین کی نمائندگی کے طور پہچانی جاتی ہے۔  یہ عمارت اپنی پوری تاریخ  میں کبھی بھی کسی بھی بادشاہ کا محل نہیں رہی۔ اور نہ اس میں کبھی کسی نے سرکاری یا غیرکاری طور پر ہائش رکھی ۔
جب  1878 میں موجودہ اطالیہ کے پہلے بادشاہ کی وفات ہوئی  تو  ایک یادگاری عمارت کی تعمیرکا فیصلہ کیا گیا۔ جو سرزمین  اطالیہ کی نمائندگی کرے اور اسکی نشاط ثانیہ کی علامت ہو۔ یوں 1880 میں اس عمارت کی تعمیر کےلئے باقاعد منصوبہ بندی کا آغاز ہوا،1885 میں اسکا سنگ بنیاد اس وقت کے بادشاہ Umberto I نے رکھا ، 1888میں اسکی تعمیر کا پہلا حصہ مکمل ہوا جبکہ 1927  تک اس میں وقتاُ فوقتاُ تبدیلیاں  و اضافے ہوئے۔  1911 میں  اس عمارت کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا تھا۔

اس عمارت کو جدید اطالیہ  کی علامت بھی کہا جاتا ہے، وہ  اطالیہ جس کو ہم جانتے ہیں کیونکہ یہ قدیم اور المشہور سلطنت روم کے شاہی محلات کی بغل میں واقع ہے، اسی طرح پا پائے روم کا علاقہ بھی ادھر پاس ہی ہے اور اوپر "چو بارے" سے دکھائی دیتا ہے۔ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو میری فیس بک پر شیئر  کردہ  ویڈیو  دیکھ کر اپنے علم میں مزید "بالٹی بھر" اضافہ فرماویں۔ اور اگر آپ کو میرے علم پر بھی شک ہے تو وصیت لکھوا کر، خود اطالیہ کا ٹکٹ کٹوائیں،  روم تشریف لائیں، اس عمارت کے چو بارے پر جائیں،  کلمہ پڑھیں اور نیچے چھلانگ لگائیں۔ انشا اللہ لو گ آپ کو پا پائے روم کے محلے میں پائیں گے اور عبرت حاصل کریں گے۔

اس عمارت کی اونچائی 81 میٹر ، چوڑائی 135 میٹر ہے ، جبکہ کل رقبہ 17000 اسکوائر میٹر ہے۔  اسکی تعمیر میں بوتیچینو سنگ مرمر کا استعمال ہوا ہے۔ جو شمالی اطالیہ کے شہر بریشیا کے گاؤں بوتیچینو  Botticino  سے لایا گیا ہے اور  اس کو  آسانی سے ڈھالا  جا سکتا ہے جبکہ یہ سفید سنگ مرمر سے کافی مشابہہ ہے۔

باہر سے دیکھنے پر پہلی نظر میں یہ ایک سادہ ، پر وقار اور روشن  عمارت دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑی عمارت ہے اس  لئے اس کا بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے بہت پیچیدگی  اور نفاست سے تعمیر کیا گیا ہے۔
بظاہر اس عمارت میں سب اہم نظر آنے والی سیڑھیاں ،  سامنے ایک طویل  دیوار جسکے ایک طرف سے دوسری طرف تک
  سنگ مرمر پر ابھرے  ہوئے  مجسمے، انکے درمیان میں  اور انکے اوپر بڑے بڑے ستونوں پر مشتمل ایک بہت بڑا  "بر آمدہ"  ہے ، یہ ایک U  شکل کی تعمیر ہے،  اور دونوں کونوں میں چھت  پر گھوڑوں والے مجسمے نصب ہیں ، جو رومن کے زمانے سے ہی طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، جبکہ عمارت کے عین درمیان میں   اگر آپ عمارت کے سامنے کھڑے ہوں تو آپ کو سب  سے پہلے سیڑیوں کے آغاز میں ہی دائیں بائیں دو ستونوں پر کانسی  کے بنے ہوئے فوجیوں  کے علامتی مجسمے  اور رومن  دیوی  Minervaکے مجسمے دکھائی  دیں گے۔

سنگر مرمر کی سیڑھیوں  کو چڑھ کر آپ عمارت کے مرکز میں کھڑے ہوتے ہیں  تو آپ کے سامنے ، عمارت کے عین درمیان میں  ایک بلند بالا ستون پر بادشاہ   کا گھوڑے پر سوار مجسمہ کھڑا ہے۔ اس کو آج کے اطالیہ کے ھیرو کے طور پر مانا جاتا ہے۔  جبکہ اسے دائیں بائیں کچھ مقدس مجسمے ہیں۔ بادشاہ کے مجسمے کے عین نیچے ایک  طویل سنگ مرمر کی دیوار ہے جسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کنندہ کاری سے ابھار کے  لوگوں کے تسلسل  سے مجسمے بنا کر لوگوں اور عوام کی نمائندگی کی گئی ہے۔ اس تسلسل کے درمیاں میں ایک چوکھٹ بنا کر اس کے بیچ ایک بڑا سا فوجی کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے جس کے عین نیچے  " گمشدہ فوجی"  کی قبر ہے اس پر پھول  چڑھے ہوتے  ہیں اور اطراف میں دومسلح فوجی ساکن پہرہ دے رہے ہیں ، انکے سامنے دو ستونوں پر آتشدانوں میں آگ جل رہی  ہے جبکہ دنوں ستونوں پر دو سطروں میں لکھا ہوا ہے " پردیس میں پائے جانے والے اطالویوں اور مادر وطن کے نام"۔


اطراف میں سیڑھیاں ہیں جن سے آپ اوپر کی منزل پر جاتے ہیں، بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ اٹلی کے مختلف صوبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے  مجسمے ترتیب سے نصب ہیں۔

دائیں ہاتھ ھال سے آپ اندر جاتے ہیں اور درحقیت یہ ایک تین منزلہ عمارت ہے پہلی منزل پر استقبالیہ اور دوسری منزل پر
جہاں سے آپ جھانک کر پہلی منزل کو بھی دیکھ سکتے ہیں ، پر اطالوی نشاط ثانیہ کا میوزیم موجود ہے، جسکے اندر توپیں اور جنگی ہتھیار رکھے ہوئے ۔ جبکہ دائیں ہاتھ میں آپ باہر چھت پر تشریف لے جا سکتے ہیں اور ارد گرد شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں، ایک طرف آپ کو پاپائے روم کے محلات تو پچھلی طرف  قیصر روم کے زمانے کے محلات و کھنڈرات دکھائی دینگے۔ جبکہ عمارت کے سامنے جدید روم ہے۔ جدید روم بھی بہرحال کافی پرانا ہے۔ ادھر قدیم و جدید میں یہ فرق ہے کہ 2ہزار برس یا اس سے قبل کی تعمیرات قدیم اور پانچ سات سو برس والی عمارات جدید ہیں۔

 تو جنابو، یہ قیصر روم کا محل جو ہے یہ روم کے تینوں ادوار کے بیچ میں  پیاسا وینزیا  کے مقام پر کھڑا ہے، پیچھے قدیم سلطنت روم کے کھنڈرات اور دائیں طرف پاپائے روم کے پاپائی محلات،  بائیں جانب medioevo  کے زمانے کے محلات ہیں، بس اس مرکزی مقام پر بہت سی medioevo کے زمانے کی عمارات کو گرا کر یہ  شاندار عمارت تعمیر ہوئی۔ آج اطالیہ میں ہونے والی قومی دنوں کی تقریبات اور پریڈ وغیرہ اسی عمارت کے سامنے ہوتی ہے، صدر صاحب کا قوم سے خطاب بھی ادھر سے ہی ہوتا ہے

اوپر کے برآمدے میں جانے کا ہمارے پاس وقت بھی نہ تھا اور بارش کے باعث حوصلہ بھی۔  بہرحال بہت صاف ستھرا  لشک پشک قسم کا ماربل کا کام اندھے کو بھی دکھائی دے رہا تھا۔ بلکل ایسے ہی عمارت کے سامنے والے اوپر ٹیرس کی طرف جانے کا بھی نہ سوچا۔ سنا ہے کہ لفٹ کا کوئی  "جغاڑ " بھی ہے۔ وللہ اعلم ، آپ کوشش کر لینا موقع ملا تو۔ یا پھر صبر کریں کہ اگلی بار کبھی ہمارا چکر لگا اور قت بھی ہوا تو ۔


اگر آپ کو مذید  طالبعلمی  کا  "چسکا"  چڑھا ہوا ہے تو " سائیں گوگلو" سرکار سے رجوع فرمائیں۔ تاکہ آپ کے علم میں مذید اضافہ ہوسکے۔ 
۔



مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 04, 2015

علوق علی پاشا Uluc Ali Pascia

علوق علی پاشا Uluc Ali  Pascia,  کامیابی اور شجاعت کا ایک اور نام

اٹلی کے جنوبی علاقہ کلابریہ Calabria  میں غالباُ  1519 میں پیدا ہوا، اسکا مقام پیدائش ساحلی مقام  le castella   تھا، ۔ اسکا تعلق عیسائی مذہب  سے تھا،    سنہ 1538 میں خیر الدین بربروسا کے ہاتھوںLe castella  پر حملہ کے دوران قید ہوااور غلام بنا لیا گیا، کچھ سالوں کے بعد اس نے عیسائی مذہب کو ترک کردیا، اور پھر ایک ترک کو جس نے اسے تھپڑ مارا تھا ، قتل کیا اور سزائے موت سے بچنے کو مسلمان ہوگیا۔  

اس نے ایک کلابریہ کے ہی ایک مسلمان کی بیٹی سے شادی کرلی اور پھر ترک نیوی میں شامل ہوگیا۔  اس نے بہت تیزی سے ترقی کی، پہلے الیکسندریہ کے بحری بیڑہ کا کماندار بنا، پھر تریپولی کا بے (گورنر) بنا اور پھر اس نے اطالوی ساحلوں پر تباہی پھیلا دی تھی، نہ صرف جنوبی اطالیہ  کے ساحلوں پر بلکہ مالٹا، سسلی، کورسیکا، ساردینیا کے جزیروں  علاوہ جینوا اور نیس  ( آج کا فرانس) اس کی تباہ کاریوں سے نہ بچ سکے، اس نے یہاں کے باشندو  ں کو غلام بنالیا تھا، اور ساتھ لے جاتا تھا۔ ان  میں سے بڑے بڑے نامور لوگ شامل تھے جو اسکے ہاتھوں غلام ہوئے۔



 1565 میں مالٹا کے محاصرہ کے دوران یہ کماندار تھا اور مرتے مرتے بچا۔  1571 میں کوسولا Curzola کروشیا  کو فتح کیا اور ترکی کے بحری بیڑے کے سب سے عمدہ ایڈمرل کا خطاب حاصل کیا۔ 

اس  نے 1571 میں جنگ لےپانطو lepanto میں   ترک سلطان معین زادہ علی پاشا    جو مرکز کی کمان کررہا تھا، دائیں ہازو کے بیڑے کی کمان  مراد دراگوت کے ہاتھ تھیں جب کہ بائیں بازو کے بیڑے کی کمان علوق علی پاشا کے ہاتھ میں تھی،  اس بیڑے کا مقابلہ پوری عیسائی دنیا کے متحدہ بیڑے سے تھا، جووینس سارڈینیا،  اور اٹلی کے دیگر ریاستی بیڑوں کے علاوہ فرانس اسپین اور بادشاہ چارلس چہارم  کے بیڑے شامل تھے ، انکی متحدہ کمان  کی کمان  جوانی دی آسٹریا کے ہاتھ میں تھی، اس بحری جنگ میں تعداد کی شدید کمی کے باعث ترک سنبھل نہ سکے   ( اندازہ یہ ہے کہ ترک بیڑے کی تعدا کے برابر صرف وینس کا بیڑا تھا) ترکوں  کو شکست فاش ہوئی،    

علی پاشا کا پرچم عیسائیوں کے ہاتھ لگ گیا جو آج بھی  Pisa  پیسا کے  عجائب گھر میں موجود ہے، دائیں بازو ور مرکز  کے ماتحت  تمام جہاز یا غرق ہوگئے یا قابوکرلئے گئے،  ترک سلطان علی پاشا شہید ہوگیا۔ مگر علوق علی پاشا  نے کمال مہارت کے ساتھ اپنے  ساتھ تیس جہازوں کو اور بہت سے سپاہیوں کو سلامتی سے نکال لیا اور استنبول پہنچادیا۔ 

ترک سلطان سلیم دوئم کی طرف سے اسے خلق علی کا خطاب دیا گیا اور ترک بحری بیڑے کیا کمان عطا کی گئی۔  اسکے بعد اس نے کئی فتوحات حاصل کیں، جن میں مالٹا پر پھر سے قبضہ تھا اسکے علاوہ  1574 میں تیونس  کو دوبارہ سے فتح کرکے سلطنت عثمانیہ کے زیرنگوں کردیا کیونکہ ایک برس قبل اس پر عیسائی بحری بیڑے نے قبضہ جمالیا تھا۔  

علوق علی پاشا 1587 میں استنبول کے قریب ایک گاؤں میں  واقع  اپنے محل میں طبی موت مرا، یہ گاؤں اس نے خود آباد کیا تھا اور اسکانام نیا  کلابریہ رکھا تھا ،   علوق علی پاشا نے  اپنی وصیت کے طور پر اپنے غلاموں اور ملازموں کےلئے جائیدادیں اور مکانات جن میں وہ رہتے تھے بطور ملکیت چھوڑے۔ 
کلابریہ کے ساحلی شہر Le castela  میں آج بھی علوق علی پاشا  کا مجسمہ نصب ہے۔ 
اور کلابریہ کے باشند ے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ علوق علی پاشا اس سرزمیں کا سپوت تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جرات اور بہادری کو سلام ہے

مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 07, 2015

میں کیا ہوں؟؟؟


اسکول کے زمانے سے ہی تاریخ پڑھنے کا  بہت شوق تھا،  صرف تاریخ ہی کیا، سفرنامے، آپ بیتیاں، جغرافیہ ہو ،  یا پھر کوئی اورموضوع، بس کتاب ہونی چاہئے اور وہ بھی نصاب کی نہ ہو،  یہ نسیم حجازی کے اور ایم  اسلم راہی کو موٹے موٹے ناول لاتے اور راتوں رات پڑھ کر سوتے۔ عمران سیریز، عنایت اللہ، سے لیکر شہاب نامہ تک پڑھ ڈالا مگر ان ساری کتابوں کے اندر اپنا کوئی ذکر تک نہ تھا، نہ کوئی حوالہ نہ  کوئی نام و نشان۔
تاریخ ابن خلدون کی کئی جلدیں کھنگال ماریں۔ یہ اسکندر اعظم سے لیکر انگریزوں کی آمد و جامد تک سب دیکھ مارا۔ مگر وہی ڈھاک کے
تین پات، اپنے بارے کچھ بھی نہیں ملا، گویا اپنا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ یہی حال پوری تحریک پاکستان میں رہا، پوری تحریک پاکستان میں اپنا کوئی حصہ نہیں نظر آیا،  سرسید احمدخان ، مولانا برادران، علامہ اقبال ، قائد اعظم،  لیاقت علی خان اور بہت سے لوگوں بلکہ رہنماؤں (کہ وہ لوگ نہیں تھے)  تک کے حالات زندگی پڑھ ڈالے مگر اپنے بارے مجال ہے جو چار الفاظ بھی ملے ہوں یا کہیں ذکر ہوا ہو۔

پھر تاریخ پاکستان  کا مطالعہ ہوا،   کیا پہلے افراتفری کے سال، پھر ایوب خان کی ترقی اور بحالی کے سال۔  اپنا اس میں کوئی کردار نہ تھا، نہ کسی نے لکھا ، کوئی حوالہ نہیں ہے۔ ہاں سنہ اکہتر بہتر کی افراتفری میں ایک اندراج اپنے نام کا یونین کونسل کے رجسٹر پیدائش میں درج پایا گیا۔ اس میں اپنا کوئی عمل دخل نہ تھا، کہاں پیدا ہوئے، نام کس نے  رکھا، کیا رکھا، کیوں رکھا، سب کسی اور نے طے کیا اور ہم آموجود ہوئے، پھر گاؤں کے اسکول میں داخل کروایا گیا۔ جن اساتذہ  کے پاس پڑھا، جو کلاس فیلو تھے، یہ بھی اپنا فیصلہ نہ تھا۔

دنیا کی کچھ سمجھ آنے لگی کالج میں داخل ہوئے، اچھا ۔   تیرے لئے اس کالج کے فارم جمع کروا آیا ہوں، یہ رسید ہے، فلاں تاریخ کو داخلہ کی فہرست لگے گی۔ جاکر اپنا نام کلاس سیکشن دیکھ آنا، یہ بھائی جان کا فرمان تھا۔ اور میں اچھا جی کہہ کر رہ گیا۔
چل ہومیوپیتھی پڑھ لے، سنا ہے کہ بہت اچھا طریقہ علاج ہےاور  کہ ادھر پڑھنا کم پڑھتا ہے اور نقل بہت لگتی ہے، بس بندہ پاس ہوجاتا ہے۔ تو بھی ڈاکٹر بن جائے گا۔ سستے میں۔ چل ٹھیک ہے، ورنہ تیرے پاس ہونے کے چانس کم ہیں،  میں اچھا جی ٹھیک ہے۔

پہلا سال اسی پر رہے، مرمرا کر پاس ہوئے۔ اگر سالوں میں محنت کرنے کی جانے کیوں عادت سی ہوگئی۔ اور ہم پوزیشنیں  لینے والوں میں سے ہوگئے، اس میں اپنا کوئی کمال نہیں تھا، مجبوری تھی۔ کسی نے کہہ دیا کہ پڑھا کرو۔ ہم پڑھنا شروع ہوگئے۔ تعلیم ختم کی تو اسی سال ایک لیکچرار کی سیٹ خالی ہوئی، اس  پر درخواست دے دی۔ تعیناتی ہوگئی۔ کیسے ہوئی اپنا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

پھر ایک کانفرنس کے بارے معلومات ملیں جو پولینڈ ہورہی تھی۔ ویزہ اپلائی کیا ، اگلوں نے انکار کردیا، اسکے کچھ دن بعد ہونے والی کانفرنس کا ویزہ لیکر ادھر جاپہنچے،  رات کا ٹرانزٹ لنڈ ن کا رہا ، ماموں شاہد نے بہت شور کیا کہ ادھر ہی رہ جا، کنجرا،  تیری کوئی ازیل وغیرہ ہوجائے گی، تیرا ویاہ کروا دیا ں گا۔   نہیں۔ اٹلی آگئے، ادھر آکر پیسے کمانے میں لگ گئے،  نوکریاں کیا کیا کیں اور کیوں کیں، ان میں اپنا کوئی عمل دخل نہیں، جو پوسٹ کسی نے بتادی میں نے اپلائی کردیا۔  جس نے بلا لیا  وہ کام شروع کردیا۔ سفر، ادھر جا ادھر جا۔ کام کے چکر میں  برازیل تک گھوم آئے۔

ایک بزنس کرنے کی ناکام کوشش کی، چار سال بعد نتیجہ۔ صحت کی خرابی چلنے پھر نے سے معذور ، بستر پر۔ بس کاروبار بھی ٹھپ۔
پھر اللہ نے صحت واپس کی، اور  دوستوں کی راہنمائی سے پولے پولے ہومیوپیتھک معالجات میں آگئے، تین سال بہت مزے سے گزرے۔ مگر اس میں بھی اپنی کوئی قابلیت نہ تھی۔ بس سبب بنتے رہے۔
پڑھتے، پڑھاتے، یہ فیس بک ، یہ بلاگ۔ یہ دوست احباب، یہ ملاقاتیں ۔ یہ سب چلتا ہی رہا اور ہم پھر سے کمر کی سرجری کروا کر بستر پر،
آج ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا، اس کمرے میں  اور اس بستر پر، اور میں صبح سے سوچ رہا کہ ساری دنیا کا نظام تو پھر بھی چل رہا۔ میرے ہونے نہ ہونے سے تو کوئی فرق نہیں  پڑا  اور نہ ہی پڑنے والا۔ 

تو پھر میں کیا ہوں؟؟؟  شاید کچھ بھی نہیں۔
اس دنیا کے اندر میرا کیا کردار ہے؟؟؟ کچھ بھی نہیں۔
تو پھر؟؟؟؟


مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش