جمعہ, جون 05, 2015

چاند چڑھانے پر جھگڑا

آج کا جمعہ کا خطبہ بہت لمبا تھا۔ مولوی جی نے سارا وقت چاند دیکھنے کےساتھ ساتھ سورج اور چاند کے اپنے مقررہ محور میں رہنے کی آیات و احادیث  بیان فرمائیں۔

انتشار امت کا ذکر فرمایا۔ چانددیکھ کر روزہ رکھنے اور چاند دیکھ کر عید کرنے والی حدیث کو بیان فرما کراجہتاد امت کا بیان بھی فرمایا، اور پھر سائنسی ترقی کا بھی بیان فرمایا۔ امت مین انتشار پھیلانے سے سختی سے منع کیا، پھر فرمایا کہ علماء یورپ کی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلا روزہ 18 جون کو بروز جمعرات ہوگا انشاء اللہ۔ تو جناب تمام اہل اسلام کو شعبان کی ساعتیں مبارک اور من تقبل رمضان۔


ہیں جی۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اجتماع امت میں خیر ہے۔ امت کو چاہئے کہ علماء کے اس فیصلہ پر جمع ہوجائے۔ ہم کسی ملک بادشاہ یا حکمران کو نہیں مانتے۔

ہیں جی۔

پس ثابت ہوا، اجتماع امت صرف وہ ہے جس میں امت المولبیان الیورپ کے پیچھے چلے۔ نہ کہ امت کا اجتماع اس حدیث مبارکہ پر ہے کہ چاند دیکھو اور روزہ رکھو چاند دیکھو اور عید کرو۔ نہ نظر آئے تو قیاس کرلو۔

پاکستان میں پھر بھی کچھ نہ کچھ تردد کرتے ہیں کہ کچھ الموبیان القدیم  جو یہ موٹی سی دبیز شیشوں والی عینک لگائے موٹے حرفوں والا قرآن مجید پڑھتے ہیں، چھت پر چڑھ کر چاند دیکھ رہے ہوے ہیں، جبکہ حالت انکی یہ ہوتی ہے انکو اپنی عینک تک دکھائی نہیں دیتی۔ 
بندہ کہے مولانا جی کسی جوان " منڈے " کو ہی دوربین دے دو، شاید اسکو چاند نظرآبھی جائے۔ مگر یہ شک  ہی کرتے  ہیں کہ اس نے ضرور ساتھ والی چھت پرچاند دیکھا ہوگا۔ 

وللہ اعلم میں کوئی عالم دین نہیں ہوں مگر دین کے معاملے میں  المولبیان کے پیچھے چلنے کی بجائے سنت نبویﷺ پر عمل کرنا بہتر سمجھتا ہوں، چاند دیکھو، نہ نظرآئے تو کیلنڈر دیکھ لو ، یا المولبیان کے پیچھے چل پڑو۔ 

3 تبصرے:

  • Bushra says:
    6/05/2015 10:40:00 PM

    Jee Raja ji

    Aap ne bahot sahi baat kahi hai. Taswir se Aap ne apni baat ki sacchai pesh ki hai. Aap ne ye Step bahot Acha liya ke Pic laga di.

    Pic se pata lag raha hai ke hazrat mote chashme ki Aynak lagae hue hain 4-4 logon ke sahare ut-te byt-ty honge. Magar zidd hai ke chand mai hi dekhunga. Aur mai hi tasdeeq bhi karun ga warna dhoka ho jayga. Ye ajeeb tamasha hai in Maolwion ka.

    Plums ki Nisbat se Aap jhelum ke rahne wale honge. Aap apne elaqe ke 10-20 high profile Maolwiyon ki ek list bana ker sabko bari bari call karen aur Dill ki Gahrai aur Dard Mandi se unse Chaand ke Issue per baat karen aur kahen Ummat men enteshar phyla hua hai. Har Maolwi apni alag dukan lagaye byta hai. Aap log koi ek Admi per ettefaq karlen aur dusre sab Dast Bardar ho jayn.

    Aap ko jo baten sunne ko milengi wo ye hongi.

    *Falana Aalim jhoota hai. *Wo Ahle Hadeesi hai. *Wo Barelwi hai. *Wo Wahabi hai. Uske pichey Namaz jaez nahi. Usko kyse Hakam bana len.? *Wo Politics ki baten karta hai. *Wo pathan hai. Pathan Sood lete hain. Pathan ke haq men hum kyse dast bardar ho jayn. *Wo Buzurgane Deen ko nahi maanta. *Wo Qureshi hai, Syed hai, Shiya hai.

    koi apne Dill ki baat na batayga ke...

    Aysh o Ishrrat, Naam o Namood, Free ki Air conditioned Sawarian, Imported saman, Behtreen Dawaten, Aao Bhagat, Izzat aur Shaan o Shaokat, Free ke Hajj aur Umre, Anaa o Ghumand, Kibr o Ghuroor, Qud ko Aalaa Dusron ko Adnaa, Qud ko Aqalmand Dusron ko Kam Aqal o Jahill Gar Daan Ne ki Bimari ko kyse Laat Maar Den.

    In Sabko Allah Hi Dekhe...! Jo Ummat Ko Tafarru-qon men Baante Hue Hain.

    Bushra khan

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    6/06/2015 01:00:00 AM

    ویسے مجھے لکھانا یاد نہین رہا کہ میں عربیوں کی مسجد میں تھا، خطبہ عربی میں تھا اورمیں نے اسکا لب لباب بیان کیا ہے، اب عربی اتنی تو سمجھ اتی ہی ہے۔
    ویسے طریقہ وہی پاکستانی مولویوں والا ہی تھا۔
    رہی بات اپنے المولبیان سے پوچھنے کی تو اس بارے کوئی بار سوال کرچکا ہوں، اب تو میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دین کو تباہ کرنے کا بیڑا پچانوے فیصد ہمارے مولویوں نے اٹھایا ہوا ہے

  • Bushra says:
    6/06/2015 09:29:00 AM

    جی حضرت

    آپ نے بہت سہی فرمایا !

    یہ اصل میں جہالت اور اِل لِیٹریٹ ہونے کی علامت یے. اکثر دیکھا یہ گیا ہے کہ جتنے بھی مولبیوں کے followers یا معتقدین ہوتے ہیں وہ کم پڈھے لکھے اور جاہل ہوتے ہیں. اور مولبی حضرات جو خودبھی دو چار کتابیں رٹنے کے علاوہ زہادہ علم نہیں رکھتے اپنی چالاکی و ہوشیاری سے عوام کی کمزوری کا بھرپور فاُیدہ اٹھاتے ہیں. جاہل عوام کے دلوں میں نفرتوں کا بیج بونا، ایک دوسرے سے بغض و عناد رکھنا، اپنے (مولبی حضرت) کے سوا دوسرے مولبی حضرات کی راُے اور سوچ و فکر کو غلط ثابت کرنے کا جنون دل ودماغ میں بٹھاتے ہیں. اور ایسی ہی ذہنیت کے followers سے مولبی حضرات خوش ہوتے ہیں. کیونکہ یہی جاہل طبقہ مولبیوں کا (Asset) اثاثہ ہوتا ہے اور اِنھیں جہلا سے مولبیوں کی روزی روٹی اٹکی ہوتی ہے. اسی لیے مولبی حضرات - بھای چارگی، خلوص، پیار و محبت کا درس اپنے معتقدین کو نہیں دیتے جس کے سبب ایک گروہ کے دل دوسرے گروہ سے بغض و نفرت لیُے ہوے ہوتے ہیں. اور یہی تفرّقہ ہوا..

    وسلام

    بشرٰی خان
    الہٰ آباد

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش