منگل, ستمبر 30, 2014

تجاوزات



دکان کے آگے فٹ پاتھ پر تھڑا بنانا 
ریڑھی لگانا چھاپہ لگانا
رستہ بند کر دینا
یہ تو ایک عام سی بات ہے ۔
عموماً عوام بھی کچھ کہے بغیر موٹر سائیکل ، گاڑی ، گدھا گاڑی سے جان بچاتے ہوئے سڑک پر سے گذر جاتے ہیں۔
میں نے ایک کارنر والی دکان کے سامنے کے رستے پر تجاوز کرکے بنے ہوئے تندور کو دیکھا اور ساتھ والے سے کہا کہ ادھر سے نکلنے والے کو سیدھی طرف سے آنی والی گاڑی یا پیدل لوگ نظر نہیں آتے یہاں ایکسیڈنٹ ہو چکا ہو گا۔اگر نہیں ہوا تو ضرور ہو گا۔
سننے والے نے کہا تھا ہے تو غلط بات لیکن آج تک کوئی حادثہ نہیں ہوا،اس لئے ہم نے بھی کبھی سوچا نہیں۔
بس میری "کالی" زبان" اور اسی دن بچوں کو سکول لانے لے جانے والی گاڑی نے گاڑی افورڈ نہ کر سکنے والے بچوں میں گاڑی اسی جگہ گھسیڑ دی۔
ہاہا کار ہائے ہائے مچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور میں دیکھ رہا تھا کہ تندروچی مزے سے روٹیاں لگا رہا تھا۔ کچھ بچے چوٹیں سہلاتے گھروں کو واپس جارہے تھے جو لمبے پڑے چیخ رہے تھے انہیں آس پاس کے لوگ گاڑی لاؤ اوئے۔
زخمی بچوں کو اسپتال لیکر جانا ہے کا شور مچا رہے تھے۔
آپ اس طرح کے حادثے کے بعد لوگوں کی بے لوثی اور خلوص کے ساتھ "متاثرین" کی مدد دیکھ کر فخر محسوس کر سکتے ہیں۔
دیکھو ہماری قوم "زندہ" ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں جی
یہاں جاپان میں میرے گھر کے بالکل پیچھے ایک سیون الیون فرنچائیز کنوینینس سٹور ہے۔ لوکیشن اچھی اور کارنر پر ہونے کی وجہ سے اس کے وسیع و عریض پارکنگ لاٹ میں چوبیس گھنٹے گاڑیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔
پارکنگ بڑی ہونے کی وجہ سے ہیوی ڈیوٹی ٹرک رات کو آتے ہیں اور ڈرائیور رات کو گاڑی کھڑی کرکے سوجاتے ہیں۔
گرمیاں ہوں یا سردیاں ان ٹرکوں کے انجن سٹارٹ رہتے ہیں ، جس کی وجہ سے ہم رات کو کھڑکی کھول کر سو نہیں سکتے۔
اس کے علاوہ بھی قریبی علاقے کے لوگ جو کہ اس سٹور سے خریداری کیلئے آتے ہیں ہمارے گھروں اور باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
بچے اور آجکل ہمارے علاقے کچھ "دیسیوں" اور دیگر غیر ملکیوں کے بچے ہمارے اور پڑوسیوں کے باغیچوں سے گذرنا شروع ہو گئے تھے۔
سٹور کی پچھلی طرف کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے بچوں نے کھیلنا شروع کر دیا تھا اور گیند ہماری دیواروں سے ٹکراتی تھی،
بچے گیند اٹھانے کیلئے ہمارے باغیچے میں گھس جاتے تھے۔ کھا پی کر کچرا پھینک دیتے تھے۔ جس کی وجہ سے گندگی ہونا شروع ہو گئی تھی۔
ایک دو بار بچوں کو منع کیا لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔
تنگ آکر سٹور کے مالکان سے شکایت کی تو سٹور کے مالک کے نے ہفتے میں ایک بار صفائی کرنا شروع کر دی۔
ہم مزید تنگ ہوئے تو "سٹور کی فرنچلائیز کمپنی" سے کہا کہ کچھ کیجئے ورنہ ہماری مجبوری ہے عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔
شکایت کے فوراً بعد کمپنی والے آئے معذرت کی اور کہا کہ جتنی جلد ہو سکا تحقیق کرکے ہم مسئلہ حل کر دیں گے۔
دو ماہ بعد آج آئے "تحائف" ساتھ لائے اور ہمیں انتہائی مودبانہ انداز میں "رپورٹ" پیش کی کہ 
سٹور کی پچھلی طرف چاردیواری بنائی جائے گی اور چاردیواری بھی وہ والی جس سے "شور " کو دبا کر ختم کر دیا جائے گا۔
تاکہ آپ کی راتوں کی نیند پُرسکون رہے۔ اتنا عرصہ جو آپ کو تکلیف ہوئی ہم اس کی معذرت چاہتے ہیں۔ 
ساتھ میں انہوں نے نقشہ اور تعمیراتی پلان کی تفصیل بتائی ، اخراجات بتائے اور ہماری رضامندی کیلئے ایک عدد کنٹریکٹ پر دستخط کروائے۔
اخراجات جو آنے ہیں پاکستانی تقریباً ایک کروڑ روپے کی خطیر رقم ہے جو کہ جاپان میں بھی خطیر رقم ہی ہے۔
صرف تین گھروں کیلئے جو کہ سٹور کے "پڑوسی" ہیں صرف ان کی راتوں کی نیند کے سکون اور دیگر پریشانیوں کیلئے "ایک کروڑ" کی رقم لگائی جا رہی ہے۔ 
یہ صرف قانون کی حکمرانی کی وجہ سے ہے ورنہ جاپانی تو ایسی وحشی قوم تھی کہ جنگ میں کھانے کو نہ ملنے کی وجہ سے بندے بھون کا کھا جاتے تھے اور وہ "خیال" کرکے کہ "جاپانی" نہیں کھانا۔
کسی دوسری قوم کا ہے تو کھانے میں کو حرج نہیں 

اور میری قوم کے لوگ دوسری قوم کیطرف دیکھتے ہی نہیں پہلے جس پر "ہاتھ" پڑے اسے ہی کچا چبا ڈالتے ہیں۔۔
رو عمران رو
گو نواز گو 

  بشکریہ، محترمی و مرشدی یاسر خوامخوہ جاپانی مذلہ علیہ و عفی اللہ عنہ
آپ جناب نے اپنے بلاگ پر چھاپنے کی بجائے ادھر شائع کرنے کی اجازت مرحمت فرماکر راقم الحروف کو عزت بخشی۔ 
گو نواز گو، 
رو عمران رو



مکمل تحریر  »

جمعرات, ستمبر 25, 2014

کیکٹس کے پھول اور محبت

کیکٹس کو ہمارے ہاں تھوہر ہی کہا جاتا ہے، شہدہ سا خود رو پودا، جسکی کوئی قدر ہی نہیں ہوتی۔ نہ کوئی فائدہ نہ نقصان،  انگریزی  میں اسے کیکٹس کہا جاتا ہے فوراُ ماڈرن ہوکر گملے اور ڈرائینگ روم میں چلا جاتا ہے اٹالین اسکو  pianta grassa چربی والا پودا بھی کہتے ہیں

تھوہر یا  انڈین  انجیر  cactus indica المشہور چھتر تھوہر، ہمارے ہاں سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم۔ یہ چوڑے اور موٹے موٹے پتے، قدآدم سے بھی بلند، اور انگل انگل کانٹے، بس چبھے کہ چبھے۔
میرا کیکٹس سے پہلا تعارف ہوا جب دریا کے کنارے پھسل کر تھوہر کے کانٹے چبھوا لئے ۔ کانٹو ں کا درد اور چبھن بھی اور چچا کی گالیاں بھی کہّ اکھاں کھول کر چلیا کر کھوتیا "    ۔۔۔تب تھوہر ہی ہوتی تھی اور دریا کے کنارے کسی ظالم نے لگا دی تھی کہ کٹاؤ سے باز رہے اور لوگ اوپر کے کھیت میں  سے راستہ بنانے سے باز رہیں،  مگر راستہ بھی بنا اور تھوہر بھی رہی،  لوگ بھی چلتے رہے اور کانٹے بھی چھبتے رہے۔
لوگ  گزرتے بھی رہے اور گالیاں بھی دیتے رہے۔ ابھی تک دے رہے ہونگے۔  تھوہر سخت جانہوتا ہے، خشکی اور دھوپ میں خوب بڑھتا پھولتا ہے اسی لئے مئی جون  میں جب گرمی سب کچھ جھلسا دیتی تو انکے ہاں پھول کھلے ہوتے ہیں، ساون بھادوں میں جب سب کچھ ہرا بھرا ہوتا ہے انکے ہاں موت پڑی ہوتی ہے، کہ کیکٹس یا تھوہر کی جھڑہیں زیادہ لمبی نہیں ہوتی اور پتے بھی نہیں ہوتے یا بہت کم،  اور ان  میں چربی  طرز کا لیس دار مادہ بہت ہوتا ہے، اسلئے نمی اور اسے پیدا ہونے والی پھپوندی انکےلئے جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
پھول انکے بہت خوش نما ہوتے ہیں اور پیلےیا سرخ ، گلابی  رنگوں میں ہوسکتے ہیں، دہکتی ہوئی جون کی دوپہر میں دمک رہے ہوتے ہیں۔
اور پھر موٹے سے جامنی رنگ کے پھل بھی لگتے ہیں  جسکو انڈین انجیر  ficus indica   کہا جاتا ہے، بس تو جنابو  آجکل ہورہی اسکی مشہور وزن کم کرنے لئے، آج بھی ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا کہ تین پھل روز کھانے سے آپ چھٹیوں کے دوران بڑھایا ہوا وزن ایک ماہ میں کم کرلو۔  لیس دار مادہ  کی موجودگی اسکے قبض کےلئے   مفید ہونے کو ثابت کرتی ہے۔
تھوہر کی دوسری قسم جو میرے علم میں تھی وہ تھی ڈنڈا تھوہر، وہی نہ پھل نہ پتا، بس ڈنڈا سا اور کانٹوں سے بھرا ہوا۔ نہ کام  نہ کاج، لگے رہو۔


کیکٹس سے  میرا  دوسرا  اور گہرا تعارف
کیکٹس گرانڈی فلورس cactus grandiflorus  ، یہ چھوٹے سائز کا پودا ہے، پودا کیا جی بس ٹہنیاں ہی ہوتی ہیں، اور کانٹے، یا پھر سال بھر میں چند پھول ، جو  اکتوبر کی بھیگی راتوں میں  کھلتے ہیں۔  جو میکسیکو کے صحرا میں پہلے پہل دیکھا گیا پھر اسکو  بربر اور شمالی فریقہ سے صحراؤں  میں دیکھا گیا۔گرانڈی فلورس کا مطلب ہے بڑے پھول والا، حقیقت بھی یہی ہے کہ کیکٹس کے جو بڑے بڑے پھول ہوتے ہیں ان میں اسکا شمار ہوتا ہے، رات کو کھلتا ہے اور صبح کی پہلی کرنوں کے ساتھ بند ہوجاتا ہے۔ پھول کی رنگت سفید دودھیا ، گلابی مائل ہوتی ہے۔ بہت ہی نازک سی پتیاں ہوتی  ہیں، ہلکی سی خوشبو ہوتی ہے۔
اس بارے میں یہ کہا جاتا ہے  کہ جہاں پر یہ پھول کھلا ہو اس کے ادھ کلومیٹر میں موجود درد دل کے مریض سکون محسوس کرتے ہیں، ویسے ہومیوپیتھک معالجات میں اسے درد دل کے واسطے ہی استمعال کیا جاتا ہے، اور ایسی صورتوں میں جب دل پر بوجھ اور دل کے ارد گرد سختی اور جکڑن محسوس ہورہی ہو، سر پر فشارخون کی وجہ سے ایسا بھاری پن محسوس ہورہا ہو، جیسے لوہے کا شکنجا کسا ہوا تو۔ اس کا مدر ٹنگچر مفید ہوتا ہے۔

جب اس کیکٹس کے بارے سب کچھ پڑھ چکے ڈاکٹر منظور ملک صاحب سے ، تو کچھ مزید علم کی طلب ہوئی۔  ایک نرسری میں گیا اور اس نے بتایا کہ بادشاہو کیکٹس تو  کوئی سینکڑوں قسم کے ہوتے ہیں ۔ ۔۔۔ اچھا؟؟  تو پھر اس نے کہا کہ مجھے تو اتنا علم نہیں جمعرات کو ناصر صاحب آتے ہیں انکے پاس کوئی تین سو قسم کا کیکٹس ہے۔  پھر نرسریاں تھی اور ہم تھے۔
بس ناصر صاحب سےملاقات ہوئی اور پھر ہوتی ہی رہی۔ بس وہ  ساتھ ساتھ مجھے اپنے کیکٹس کے بچے بھی دیتے رہے، اور میں بھی پھر ماہر ہوگیا، کہ ادھر سے ادھر سے ٹہنی  شاخ، پکڑ لاتا اور لگا دیتا اپنے گملوں میں،سن ستانوے میں جب پاکستان چھوڑا تو کوئی سوا تین سو کے قریب  کیکٹس بڑے چھوٹے میرے گھر میں تھے۔

لو بتاؤ ہے کوئی کرنے والی بات۔ا

ان میں سے آدھے سے کم خریدے ہوئے تھے اور باقی تبادلہ اور تحائف۔  اور کچھ دیکھتے بھالتے جیب میں ڈالے ہوئے، جب کوئی پیسے لے کر بھی دینے پر آمادہ نہ ہو ایک زیربچہ تو پھر؟؟؟ آپ ہی بتاؤ۔

میرے پاس ایک کیکٹس تھا بلکل گول سا، اوپر ابھار موٹے موٹے ہر ابھار پر کانٹے اطراف کو مڑے ہوئے۔ اسکے اوپر ایک پھول کھلتا تھا، جامنے رنگ کا، مگر کیا ہی نازکی اور چمکیلی  رنگت۔  اسکا نام مجھے کبھی بھی یاد نہیں ہوسکا۔

اٹلی سے میری واپسی پہلی بار ہوئی گھر میں تو دوسرے دن ہی ادھر کلی بنی اور چوتھے دن پھول کھل پڑ،  اماں جی کہنے لگیں پتر پتا ہے اس کیکٹس نے گزشتہ تین برس پھول نہیں  دئے ، ابھی تو آیا ہے تو یہ جیسے خوشی منا رہا ہے۔ پھر یہی ہوتا، جس ماہ میں پاکستان جانا ہوتا  پھول دیتا، جس برس نہیں جانے ہوا پھول نہیں آئے اس پر۔  جس سال دو بار جانا ہوا دو بار پھول۔ گویا پکی محبت کا اظہار۔
ابا جی پر اکٹس  کا حملہ ہوا تو مفلوج ہوگئے۔ ایسے میں بابا صادق نے کہہ دیا کہ چونکہ آپ نے تھوہریں گھر میں رکھی ہوئیں اور تھوہر دوزخ کا  درخت ہے، پس اس وجہ سے یہ ساری مصیبت آئی ہوئی ہے آپ کے اوپر۔
ہوا یہ کہ ابا جی نے پھنکوا دئے سارے کیکٹس باہر، مجھے خبر ملی تو میرے آنسو نکل گئے۔  ایک شوق تھا، ایک محبت تھی جو سارا دن ولقد ر خیرہ و شرہ من اللہ تعالٰی پڑھنے والوں کی نظر ہوگیا۔
مان لو کہ پودوں میں دل ہوتا ہے۔ جیسے چھوٹے بچے آپ کو پہچان لیتے ہیں، چند دن  یا ہفتوں کا بچہ مجھے سے مانوس ہوتا ہے اور کھیلنا شروع کردے گا، ایسے ہی کیکٹس بھی مجھے سے مانوس ہیں۔

پھر بہت سے کیکٹس برازیل میں دیکھنے کو ملے ، کوئی ہزار ہا قسمیں، پوچھو کچھ نہیں ، پوری نمائش ہی تھی۔ میں گھنٹوں گھومتا رہا  اور یاد کرتا رہا۔ کہ یہ بھی اپنے گھر میں تھا، یہ بھی اپنے پاس تھا۔ جیسے آپ کتابیں دیکھتے ہیں ۔ کہ یہ پڑھ چکے، یہ گھر میں ہے۔ یہ فلاں جگہ پر دیکھی تھی۔  بس ایسے ہی۔

ادھر ایک میرے دوست ہیں اٹالین آلےساندرو، اسکے گھر گیا تو کیکٹس لگے دیکھے تو اجازت لے کر دیکھنے چلا گیا۔ وہ بھی میرے ساتھ ، تھا میں آپے آپ ہی اسکو بتاتا چلا گیا۔ اسکے پھول اس قسم کے ہوتے ہیں، اسکے اس رنگ کے، اسکے پھول کی جسامت کیسی ہوتی ہے۔ یہ میرے پاس تھا، یہ بھی ، یہ بھی۔ یہ تو بہت ہی زیادہ تھے۔ یہ ایکی نوپسی  Echinopsi تو کتنی قسموں کے تھے میرے ادھر۔
اور پھر دل کو بوجھل بوجھل سا لئے واپس آگیا۔

چوتھے دن آلے ساندرو کا فون آگیا، آجاؤ فوراُ تمھیں ایک چیز دکھانی ہے۔ گیا۔ تو ؑایکینوپسی کا بڑا سا پھول تھا۔ کہنے لگا عام طور پر یہ اگست میں پھول دیتا ہے اور بس۔ مگر اس بار حیرت ہے کہ اس نے ستمبر میں بھی پھول دیا اور باقی کے بھی تیاری کررہے ہیں۔
یار تو آتا جاتا رہا کر۔



تب مجھے یاد آیا کہ میں نے وہ  میری آمد کی خوشی منانے والے کیکٹس کی کہانی سنائی تھی اسے، سادہ  بندہ ۔ یقین کرگیا۔
ایسا کب ہوتا ہے۔ پودے تو بے جان ہوتے ہیں، انکو کیا احساس ، کوئی آئے کوئی جائے انکو کیا فرق؟؟؟؟ 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش