جمعرات, فروری 05, 2015

یوم یک جہتی کشمیر

آج پانچ فروری ہے، یوم یک جہتی کشمیر، 
عام آدمی کی حالت، مار مار نعرے شام تک گھلے بٹھا لیں گے، پھر چار دن تک گرم پانی مین نمک ڈال کر غرارے کرتے رہین گے۔ یہ وہ ہین جو اسکے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ آواز اٹھارہے ہیں 

حکمرانوں کی حالت، لوٹ کھسوٹ مین مگر، ممکن ہے کوئی ویلا آدمی ایک ادھا بیان دے بھی دے، مگر اپنی تماشبینی میں مگن، یہاں حکمرانوں سےمراد سیاہ ست دان ہیں، چاہے وہ کسی پارٹی کے ہوں، ٹی پارٹی کے بھی، وہ اپنے آپ کو حاکم تصور کرتے ہیں۔ 

حالانکہ ثانی الزکر کشمیر کےلئے بہت کچھ کرسکتے ہیں، مگر اس سے پہلے انکو پاکستان کےلئے کچھ کرنا ہوگا، ایک مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کے اور وہاں پر لوگوں کے حقوق کا ضامن ہوسکتا ہے، کشمیری عوام کے ساتھ یک جہتی کرنے سے پہلے اپنے اندر یک جہتی پیدا کرلو،  یہ بات تو بہت اچھی ہے اور لازم بھی ، 

مگر

لگتا اایسے ہی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کی عوام سے نہ صرف یہ کہ ہمدردی کوئی نہیں، بلکہ لگتا یہ ہے کہ انسے کوئی خدا واسطے کا بیر ہے۔ 
ویسے اس بیر کی وجہ کیا ہے؟؟ کوئی ہے بھی کہ نہین؟؟



0 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش