ہفتہ, مارچ 08, 2014

بابائے قوم کا مزار، بے حیائی اور ہماری قوم

کل رات بابے قائد اعظم کے مزار کے بارے آے آور وائی کی ٹیم سرعام کی رپورتاژ دیکھی،


قسمیں مجھے تو روتا آرہا، جو لوگ بابے کی قبر والے کمرے کو فحاشی و جنسی امور کےلئے کرائے پر دے رہے پیسے لیکر وہ تو ظلم کر ہی رہے، مگر جو لوگ پیسے دے کر ایک قبر والا کمرہ کرائے پر لے رہے اس کام کو انکو بھی شرم نہین آرہی ہوگی۔ پیسے ہی دینے ہین تو کسی ہوٹل مین جاؤ مرو……… ایک قبر، ایک مزار کا تقدس پھر صاحب قبر کی عظمت….کونڑں لوک ہو  تسیں اوئے کنجرو،   


لعنت بھیجنے  سے منع کیا گیا ہے  ورنہ لکھتا  کہ لعنت ہے ان پاکستانیوں پر اور ایسے پاکستان پر

ویسے ہوسکتا ہے ایسے موقعوں پر چپ ہی کرجاتے ہوں مگر کیا کرو جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے زیادہ حساس ہورہا ہوں، سارے یہی کہتے ہیں، کہ آپ ایویں ہی ٹینش لے جاتے ہو ہر بات کی چل مارو، اچھا پھر ٹھیک ہے پوری قوم چل مارے

میرا تو ادھر بابے کے مزار کا فوٹو لگانے کو بھی حوصلہ نہین ہورہا
اب آنسو پونچھنے کو آج پورے پاکستان  اور بلخصوص کراچی کو بابے کے مزار پر اکھٹا ہوجانا چاہئے۔ ادھر فاتحہ پڑھو اور چپ کرکے احترام میں بیٹھے رہو۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 29, 2012

چیف جسٹس سے مگرمچھوں کے سوال

آج کل  بلاول  سے لیکر فیس بکی "سیانے" اور حکومتی تختوں پر بیٹھے ہوئے،اپنے تخت فرعون سے یہی  سوال  کرتے نظر آتے ہیں  کہ "چیف جسٹس تم نے یہ کیوں نہیں کیا ؟  تم نے وہ کیوں نہیں کیا؟  تم یہ کرو گے؟ تم وہ کرو گے؟" مجھے سمجھ نہیں آتی ہر کام چیف جسٹس نے ہی کرنا ہے، یہ جو باقی کے 2500 سے زائد مچھند ربقسم  "مگرمچھ"   ہم نے پالے ہوئے  ہیں، صدر، وزیراعظم، وزیر، وزرائے اعلٰی، گورنرز، صوبائی وزراء، پھر سرکاری افسران، جو بادشاہوں کی طرح زندگی انجوائے کررہے، جنکو آپ محلات میں سے باہر نکلنا بھی گوارہ نہیں،  یہ کس بیماری کی دوا ہیں.



 اگر سب کچھ چیف نے ہی کرنا ہے اور اسے ہی جواب دینا ہے  تو ان باقی کے ۔۔۔۔۔۔ کو گھر بھیج دو، انکو ملنے والی تنخواہیں و مراعات اگر عوام میں تقسیم کردی جائیں تو اس سے یقینی طور پر ملک سے غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔


مکمل تحریر  »

جمعہ, ستمبر 28, 2012

ہت تیرے گوگگلو سیانے کی

فرعون
4
مذہب بابا بھلے شاہ
2
urduonline.blogspot.com+blog-post_23
1
φερητησ ροζ
1
جرنل نالج
1
حنأ ربانى كى سيكس
1
دنیا
1
سندھی میں کہتے ہیں کہ
1
سیکسی ویب پانہ
1
شعیہ سنی اردو
یہ حال ہے سرچنے والوں اور ادھر بھیجنے والے گوگلو کی عقل کو بھی داد ہے، شباش ہے وائی شاوا، بلکہ دُور  شاوا

مکمل تحریر  »

اتوار, اپریل 08, 2012

انیٹی نارکوٹکس کے جھلے

گیلانی کےمنڈے یعنی نکے شاہ جی کے ساتھ جانے سارے تفتیشی محکمو ں  کو کوئی خداواسطے کا بیتر ہے، کہ اب انکے پیچھے اینٹی نارکوٹیکس فورس والے بھی پڑ گئے، خبروں کے مطابق ان پر ہیروئین کی تیاری میں استعمال ہونے والے کسی حساس کیمیکل کی درآمدمیں ملوث ہونے کا الزام ہے،  کوئی پوچھے کہ جناب حاجیوں کو لوٹنے کا الزام تھوڑا تھا کہ ابھی آپ کوبھی یاد آگئی ہے۔ ہیں جی۔
 ظلم ۔۔۔۔۔۔۔سارے محکمے اوس معصوم کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے ہوئے ہیں،
 اوے خیال کرو ۔۔۔وہ شاہ جی بھی ہے اور پسر وزیراعظم بھی،    یعنی دو بار شاہ جی۔
ابھی شاہ جی کی بدعا سے سنا ہے کہ اس محکمہ کا ڈی جی واپس فوج کو اپنی خدمات سونپ چکا ہے، مطلب کھڈے لائن، مگر اس ظالم اور نا عاقبت اندیش محکمے نے سپریم کورٹ میں اپنے ڈی جی کی بحالی کےلئے درخواست دے دی ہے۔ حد ہوتی ہے  ، ہیں جی

اگر اس میں تھوڑی سی بھی رتی ۔۔۔۔۔ہوئی تو کل وزیراعظم ہوگا،کیونکہ جس طرح فوجی کا پتر فوجی ، ماشٹر کا پتر ماشڑ ، 
زمیندار کا پتر زمیندار اور سپ کا پتر سب، اور علیٰ ہذالقیاس ۔

 تو پھر ہوسکتا ہے حج اور اینٹی نارکوٹکس کے محکمے ہی کیا یہ الفاظ ہی ختم کردے، جناب شاہ جی کے جلال کا کیا پتا، اگر آپ کو 

پتا ہے تو بتلاؤ ہم کو؟؟؟  پھر کوئی کیا کرلے گا۔ پاغل کہیں کے، عقل کرو اور نکے شاہ جی پر انگلیاں اٹھانا بند کردو۔

نوٹ  ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جب میں نے سن آف پرائم منسٹر آف پاکستان  کو گوگلو پر سرچ کیا تو سارے فوٹو ذرداری اور اس کے منڈے کے ہی نکلے، اس بارے کوئی کچھ سمجھائے  میرے تو سر پر سے ہی بات گزر گئی ہے۔  
 ہیں جی یہ کیا چکر ہے؟؟

مکمل تحریر  »

بدھ, مارچ 28, 2012

امریکہ کے کھاتے میں


"السلام علیکم سر جی" وعلیکم سلام حضور، ہاؤ ڈو ڈسکو؟ "حضرت جی مجھے ایک جاب آفر ہوئی ہے بلکہ شروع کردی ہے۔"
 کون سی؟
 "،اٹالین فارماسسٹس کو ہومیوپیتھی پڑھانا3 سال کا پروجیکٹ ملا ہے فی الحال"
مباڑخ ہو جی, ویسے وہ ہومیوپیتھی کو گھاس ڈالتے ہیں یورپی؟
"خیر مباڑخ جی، ادھر ڈاکٹر اسپیشلائیزیشن کرتے ہیں,  ہماری طرح کا سسٹم کم ملکوں میں ہے"
ادھر تو میں پاغل ہو رہا ہوں۔ اپنے عزیز ہموطن بھی عجیب مخلوق ہیں, پچھلے دنوں جو طوفان آئے تھے
"کونسے؟؟"
مشرق وسطیٰ سے پاکستان تک ریت کے طوفان
"ہاں اباجی بتارہے تھے، گرد آلود ہوا کے بارے"
,آج ایک کزن صاب فرماتے ہیں کہ یہ امریکہ کے ایٹم بموں کا اثر تھا  ہور سناؤ  ہر چیز امریکہ کے ذمے بس اب یہی بچا ہے کہ انکل سام کی مورتیاں بنا کر انہیں پوجنا شروع کر دیں، خدا جیسا طاقت ور تو پہلے ہی سے سمجھتے ہیں،   ہیں جی؟
"تو آپ مان لو، پہلےکونسی ادھر ہر معاملے پر ریسرچ شروع کررکھی ہے انہوں نے,اتنا تو پھر چلے گا ناں"
وہ جو سیلاب آیا تھا، اس موقع پر بھی آپ کو یاد ہوگا کہ اسے بھی امریکہ کے کھاتے میں ڈال دیا تھا,  اور زلزلے کو بھی
"ظاہری بات ہے کہ خدا کے کھاتے میں ڈالیں گے تو اپنے اوپر الزام لینا پڑے گا کہ ہمارے کرتوتوں کی سزا ہے۔ ہیں جی؟
"میں تو کہتا ہوں ذرداری کو بھی اپنے کھاتے پر ڈال دوں, میں یہ سارا کچھ اپنےبلاگ پر پھینکے لگا ہوں
اپنے کھاتے پر کیوں؟ امریکہ ہے نا۔ اسی کے کھاتے میں ڈال دیں,  سب آپ کی ہاں میں ہاں بھی ملائیں گے,   بلاگ پر کیا پھینکنے لگے ہیں؟  
میرا ٹریڈمارک تیزاب؟

 یہ اپنے مولوی صاحب ہیں، جو ابھی میرے ساتھ آن لائین  تھے، بزرگ آدمی ہیں، جانے کیا کیا سوچتے رہتے ہیں، کوئی پوچھے حضرت اگر امریکہ یہ سب نہیں کرتا تو کیا میں اور آپ کرتے ہیں، ہیں جی



مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 23, 2012

بلوچستان، جہلم اور اٹلی


ویسے تو آج کل ہر طرف بلوچستان بلوچستان ہورہی ہے، مگر میں سوچ رہا تھا،  کیا فرق ہوا  جہلم اور بلوچستان میں؟  یا میرپور آزاد کشمیر اور بلوچستان میں  ؟  یا نواب شاہ میں، یا لاڑکانہ میں؟؟؟ میرے گراں میں اور بلوچستان  کے ایک پسماند ہ  دور دراز گوٹھ میں؟؟؟

ابھی آپ کہیں گے کہ لو جی ڈاکٹر صاحب کی تو مت ہی ماری گئی ہے، یا لازمی طور پر انہوں نے آج مشہور اٹالین شمپائن "کا دیل بوسکو   "کی بوتل چڑھا لی ہے، جی نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔

ہاں کل سے زکام  نے مت ماری ہوئی ہے،  بلکہ ناس ماری ہوئی ہے،   ادھر تک پہنچتے وقت چار بار چھینک چکا ہوں، ناک میں گویا مرچیں بھری ہوئی ہیں  اور دماغ میں بھوسہ (یہ اگر میں نہ لکھتا تو آپ نے کہہ دینا تھا، بہت سے قارئین  کو جانتا ہوں اب)۔مگر اس کا مطلب قطعی طور پر یہ نہیں ہے کہ میں پاگل ہوگیا ہوں،    بلکہ یہ سوال اپنے آپ سے بقائمی ہوش  و حواس کررہا تھا،  میں بقلم خود  یعنی کہ مطلب ، چونکہ گویا کہ  چنانچہ۔ یہ میں نے ازراہٰ  تففن نہیں لکھا،  قسم  سے ،  
اسکا مقصد اپنے دماغ کو بہت چالو ثابت کرنا تھا کہ یہ باریکیاں ابھی بھی  یاد ہیں۔ ہیں جی

لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔ یعنی کہ  اپنے  شہر کی تعریفیں ،  جہلم  میں کہ پاکستان کا ترقی یافتہ ضلع گنا جاتا ہے، جہاں پڑھے لکھے لوگوں اور دراز قامت جوانوں کی بھر مارہے ، بقول سید ضمیر جعفر کے ، جہلم میں چھ فٹ قد معمولی ہے مطلب آپ اس کو حیرت سے نہیں دیکھو گے ، نہ طویل القامت میں شمار ہوگا اور نہ ہی پست قامت میں ،   تعلیم کا بھی کچھ احوال مختلف نہیں، جو لڑکا آپ کو بھینسو کے پیچھے گھومتا ہوا نظر آرہا ہوگا وہ عین ممکن ہے بی اے پاس ہو، یا سپلی کی تیاری میں مشغول ہو،  ہیں جی،  میں خود کالج کے آخری سالوں تک بھینسوں کو چراتا رہا ہوں، چرنا تو خیر انہوں نے خود ہی ہوتا تھا مگر اس بہانے گھر سے ہم فرار۔معاشی خوش حالی  کا یہ عالم  ہے  کہ  اگر آپ میرے پنڈ جاؤ گے تو بقول "پورے گاؤ ں میں ایک بھی دیوار کچی نظر  نہیں آئی"     یہ بیان تھا ایک سندھی ڈاکٹر صاحب کا جو سنہ 1995 میں  میرے ایک دن کے اتفاقاُ مہمان بنے۔  یہی  حال دیگر گاؤ ں کا ہے، اچھے گھر اور کوٹھیاں، مطلب ولاز ،  بنے ہوئے  دکھائی دیں گے آپ کو ، ہر گاؤں  میں، بلکہ پورے جہلم، میرپور، گوجرخان ، کھاریاں اور گجرات کے علاقوں میں ۔  جرنیٹر ، یو پی ایس ، کیبل  اور اب چند ایک برس سے وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت عام ہے۔ میں اپنے گاؤ ں کی بات کررہا ہوں۔  

علی جو میرے ماموں زاد ہیں  اور بلوچستان میں فوجی خدمات سرانجام دے چکے  ہیں انکے بقول بھی اور آج کل ٹی وی  پر آنے  والی خبروں کےمطابق  بھی بلوچستا ن  میں صورت حال اسکے بلکل برعکس ہے،وہاں پر پورے کے پورے گاؤں میں شاید ہی کوئی بندہ  اب بھی پڑھا لکھا  ملے، بیشتر علاقے کے علاقے  باقی سہولیات تو کجا ، پینے کے پانی  اور پرائمری اسکول کو ترس رہے ہیں،  حسرت و یاس بھری نگاہیں دیکھتی ہیں ان اسکولوں کو ، جن میں  نوابوں اور سرداروں کے  ڈھور  ڈنگر بندھے ہوتےہیں۔

ابھی تو آپ میرے دماغ کے خلل پر یقین کرچکے ہونگے کہ  خود ہی اپنے بیان کی نفی کردی، زمین آسمان کا فرق ثابت کردیا، مگر ایک مماثلت ہے اور وہ ہے بہت اہم اور بہت بری بھی  ( اسے بڑی مت پڑھئے)۔  کیوں ؟؟  پھر پڑ گئے پھر سوچ میں؟؟؟

بات یہ ہے جی کہ مماثلت دونوں طرف حکومتی کارکردگی  کی  ہے ،  جو ہر دور طرف ایک جیسی ہے ،  اگر ادھربندے پڑھے لکھے ہیں تو پرائیویٹ اسکولوں کی مہربانی سے،  اگر   کوئی دیوار کچی نہیں تو اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں،  ہر بندے نے اپنے  اپنے گھروں کو حسب اسطاعت خود تعمیر کیا ہے، اچھا یا اس سے بھی اچھا، گلیاں و نالیاں اکثر و بیشتر اپنی مدد آپ کے تحت ہیں، پانی کا نظام اپنا ذاتی ہے، ابھی میں  بھائی سے سولر سسٹم کی انسٹالیشن کے بارے پوچھ رہا تھا کہ واپڈا سے اگر جان چھڑائی جاسکے مستقل بنیادوں پر تو، ادھر بھی اتنے ہی ڈاکے پڑتے ہیں، اتنی ہی چوریاں ہوتی ہیں، اتنے ہی قتل ہوتے ہیں۔

حکومتی کارکردگی وہی ہے جو بلوچستان میں ہے، طاقتور کے ساتھ اور کمزور کو کچلنے کی اچازت۔
ہمارے یہاں پر جو کچھ بھی ہے وہ اٹلی، انگلینڈ ، فرانس، اسپین ، جاپان ، سعودیہ وغیرہ میں ہمارے جیسے   پردیسیوں کی بدولت ہے، ادھر سے لو ساٹھ کی دہائی میں انگلینڈ جانا شروع ہوئے تھے، پھر ستر میں سعودیہ ، اسی  میں فرانس و جاپان ، نوے  میں اٹلی ، اسپین  و یونان  اور اب تو ہر طر ف ، ایک پھڑلو پھڑلو مچی ہوئ ہے بقول حکیم علی صاحب کے۔

  اگر آپ ان لوگوں کے گھرروں اور پیسوں کو نکال دیں تو جہلم اور بلوچستان کے کسی پسماندہ  گاؤں میں شاید ہی کوئی فرق ہو


اظہار تشکر:  یہ مضمون حضرت یاسر خوامخواہ جاپانی کی ترغیب پر لکھے جانے والی تحاریر کی کڑی ہے


مکمل تحریر  »

بدھ, فروری 22, 2012

ہاتھی روایت اور ڈیموں کریسی

راوی اپنی ایک پرانی سی کتاب میں روائت  کرتا ہے  کہ ایک زمانے میں ، ایک ملک  کے، ایک دور دراز گاؤں میں، ایک بزرگ نہایت   قدیم و عقیل اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا،  رہتا تھا اور اوس گاؤں کے لوگ بھی اتنے جاہل و کھوتے دماغ کے تھے کہ ہر بات  پوچھنے اس بزرگ کی طر ف دوڑ پڑتے،   گاؤں والوں کی اسی سادگی کو دیکھ کر ایک دن ہاتھی بھی ادھر کو چلا آیا ، ہوسکتا ہے  اسے بھی کچھ کام ہو یا کوئی بات پوچھنی ہو، مگر راوی نے اس بارے نہیں لکھا، خیر اگر لکھ بھی دیتا تو کس نے یاد رکھنا تھا،   اس گاؤں کے سارے باشندے ادھر کھڑے ہوکر تالیاں بجارہے تھے اور چار اندھوں سے  جنکے نام بوجمان ملک، جابر اعوان ، خالہ فردوس کی عاشق  اور کیصل عابدی تھے  ہاتھ لگوا لگوا کر پوچھ رہے تھے کہ بتلاو ہاتھی کیسا ہے؟؟؟ 
اب بوجمان ملک کے ہاتھ سونڈ آئی تو اوس نے فیصلہ دے دیا کہ لو جی ہاتھی پائیپ کی طرح لمبا ہے،  جابر اعوان  کے ہاتھ میں چونکہ ہاتھی  کے کان  آئے، تو اوس نے دعوہ  ٹھونک دیا کہ لوجی ہاتھی پنکھے کی طرح ہوا دینے اور جھلنے والی کوئی چیز ہے،  فردوس کی عاشق خالہ کے ہاتھ  ہاتھی کی  دم لگی تو ہت تیر ے کی کہہ کر فرماگئی،  کہ لو جی، کرلو گل، یہ تو رسی کی مانند پتلا سا ہے، میری آنکھیں ہوتیں تو یہ ضرور سپ کی طرح دکھائی دیتا، ادھر کیصل عابدی نے جانے کیادھونڈتے ہوئے نیچے کی طرف ہاتھ  مارا تو ٹانگ ہاتھ میں آگئی ، شکر کرے کہ کچھ اور ہاتھ نہیں آیا، توللکار دیا کہ ہاتھی ایک کھمبے کی طرح کی چیز ہے۔
ایک سب سے بد اندیش اورجاہل قسم کا بندہ جو رضا کھانی  نام کا تھا،  اس نے بابا جی سے پوچھا کہ بزرگو  ، آپ کے  اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں، کل آپ مرے تو پرسوں اگلا دن ہوتا،  ادھر کیا امب لینے آئے ہیں ، چلو،  ادھر موجود ہو ہی تو یہ بتلادو کہ یہ کیا  شئے ہے؟؟

بابا جی نے ایک چیخ ماری اور روئے پھر ایک قہقہ لگایا  اور ہنس پڑے  اور یوں گویا ہوئے،   سن اے ناہنجار اورعاقبت نا اندیش،  رویا میں اس لئے تھا کہ اب اتنی حرام کھائی کرلی ہےکہ جانے اگلے الیکشن  کے بعد مجھے جیل میں کیوں نہ ڈالا جائے،  اور اگر ایسا نہ کیا گیا  توجیتنے والوں پر تف  ہے ، پھٹکار ہے، لخ دی لعنت ہے، پھر یوں متوجہ ہوئے،  سن لے کہ خو ش میں اسلئے ہویا ہوں، کہ اس چیز کا تو مجھے بھی علم نہیں البتہ اسے بیچ کھاؤں گا۔


 یہ بات لکھی پڑھی ہے اور اسی کا نام ڈیموں کریسی ہے کہ دوسروں کو دیموں لڑاؤ اور خود ہاتھی بھی بیچ کھاؤ۔

دروغ بردگردنِ دریائے راوی۔       میرے جو دماغ میں آیا میں نے لکھ دیا۔

سوالات:

کیا ملک پاکستان کے علاوہ بھی کہیں اس قبیل کے لوگ پائے جاتےہیں؟؟؟
اس حرام خور بزرگ کا نام ذورداری ہونے کا اندازہ آپ کو کیسے ہوا؟؟؟
ان لوگوں کے پاس ان عقل کے ادندھوں کے علاوہ کوئی اور بندہ نہ تھا  جس کو وزیر بنالیتے؟؟؟
یہ رضا کھانی جو اتنا سیانہ ہے ہر بات پوچھنے کیوں چلا جاتا ہے اپنے بزرگ کے پاس؟؟؟
اس پورے قصے سے جوسبق آپ کو حاصل ہوا ہے  اسے دہرائے اور اس گاؤں کے  چار اور حرام خوروں کے نام لکھئے ، 
مگر تھوڑا دور رہ کر۔
آپ کو ہاتھی کیسا دکھائی دیتا ہے؟؟؟ بلوچستان جیسا نہیں تو پھر کیسا؟؟   اور کہ آپ عقل چھوڑ کر پی کھا پاٹی کے وزیر بننا پسند کریں گے؟؟؟


مکمل تحریر  »

ہفتہ, فروری 18, 2012

بلوچستان، بنگال اور سازشیں

ہمارے ادھر آوے کا آوا  ہی نہین بلکہ باوے کا باوا بھی بگڑا ہوا ہے،     ہمیں ہر اس چیز پر بات کرنا ہی پسند ہے جو یورپ امریکہ میں ہورہی ہو، یا پھر جس پر یورپ و /یا امریکہ والے بات کررہے ہوں،   ملک بنا اور ٹوٹ گی ہم نے کہا چلو خیر ہے ادھر روز سیلاب آیا کرتا تھا جان چھوٹی سو لاکھوں پائے، ویسے بھی یہ چھوٹے چھوٹے بنگالی کونسے ہماری فوج میں بھرتی ہوسکتے تھے، دیکھو جی چھے فٹے جہلمی جوانوں کے سامنے سوا پانچ فٹ کا بیالیس کلو بنگالی کیا کرے گا، اسکی وقعت ہی کیا ہے، ہیں  جی  ،   اوپر سے وہ لحیم شیم سرخ و سپید پٹھان  واہ جی واہ ، وہ تو ہماری فوج کا حسن ہیں ،  یہ وہ باتیں تھیں جو ہمارے پنڈ کے سابقہ فوجی بابے کیکر کے نیچے بیٹھے کر تاش کھیلتے ہوئے کرتے تھے۔   ان  میں کئی ایسے بھی تھے جو 
اکہتر میں بنگالی قیدی بھی بنے۔ مگر کیا ہے فوجی کا کام ہے لڑنا مرنا اور ماردینا،   یقیناُ یہی اسکی قوت بھی ہے

مگر ان بابوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ پینسٹھ میں جب انڈیا پاکستان جنگ ہوئی تھی تو ہم دو محاذوں پر تھے اور انڈین فوج کو دوحصوں  میں تقسیم کردیا تھا،  وہی بنگالی پنجابی اور پٹھان کے شانہ بشانہ لڑرہے تھے، مگر چھ برس بعد وہی انہی پنجابی و پٹھان فوجیوں کو بنگال تل رہے تھے اور ادھر جو بنگالی  مغربی پاکستان میں تھے وہ ہمارے پنڈ کے ساتھ ہی چھاؤنی میں قید تھے،  انڈین فوج کو مغربی محاذ سے تو پھر بھی کچھ نہ ملا کہ ادھر کوئی بنگلالی نہ تھا مگر مشرقی محاذ پر پاکستانی فوج کو سرینڈر کرنا پڑھا کہ ادھر بھی کوئی بنگالی انکے ساتھ نہ تھا بلکہ مخالف تھے۔
انڈیا نے 1965 والی کتا کھائی کا بدلہ لیا اور اپنے آپ کو مشرقی اور مغربی پاکستان کے گھیراؤ میں سے نکال لیا ، ہیں جی ہے ناں سیانی بات۔
 رات گئی بات گئی ، روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ لگا اور ہم خوش۔ ہیں جی

امریکہ بہادر نے افغانسان میں ایڑی چوٹی کا ذور لگایا ، روس کی طرح مگر وہی ڈھاک کے تین پات ، بقول علامہ پہاڑ باقی افغان باقی۔ ہیں جی پہاڑ بھی ادھر ہی اورپٹھان بھی، مشرف کی حددرجہ بذدلی کے باوجود جب ہماری قیادت نے تعاون سے انکار کردیا اور امریکہ بہادر کو  افغانستان میں آٹے دال کا بہاؤ معلوم ہوگیا ہے تو اسے یاد آئی کہ اہو ہو ہو ، بلوچستان تو تاریخی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں نہیں ہے، ہیں جی،
اس کو آزادی دلواؤ، لو بتاؤ جی، بلوچوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے، کوئی پوچھے ماموں جان آپ نے پہلے جو فلسطین ، عراق، افغانستان اور ویتنام کو آزادی دلوائی ہے وہ کیا کم ہے؟؟ جو ادھر چلے آئے مگر کون پوچھے ہیں جی۔

ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا ہیں جی  اور آپ نے بھی نہ بتایا، پہلے تو  ذرداری و حقانی سے اندر خانے معاہدہ کرنے کی سازش جو بعد میں میمو گیٹ کے نام سے چلی اور مشہور ہوئی، پھر  ابھی بلوچستان  اور بلوچوں کے حقوق کی یاد آگئی۔

اصل بات یہ ہے کہ اگر بلوچستان کی پٹی امریکہ بہادر کے ہتھے لگ جائے تو وہ اپنی  من مرضی سے  ادھر افغانستان میں رہ سکتا ہے بلکہ اسکا وہ جو نیورلڈ آرڈر والا نقشہ ہے اس پر بھی  کچھ عمل ہوجاتا ہے۔ ادھر سے نکلنے کا رستہ بھی تو چاہئے کہ نہیں،    مگر  ہمیں کیا ہیں جی  ہمارا تو آجکل ایک ہی نعرہ ہے جئے بھٹو ، پہلے ایک تھا اوراب تو دو ہیں بے نظیر بھی تو شہید بھٹو ہی ہے ، جانے کب تین ہوجاویں؟؟؟ کیونکہ ابھی جتنے ذرداری ہیں وہ بھی شیر کی کھال اوڑھ کر بھٹو بنے پھرتےہیں ان میں سے کل کلاں کوئی شہید ہوگیا تو ۔  میرا خیال ہے آپ سمجھ تو گئے ہی  ہوں گے، نہیں تو فیر آپ کو بتلانے کا فائدہ؟؟؟ ہیں جی

 نوٹ۔ یہ مضمون یاسر خومخواہ جاپانی کی ترغیب پرلکھا گیا 


مکمل تحریر  »

منگل, جنوری 10, 2012

عوامی کھسرے

پاکستان کی عدلیہ کہتی ہے کہ وزیر اعظم گیلانی کوئی ایماندار بندہ نہیں ہے، بئ عوام تو کب سے چیخ رہی ہے، اب بھی کیا ہوگا، بیان دے دیا، کام ختم۔ ابھی جو کچھ جیسا ہے ویسا ہے کی بنیاد پر ہی کام چلے گا۔ کھسرے صرف بدعا ہی دیتے ہیں کسی کو برابھلا کہہ کہ چپ ہوجاتےہیں اور نقصان نہیں پہنچاتے، یہاں تک تو کھسرا ہومیوپیتھک دوا کے موافق  ہوا کہ نقصان والی گل کوئی نہیں۔

پنڈ میں جب کھسرے آتے تو یار لوگوں کی رونق ہوجاتی مگر بڑی بوڑھیاں ، دادیاں نانیاں یہ کہتیں کہ کھسرا بڑا معصوم ہوتا ہے اور یہ کہ کھسرے کو ستانا نہیں اور نہ ہی انکار کرنا کسی چیز سے ،  اس کا دل نہیں دکھانا کہ کھسرے اور بلی کی بدعاساتویں آسمان تک جاتی ہے۔

میرے خیال سے بات غلط العام کے طور پر مشہور تھی ،  اگر یہ بات سچ ہے تو فیر ہمارے ملک میں بسنے والے بیس کروڑ عوام کی بدعاؤں سے ذرداری کو ہارٹ اٹیک کیون نہیں  ہوا، اسرائیل کی توپوں میں کیڑے کیوں نہیں پڑے، امریکی مزائیلوں میں سے چیچڑ کیوں نہیں نکلے،  بس جی چار دنوں کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے، ہم یہ سب لے دے کر بھی جو جیسے ہے جہاں پر ہے ایسے ہی اور وہین پر ہی کام چلائے

مکمل تحریر  »

بدھ, جنوری 04, 2012

میمو اور میں

نصیر صاحب  میرے تالاب علم ہیں ادھر ، کچھ دن اٹالین مجھے سے پڑھ کیا لی بس شاگرد ہی بیٹھ گئے ، اور ایسے بیٹھے جیسے کوئی بیمار کی جڑوں میں بیٹھتا ہے،  ہر وقت سر جی یہ اور سرجی وہ ،  البتہ بندے بہت لیجنڈ اور پر مغز ہیں، جب بہت تپے ہوئے ہوں تو پھر آگ اگلنے کو میرے پاس،  انکا    اور  دیگر  احباب کا  دسمبر سے  یہ  خیال  ہے کہ نئے سال میں بدلے گا کچھ نہ کچھ،  عام بندوں کا یہی خیال تھا بشمول میرے۔   کیا بدلے گا اس بارے کچھ زیادہ تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے سنجیدگی سے اس بارے سوچا،   اس وقت سب کچھ تو گزشتہ برس کا ہی چل رہا ہے،  وہی بجلی کی بندش،  گیس کی عدم دستیابی،  نوکری نہیں  ہے تو تنخواہ کوئی نہیں، رشوت، مہنگائی،  دہشت گردی، چوربازاری، معاشی و سماجی عدم تحفظ۔
اٹلی میں برلسکونی سے پہلے بائیں بازو کی حکومت تھی اور پروڈی وزیراعظم تھا،  حکومت بڑے منت سماجت  سے اور چند ایک ووٹوں سے بنی اللہ  اللہ کرکے ،  مگر ایک وزیر کی بیوی پر رشوت لینے کا الزام لگا اور وزیر صاحب نے نہ صرف خود استعیفٰی دیا بلکہ  ساتھ ہی حکومت بھی دھڑام سے گری، ایک تو اسکی وجہ یہ تھی کہ اکثریت کھو بیٹھی اور دوسری مورال  کا جانا ۔
ہمارے یہاں ملک کے صدر کے جہیتے سفارتکار پر ملکی دفاع پر سودے بازی کا الزام لگا  چاہے جس نے ہی لگایا مگر حرام ہے کہ حکومت  نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے، کبھی کچھ کبھی کچھ،  حقانی نے استیفیٰ دیا  تو عوام کے کان کھڑے ہوگئے، صدر صاحب بیمار ہوکر دبئی جا لیٹے ادھر وزیر باتدبیر تھے کہ انکا موت نکالنے پر تلے ہوئے تھے، وزیراعظم کسھیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق  فرماگئے کہ اگر صدر پر کوئی الزام آیا تو میں اپنی گردن دوں گا،    اوپر سے رونقی وزیر اور اب نصف صدر جماعت بھی پروفیسر، ڈاکٹر ملک بابر اعوان وکیل ، ماہر لطیفہ جات و فضول بیانات  نے اپنے پرمغز بیانات سے جلتی پر تیل کا کام کیا اور  اب یہ حال ہے کہ ہر پاسے میمو میمو ہورہی ہے، 
بابا بھلے شاہ کے بقول
میمو میمو کردی میں آپے میمو ہوئی،   میمو ہی مینوں آکھو سارے حکومت نہ اکھو کوئی

مکمل تحریر  »

منگل, دسمبر 20, 2011

جنت میں آگ

کہتے ہیں  میرا گھر میری جنت،     اب گھر کیا ہے اس بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہوسکتی ہیں مگر اس پر سب کا اتفاق ہے کہ گھر گھروالوں سے ہی  ہوتاہے،  اب گھر والے کون ہیں؟ ظاہر ہے     اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ وہ جو گھر میں رہتے ہیں ،  مگر میری اس بات سے بقول چچاطالب مطمعنی نہیں ہوتی۔  کہ میں جو گھر سے باہر رہتا ہوں پردیس میں کام کاج کے سلسلہ میں یا کسی دوسری معقول و نامعقول وجہ سے کیا میں گھر کا فرد نہیں رہا؟؟  لازمی طور پر ہوں جی ورنہ تو میرے پلے کچھ بھی نہ رہا۔  اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ بہت سے ایسے لوگ بھی گھر کا حصہ ہوتے ہیں جو ہمارے گھر میں نہیں رہتے مگر ہم انکے ساتھ اتنے مربوط ہوتے ہیں کہ  گویا لازم و ملزوم ہوگئے۔ ہم پینڈولوگ کہتے ہیں 
کہ مرن جیون سانجھا۔  اب جن کے ساتھ ہمارا مرن جیون کا ساتھ ہوتو وہ ہمارے گھر کےلوگ کیسے نہ ہوئے۔

گھر میں اگر کوئی بیمار ہوجائے تو سارے پریشان، کام ، نوکری ، تعلیم  الغرض ہر معاملہ ایک طرف رکھ کر اس بندے کی ٹینشن لی جاتی ہے۔ تب  تک جب تک وہ تندرست نہ ہوجائے۔  شہروں میں تو نہیں مگر گاؤں میں ابھی بھی لوگ ایک دوسرے کا اس حد تک خیال رکھتے ہیں کہ اگر کوئی ایک تکلیف میں ہے یہ یا کسی مصیبت میں مبتلا ہے تو اسکا خیال رکھا جائے، کچھ نہیں تو زبانی ہمدردی کے دو بول ہی سہی اور تھوڑا دلاسہ ہی سہی، کسی مرگ پر اظہار افسوس کرنا چاہے وہ  رسمی طور پر ہی ہو،   بابے لوگ لاٹھی کھڑکاتے کہہ رہے ہوتے ہیں چلو جی افسوس کرآئیے  کہ مرن جیون سانجھا ہوندا ہے۔
جب ہمارے اردگرد میں مصیبتیں، مشکلات اور پریشانیاں ہونگی تو ہم بیچوں بیچ سکھی نہیں رہ سکتے،  گویا بندے کا گھر وہی نہیں ہوتا جہاں وہ رہتا ہو یا جہاں اسکے گھر والے رہتے ہوں بلکہ رشتہ دار دورکےبھی اور دور رہنے والے بھی،  قریب رہنے والے بھی سب کچھ ملا کر بندے کا گھر بنتا ہے۔   شاید اسی لئے پوش علاقوں میں گھر خریدنا مشکل ہوتا ہے کہ ادھر اپکے قریب رہنے والے سلجھے اور رکھ رکھاؤ والے ہونگے ، پر بندہ اسی چکر میں اچھے بھلے پیسے فالتو چکا جاتا ہے ورنہ شاید اسی سائیز کا گھر کسی  چنگڑ ایریا میں بہت سستا پڑے ۔

ہمارے پنڈمیں بہت تھوڑے سے لوگ رہتے ہیں  کل ملاکر کوئی دوسو کے قریب ہونگے بالغ وعاقل  اس سے دوگنی تعدادمیں بیرون ملک ہیں،  ہم  لوگ چونکہ سارے کے سارے ہی  نسل درنسل سے ادھر ہی پیدا ہورہے ہیں لہذا  یہ گاؤں سب کی جنم بھومی قرار پایا اور مرن جیون سانجھا ہوا۔ سچی بات یہ ہے کہ  ہر بندہ ایک دوسرے کا رشتہ دار ہے،   مجھے نہیں یاد کہ کبھی کسی بڑے کو بلحاظ عمر یا حسب رشتہ بھائی جان ،  چچا، تایا  ، بابا، دادی، ماسی  آپا کہہ کر نہ بلایا ہو،  اور اگر کبھی بھولے میں کسی بزرگ کے سامنے کچھ ہینکی پھینکی ہوگئی ہو تو چھتر پڑنے سے کوئی روکنے والا نہیں  تھا،  ہم سے چھوٹے بھی ہمیں بھائی جان کہتے  اور اب انکل بھی شروع ہوگیا ہے اور اب ہم انکو انکھیں نکال رہے ہوتے  ہیں۔
 بہت برس پہلے جب میں کالج میں پڑھا کرتا تھا اور بعد میں پڑھایاکرتا تھا تو جب پنڈمیں کوئی فوتگی ہوجاتی تو پورے گاؤں سے کوئی بندہ نہ تو تعلیم کےلئے جاتا اورنہ ہی نوکری پر،  فون کرنا پڑتا کہ جناب میرے پنڈ میں مرگ ہوگئی ہے میرا  پیریڈ کوئی سر لے لیں ۔ مزدور لوگ بھی اپنی دیہاڑی چھوڑ دیتے،  اگر کوئی تعمیر ہورہی ہوتی تو کام روک دیا جاتا، راج مستریوں کو کہہ دیا جاتا کہ جی ہمارے پنڈ میں  فوتگی ہوگئی ہے لہذا ابھی ختم تک تم لوگ فارغ، شادی بیاہ تک کو ملتوی کردیا جاتا کہ جی ہم لوگ سوگ میں ہیں۔   مطلب یہ کہ آپ پورے پنڈ کو اکٹھا کرلیں اور پوچھ لیں کہ کسی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی، سارے مونڈی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلا دیں گے۔  پھر اسی طرح اگلے پچھلے گاؤں میں یا علاقہ میں کوئی مصیبت آجائے تو ہم لوگ بھی پریشان، ملک میں کچھ ہوجائےتو ہم افرا تفری میں ،کہ 
 میرا ملک میری جنت
گزشتہ کچھ برس سے  کچھ عجیب ہی ہواچلی ہوئی ہے کہ ہر دوچار برس بعد ایک ادھ بندہ قتل ہوجاتا ہے
چچا طالب کے گھر پر رات کو فائر ہوا اسکا  چند برس کا   پوتا چل بسا، کچھ پکڑ دھکڑ ہوئی  مگر ملزم چھوٹ کر آگئے کہ عدالت سے بے گناہ نکلے۔  کیس فائل۔پھر کسی نے ذکر نہیں کیا۔
پھر۔۔۔ پھوپھو خیرن  کا قتل ہوا  ساتھ میں انکی سات سالہ بھانجی کو بھی کاٹ دیا گیا، کچھ لوگ گرفتار بھی ہوئےبعد میں  پولیس نے انکےبھائی کے ذمہ ڈال دیا  وہ گرفتار ہوا اور انکے گھروالوں نے تپ کر کیس چھوڑ دیا، سارے باہر ،پولیس کو تفتیش نہیں کرنی پڑی اور کیس فائل ہوگیا۔
پھر بابا سائیں بھولا  کو بقول اسکے سوتیلے پوتوں نے سوتے میں ڈنڈا مارکر ہلاک کردیا،  ملزم باوجود نامزد ہونے کے گرفتارنہیں ہوا کہ آصف بھائی کے پاس  پلس کو دینے کو پیسے نہ ہی تھے اور نہ ہی وہ رشوت دینے والا بندہ ہے۔ کیس فائل ہوگیا۔
چچاوراثت خان کی لڑکی گھر والوں کو کراچی سے ملنے آئی ، رات کو فائر ہوا وہ چل بسی، ایک بندہ گرفتار مگر امید ہے کہ وہ بھی چھوٹ جائے گا کیوں کہ کوئی بھی تو اسکا گواہ نہیں ہے۔
  ابھی کل شام کو ہمارے ہمسائے میں چچی ناصر ہ پر فائرنگ کی گئی اور وہ چل بسی انا للہ و انا الیہ و راجعون۔    نہایت ملنسار، ہمدرد اور باخلاق خاتون تھیں،   ایک گھریلو قسم کی پابندصوم صلوات ، پڑھی لکھی  ماں جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مگن تھی۔ کسی کے ساتھ اونچ نیچ ، بحث و تکرار  کبھی نہیں سنی،  جب پاکستان جانا ہوتا تو  اپنوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیرتیں اور دعا دیتیں۔  کل سے پوری ٹینشن میں  ہیں، ہم ادھر بھی اور جو ادھر ہیں وہ بھی۔  ہم انکو فون کررہے ہیں وہ جو گھر میں ہیں وہ ہمیں ۔
کون پکڑا جائے گا کون چھوٹے گا  ؟؟  ابھی کچھ معلوم نہیں مگر ان سارے بندوں کا خون کس مقصد کےلئے بہایا گیا؟؟  یہ تو میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ سارے بندے ہی معصوم اور شریف لوگ تھے،   انکا قصور کیا تھا، ا نکو  کس جرم  کی سزا  دی گئی ؟؟
تو پھر سوال یہ ہے کہ اتنے شریف اور معصوم لوگوں کا خون کیوں؟؟   کیا کوئی پوچھنے والا نہیں ؟؟  کیا کوئی  روکنے والا نہیں ؟؟   کیا کوئی نہیں جو عوام کی جان و مال کی حفاظت کرسکے؟؟ کیا کوئی نہیں جو ان معصوموں کے اس قتل عام کو روک سکے؟؟
 میری جنت میں لگی اس آگ کا انجام کیا ہوگا ؟؟؟  کسی کے پاس کوئی حل؟؟؟

مکمل تحریر  »

بدھ, دسمبر 07, 2011

بیمار کو بدعائین

ہم پاکستانی بڑی ہی  سادہ ،  سچی ،   جذباتی اور حساس قوم ہیں ۔
دوست تو دوست دشمن بھی اگر بیمار ہوجائے تو فوراُ سب کچھ بھلا کر پنڈ کے بڑے بوڑھےبزرگ لوگ لاٹھیاں کھڑکاتے اس کی تیمارداری کو چل نکلتے ہیں۔   ادھر جاکر حال پوچھا جاتا ہے اور بیماری کے بارے میں مفصل معلومات حاصل کی جاتی ہیں، پھر  ان کی وجوہات پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے اور اس سے گزشتہ پچاس برس میں مرنے والوں کا ذکر ہوتا ہے، علاج کے بارےمیں معلومات کا حصول اور معالج کی قابلیت  پر شک کا اظہار اور اسکی اکثر ناتجربہ کاری کا رونا رویا جاتا ہے، تب تک مریض کا رنگ فق اور ہونٹوں پر پپڑی جم چکی ہوتی ہے گویا اسے  بھی اپنا وقت قریب دکھائی دے رہا ہو  ۔    پھر اس معمولی ا ور سستے والے معالج    ڈاکٹر ا ختر میں سے تین سو کے قریب نقائص و کیڑے نکال کر اسکو ریجیکٹ کردیا جاتا ہے   ، اہو ہو ، آپ کیا جانو بابا جی  اوس بچارے کو تو کھانسی اور زکام کا علاج کرنا ہی نہیں آتا  اس پیچیدہ بیماری کا وہ کیا علاج کرے گا اور فیر یہ جو تیس رو پئے کی دوائی وہ دے رہا ہے اس  میں کیا ہوگا، جی، بابا جی آپ بتا ؤ تیس روپئے کے  تو ہانڈی کے ٹماٹر نہیں آتے اس  ڈاکٹر نے ان میں سے خود کیا رکھا ہوگا اور انکو کیا دیا ہوگا،  تب تک مریض  کا دل دوائیاں اتھا کر پھینک دینے کو کررہا ہوتا ہے  مگر  اسکے ساتھ ہی ایک اچھے اور مہنگے والے معالج کا پتا بتایا جاتا ہے  کہ فیس تو بہت لیتا ہے کوئی دو ہزار روپئے اور دوائی الگ سے لکھ کر دیتا ہے وہ بھی بہت اعلیٰ قسم کی ولائیتی دوائی، پہائی کوئی ڈیڑھ ہزار کی آتی ہی مگر آفرین ہے اس ڈاکٹر پر کہ اس میں سے ایک پیسہ نہیں لیتا  ، میڈیکل اسٹور سے خود خریدو اور خود ہی پیسے دو،   اب مریض   حساب لگا چکا ہوتا ہے کہ کل ملا کر  ساڑے تین ہزار کا نسخہ بنتا ہے جبکہ میرے منڈے  کی مہینے کی تنخوا ہ  6 ہزار ہے کام نہیں چلنے کا، بابا لوگ تب مریض کو دعا بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ بھی اللہ تمھیں شفاء دے اور صحت تندرستی دے اور  لمبی عمردے  اور یہ کہ اللہ تھماری مشکلیں آسان کرے۔ 

اکثر دیکھا گیا ہے کہ اسکے فوراُ بعد مریض تندرست ہوجاتا ہے اور جب بابا لوگ دعاؤں کے بعد جانے کو اٹھتے ہیں کہ چلو وی پہائیا  چل،  تو مریض اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور  چہر ے مسکراہٹ سے انکو رخصت کرتا ہے ۔ اس بارے میں دو آرائیں اول جو  میرے  جیسے مادہ پرست لوگوں کی ہے  اور ان کا خیال ہے کہ مریض  کو علاج کی قیمت سن کر ہی افاقہ ہوجاتا ہے ، جبکہ دوسری رائے  جو زیادہ  صائب لگتی ہے وہ  روحانیت پرست اور اللہ والوں کی ہے کہ دعا بہر حال اثر کرتی ہے، بابا لوگ چونکہ دل سے صاف ہوتے ہیں اور سچے دل سے دعا دیتے ہیں پس اللہ جو اپنے بندوں کے دل میں بستا ہو وہ اس 
ادھر پاس سے ہی نکلی ہوئی دعا کو فوراُ سن کر شرف قبولیت بخشتا ہے اور بندہ فٹ ٹھیک  اور  فٹ فاٹ۔

ایک ہمارے ملک کے صدراعظم ہیں جو پیؤ کھاؤ پارٹی کے صدر بھی ہیں، ملک کے ہونے والے صدر کے باپ بھی،  ہوچکی وزیر اعظم کے خاوند ارجمند  بھی اور اپنے سسر صاحب  بھٹو کے پس از مرگ  بننے والے خود ساختہ پسر بھی   ہیں ، ان دنوں بیمار ہیں 
یعنی چشم بیمار ہے
چشم نرگس بیمار ہے  ،  ہائے ہائے    کیا دل کا آزار ہے
چشم نرگس بیمار ہے  ،   بات پر اسرار ہے
چشم نرگس بیمار ہے تیرے بغیر  ہائے ہائے
باقی سب کچھ بے کار ہے تیر ے بغیر ہےہائے ہاے
 چشم نرگس بیمار ہے یا ملک سے فرار ہےہائے ہائے

آج ایک عجیب بات دیکھی ہے کہ فیس بک پر اور گوگل پلس پر یار لگ اوس کے مرنے کی دعا ئیں کررہے ہیں کوئی پوچھ رہا کہ یہ مرا کیوں نہیں؟؟  دوسرا جواب دے رہا ہے کہ کہ پلید برتن بھی ٹوٹا ہے،  کسی کا جواب ہے کہ کتے آسانی سے نہیں مرتے، کوئی کہہ رہا ہے کہ یااللہ اگر یہ بیمار ہوہی گیا ہے تو اس کو موت ہی دے دے، باقی اس کے نیچے آمین آمین کی قطار لگی ہوتی ہے۔  میں سوچتا ہوں ہوں کہ یہ ملک کا صدر ہے ، پورا ملک اور اٹھارہ کروڑ لوگ اسے کے اپنے ہیں تو پھر وہ اس کو بدعائیں کیوں دے رہے ہیں،  میں نے پورا پاکستان تو نہیں گھوما مگر اپنے پنڈکے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ کبھی کسی نے کسی بیمار بندے کو نہیں کہا کہ اللہ کرے یہ مرجائے،   اگر لوگ یہ کہہ رہےہیں تو پھر کتنے تپے ہوئے  ہوں گے، انکے دل کتنے جلے ہوں گے؟؟؟

مکمل تحریر  »

اتوار, نومبر 27, 2011

امریکہ کے خلاف



ویسے یہ جو کتا کھائی امریکن کررہے ہیں اسکا ہمارے حکمرانون کو کیا جواب دینا چاہئے؟؟
کیا جوابی کاروائی ہونی چاہئے؟؟ صرف احتجاج اور مادام کے دو فون ہی تو کافی نہیں ہیں؟؟ نہ ہی جرنیلی قول کہ اگلی بار جواب دیں گے،
کچھ تو مزید ہونا چاہئے

 شاید طویل المدتی پالیسی, مگر کیا؟؟؟اور  کون بنائے گا؟؟ کیا ہماری یہ لومڑ حکومت کسی جوگی ہے کہ ان کو حلال ہی کروانا پڑے گا مطلب قصائی کو بلا کر چھری پھروانی پڑے گی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش