بدھ, جنوری 07, 2015

میں کیا ہوں؟؟؟


اسکول کے زمانے سے ہی تاریخ پڑھنے کا  بہت شوق تھا،  صرف تاریخ ہی کیا، سفرنامے، آپ بیتیاں، جغرافیہ ہو ،  یا پھر کوئی اورموضوع، بس کتاب ہونی چاہئے اور وہ بھی نصاب کی نہ ہو،  یہ نسیم حجازی کے اور ایم  اسلم راہی کو موٹے موٹے ناول لاتے اور راتوں رات پڑھ کر سوتے۔ عمران سیریز، عنایت اللہ، سے لیکر شہاب نامہ تک پڑھ ڈالا مگر ان ساری کتابوں کے اندر اپنا کوئی ذکر تک نہ تھا، نہ کوئی حوالہ نہ  کوئی نام و نشان۔
تاریخ ابن خلدون کی کئی جلدیں کھنگال ماریں۔ یہ اسکندر اعظم سے لیکر انگریزوں کی آمد و جامد تک سب دیکھ مارا۔ مگر وہی ڈھاک کے
تین پات، اپنے بارے کچھ بھی نہیں ملا، گویا اپنا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ یہی حال پوری تحریک پاکستان میں رہا، پوری تحریک پاکستان میں اپنا کوئی حصہ نہیں نظر آیا،  سرسید احمدخان ، مولانا برادران، علامہ اقبال ، قائد اعظم،  لیاقت علی خان اور بہت سے لوگوں بلکہ رہنماؤں (کہ وہ لوگ نہیں تھے)  تک کے حالات زندگی پڑھ ڈالے مگر اپنے بارے مجال ہے جو چار الفاظ بھی ملے ہوں یا کہیں ذکر ہوا ہو۔

پھر تاریخ پاکستان  کا مطالعہ ہوا،   کیا پہلے افراتفری کے سال، پھر ایوب خان کی ترقی اور بحالی کے سال۔  اپنا اس میں کوئی کردار نہ تھا، نہ کسی نے لکھا ، کوئی حوالہ نہیں ہے۔ ہاں سنہ اکہتر بہتر کی افراتفری میں ایک اندراج اپنے نام کا یونین کونسل کے رجسٹر پیدائش میں درج پایا گیا۔ اس میں اپنا کوئی عمل دخل نہ تھا، کہاں پیدا ہوئے، نام کس نے  رکھا، کیا رکھا، کیوں رکھا، سب کسی اور نے طے کیا اور ہم آموجود ہوئے، پھر گاؤں کے اسکول میں داخل کروایا گیا۔ جن اساتذہ  کے پاس پڑھا، جو کلاس فیلو تھے، یہ بھی اپنا فیصلہ نہ تھا۔

دنیا کی کچھ سمجھ آنے لگی کالج میں داخل ہوئے، اچھا ۔   تیرے لئے اس کالج کے فارم جمع کروا آیا ہوں، یہ رسید ہے، فلاں تاریخ کو داخلہ کی فہرست لگے گی۔ جاکر اپنا نام کلاس سیکشن دیکھ آنا، یہ بھائی جان کا فرمان تھا۔ اور میں اچھا جی کہہ کر رہ گیا۔
چل ہومیوپیتھی پڑھ لے، سنا ہے کہ بہت اچھا طریقہ علاج ہےاور  کہ ادھر پڑھنا کم پڑھتا ہے اور نقل بہت لگتی ہے، بس بندہ پاس ہوجاتا ہے۔ تو بھی ڈاکٹر بن جائے گا۔ سستے میں۔ چل ٹھیک ہے، ورنہ تیرے پاس ہونے کے چانس کم ہیں،  میں اچھا جی ٹھیک ہے۔

پہلا سال اسی پر رہے، مرمرا کر پاس ہوئے۔ اگر سالوں میں محنت کرنے کی جانے کیوں عادت سی ہوگئی۔ اور ہم پوزیشنیں  لینے والوں میں سے ہوگئے، اس میں اپنا کوئی کمال نہیں تھا، مجبوری تھی۔ کسی نے کہہ دیا کہ پڑھا کرو۔ ہم پڑھنا شروع ہوگئے۔ تعلیم ختم کی تو اسی سال ایک لیکچرار کی سیٹ خالی ہوئی، اس  پر درخواست دے دی۔ تعیناتی ہوگئی۔ کیسے ہوئی اپنا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

پھر ایک کانفرنس کے بارے معلومات ملیں جو پولینڈ ہورہی تھی۔ ویزہ اپلائی کیا ، اگلوں نے انکار کردیا، اسکے کچھ دن بعد ہونے والی کانفرنس کا ویزہ لیکر ادھر جاپہنچے،  رات کا ٹرانزٹ لنڈ ن کا رہا ، ماموں شاہد نے بہت شور کیا کہ ادھر ہی رہ جا، کنجرا،  تیری کوئی ازیل وغیرہ ہوجائے گی، تیرا ویاہ کروا دیا ں گا۔   نہیں۔ اٹلی آگئے، ادھر آکر پیسے کمانے میں لگ گئے،  نوکریاں کیا کیا کیں اور کیوں کیں، ان میں اپنا کوئی عمل دخل نہیں، جو پوسٹ کسی نے بتادی میں نے اپلائی کردیا۔  جس نے بلا لیا  وہ کام شروع کردیا۔ سفر، ادھر جا ادھر جا۔ کام کے چکر میں  برازیل تک گھوم آئے۔

ایک بزنس کرنے کی ناکام کوشش کی، چار سال بعد نتیجہ۔ صحت کی خرابی چلنے پھر نے سے معذور ، بستر پر۔ بس کاروبار بھی ٹھپ۔
پھر اللہ نے صحت واپس کی، اور  دوستوں کی راہنمائی سے پولے پولے ہومیوپیتھک معالجات میں آگئے، تین سال بہت مزے سے گزرے۔ مگر اس میں بھی اپنی کوئی قابلیت نہ تھی۔ بس سبب بنتے رہے۔
پڑھتے، پڑھاتے، یہ فیس بک ، یہ بلاگ۔ یہ دوست احباب، یہ ملاقاتیں ۔ یہ سب چلتا ہی رہا اور ہم پھر سے کمر کی سرجری کروا کر بستر پر،
آج ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا، اس کمرے میں  اور اس بستر پر، اور میں صبح سے سوچ رہا کہ ساری دنیا کا نظام تو پھر بھی چل رہا۔ میرے ہونے نہ ہونے سے تو کوئی فرق نہیں  پڑا  اور نہ ہی پڑنے والا۔ 

تو پھر میں کیا ہوں؟؟؟  شاید کچھ بھی نہیں۔
اس دنیا کے اندر میرا کیا کردار ہے؟؟؟ کچھ بھی نہیں۔
تو پھر؟؟؟؟


مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 16, 2012

برازیل، جوس اور پیپسی

برازیل گئے اب تو کئی برس بیت گئے مگر چند ایک ان ممالک سے ہے جو ہم دیکھ پائے اور پھر کبھی نہ بھول سکے،   نہ اس ملک کی صفائی ستھرائی کو نہ بندوں کی مہمان نوازی کو، گو کہ تھا ایک مکمل طور بزنس ٹور مگر،  جہاں بھی گئے ، کسی بھی دفتر میں  ، اٹلی کے حوالے سے کسی جاننے والے کے ہاں یا کسی اسپرانتودان کے ہاں، خود سے یا کسی کے ساتھ  تو جیسے ہی انکو معلوم ہوا کہ   یہ مہمان اٹلی سے ہے  مگر ہے پاکستانی ،  گویا کہ بہت دور کا مہمان ہے،  تو پھر کیا تھا فوراُ دعوت  دے ڈالتے ،کہ آج شام کا کھانا ہمارے ادھر، کل  دوپہر کو ہمارے ہاں، نہیں تو سہہ پہر کی کافی تو لازمی ہے،  اچھا نہیں تو  "ڈیگر " کو ادھر سمندر پر چہل قدمی کے لئے ہیں تمھیں پک کرلیں گے، پاکستانیوں کی طرح وہ بھی ایک گاڑی میں اکیلے کم ہی سفر کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ جوڑے کی  صورت میں۔

آج کل رمضان کی وجہ سے جوسز اور مشروبات کا بکثرت استعمال  ہمیں پھر برازیل کی یاد دلا گیا، کچھ یوں کہ جب بھی کسی کے گھر پہنچتے تو سوال ہوتا: کونسا ڈرنک لوگے؟ کیلے کا،  مالٹے کا،  کیوی یا آم کا، امرود یا لیچی کا، اسٹرابری یا  ٹماٹو جوس، خوبانی یا آڑو  ؟   " کج تے دسو سرکار؟ کج تے منہ پھوٹو؟"  

اور سرکار  ادھر بے ہوش ہونے کے قریب ، کہ:
انہوں نے اتنے سارے پھلوں کے جوس گھر میں اسٹاک کئے ہوئے ہیں ، ہیں جی
بڑی مالدار "پارٹی" لگ رہی ہے ، ہیں جی
سنا تھا کہ برازیل تو تھرڈ  ولڈ کا ملک ہے، ہیں جی
ادھر تو تنخواہیں بھی بہت کم ہیں ،مگر پھر بھی انی عیاشیاں ،  ہیں جی۔

حیرت  کو ایک طرف رکھ کر منہ سے "امرود " کا لفظ نکلا ،  کہ لو جی  پاکستانی پھل ہے، لازمی طور پر مسلمان بھی ہوگا، مگر "قسمیں" ہم  نے پاکستان میں امرود کا جوس کبھی نہیں پیا، بلکہ دیکھا بھی ادھر اٹلی آکر ، کہ ادھر ملک مصر سے آتا ہے۔ جی ، جی وہی فرعون  کا ملک ، بلکل وہی والا۔

پس اگلی نے  فوراُ  ،  آمین  کہتے ہوئےمہمان خانے میں ہمارے سامنے رکھی پھلوں کی ٹوکری میں سے دو امرود نکالے، انکو دھویا، چھوری سے دو ٹکڑے چوڑائی میں کاٹا،   چمچ لی، اور امرود کے بیچ میں ایک بار گھما کر بیج  ادھر باہر "بن"  میں ، دوسری بار پھر چمچ گھمائی اور گودا  جوسر بلینڈر میں اور چھلکا پھر سے  "بِن  " میں اور  یوں  چار بار کے ٹونہ کے بعد دو امرود ز کا گودا نکال،  اس میں چار چمچ چینی، چٹکی بھر نمک   اور کوئی جگ بھر پانی ڈال ، برف ڈال  ، گلاس میں انڈیل، ہمارے سامنے پیش کردیا ، کہ لوجی  امرود کا ڈرنک تیار ہے، نوش جان کیجئے۔

جب بھی پاکستان جائیں تو جس کے گھر بھی جائیں پیپسی اور کوک سامنے آجاتی ہے، یا پھر روح افزاء، ادھر اٹلی میں جوس کا ڈبہ اگلے لاکر سامنے رکھ دیتے ہیں ۔  پیپسی ، کوک میں تو خیر سے کیمکیلز کے سوائے کیا ہونا ہے، پانی بھی "خورے" کونسی صدی میں بھرا گیا اور کس گھاٹ سے۔  مگر ادھر اٹلی کے جوسز میں بھی اکثر میں  جوس 25٪ ہی ہوتا ہے، باقی پانی، چینی اور کیمیکلز منافع میں،  بندہ پوچھے کہ جب پچیس فیصد جوس ہی پینا ہے تو پھر برازیلین ڈرنک ہی کیوں نہ اپنا لیا جائے کہ سستا بھی ، تازہ بھی اور بغیر کیمیکلز اور کنزرویٹرز کے۔

اب  ہمیں حکیم لقمان نہ سمجھ لیا جائے، کوئی بنائے نہ بنائے سانوں کی،  ساڈی تے اپنی وائف  نے بھی ایک بار بنایا تھا، بہت پسند کیا مگر پھر وہی پیپسی کہ جی لوگ کیا کہیں گے؟ آپ بتاؤ جی کہ ناک بھی رکھنی ہوتی ہے کہ نہیں، ہم اگلو ں کے جائیں اور وہ پیپسی پلائیں مگر  ہم ان کے سامنے گھر کا بنا ہوا ڈرنک رکھیں، مطلب ہم غریب ہیں کوئی؟  نہ جی  ناں، ہم غریب کتھوں ؟  آپ سب کو پیپسی پلاؤ جی۔ سانوں کی

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش