سوموار, دسمبر 29, 2014

ٹیگ مافیا


حد تو یہ ہے کہ  لوگ آو دیکهتے ہیں نہ تاو دیکهتے ہیں اپنی بوسیدہ کترنیں اٹهاتے ہیں اور ہماری وال پہ ٹانگ کر نکل لیتے ہیں. بچوں کی بدبودار پٹلیاں تک دیوار پہ رکه کے چلتے بنتے ہیں. کچه نے تو ہماری دیوار کوبنارس قصبہ اور مری روڈ کی دیوارسمجهاہواہے جب جی میں آتاہے منہ اٹهائے آتے ہیں اور عامل جنیدبنگالی یاپهر جرمن دواخانے کی چاکنگ کرکے چلے جاتے ہیں. بهئی تمہیں خدانے اپنی دیواردی ہوئی ہے اسی کو تختہ مشق بنالو ہماری دیواریں کس خوشی میں پهلانگنے پہ تلے رہتے ہو. اپنے اس توسیع پسندانہ عزائم پہ کچه غورتوکیجیئے کہ یہ ہے کیا؟ تصویرآپ کے پروگرام کی ہوتی ہے اورچپکادیتے ہیں میری دیوار پہ.. میں نے پوجنا ہے کیا آپ کی تصویرکو؟ تحریرآپ کی ہوتی ہے اوراسٹیکربناکرمیری دیوارپہ لگادیتے ہو. میں نے چاٹناہے کیاآپ تحریر کو؟ میں نے آج تک آپ کی شکل نہیں دیکهی اورآپ مجهے اپنے نومولود بچوں کے زبردستی کے درشن کرواتے ہو. میں نے اس کے کان میں اذان دینی ہے کیا؟ یاپهرمجهے ماہرختنہ سمجه رکهاہے؟ پڑوسیوں کوبهلا اس طرح بهی کوئی اذیت دیتاہے کیا؟

دیکهومیری بات سنو! میرایقین مانوکہ آپ کی دیوارپرسے میرا روز گزرناہوتاہے. آپ کی تصویریں تحریریں تقریریں لکهیریں عشوے غمزے رمزے نغمے نوحے شذرے فتوے تقوے قافیئے نظمیں غزلیں نعتیں حکایتیں قصے افسانے شہہ پارے مہہ پارے سپارے نظریئے عقیدے نعرے طعنے ترانے مکالمے مناظرے مباحثے فکاہیئے مبالغے مجادلے مکاشفے ستائشیں مذمتیں تصدیقیں تردیدیں تبصرے تجزیئے تذکرے رفوگری خلیفہ گیری اٹهائی گیری پیداگیری داداگیری تعریف توصیف تنقید تخلیق تحقیق سزا جزا ادا بهرم بهاشن درشن ایکشن فیشن فکشن شب وصل شب فراق انعامات الزامات تعلیمات تعبیرات تعلیقات تعذیرات تشبیہات افکار گفتارللکار کرداراطوار اخبار آثار دعوے وعدے مدعا مدعی دشنام طرازیاں عشوہ طرازیاں دست درازیاں غرضیکہ ادب فلسفہ تاریخ الہیات جنسیات مابعدالطبعیات سیاسیات سائینسیات اور اس کے علاوہ آپ کے تمام اقوال زریں و بے زریں سب میری نظرسے گزرتے ہیں. آپ کو یقین نہ آئے تو میں وہ تمام قسمیں کهانے کوتیارہوں جوطاہرالقادری صاحب نے آج تک تخلیق کی ہیں اور وہ تمام قسمیں بهی اٹهاتاہوں جوابهی زیر تخلیق ہیں.

اب ایسا ہے کہ آپ اپنی ہی دیوارپہ اپنی تصویریں اور تحریریں لگادیا کریں مجهے پسندآئیں گی تو میں لائک کروں گا.زیادہ پسند آئی توواہ واہ بهی کروں گا. اور بهی زیادہ پسندآئیں تو اٹهاکر چوم لوں گا چاٹ لوں گا.اس سے بهی زیادہ پسندآگئیں تواٹهاکے اپنی دیوارپہ ٹانگ دوں گا اور ساته میں لکه دوں گاکہ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیئے!! اوراگر لائک کے لائق نہ ہوئیں تو چپ ساده لوں گا. بری لگیں تومنہ بسورکے کنارہ پکڑلوں گا. اوراگر اذیت ناک ہوئیں تو چار حرف بهیج کر نکل جاو ں گا.. اب اگرمیں نے کمنٹ ہی نہیں کرنا توپهر کوئی میری وال پہ الٹا ہی کیوں نہ لٹک جائے ماں قسم اپن سے کمنٹ نہیں نکلواسکتا..

 سو پلیزیار تمہیں جمہوریت کا واسطہ ہے کہ میری چادر اور چاردیواری کی ماں بہن کرنے سے باز آجاو. پتہ ہے کیا ہے؟ میرے کچه دوست جب میری دیوار پہ کسی
ہما شما کے گلابی کپڑے ٹنگے ہوئے دیکهتے ہیں توسمجهتے ہیں کہ یہ میرے ہی ہیں. کسی کے منجن کا اشتہارمیری دیوارپہ دیکهتے ہیں تو انہیں لگتاہے کہ میں نے ہی همدرددواخانے کی کوئی برانچ کهول لی ہے. اسی طرح جب کوئی میری دیوارپہ کسی کمپنی کی مشہوری دیکهنے کے بعد واہ واہ یا آہ آہ کرتاہے تواس کی آوازیں مجهے میرے گهرمیں سنائی دیتی ہیں. یقین جانیں بڑی کوفت ہوتی ہے. اسی لیئے اب ہم روز اٹهنے کے بعد پہلے اپنی دیوار تیزاب سے دهوتے ہیں پهر اپنی دکان کا شٹر اٹهاتے ہیں. بهئی اگرکسی کو بہت زورکاٹیگ آیاہواہے توانبکس میسج کاآپشن استعمال کرکے ہلکاہوجائے اور اگرمیری دیوار پہ اپنی کمپنی کی مفت میں مشہوری کرنے کا پروگرام ہے توپهر اس کامطلب ہے کہ آپ بڑے ہی کوئی کم ظرف قسم کے انسان ہیں.

نوٹ: ٹیگ کا آپشن آف کرنے کا مشورہ دینے والے زحمت نہ فرمائیں کیونکہ کچه لنگوٹیوں کواجازت ہے کہ وہ دروازے کو لات مارکے بهی میرے گهرمیں انٹری دے سکتے ہیں. وہ دروازہ بجائیں دیوارپهلانگیں کهڑکی توڑیں جو کریں انہیں اجازت ہے. میری بیل کا بٹن باہر لگا رہے گا مگراس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر کہ ومہ آتے جاتے پڑوم کرکے بیل بجاتاہوا نکل جائے گا. اب اگر بندہ خالی پیلی میں بیل بجانے والوں کے خلاف احتجاج کرے گا توآپ اس کوبیل کا بٹن نکلوادینے کا مشورہ دوگے کیا؟ ایسا تونہیں کرویار!!!
---------------------
یہ ایک موصولہ تحریر ہے، مصنف نامعلوم ہے مگر صاحب بلاگ کا اس سے پورا اتفاق ہے۔ 

مکمل تحریر  »

اتوار, اکتوبر 12, 2014

قوم کا زوال اور معاشرتی ناانصافیاں

دلی۔ بھوپال۔ اور حیدرآباد دکن کا جس قدر ڈاکومینٹری ، مطالعاتی و مشاہداتی مطالعہ ہماری نظر سے گزرا ہے ۔ اسمیں اس دور کی دلی اور دیگر مسلم تہذیبوں کے گڑھ میں ۔ انگریزی قبضہ سے قبل اور بعد میں اور آج تک ۔ جس خاص چیز نے ہندؤستان میں اور اسکے تسلسل کی صورت میں پاکستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور جس پاکستان میں مسلسل نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اور اس نقصان کی شدت اس حد تک ہے کہ جس سے بالآخر تب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانیہ و انگریزوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی آزادی و تہذیب ختم ہوئی اور اسی تسلسل سے آج پاکستان میں امریکہ و مغرب ۔ آئی ایم ایف او ورلڈ بنک کے ہتکنڈوں سے پاکستان کی ۔ اور پاکستانی مسلمانوں کی خود مختاری و آزادی۔ سکون ۔ عزت سے سے جینے کا حق و اختیار ۔اور آبرو کو خطرہ لا حق ہے۔ اور پاکستان بہ حیثیت ایک بااختیار ملک ہر گزرنے والے دن کے ساتھ پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اور کسی سانپ کی پھنکارتا ہوا وہ سنگین مسئلہ ہے،

عدم مساوات


امیر اور غریب کے رہن سہن میں زمین و آسمان کا فرق ۔ امراء کے اللے تللوں کے لئے ہر طرح کی لُوٹ کھسوٹ جائز۔
اور غریب ۔باوجود چودہ گھنٹے کی مشقت کے۔ روزی روٹی اور زندگی گھسیٹنے کی بنیادی ضروریات کے لئے سسکتا ہوا۔ 
ایک طرف اربوں اور کھربوں کے اثاثوں کی مالک۔ ملک کی چند فیصد اشرافیہ ۔اگر تو اسے اشرافیہ کہا جاسکتا ہے۔
اور دوسری طرف غربت اور غربت کی لکیر سے نیچے بے توقیر دو وقت کے روٹی کا جتن کرتی ملکی اکثریت۔

تب اور آج بھی ملک کے تمام وسائل پہ قابض مگر مزید ہوس کے مارے۔ملکی عزت و وقار اور آزادی اختیار کو بیچ کر دام کھرے کرنے والے امراء ۔

اور دوسری طرف ایک مناسب زندگی کی نعمتوں سے محروم ۔ دو وقت کے روٹی کے مارے بے وقعت و بے اختیار ۔ زندگی گھسیٹتے ۔ زندگی بھگتتے۔اسی فیصد سے زائد محروم عوام ۔ 

تب بھی نظام و سرکار و دربار پہ قابض رزیل ترین امراء ۔
اور آج بھی پاکستان کے ہر قسم کے وسائل پہ قابض ۔ اور پاکستان کے تمام وسائل کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والا۔ملکی آبادی کا چند فیصد فرعونی طبقہ۔

بے اختیار اور مجبور رعایا تب بھی جہاں پناہ اور ظل الہی کے الاپ جابتی اور آج بھی فلاں ابن فلاں کے زندہ باد اور پائیندہ باد کے نعرے لگاتی ۔
اور بدلے میں کل بھی نظام کو بدلنے سے محروم۔ بے بس رعایا اور آج بھی عوام پاکستان میں مروجہ تمام نظاموں میں اپنی رائے سے ۔ اپنی طرح کے غریب نمائندوں کے ذریعے ۔اپنی طرح کا کوئی غریب حکمران چننے سے محروم عوام۔ 
تب بھی رعایا کو عملا نظام میں کسی طور پہ مداخلت سے محروم رکھنے کے لئیے ۔ دربار ۔ سرکار۔ اور افضل النسل ہونے کے تفاخر میں جاگیروں۔ نوابیوں اور حکمرانی کے پیدائشی اور مورثی ہتکنڈے۔

اور آج بھی پاکستان کے نظام کو ترتیب دینے کے لئیے بالا دست طبقے کے لئے کروڑوں خرچ کر کے۔ پی این اے اور ایم این اے بننے کے مواقع اور نظام اور اسکی پالیسیوں کو بالا دست طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور بندر بانٹ کے مواقع پیدا کرنے کے نت نئے طریقے۔
تب بھی اعلی تعلیم اور کارِ سرکار میں ملازمت کے لئے اور اشرافیہ کا امتیاز ۔ تفاخر۔ اور اعلی شناخت برقرار رکھنے کے لئے ان کی اپنی غیر ملکی درآمد شدہ زبان فارسی ۔  اور آج بھی عوام پہ امراء کے تسلط کو قائم رکھنے کے لئے کام کرنے والوں کے ”انگریزی کلب“ میں داخلے اور تسلط کے لئیے دو فیصد سے کم ملکی آبادی کی سمجھ میں آنے والی درآمد شدہ زبان انگریزی۔

القصہ مختصر کل بھی رعایا کو اور آج بھی عوام کو ملک کے وسائل میں سے کچھ نصیب نہیں ہوتا تھا ۔ اور آج بھی ملکی وسائل پہ قابض چند فیصد اشرافیہ ۔زندہ رہنے کی جستجو کرنے والے اسی فیصد سے زائد عوام کو کمال نخوت سے دھتکار دیتی ہی۔ اور انھی عوام کی محنت اور وسائل سے رزیل ترین اشرافیہ دن بدن طاقتور ہو رہی ہے۔ جبکہ عوام کی اکثریت کے پیٹ کمر سے جا لگے ہیں ۔  نظام اور وسائل پہ قابض لوگوں نے طرح طرح کے ہتکھنڈے ایجاد کر رکھے ہیں جن سے انکے مفادات کی تعمیل و تکمیل تو بہ احسن ہورہی ہے مگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی کا جسم اور سانس کا تعلق مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی سے تب بھی یہی اشرافیہ معاملات کرتی تھی اور بالآخر ملک کی آزادی کو بھی بیچ ڈالا ۔ اور آج بھی وہی اشرافیہ عام عوام کو دبائے رکھنے اور اپنے تسلط اور لوٹ کھسوٹ اور ملکی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے ۔ امریکہ ۔ مغرب ۔ بڑے ٹھیکے۔ ارپوریشنوں سے معاملات۔ عوام پک یہ ٹیکس ۔ وہ ٹیکس ۔ قومی اداروں اور اثاثوں کو درست کرنے کی بجائے انکی پرائیویٹیشن ۔ آئی ایم ایف۔ ورلڈ بنک ۔ اپنے عوام کی عزت نفس کو رگڑ کر اغیار کی چاپلوسی ۔

نہ تب مسکین اور بے بس رعایا کو کویئ حق حاصل تھا۔ نہ آج ملکی معشیت اور نظام کا پہیہ چلانے والی۔ اس ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی اسی فیصد آبادی کو اختیار ، عزت سے جینے کا کوئی حق حاصل ہے۔

یہ قرین انصاف نہیں کہ کل بھی رذیل اشرافیہ نے آنکھیں بند کر کے ملک و قوم کو انگریزوں کے حوالے کر دیا تھا ۔ اور آج بھی محض اپنے اللوں تللوں کے لئے ، ملک و قوم کے وسائل اور قسمت پہ قابض۔ وہی چند فیصد طبقہ ایک بار پھر ملک و قوم کی آزادی اور عزت کو ماضی کی طرح داؤ پہ لگائے ہوئے ہے۔
ملک کی قسمت کے فیصلوں میں تب بھی رعایا بے زبان تھی ۔ اور آج بھی عوام اپنی تقدیر بدلنے اور اپنے ملک کی قسمت کے فیصلوں میں بے اختیار ہیں ۔حکمران اور حکمرانی کے امیدوار سب ہی چارٹر طیاروں میں سفر کررہے ہیں اور سینکڑوں ایکڑز کے محلات میں رہ رہے ہیں۔ 

ہم نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
پاکستان کی آزادی اور آختیار کا سودا جاری ہے۔

نوٹ:
 یہ داستان المناک و حزن و ملال ایک مرثیہ ہے ایک ماتم ہے اس قوم کا جس نے اپنے کل سے سبق نہیں سیکھا اور آج بھی اسی روش پر چل رہے ہیں۔ یہ داستان جناب محترمی  وہ مشفی جاوید گوندل صاحب نے بارسلونہ سے لکھی ہے فیس بک نوٹ کی شکل میں، اس کو وقت کی گرد سے بچانے کےلئے ادھر شئر کردیا گیا ہے۔
  

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش