جمعرات, اگست 14, 2014

چاچاجی کھاآئے او؟؟؟

سنہ ستاسی سے لیکر سنہ ترانوے تک کے سال میرا    زمانہء طالبعلمی تھا۔ زمانہ ء  طالبعلمی سے میری مراد کالج  کے وہ برس  ہیں ، جن میں ہم نے اسکول اور ماسٹر جی کے ڈنڈے کی زد سے نکل کر، دنیا کو دیکھنا شروع کیا اپنی آنکھ سے اور اپنی مرضی سے گھومنا شروع کیا، اباجی کے خرچے پر۔  ہائے ہائے وہ  نوجوانی، لاابالی اور خرمستیوں کے دن۔

جو لوگ ان دنوں میں جہلم میں طالبعلمی کے دور سے گزر رہے تھے  انکو ایک تانگے  والا بابا یاد ہو گا جو جادہ سے شاندار چوک مشین محلہ روڈ پر اور اسلامیہ اسکول روٹ پر چلا کرتا تھا۔ 

عمر شاید چاچے کی یہی کوئی پچاس پچپن ہی ہوگی ، مگر شاید افتاد زمانہ ، غربت اور ہماری نوجوانی کی وجہ سے وہ ہمیں بڈھا  نظر آتا تھا۔  میرا خیال ہے کہ اس میں زیادہ قصور ہماری نوجوانی کا تھا، تب جو ہمیں بڈھے نظر آتے  تھے وہ اتنے بڈھے بھی نہ تھے، جیسے آجکل ہمیں جو چالیس کے پیٹے میں ہیں لڑکے بالے کہتے ہیں چاچا جی، انکل جی  اور ہم دل میں کہہ رہے ہوتے ہیں اوئے باز آجا، کتھوں دا چاچا، کہڑا انکل؟

یہ تانگے والاپورے جہلم شہر میں مشہور تھا،   خیر تب جہلم شہر تھا ہی کتنا،   مگر چاچے کی دھوم تھی ہر طرف۔
چاچے کی وجہ شہرت اس تانگے بان کی گالیاں  اور اسکی چھیڑ تھی "چاچا جی کھا آئے او؟"

کسی آتے جاتے نے چاچے کو کہہ دیا  کہ چاچا جی کھا آئے ہو، اور چاچے نے اسٹارٹ ہوجانا، تیری ماں  دا۔۔۔۔ کھا آئیاں
تیری پہنڑ دا ۔۔۔۔۔ کھاآئیاں۔    اور اسکے بعد چاچے نے آدھے گھنٹے تک اسٹارٹ رہنا،  تیری میں۔   تیری میں۔۔۔  ،
اور یار لوگ ان گالیوں کا مزہ اٹھاتے ، ہنستے ، دانت نکالتے اور ٹھٹھہ کرتے۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ فسادی لوگ چاچے کو بلخصوص اس وقت چھیڑتے تھے، جب اسکےتانگے میں خواتین اور وہ بھی بلخصوص "کالج کی کڑیاں "سوار ہوتیں اور چاچا اسٹارٹ ہوجاتا،   شریف "کڑیاں "  بہت شرمندہ ہوتیں اور یارلوگ دونوں کا حظ اٹھاتے۔بعد میں سنا کہ عورتوں نے چاچے کے تانگے میں بیٹھنا ہی ترک کردیا۔ اور جو اردگرد ہوتیں وہ اپنا منہ چھپا لیتیں،  چاچا  بہت ننگی اور موٹی موٹی گالیاں دیا کرتا تھا اور علٰی طول دیا کرتا تھا۔ 


ہمارے زمانہء طالبعلمی سے قبل ہی یہ چاچا ایجاد ہوچکا تھا۔ تو جنابو اس کا کریڈٹ ہم اپنے سر نہیں لے سکتے۔   تب اسے  " چاچاجی کھا آئے ہو"  کہا جاتا تھا۔  پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس چاچے کی کمر اور جھک گئی ،  عینک کے شیشے مزید دبیز ہوتے گئے،  سرکے بال اور داہڑی کے بال بھی کچھ مزید  سفید ہوتے گئے،  اب چاچا  کمزور ہوچکا تھا جسمانی طور پر اور یارلوگوں نے  "چاچاجی" کی بجائے " باباجی کھا آئے ہو"  کا نعرہ لگانا شروع کردیا۔

مگربابے کی گالیاں اور آواز کی گھن گرج وہی رہی۔

ہرچیز کا ایک وقت اور ایک رواج ہوتا ہے اور اسکے  بعد وہ  روٹین اور نرگسیت کا شکار ہوجاتی ہے۔ پس باباجی کھا آئے او کو بھی لوگوں نے چھیڑنا  ترک کردیا ۔

مگر باباجی جو کہ عادی ہوچکے تھے اس " رولے " کے ۔  تو انکو پھر اس بات پر گالیاں دیتے ہوئے دیکھا گیا کہ "آج سارے کتھے مرگئے او؟ آج سب کو چپ لگی ہوئی ہے؟؟   اوئے تہاڈی میں  ماں نوں۔۔۔۔۔ ،  تہاڈی پہنڑں   نوں۔۔۔۔۔۔۔۔
پر تب کوئی ہنستا بھی نہیں تھا۔

لوگوں کےلئے وہ گالیاں روٹین بن چکی تھیں،  لوگ نرگسیت کا شکار ہوچکے تھے۔ 

اور کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ باباجی نے تانگہ چلانا ترک کردیا ہے اور مسجد کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔  اسکے بعد کا کچھ علم نہیں

معالجات کی تعلیم کے دوران جب الزائمر کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ اسکا پہلا فیز ہے۔ اسکے بعد مریض بھولنے شروع ہوجاتا، اورمذہب کے قریب ہوجاتا ہے،  پھر مختلف خیالی چیزوں یا واقعات کا بیان کرنا، اور پھر آخیر میں وہ کیفیت ہوتی ہے جسکو پاگل پن کہا جاتا ہے۔


فیس بک  ہمارا آج کا شہر ہے  اور پورا ایک محلہ بھی، جس پرہمارے دن کے کئے گھنٹے بلکہ کئی بار تو پورا پورا دن ہی گزر جاتا ہے۔ 

ادھربھی گزشتہ دنوں ایک ایسا کردا ر ایکٹو تھا۔ جو ہر کسی کو ہر بات پر مغلظات بک رہا تھا۔  یہ موٹی موٹی گالیاں دے رہاتھا۔ سب کی ماں بہن ایک کررہا تھا۔

اب لگتا ہے بھولنے کے فیز سے گزر رہا،   کہ کہہ رہے کہ میں نے تو آپ کو گالیں نہیں، اچھا نہیں بھی دیں تو بھی معذرت کرلیتا ہوں۔
میری اللہ تعالیٰ  سے دعا ہے کہ الزائمر کے سارے مریضوں کو شفاء عطا فرمائے اور انکے لواحقین سے درخواست ہے کہ انکا باقاعدہ علاج کروایا جائے، یہ مرض قابل علاج ہے، اس میں مریض کے ارد گرد کےلوگوں کو بہت حساس رہنا پڑتا ہے۔ بہت حوصلہ سے ، تاکہ مریض کی صحت کی بحالی  کو حاصل کیا جاسکے۔



10 تبصرے:

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    8/14/2014 11:09:00 AM

    راجہ جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کسمے مجھے اب باوے پر ترس آرہا ہے۔۔
    بیچارا کن کے آگے پھنس گیا۔۔
    اب مجھے ہی اس کی جان چھڑوانی پڑے گی۔۔
    چل باوے میری منتاں شنتاں کر :P

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/14/2014 11:18:00 AM

    ابھی کدھر ابھی تو میں نے دادی فرمان کے اوپر بھی لکھنا کل، پرسوں جس دن موڈ بن گیا
    مجھے بھی ترس آتا قسم سے اللہ کے اس بندے پر، اللہ اسے شفاء دے

  • ڈاکٹر جواد احمد خان says:
    8/14/2014 11:42:00 AM

    فاروق مویش عرف کھوتے کا علاج کسی ہاسپٹل میں نہیں بلکہ تھانے کے کسی ڈرائنگ روم میں ہی ہوسکتا ہے۔۔۔ اسکو معصوم بابا سمجھنے کی غلطی نا کریں۔۔۔ پکا میسنا ہے یہ خبیث

  • ضیاء الحسن خان says:
    8/14/2014 11:44:00 AM

    یار اس بیماری کا علاج ہے تو بتاؤ یہاں بھی ایک دوست مبتلا ہے اس میں پلیز

  • گمنام says:
    8/14/2014 11:49:00 AM

    یہ کہیں اپنے بابا ٹھر کی مویش کی بات تو نہیں ہو رہی ہے؟

  • علی says:
    8/14/2014 12:25:00 PM

    بہرحال کھانے کی باری اب آپ کی ہے :)

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/14/2014 01:46:00 PM

    ہم تو کئی دنوں سے کھا رہے ہیں، بھائی جان
    اور بھی کھا لیں گے مگر کسی کو گالیاں نہ پہلے دی ہیں نہ اب دیں گے

  • وقار اعظم says:
    8/14/2014 02:58:00 PM

    ہمارے محلے میں بھی ایک بڑے میاں ہیں، انکی خاص بات یہ ہے کہ اگر کوئی ان سے پوچھ لے کہ "چچا کہاں؟" تو فوراً گالیوں و مغلضات کا آغاز ہوجاتا اور لونڈے لپاڑے ہنستے ہوئے نکل جاتے اور کچھ دور جانے کے بعد پھر آواز لگاتے "کہاں؟" نتیجتاً چاچا جی نئے جوش و ولولے کے ساتھ مغلضات کو طوفان برپا کرتے۔ لیکن جیسے ہی کچھ سستانے کو چُپ ہوتے تو کوئی منچلا پھرسے سوال کربیٹھتا "چچا کہاں؟" اور مغلضات کی ریکارڈنگ دوبارہ شروع۔۔۔
    انٹرنیٹ پر بھی ایسے کرداروں کی کمی نہیں۔
    کسی الزائمر کے مریض بابا جی سے واقعہ کی مماثلت محض اتفاقی ہوگی ;)

  • نعیم اکرم ملک says:
    8/14/2014 08:30:00 PM

    بابا وی گرم، تے بابے دیاں گولیاں وی گرم
    what baba and what babay dian golian :p

  • sarwataj says:
    8/18/2014 01:07:00 PM

    الزائمر اور ڈیمنشیا ۔۔۔۔ ایک ہی مرض کا نام ہے ؟

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش