جمعہ, مئی 29, 2015

جہلم کے لوکاٹ

لوکاٹ  گزشتہ ہفتے ادھر سپر مارکیٹ میں دکھائ دے گئے،مہنگے تھے مگر اٹھالائے،   ادھر کم ہی نظرآتے ہیں، ویسے بھی ہم کونسا کھانے پینے کے شوقین واقع ہوئے ہیں۔ بس صرف پیٹ بھرنے کو کھالیتے ہیں یہ اور وجہ ہے کہ باوجود اتنی کسرنفسی کے پیٹ ہےکہ بڑھتا ہی جارہا ہے، گویا  بقول :
" زیستن برائے خوردن، نہ کہ خوردن برائے زیستن"

حالانکہ اگر آپ ہم سے قسم بھی اٹھوا لیں تو ہم یہی کہیں گے کہ  "خوردن برائے زیستن ، نہ کہ زیستن برائے خردن"۔  اچھا نہ  مانو، ویسے ماننے والی  "حالت " بھی کوئی نہیں ہے ادھر۔

خیر لوکاٹ لے کے آگئے بس فوری طور پر انکو "غسل" کروایا گیا اور یہ بسم اللہ پڑھ ڈالی ہم دو بندے کھانے والے تھے اور فی بندہ کوئی تین تین لوکاٹ ہاتھ آئے، ایک کلو کے ڈبے میں اب تھے ہی چھ تو اور کتنے ہاتھ آتے۔ تو جنابو۔ وہی ذائقہ وہی خوشبو۔ صرف پلے ہوئے خوب تھے۔ مجھے تو پاکستان کے لوکاٹ یاد آگئے ۔

لوکاٹ اور کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ جہلم کے پہاڑی علاقہ اور سطح مرتفع پوٹھوہار کا مقامی پھل ہے، ویسے ہم مقامی پھل "بیر" کو قرار دے چکے ہیں مگر مان لو۔ یہ بات تسلیم کر لینے کی وجہ یہ بھی ہے کہ جہلم اور پوٹھوہار میں لوکاٹ کو پھل بہت پڑتا ہے، ہمارے لئے لوکاٹ سے پہلی شناسائی تھی تایا احمد مرحوم کے گھر، ادھر سے جون کی دوپہر کو جب وہ سور ہے ہوتے تو ہم لوکاٹ توڑنے چھت پر سے انکے گھر اترچکے ہوتے، ادھر عصر کی اذان ہوتی تو ادھر تائی کی گالیاں اسٹارٹ ہو جاتیں۔ واہ واہ کیا زمانے تھے، منہ کا ذائقہ ان گالیوں سے ذرا خراب نہ ہوتا۔ شاید انکو پتا ہوتا تھا کہ کون کون تھا اور اوپر والے دل سے گالیاں دیتیں ۔ تب تک ہم سارے مشٹنڈے سر پر ٹوپیاں  پہن کر مسجد با جماعت، بس پھر شام کی نماز باجماعت پڑھ کر ہی مسجد سے نکلتے اور جانے کیسے یہ ہو جاتا کہ تقریباً سب کو گھر سے جوتے پڑتے۔ کہ لوکاٹ تو توڑے مگر درخت کی ٹہنیاں کیوں کھنیچیں۔  

دوسرا لوکاٹ کا  مقام تھا اسلامیہ ہائی اسکول میں جب داخل ہوئے تو وہاں پچھلی طرف والے سائیکل اسٹینڈ کے پاس لوکاٹ کے درخت یہ اونچے اور پھل سے لدے ہوئے، تیسرا ٹھکانہ پھر ہوا بلال ٹاؤن۔ جہاں کوٹھیوں کے باہر کی طرف لوکاٹ کے پھل سے لٹکتے ہوئے درخت ہوتے مگر انکا پھل توڑنے کو حوصلہ نہ پڑتا۔ تب مارکیٹ سے پھل خرید کرکھانے کی عیاشی کم ہی ہوتی تھی۔ یہ تبھی ممکن تھا جب کوئی مہمان آتا تو سیمنٹ کے کاغذی توڑے سےبنے ہوئے لفافے میں پھل ڈال کرلاتا۔ ہم سارا وقت اس لفافے کو دیکھا کرتے۔ دوسری صورت یہ تھی کہ گھر سے کوئی شہر جاتا کسی کام سے تو پھل آتے۔ تب پھل کم ہوتے تھے اور انکی خوشی زیادہ، اب پھل زیادہ ہیں اور انکی خوشی کم ۔


ماہرین نباتات کا خیال ہے کہ لوکاٹ چینی درخت ہے اور چین کے جنوب اور مشرق میں پایا  جاتا تھا۔ آج بھی چین اور جاپان لوکاٹ  کی پیداوار کےلئے بڑے ملک ہیں مصر برازیل اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ۔
ویسے پاکستان میں عام پایاجانے والا درخت ہے ، ہمارے اردگرد کلرکہار اور کوہستان نمک کے علاقہ میں عام ملتا ہے، جنگلی طور پر بھی۔ اسی طرح شیند یہ ہے کہ جہاں آجکل اسلام آباد کا شہر موجود ہے یہ ساری وادی لوکاٹ کے جنگلات سے بھری ہوئی تھی۔ ، بیری کے سائیز کا ہوتا ہے یہ بڑے بڑے پتے اور کافی سارے پھل،  اسکی شکل خوبانی سے ملتی جلتی ہے اور ذائقہ آم سے، کچھ کہنے والے یہ بھی کہتا ہیں کہ لوکاٹ آم اور خوبانی کی پیوندکاری کے نتیجہ ہے۔ جیسے آڑو آلوبخارے اور خوبانی کی پیوندکاری کا ۔ پس ثابت ہوا کہ اس خوبانی کو پیوندکاری کروانے کا بہت شوق ہے، ہیں جی ۔  مجھے تو کچھ "ٹھرکی" قسم کا پھل "معلوم" ہوتا ہے یہ ۔

لوکاٹ کے بارے کچھ معلومات
اچھا جی لوکاٹ کے بارے گپ بازی ختم اور کچھ سنجیدہ معلومات۔  ( بلاگ سے چوری کرنے والے حضرات  ادھر سے کاپی کرنا شروع کریں) ۔
نباتاتی نام  Eriobotrya japonica ہے اور اسکو پھولدار اور پھل دار پودوں میں شمارکیا جاتا ہے اور اس  کو Rosaceae  قبیلہ میں شامل کیا جاتا ہے، جیسے سیب، خوبانی، آلوبخارا  وغیرہ۔  اسے Japanese Plum اور Chinese Plum کے علاوہ Japanese Medlar
بھی کہاجاتا ہے، چینی زبان میں اسے "لوگاٹ" اطالوی میں  Nespolo اور عربی میں " اکیدینیا" کہاجاتا ہے، دیگر زبانوں میں اسکے نام جاننے کےلئے آپ خود " باوے گوگل " کی منت سماجت کریں۔
درخت کی اونچائی دس سے پندرہ فٹ اور سائز درمیانہ ہوتا ہے جیسے اس قبیل کے دیگر درخت ہوتے ہیں، پتوں کا سائز چار انچ سے لیکر دس انچ تک ہوسکتا ہے۔ لکڑی اسکی فرنیچر بنانے کے کام آتی ہے مطلب ضاع کچھ بھی نہیں۔
پھل پوٹاشیم میگنیشم اور وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے، مطلب ڈالڈا گھی کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسکے علاوہ اس میں چکنائی اور سوڈیم کی مقدار بہت  کم ہوتی ہے   اسکی طرح اس میں شوگر کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے ۔

طبی فوائد۔
لوکاٹ کے پتے cyanogenic glycosides (including amygdalin)  کی موجودگی کی وجہ سے کچھ زہریلے اثرات رکھتے ہیں،  بلغم کو خشک کرنے اور جھلیوں کی ریشہ دار رطوبت کی زیادتی کو کنٹرول کرنے کےلئے مفید ہیں، قدیم چینی طب میں اسکے پتوں  کا شربت تر و بلغمی کھانسی کےلئے مروج ہے ہے اور مریض کو سکون فراہم کرتاہے۔
لوکاٹ کے پتے antioxidants   ہیں اور جسم میں موجود زہریلے مادوں کے اخراج کےلئے نیز بڑھتی عمر کے اثرات کو روکنے کےلئے بھی استعمال ہوتے ہیں، جلد پر انکا یہ اثر  دیکھا گیا ہے کہ جلد تروتازہ و جھریوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ مطلب "منڈا جوان" ہوگیا۔
شوگر کےلئے مفید۔
لوکاٹ کے پتوں کا جوس Triterpens کی موجودگی کی وجہ سے شوگر کی بڑھی ہوئی مقدار کو قابو کرنے میں کافی حد تک معاون پایا گیا ہے۔  اسی طرح  پتہ و گردہ کی پتھریوں، کے ساتھ ساتھ جلد کے کینسر  اور عمومی وائرل حملہ میں میں بھی مفید ثابت ہوا ہے۔
اسی طرح جگر میں مختلف کیمائی مادوں کے جمع ہوجانے وجہ سے ہونے والی جگر کی بڑھوتر ی  LIVER HYPERTROPHY میں بھی مفید ہے اور جگر کی صفائی کے کام آتا ہے۔
اسی طرح خوبانی کے باداموں  کی طرح لوکاٹ کے بیج بھی Amigdalina, vitamina B17 حصول کا ایک بڑا ذریعہ ہیں، تو جناب جب تک آپ کو ہنزہ کی خوبانیاں دستیاب نہیں تب تک اپ جہلم کے لوکاٹ کے بیج  "چبائیں" ۔
تو پھر ہوجائے چلو چلو جہلم چلو؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

اتوار, مئی 17, 2015

ہنزہ خوبانیاں اور کینسر

تو جنابو حاضر ہے داستان ہنزہ، 
Hunza apricotes and cancer 
یہ داستان امیر حمزہ نہیں ہے، نہ ہی اتنی پرانی ہے اور نہ ہی اتنی تاریخی  اور نہ ہی مذہبی ۔  بلکہ یہ داستان اٹلی سے شروع ہوتی ہے اور اٹلی میں ہی ختم ہوجاتی ہے۔ 
ڈاکٹر  "کاجانو"  بہت ماہر مالج ہیں، ایک فیملی ڈاکٹر ہیں وینس کے صوبے میں اور مشہور ہیں کینسر اور ٹیومرز کا نہ
صرف علاج کرنے میں بلکہ ان  امراض میں مبتلا مریضوں کی دلجوئی کرنے میں بھی، انکی ہرممکن خدمت کرتے ہیں، سو کلومیٹر کا سفر کرکے مریض کی دلجوئی کو چلے جائیں گے۔ صرف سرکاری طریقہ علاج پر ہی نہیں بلکہ ہومیوپیتھی ، و ہربل میڈیسن پر کماحقہ عبور رکھتے ہیں اور جہاں ضرورت پیش آئے استعمال بھی کرتے ہیں۔ 
میری ان سے ملاقات  ایک مشترکہ دوست ڈاکٹر جوانی آنجیلے کی وساطت سے ہوئی اور پھر کیا تھا کہ ہم بھی دوست ٹھہر ے، مختلف سیمینارز   و جلسوں میں ملاقات بھی ہونے لگی اور کھانے کی دعوتیں بھی شروع ہوگئیں۔ 
بس جناب  اپریل  میں انکا دعوت نامہ پہنچ گیا کہ ایک کانفرس ہورہی ہے، " خدائی ٹیومرز والے"   مطلب کینسر میں مبتلا مریضوں کی صورت حال، انکی امداد کے کچھ متبادل ذرائع۔  ڈاکٹر کاجانو ، کے علاوہ ایک ماہر نفسیات اورایک ہربل میڈیسن کی ماہر ڈاکٹر بھی تھیں، جو کہ اس صورت حال میں اپنا سالوں پر محیط تجربہ رکھتی ہیں۔  نہ صرف حاضری کا کہا گیا بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ " ہمیں خوشی ہوگئی اگر آپ بھی اس شعبہ میں  اپنے کچھ تجربات کو ہومیوپیتھیک معالجات کے حوالہ سے بیان کریں، جلسہ عام پبلک کے لئے ہے، تاکہ لوگوں کو تربیت دی جاسکے کہ ایسے صورت میں اگر کوئی مریض ہوتو اسکی کیسے معاونت کی جاسکتی ہے۔ میں نے کہہ دیا کہ ادھر میں ایک ایسے خطہ کے بارے بات کروں گا جہاں پر کینسر نہیں ہے۔ 
جلسہ شروع ہوا تو ڈاکٹر کاجانوں  نے اپنے کچھ کیسز بیان کئے، کہان پر مریض کی کیسے مدد ممکن تھی نہ ہوسکی اور کہاں پر کیا کیا گیا۔ آپریشن کے بعد مریض کی دیکھ بھال اور کیموتھیراپی اور ریڈیوتھیراپی کب ضروری ہوتی ہے، اور اسکے اثرات مابعد۔ ان سے بچنے کی تراکیب۔ اسکے بعد سائیکولوجسٹ کی باری تھی۔ ان محترمہ نے بہت ہی جانفشانی کے ساتھ " ذہنی دباؤ ، اسٹریس stress   " کو ٹیومرز کی ایک بڑی وجہ بیان کیا۔ ایک اسٹڈی کا بھی حوالہ دیا کہ 20 چوہوہوں کے دوگرپس کو  پنجروں میں، انفرریڈ شعاؤں کے سامنے رکھا گیا۔ ایک گروپ  عام حالت میں رہتا جبکہ دوسرے گروپ  کے پنجرے کے پاس لومڑی کا پیشاب چھڑکا جاتا، لومڑی کے پیشاب سے چوہے ، بہت خوفزدہ ہوتے ہیں، تو جناب تین ماہ بعد پہلے گروپ کے تین چوہوں میں ٹیومرز پائ گئیں اور دوسرے گروپ کے  16 چوہوں میں، پس ثابت ہوا کہ  اسٹریس فیکٹر ٹیومرز کی پیدائش میں بہت ہی اہم کردار ادا کرتا ہے، اگر آ پ  ٹیومز یا کینسر سے بچنا چاہتے ہیں تو جنابو اسٹریس سے جان چھڑاؤ، ٹینشن نہ لو نہ دو۔ ۔ 
پھر میری باری آئی اور اسکے بعد ڈاکٹر دے لازاری نے اپنے تجربات اس سلسلہ میں بطریق احسن بیان کئے۔ تو میں نے ہومیوپیتھک معالجات پر بات نہین کی بلکہ اپنی سلائیڈز کےذریعے جلسہ کے شرکاء کو پاکستان کی ہنزہ وادی  hunza vally  میں لے گیا :


وادئ ہنزہ  پاکستان کے شمال میں پائی جاتی ہے، اور اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے مشہور سیاحتی مقام ہے۔ اسکے چاروں طرف ہندوکش اور قراقرم سلسلہ کے برف پہاڑ ہیں، گلیشئرز ہیں، معدنیات قدر ت نے اتنی ہی دی ہیں جتنے پھل ، تازہ اور ٹھنڈے پانی کی آبشاریں اور جھرنے، وادی کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔ 
ہنزہ کے لوگ ہندوستانی کالے  نہیں بلکہ نیلی آنکھوں والے یورپین لگتے ہیں، کچھ کا یہ بھی دعوہ ہے کہ یہ کیلاش کی طرح
اسکندر اعظم کے دستوں کی باقیات ہیں، جبکہ کچھ دعوجات کے مطابق یہ شمال مغربی روسی علاقوں  سے تعلق رکھنے والے خضر Khazar  ہیں ، وللہ اعلم، مگر ایک بات جوہ بہت اہم ہے وہ یہ کہ  یہ لوگ طویل قامت ، صاف رنگتے رکھتے ہیں ، نیلی آنکھیں اور سنہرے بال ادھر کی خواتین کے حسن کو چارچاندلگائے پڑے ہیں۔ 
ان کی وجہ شہرت ہنزہ لوگوں کی طویل العمری ہے۔ عام عمر سو برس ہے، جبکہ ایک سو پینتیس چالیس برس کے بزرگ آپ کو گلیوں کوچوں میں بازاروں میں عام دکھائی دیتے ہیں، صرف عمر ہی نہیں انکی صحت عامہ بہت زبردست ہے۔ سوسال کی عمر میں بچے پیدا کرنا انکی وہ خاصیت ہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے۔  کینسر ، دمہ ٹی بی۔ سانس کے دیگر امراض، جوڑوں کے درد گنٹھیا اوسٹیوپوروزی  gout and osteoporosi عدم موجود ہے۔  اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ہنزہ لوگ وادی سے باہر جاتے ہیں تو بیمار پڑتے ہیں ۔ 
ہنزہ لوگوں میں کینسر نہیں پایاجاتا اس بات کا انکشاف  پہلی بار r. Robert McCanison نے  1922 میں امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے رسالے میں کیا تھا۔ اسکی وجہ وہ  یہ قرار دیتا ہے کہ "ہنزہ لوگوں خوبانی کی بہت زیادہ پیدوار رکھتے ہیں، ان کو دھوپ میں خشک کرتےہیں اور اپنی خوراک میں بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ 
پس اسکا جو نتیجہ ہونا تھا وہی ہوا۔ پوری دنیا کے سائینسدان جو طویل عمری  Geriatria پر کام کررہے ہیں ریسرچ کررہے
ہین ادھر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ۔ 
ان لوگوں کے رہن سہن اور عادات کے بارے میں کچھ باتیں یہاں پر آپ سے شئر کرنا خارج از دلچسپی نہ ہوگا۔ 
پانی:  ہنزہ لوگ دریائے ہنزہ کا تازہ اور بہتا ہوا پانی پیتے ہیں ، کوک اور اس قبیل کے دیگرکیمیائی مشروبات استعمال نہیں کرتے۔  دریا کا پانی گلیشرز سے آتا ہے اور معدنیات سے بھرپور ہے۔ اسکے علاوہ اسکی پی ایچ الکلائن Ph   ہے ۔ جبکہ جو پانی باقی عام دنیا میں استعمال ہوتا ہے وہ تیزیابی کی طرف ph  رکھتا ہے۔ 
خوارک: ہنزہ لوگ اپنی خوراک بہت سادہ رکھتے ہیں، سبزیاں، پھل اور دالیں انکی خوراک کا عام حصہ ہیں۔ گوشت کبھی کبھار، بہت کم۔ مطلب عیدو عید۔ 
خوبانی:ہنزہ لوگوں کی زندگی میں خوبانی کا بہت دخل ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ہنزہ وادی میں خوبانی کی بہتات ہے، اور اسکی اہمیت کا یہ عالم ہے کہ کسی ہنزہ فرد کی امارت کا جائزہ اسکی ملکیت میں خوبانی کے پودوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ جیسے ہی بچہ پیدا ہوتا ہے اسکے نام کا خوبانی کا پودہ لگادیا جاتا ہے۔ جبکہ بیٹیوں کےلئے باغ لگائے جاتے ہیں جو انکو جہیز میں دئیے جاتے ہیں۔ 
خوبانی کو دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے اس طرح یہ وٹامن ڈی سے بھرپور ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی کینسر کی روک تھام اور عمرکے اثرات کو ذائل کرنے میں اہم کردار اداکرتا ہے۔ 
عام ہنزہ فرد کھانے کے بعد پندرہ سے بیس خوبانیاں بطور سویٹ ڈش ٹھونگ جاتا ہے، اسی طر چائے کے ساتھ بھی خوبانی یا خوبانی سے بنا ہوا کیک یا مٹھائی پیش کی جاتی ہے۔ 


خوبانی کے بادام یا اسکی گریاں apricote kernels پیس کر انکا آٹا بنایاجاتا ہے اور اسکی روٹی اور کیک وغیرہ روز مرہ میں استعمال ہوتے ہیں  جو کہ Amigdalina, vitamina B17 سے بھر پور ہے اور اسکے حصول کا سب سے بڑا ریسورس ہے۔ 
وٹامن بی 17 ایک   glicosidi cianogenetici, ہے جو rosacea کی نسل کے پھلوں کے بیجوں میں پایاجاتا ہے۔ جیسے کہ سیب  آڑو، خوبانی۔ جبکہ ہنزہ کی خوبانی اس نعمت سے مالا مال ہے اور اسکا پوری دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ 
اماگدالینا  کو جاننے والے یا اسکے اسپورٹرز اسے Laetrile "the perfect chemotherapeutic agent  قرار دیتے ہیں جو کینسر سیلز کو ھلاک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 
پب میڈ جوکہ امریکہ کا سرکاری میڈیکل پبلشنگ ادارہ ہے اس کے ریکارڈ میں اس موضوع پر 630 تحقیقی مطالعہ جات موجود ہیں 
ایک بڑا نام ہے Dr Ernst T Krebs Jr., the biochemist who first produced laetrile (concentrated amygdalin) in the 1950s  اسکا  کہنا ہے کہ بندے کو کینسرسے بچنے کےلئے ہروز پندرہ خوبانی کے بادام کھانے چاہییں اور پھر بھلے وہ چرنوبل  CHERNOBYL  میں گھس جائے اسے کچھ نہ ہوگا۔  یہ ایک بڑا دعوہ ہے مگر ڈاکٹر کریبز کے دعوہ کو مسترد کرنا شاید اتنا آسان نہ ہوگا۔ 

کچھ باتیں اور 
ہنزہ لوگ صرف خوبانیاں ہی نہیں پھانکتے بلکہ انکی زندگی میں دو اہم باتیں میں نے نوٹ کی ہیں، ایک تو ہے پیسے کی عدم موجودگی۔ ہنزہ لوگ آپس میں لین دین پیسے سے نہیں کرتے بلکہ ابھی تک آپس میں اشیاء کے تبادلہ بارٹر سسٹم سے کام چلائے ہوتے ہیں، جو اسٹریس STRESS  کو بہت حد تک کم رکھتا ہے، 
دوسرے ہنزہ لوگ بہت ایکٹو اور متحرک زندگ گزارتے ہیں۔ سخت پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ہمسائے کے گھرجانے کےلئے بھی اترائی چڑھائی کرنی پڑتی ہے۔ پھر کھیتی باڑی، گلہ بانی  کرتے ہیں، اس میں بھی اچھی خاصی بھاگ دوڑ ہوجاتی ہے۔ پانی لانا لکڑی اکٹھی کرنی۔ اگر پھر بھی انرجیاںہوں تو کوہ پیمائی کی جاسکتی ہے۔ ویسے وہ ڈانس اور ناچ کے بھی بہت شوقین ہیں آئے دن کوئی نہ کوئی وجہ مقررکرکے ناچ کے اپنے جسم کے متحرک کیئے ہوتےہیں ہیں سوسالہ بزرگ تک اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے کو میدان میں اتر آتےہیں۔ 


تو پھر کیا نتیجہ نکالتے ہیں آپ ؟؟ صرف خوبانیاں چبائی جاویں یا پھر تازہ پانی، سادہ خوراک، متحرک زندگی  اور پریشانی و اسٹریس سے بچکر بھی کیسے بچنے کی کوشش کی جاسکتی ہے؟؟؟ میرا تو یہی خیال ہے کہ ہم لوگ اگر سادہ خوارک استعمال کریں، اپنے آپ کو جسمانی طور پر متحرک رکھیں اور اسٹریس سے بچنے کےلئے لالچ کم لیں اور اللہ پر توکل زیادہ رکھیں تو کینسر، ٹیومرز یا ان جیسے دیگر موزی امراض سے بچا جاسکتا ہے۔

ممکن ہے کہ ساری ریسرچ غلط ہی ہو مگر پھر بھی اتنے سادہ طریقہ کو اپنانے میں کونسا بل اتا ہے؟؟ 

ایک شکریہِ یہ مضمون مجھے سے زبردستی لکھوایا گیا ہے، فیس بک کے گروپ پہچان کےلئے، تو اسکی انتظامیہ کے اصرار کےلئے انکا میں بھی شکریہ ادا کرتا ہوں اور آپ بھی کردیں۔ 

مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 11, 2015

اسلام میں سوالات کرنے کی روایات

یاد کیجیے اس وقت کو جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے موقع پر دباؤ کے ساته صلح کیے جانے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال فرما رہے تهے اور آپ نہایت اطمینان کے ساتهہ ان کے ہر سوال کا جواب دے رہے تهے.
عمر رض: کیا آپ واقعی اللہ کے نبی نہیں ہیں ؟
رسول الله صلى الله عليه و سلم: کیوں نہیں.
کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں ؟
کیوں نہیں.
تو پهر ہم اپنے دین کے معاملے میں اتنی رسوائ کیں اٹها رہے ہیں ؟
میں اللہ کا رسول ہوں، اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا اور وہی میری مدد فرمائے گا.
آپ ہی تو ہم سے بیان کیا کرتے تهے کہ ہم بیت اللہ پہنچ جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے ؟
بالکل، کیا میں نے یہ بهی بتایا تها کہ یہ سب اسی سال ہوگا ؟
نہیں.
تو بس جو کہہ دیا وہ ہو کر رہے گا. تم بیت اللہ پہنچ جاؤگے اور طواف بهی کروگے.
پهر بعینہ یہی سوال عمر رض ابو بکر رض سے بهی کرتے ہیں.
لیکن ابو بکر رض کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب سے ذرا بهی مختلف نہیں ہوتا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کو جانشین رسول مقرر کیا گیا.آپ کی تقرری امت مسلمہ کا پہلا اجماع کہلاتی ہے.بار خلافت سنبھالنے کے بعد آپ نے مسلمانوں کے سامنے پہلا خطبہ دیا.


میں آپ لوگوں پر خلیفہ بنایا گیا ہوں حالانکہ میں نہیں سمجھتا کہ میں آپ سب سے بہتر ہوں. اس ذات پاک کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں نے یہ منصب و امارت اپنی رغبت اور خواہش سے نہیں لیا، نہ میں یہ چاہتا تھا کہ کسی دوسرے کے بجائے یہ منصب مجھے ملے، نہ کبھی میں نے اللہ رب العزت سے اس کے لئے دعا کی اور نہ ہی میرے دل میں کبھی اس (منصب) کے لئے حرص پیدا ہوئی. میں نے تو اس کو بادل نخواستہ اس لئے قبول کیا ہے کہ مجھے مسلمانوں میں اختلاف اور عرب میں فتنہ ارتدار برپا ہوجانے کا اندیشہ تھا. میرے لئے اس منصب میں کوئی راحت نہیں بلکہ یہ ایک بارعظیم ہے جو مجھ پر ڈال دیا گیا ہے. جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں سوائے اس کے اللہ میری مدد فرمائے. اب اگر میں صحیح راہ پر چلوں تو آپ سب میری مدد کیجئے اور اگر میں غلطی پر ہوں تو میری اصلاح کیجئے. سچائي امانت ہے اور جھوٹ خیانت، تمہارے درمیان جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کے میں اس کا حق اس کو دلواؤں . اور جو تم میں قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق وصول کروں. ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی قوم نے فی سبیل اللہ جہاد کو فراموش کردیا ہو اور پھر اللہ نے اس پر ذلت مسلط نہ کی ہو،اور نہ ہی کبھی ایسا ہوا کہ کسی قوم میں فحاشی کا غلبہ ہوا ہو اور اللہ اس کو مصیبت میں مبتلا نہ کرے.میری اس وقت تک اطاعت کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی راہ پر چلوں اور ا گر میں اس سے روگردانی کروں تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں (طبری. ابن ہشام)


امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ ایک بار منبر پر خطبے کےلئے کھڑے ہوئے اور کہا ”لوگو سنو اور اطاعت کرو“۔
 ایک عام شخص مجمع میں کھڑا ہوگیا اور کہا امیر المومنین !ہم نہ تمہاری بات سنیں گے اور نہ ہی اطاعت کریں گے۔ اس لئے کہ تمہارے جسم پر جو چوغہ لگا ہے وہ اس کپڑے سے زائد کا معلوم ہوتا ہے جو کپڑا مال غنیمت میں سے بحصہ مساوی آپ کو ملا تھا لہٰذا یہ خیانت ہے اور خائن خلیفہ کی اطاعت قوم کےلئے جائز نہیں ہے۔
 امیر المومنین حضرت عمرؓ نے اپنا خطبہ دینا روک دیا
اور اپنے بیٹے، عبد اللہ بن عمرؓ کی طرف اشارہ کیا، عبد اللہ بن عمرؓ نے کھڑے ہو کر کہا لوگو! یہ سچ ہے کہ مال غنیمت سے سب کو ایک ایک چادر ہی ملی تھی اور امیر المومنین کو بھی ایک ہی چادر ملی تھی۔ ان کا قد اونچا ہے اور لمبے قد کے اعتبار سے ان کا کُرتا ایک ہی چادر میں بننا ممکن نہیں تھا اس لئے میں نے اپنے حصہ کی چادر بھی امیر المومنین کو دے دی تھی اور دو چادروں سے میرے والد یعنی امیر المومین کا کرتا بنا۔ اب فرمائیے۔
عبد اللہ بن عمرؓ کی گواہی کے بعد معترض نے کہا میرا شک دور ہوگیا ہے۔ امیر المومنین اب فرمائیے ہم آپ کے حکم کی تعمیل بھی کریں گے اور آپ کی اطاعت بھی کریں گے۔
یہ حضرت عمرؓ کی عدالت کا انصاف تھا کہ ایک عام سے عام شخص بھرے مجمع میں سے کھڑے ہو کر خلیفہ وقت کو اس وقت تک خطبہ دینے سے روک سکتا تھا جب تک اس کا خلیفہ وقت پر لگایا گیا الزام غلط ثابت نہیں ہو جاتا تھا۔

اور ایک ہمارے علماء  ہیں جنکے  اوپر سوال  کرنے والے یا انکی مخالفت کرنے والے پر کفر کے فتوے لگ جاتے ہین۔

شاید یہی وجہ ہے ہماری امت کے زوال کی، عام آدمی تو عام آدمی  ، عالم دین کہلوانے والے بھی دین سے دور ہیں، دین کو صرف اپنے فائدہ کےلئے استعمال کرتے ہیں اور اگر کوئی ان پر اعتراض کرے یا اختلاف کرے تواسے کافر قرار دے دیا جاتا۔  حد تو یہ ہے کہ اس وقت ہرفرقے کو کوئی نہ کوئی کافر یا مشرک قرار دے چکا ہے۔
جبکہ واضع حکم ہے کہ " اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت کرو۔ "
مگر ہمارے علماء نے تفرقہ کو حلال کرکے بہت سے فرقے بنالئے ہیں۔
انا للہ و انا لیہ راجعون

مکمل تحریر  »

سوموار, مئی 04, 2015

علوق علی پاشا Uluc Ali Pascia

علوق علی پاشا Uluc Ali  Pascia,  کامیابی اور شجاعت کا ایک اور نام

اٹلی کے جنوبی علاقہ کلابریہ Calabria  میں غالباُ  1519 میں پیدا ہوا، اسکا مقام پیدائش ساحلی مقام  le castella   تھا، ۔ اسکا تعلق عیسائی مذہب  سے تھا،    سنہ 1538 میں خیر الدین بربروسا کے ہاتھوںLe castella  پر حملہ کے دوران قید ہوااور غلام بنا لیا گیا، کچھ سالوں کے بعد اس نے عیسائی مذہب کو ترک کردیا، اور پھر ایک ترک کو جس نے اسے تھپڑ مارا تھا ، قتل کیا اور سزائے موت سے بچنے کو مسلمان ہوگیا۔  

اس نے ایک کلابریہ کے ہی ایک مسلمان کی بیٹی سے شادی کرلی اور پھر ترک نیوی میں شامل ہوگیا۔  اس نے بہت تیزی سے ترقی کی، پہلے الیکسندریہ کے بحری بیڑہ کا کماندار بنا، پھر تریپولی کا بے (گورنر) بنا اور پھر اس نے اطالوی ساحلوں پر تباہی پھیلا دی تھی، نہ صرف جنوبی اطالیہ  کے ساحلوں پر بلکہ مالٹا، سسلی، کورسیکا، ساردینیا کے جزیروں  علاوہ جینوا اور نیس  ( آج کا فرانس) اس کی تباہ کاریوں سے نہ بچ سکے، اس نے یہاں کے باشندو  ں کو غلام بنالیا تھا، اور ساتھ لے جاتا تھا۔ ان  میں سے بڑے بڑے نامور لوگ شامل تھے جو اسکے ہاتھوں غلام ہوئے۔



 1565 میں مالٹا کے محاصرہ کے دوران یہ کماندار تھا اور مرتے مرتے بچا۔  1571 میں کوسولا Curzola کروشیا  کو فتح کیا اور ترکی کے بحری بیڑے کے سب سے عمدہ ایڈمرل کا خطاب حاصل کیا۔ 

اس  نے 1571 میں جنگ لےپانطو lepanto میں   ترک سلطان معین زادہ علی پاشا    جو مرکز کی کمان کررہا تھا، دائیں ہازو کے بیڑے کی کمان  مراد دراگوت کے ہاتھ تھیں جب کہ بائیں بازو کے بیڑے کی کمان علوق علی پاشا کے ہاتھ میں تھی،  اس بیڑے کا مقابلہ پوری عیسائی دنیا کے متحدہ بیڑے سے تھا، جووینس سارڈینیا،  اور اٹلی کے دیگر ریاستی بیڑوں کے علاوہ فرانس اسپین اور بادشاہ چارلس چہارم  کے بیڑے شامل تھے ، انکی متحدہ کمان  کی کمان  جوانی دی آسٹریا کے ہاتھ میں تھی، اس بحری جنگ میں تعداد کی شدید کمی کے باعث ترک سنبھل نہ سکے   ( اندازہ یہ ہے کہ ترک بیڑے کی تعدا کے برابر صرف وینس کا بیڑا تھا) ترکوں  کو شکست فاش ہوئی،    

علی پاشا کا پرچم عیسائیوں کے ہاتھ لگ گیا جو آج بھی  Pisa  پیسا کے  عجائب گھر میں موجود ہے، دائیں بازو ور مرکز  کے ماتحت  تمام جہاز یا غرق ہوگئے یا قابوکرلئے گئے،  ترک سلطان علی پاشا شہید ہوگیا۔ مگر علوق علی پاشا  نے کمال مہارت کے ساتھ اپنے  ساتھ تیس جہازوں کو اور بہت سے سپاہیوں کو سلامتی سے نکال لیا اور استنبول پہنچادیا۔ 

ترک سلطان سلیم دوئم کی طرف سے اسے خلق علی کا خطاب دیا گیا اور ترک بحری بیڑے کیا کمان عطا کی گئی۔  اسکے بعد اس نے کئی فتوحات حاصل کیں، جن میں مالٹا پر پھر سے قبضہ تھا اسکے علاوہ  1574 میں تیونس  کو دوبارہ سے فتح کرکے سلطنت عثمانیہ کے زیرنگوں کردیا کیونکہ ایک برس قبل اس پر عیسائی بحری بیڑے نے قبضہ جمالیا تھا۔  

علوق علی پاشا 1587 میں استنبول کے قریب ایک گاؤں میں  واقع  اپنے محل میں طبی موت مرا، یہ گاؤں اس نے خود آباد کیا تھا اور اسکانام نیا  کلابریہ رکھا تھا ،   علوق علی پاشا نے  اپنی وصیت کے طور پر اپنے غلاموں اور ملازموں کےلئے جائیدادیں اور مکانات جن میں وہ رہتے تھے بطور ملکیت چھوڑے۔ 
کلابریہ کے ساحلی شہر Le castela  میں آج بھی علوق علی پاشا  کا مجسمہ نصب ہے۔ 
اور کلابریہ کے باشند ے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ علوق علی پاشا اس سرزمیں کا سپوت تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جرات اور بہادری کو سلام ہے

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش