ہفتہ, جنوری 26, 2013

بلاگنگ اور رسہ گیری

ویسے تو  کہا جاتا ہے کہ بلاگنگ  ایک ذاتی فعل ہے ،  یہ بات ہے بھی سچ بادی النظر میں  کہ بلاگر کا بلاگ اپنا ہوتا ہے، گویا اسکی اپنی دنیا یا اسکا اپنا گھر، کہنے والے چمن بھی کہتے سکتے ہیں،  جیسے مرضی اسکو سجائے سنوارے، اسکو ترتیب دے، جو مرضی لکھے، جیسے مرضی اور جب مرضی،  مطلب فل آزادی،  چاہے ذرداری کو گالیاں دے، چاہے، مولبی طاہر القادری کے کیڑے نکالے  یا نواز شریف کےنئے نئے بالوں کا ذکر کرے، بھلے عمران خان کی ساٹھ سالہ نوجوان قیادت کا ڈھنڈورا پیٹے، الطاف بھائی کا بڑاں بڑا ں والا خطاب سنائے۔  یا  پھر میری طرح سفر نامے لکھے یا  بدمغزیاں مارے۔

خیال تھا کہ ایک آزاد میڈیا کے طور پر چلے گا، جس میں ہر بندہ بلاگ بنا کر اپنے دل کے پھھپولے پھوڑے۔  دوسروں کو گالیاں دے۔  لطیفے بھی سنائے، سیاہ ست اور سیاہ ست دانوں پر لمبے تبصرے۔ پوری قوم کو بھلا برُا کہنا،   مگر سب ایسا نہیں ہے۔ جب آپ بلاگ لکھتے ہیں تو اسکے پڑھنے والے بھی ہوتے ہیں اب آپ کے بلاگ کے پڑھنے والے وہی  ہونگے جو آپ جیسے ہوں، جو وہی پڑھنا چاہتے ہیں  جو آپ لکھ رہے ہیں ، نہیں تو اگلے نے دوسری بار نہیں آنا۔

مگر سب کچھ یہاں تک نہیں ہے، بلاگنگ نے ایک  سرکل کی شکل اختیار کرلی ،  جس میں  کچھ لوگ جو ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں وہ  ایک دوسرے کے قریب ہوگئے، ہوتے جارہے ہیں۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ بلاگرز ہی ایک دوسرے  کے بلاگز پر تبصرہ کرتے ہیں اور جوابی تبصرہ کرنے کا انتظار بھی، میرے ادھر بھی ، تقریباُ  وہی احباب تبصرہ کریں گے جنکے بلاگز پر میں جاتا ہوں۔ مطلب   یہ ایک قسم کی رسہ گیری بھی ہوگئی ہے، آپ کے جتنے ذاتی تعلقات ہیں آپ کے بلاگ پر اتنے لوگ ہی آئیں گے،  ورنہ  اگر کوئی آ بھی گیا تو تبصرہ کئے بغیر نکل لے گا جس طرح آپ سے پہلے دو صاحبان نے  پوسٹ پڑھی اور بغیر تبصرہ کئے "اڑنچھو" ہوگئے۔
وہی اکبر آلہ آبادی کے بقول :     اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے

آج تو ادھر جلسہ بھی ہورہا ہے اردو بلاگز کا، ادھر بھی  جو جسکی تعریف کرے گا اگلا اسکی    " تریفوں" کے ٹل  باندھ دے گا۔  منہ پر ویسے بھی ہمارے ادھر  تنقید کرنے کا رواج نہیں ہے نہ ہیں ہمت۔ اگر میں بھی ہوتا تو لازمی طور پر یہ پوسٹ لکھنے کی بجائے ادھر کسی کی تعریف کررہا ہوتا یا پھر سن رہا ہوتا۔  گویا   انسانی  طور پر  وہی کچھ لو اور کچھ دو۔

تبصرہ کرو تبصرہ کرواؤ،  اچھا تبصرہ ہوگا تو جواب بھی اچھا ملے گا، اگر میں آپ کے بلاگ پر چیں چیں کرکے آیا ہوں تو ادھر بھی لازمی طور پر " چیں چیں"  ہی ہوگی۔
نتیجہ :  جیسی کرنی ویسے بھرنی۔  


مکمل تحریر  »

اتوار, جنوری 20, 2013

اٹلی اور یورپ میں رہنے والے ہوشیار

مشتری ہوشیار باش، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی۔

آپ نے فوریکس کا نام سنا ہوا ہے، تیل اور سونے مطلب گولڈ مارکیٹ میں بڑا نام ہے، کرنسی کی مارکیٹ میں بھی اس کمپنی کا اچھا حصہ ہے۔ Xforex اور euro4x کی طرح کی یا ان سے ملنے جلتے ناموں کی سائیٹس و فیس بک و دیگر سوشل میڈیا میں آپ کو نظر آئیں گی، جو آپ کو اچھی آمدن مطلب چار چھ ہزار یورو ایک ماہ میں کما کر دینے کا دعوہ کرتے نظر آویں گے۔

ہوشیارِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔سوبار ہوشیار۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ فراڈ ہیں۔

 یہ آپ سے سب پہلے تین چار سو یور بنیادی انویسٹمنٹ کے نام پر اپنے ادھر منتقل کرولیں گے اور پھر آپ انکو ڈھونڈتے رہو، آپ ایک دفعہ انکو فون کرلو، یا اپنا نمبر دے دو کسی طریقہ سے، بس پھر آپ کو یہ کال پر کال، انکی اٹالین بولنے سے میرا اندازہ ہے کہ یہ لوگ رومانیہ یا البانیہ وغیرہ کے ہیں۔ آپ کو پہلی کال میں ہی ٹرانزیکشن کروانے کا کہیں گے۔ اپنا دفتر میلان یا کسی بڑے شہر میں بتاتے ہیں مگر آپ وزٹ کرنا چاہیں تو پبلک کےلئے کھلا نہیں ہے، کسی بندے سے ملنا انکی پالیسی میں شامل نہیں، بس فون سنو ایی میل ریسیو کرو اور پیسے دو۔


 فیر ہاتھ لگا لگا کر دیکھ کہ اے کی ہویا

مکمل تحریر  »

ہفتہ, جنوری 12, 2013

مولبی قادری، اللہ نہ کرے


مولبی ظاہر القادری المعروف کینیڈین مولبی،  کا مارچ ادھر اسلام آباد میں۔

انڈین بارڈر پر گزشتہ دنوں سے فائرنگ کا تبادلہ ، جھڑپیں اور  دونوں طرف  ،  زخمی و  ہلاکتیں

شہر کا انتظام سیکورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔

انڈین وزیر اعظم نے پاکستان  آنے سے انکار کردیا۔

طاہر القادری  کہتا ہے کہ اسلام آباد میں اکڑی ہوئی گردنیں جھکا دیں گے۔  مطلب زور آزمائی؟

پاکستان میں حکومت کے اعلان کہ سڑکوں پر لوگ غیر ضروری طور پر نہ جائیں،  جنازہ اجازت لے کر پڑھیں،  اسکول بند، 
ہسپتال جانا ناممکن۔

پورے ملک میں گیس، پیٹرول ، بجلی بند ،مطلب مکمل بحران۔

انڈین ائرفورس کے کمانڈر انچیف کا بیان کہ جوان تیار ہوجائیں، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

یہ ساری خبریں ہیں جو کل اور آج  کی ہیں، میرا دل دھڑک رہا، کہیں ایسے تو نہیں کہ ان مولبی جی کو باقاعدہ تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کو بھیجا گیا ہو۔ کہ آپ اسلام آباد کو جام کرو، انتظامیہ کو مفلوج کرو۔  ادھر سے انڈین ایئر فورس  کا آپریشن ہو، دوسری طرف سے امریکی اور نیٹو کا افغانستان  سے۔  اور  پھر دنیا کی تاریخ تبدیل

نہیں ایسا نہیں ہوسکتا،  اللہ نہ کرے،  اللہ پر بھروسا رکھو جی،  ہاں اللہ پر ہی بھروسا ہے،  ورنہ ہمارے لوگ تو اپنی کشتیاں جلا چکے۔

اللہ نہ کرے  ایسا کچھ ہو۔ اللہ نہ کرے۔   اللہ کرے  یہ وقت خیریت سے گزر جائے۔




مکمل تحریر  »

جمعہ, جنوری 04, 2013

شیخ الاسلام اور سنیارا


شیخ الاسلام   ایک جناتی لفظ ہے، میں ا سکی تاریخ تو نہیں جانتا  اور نہ ہی جانناچاہتا ہوں، یہ کب سے شروع ہوا ، اس سے مجھے کوئی علاقہ نہیں، اور نہ ہی یہ سمجھ سکا کہ یہ لقب یا عہدہ لینے کےلئے کیا کولٹیفیکشن ہے اور کس کی طرف سے ملتا ہے ، مگر اسکا حال مولبی طاہر القادری ہے۔ آج کل ہر طرف  جن کا چرچا چل رہا ہے،  چاہے وہ ٹی وی  ہو یا بیوی،  دونوں طرف مولبی جی کا ذکر ہورہا،  یارلوگ انکا پرانا کچھ چٹھا بھی کھول  لائے، جو دور کی کوڑی لانے والے تھے وہ  انکے خوابوں والی ویڈیو بھی گھسیٹ لائے۔  اردو میں اور بیان اور انگریزی میں کچھ اور کہنے والی ویڈیو تو زبان زد عام ہیں ، بلکہ روز ہی سوشل میڈیا پر کھومتی گھماتی مل جاتی ہے، اسکی تردیدی ویڈیو بھی مگر۔ " کمان سے نکلا ہوا تیر، زبان سے نکلی ہوئی بات اور ریکارڈڈ ویڈیو "  ، تینوں کی واپسی مشکل ہے۔  23 دسمبر سے آج تک ان کی ہر بات اور ہر بدلا ہوا بیان عوام کی نظر میں ہے، اور  سوشل میڈیا کی عوام بال کی کھال اتار رہی، اب تو  حال یہ ہے کہ انکے حواری  14 جنوری کو اسلام آباد چلو لکھتے ہیں تو انکے اوپر ہونے والے کمنٹس مخالفت میں ہوتے ہیں۔

 ویسے یہ جو مخالفین ہوتے ہیں یہ بندے ٹھیک نہیں ہوتے،  انہوں نے ہر بات  میں تنقید کرنی ہوتی ہے، کیڑے نکالنے ہوتے ہیں،   میں ذاتی طور پر مولبی جی  مطلب حضرت شیخ الاسلام  کے بیانات کا حامی ہوں، باتیں وہ  ٹھیک کرتے ہیں، مگر انکی ذات اور انکا مقررہ وقت میرے بھی خیال  شریف میں کسی بڑے گھن چکر کا  حصہ ہے اور کسی بڑی سازش کا حصہ۔

ابھی آپ پریشان ہونگے کہ شیخ الاسلام اور سنیارا  جسے اردو میں سنار  کہتے ہیں کا کیا جوڑ ہوا، تو اس بارے  میں دور کی کوڑی ہماری ہمشیرہ لائی ہیں،  سادی بندی اور گھریلو خاتون،  عورت عورت ہوتی ہے، اس کی نظر زیورات پر ہی ہوتی ہے، حضرت شیخ الاسلام  کے اپنے بقول " عورت کو زیورات اپنے شوہر اور بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہوتے ہیں"۔
 
کہنے لگیں کہ:   "پتہ ہے اس شیخ الاسلام نے  ان بچاری عورتوں کے زیورات کیوں چکر دے کر اتروالئے؟" لانگ مارچ اور دھرنے کے اخراجات کو،   " نہیں جی، یہ چکر نہیں ہے، لانگ مارچ اور دھرنے اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں  مگر وہ تو زیورات نہیں مانگتے رہے، ویسے بھی پیسے تو یہ ادھر کینڈا، امریکہ ، یورپ سے لے کر آیا ہے،  ان کی اسے ضرورت نہیں۔"       اچھا تو پھر آپ  بتاؤ کیا چکر ہے؟     "  سادیو، شیخ  الاسلام ہے  ناں اور آپ کو پتا ہے کہ جہلم میں  شیخ  جتنے  ہیں وہ سارے سنیارے ہیں،   اور سنیارا تو پھر زیورات کی طرف ہی للچائے گا،  سچ ہے کہ سنیارا سنیارا ہی ہوتا ہے، چاہے وہ سنیارا بازار کا شیخ ہو یا پھر  سلام کا شیخ۔ " 

سادی بندی ہے، سادی ہی بات کرے گی تو، کتنی بار کہا ہے کہ وہ شیخ الاسلام ہے ، سنیارہ بازار کا شیخ نہیں، مگر نہیں  اسکے بقول سنیارہ سنیارہ  ہے اور سنیارے  کی نظر زیورات پر ہی ہوگی، اور اس نے اب کی بار دھروا لئے زیورات پھر، اب ایک تو باہر سے لائی گئی دولت اور مال کے  حساب دینے سے خلاصی، دوسرا سنیارے کے دل کو سکون، کہ یہ مال و زیورات منافع مزید۔


مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش