جمعہ, فروری 27, 2015

آج کے بے لگام بچے

گھر میں سب بیٹھے ہوئے تھے ، ادھر ادھر کی گپیں ہانک رہے تھے ، 

اچانک کسی نے کہہ دی کہ ایک فقرے میں فعل ماضی، فعل حال اور فعل مستقبل کو  استعمال کرنا ہے ،   
" تو فیر کوئی مائی کا لال؟؟  "

پس فورا ہی ہماری خاتون اول الواحد نے ہاتھ کھڑا کردیا کہ " میں دساں؟؟"   

چلو جی آپ بتاؤ، بسم اللہ، اب کسی اور کی کیا مجال جو،  "چوں"  کرجائے۔

اچھا دسو۔

تو بیان ہوتا ہے ایک لمبی سانس لےکر" میں خوبصورت تھی، خوبصورت ہوں اور خوبصورت رہوں گی"۔

سب کو سانپ سونگھ گیا ، اب کسی کی ہمت  نہ تھی کہ اس جلالی فقرے کی تردید کرتا ۔

ایسے میں سب ایک دوسرے کا منہ  دیکھ رہے تھے۔ ہکے بکے۔

 تو ہماری بیٹی نے ہاتھ کھڑا کردیا۔  اب میری باری ، اب میری باری۔

چلو جی آپ بتاؤ

تو وہ کچھ یوں گویا ہوئیں " ماما یہ آپ کا وہم تھا، آپ کا وہم ہے اور آپ کا وہم رہے گا۔


اس پر لگا صاحبو وہ فلک شگاف قہقہہ

 اور محترمہ روہانسی ہوکر اٹھاجوتی لگیں چھوٹی کے پیچھے،

ایسے میں بچے کس کے ہاتھ آتے ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

منگل, فروری 10, 2015

کچھ ھیکرز کے بارے میں۔

ھیکرز جنات ہوتے ہیں اور انکے پاس وہ طاقت ہوتی ہے کہ بس بندے کے کمپوٹر میں سے ہرچیز کھینچ کے لے جاتے ہیں، پاسورڈ، کریڈٹ کارڈز کی معلومات اور جانے کیا کیا ، یہ سب وہ خبریں ہیں جو ہمیں اخبارات اور رسائل سے دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ حال وائرس کا بیان کیا جاتا ہے۔
بقول چچا غالب کے :

پس از مرے گھر سے یہ ساماں نکلا،۔۔۔۔۔ کچھ حسینوں کے خطوط  چند تصویر بتاں
اگر یہ شعر الٹا محسو س ہورہا ہے آپ کو تو برائے مہربانی ادھر ادبی تنقید کرنے کی بجائے، سائنسی موضوع پر توجہ مرکوز فرمائیں،  تو
جب آپ کے کمپوٹر میں ہی کچھ نہیں ہونا تو نکلنا کیا؟؟؟  توجنابو، ایویں ای ٹینشن لینے کی لوڑ  نہیں ہے۔ آپ کے کمپوٹر میں سے ھیکرز کو مرتے مرجائیں  "مینگو مطلب امب" بھی نہیں ملنے  والا۔
تو صاحبو اگر آپ کا تعلق اس گروہ سے ہے تو اس تحریر کو پڑھ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں اور فوراُ سے پیشتر  اس لنک پر کلک کرکے نکل لیں اور اپنے وقت کو کسی اچھے کام میں برباد کریں۔ تہاڈی مہربانی۔
چونکہ آپ ابھی تک یہی سطور پڑھ رہے ہیں تو لازم ہے کہ آپ پڑھتے جائیں۔ عین ممکن ہے کہ اس تحریر کے اختتام تک آپ خود ھیکر بن چکے ہوں، یا محلے میں دستیاب پانچ سات ھیکرز کو پہنچاننے کے قابل ہوجاویں گے۔
تو جناب ایسا بھی کچھ نہیں ہونے والا، بس یہ ہوگا حد سے حد کہ آپ  کو کچھ اندازہ ہوجائے گا کہ آپ پر ھیکرز نے حملہ کردیا ہے اور آپ کی تھوڑی سی توجہ اپنے کمپوٹر کو انا للہ وانا الیہ راجعون ہونے سے بچا سکتی ہے۔
مقاصد۔
ھیکنگ کے جو مقاصد ہیں ان میں تو شامل ہے کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات،  آپ کے کریڈیٹ کارڈز کے بارے میں معلومات، اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیلات  آپ کے کمپوٹر سے اڑا لی جائیں۔
اب بندہ پوچھے کہ ان کا وہ کریں گے کیا؟؟ تو جناب یہ کریں گے کہ آپ کے بنک میں سے  پیسے اڑانے کی کوشش کی جائے گی۔ آپ کے کریڈٹ کارڈز میں  سے پے منٹس کی جائیں گی۔ اسی طرح آپ کی کاروباری تفصیل آپ کے کاروباری مخالفین کو بیچ کر پیسے کمانے کی کوشش  کی جائے گی۔ مگر یہ سب کچھ ایک عام کمپوٹر یوزر سے متعلقہ نہیں ہے، اگر آپ اپنے کمپوٹر سے اپنا بینک اکاؤنٹ  نہیں آپریٹ کرتے، کریڈٹ کارڈ آپ کے پاس ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو وہ اپ عیدو عید ہی استعمال کرتے ہیں یا صرف رشتہ داروں کو جلانے کو رکھا ہوا ہے ۔ آپ بزنس کی بجائے کسی سرکاری محکمے میں ملازمت کرتے ہیں تو پھر جناب آپ دودھ پی کر سوجائیں، آپ کا کوئی کچھ نہیں اکھاڑ سکتا۔ 
ہاں آپ کے ساتھ یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کا فیس بک  اکاؤنٹ ھیککردیا جاوے اور آپ کو زک پہنچانے کی کوشش کی جائے  یا ای میل ھیک  کرلی جائے اور آپ کی میلز ضائع ہوجائیں۔ تو جناب  ایسی صرف میں آپ کا مالی نقصان تو ہوگا نہیں البتہ خواہ مخواہ کی ٹینشن البتہ ہوگی اور وہ بھی مفت میں۔
پس آپ کو اگلی قسط کا انتظار کریں
جس میں ہم ان کا طریقہ  واردات بیان فرمائیں گے اور اسکے بعد انکا تدارک بھی بیان ہوگا۔
تب تک آپ اسی پر کمنٹس کرتے رہیں 

مکمل تحریر  »

جمعرات, فروری 05, 2015

یوم یک جہتی کشمیر

آج پانچ فروری ہے، یوم یک جہتی کشمیر، 
عام آدمی کی حالت، مار مار نعرے شام تک گھلے بٹھا لیں گے، پھر چار دن تک گرم پانی مین نمک ڈال کر غرارے کرتے رہین گے۔ یہ وہ ہین جو اسکے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ آواز اٹھارہے ہیں 

حکمرانوں کی حالت، لوٹ کھسوٹ مین مگر، ممکن ہے کوئی ویلا آدمی ایک ادھا بیان دے بھی دے، مگر اپنی تماشبینی میں مگن، یہاں حکمرانوں سےمراد سیاہ ست دان ہیں، چاہے وہ کسی پارٹی کے ہوں، ٹی پارٹی کے بھی، وہ اپنے آپ کو حاکم تصور کرتے ہیں۔ 

حالانکہ ثانی الزکر کشمیر کےلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں، مگر اس سے پہلے انکو پاکستان کےلئے کچھ کرنا ہوگا، ایک مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کے اور وہاں پر لوگوں کے حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے، کشمیری عوام کے ساتھ یک جہتی کرنے سے پہلے اپنے اندر یک جہتی پیدا کرلو،  یہ بات تو بہت اچھی ہے اور لازم بھی ، 

مگر

لگتا اایسے ہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کی عوام سے نہ صرف یہ کہ ہمدردی کوئی نہیں، بلکہ لگتا یہ ہے کہ انسے کوئی خدا واسطے کا بیر ہے۔ 
ویسے اس بیر کی وجہ کیا ہے؟؟ کوئی ہے بھی کہ نہین؟؟



مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش