ہفتہ, دسمبر 14, 2013

لعین کافر، شہید اور بے کار قوم

آپنی مسلمان قوم اور بلخصوص پاکستانی مسلمان آجکل ایک عجیب مخمصے کا شکار ہے، ایک شاہی درجہ کا کنفوزن، کہ انکو خود ہی سمجھ نہیں آتی کہ کیا کررہے  ہیں ، اور کیوں؟؟

دوسروں پر لعنت کرنا عام ہوگیا ہے وہ بھی اتنا کہ لگتا ہے کہ یہ لعنتوں کا دور ہے، جبکہ دوسروں کو کافر قراردینا بھی تقریباُ فرض تسلیم ہوچکا، محرم کے دنوں میں بہت سی ویڈیوز چل رہیں تھیں ادھر، جن میں شعیہ حلیے کے کچھ لوگ لعنتیں برسا رہے تھے، فلاں پر لعنت بے شمار، اس میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین کو بھی نہیں چھوڑا، اسی طرح کا حملہ انکی مخالف سنی پارٹی کی طرف سے بھی جاری تھا۔ محرم کے دن گزرے تو اس طرف سے کچھ سکون ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پنڈی میں بندے مرے، اور پورا ملک کئی دنوں کےلئے بند ہوگیا۔ معیشت جو پہلے ہی سے زبوں حالی کا شکار تھی اور پتلی حالت میں ہوگئی۔ 

اسکے بعد پھر شہید ہونے کی فلم چل گئی، کہ فلاں شہید ہے فلاں شہید نہیں ہے، فلاں کی شہادت قبول ہے فلاں کی شہادت صحیح تو طالبان کی ہے، فوجیوں کی شہادت صحیح نہیں ہے۔ مسجد میں پھٹنے والا خود کش بمبار تو شہید ہے مگر نمازی نہیں ہیں، نہ جی ایسا نہیں ہے نمازی شہید ہین اور خود کش بمبار جو اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر پھٹا تھا وہ شہید نہیں ہے۔ اب کچھ دن ہوئے ادھر سے ٹھہراؤ آیا۔ کچھ دن آرام کے گزرے

مگر اب پھر قادیانیوں پر لعنت اور انکو کافر قرار دینے کا سلسلہ شروع ہوگیا، کہ یہ لعین ہے، یہ ملعون ہے، اس  پر اللہ کی لعنت وغیرہ وغیرہ قادیانیوں کی ایسی کی تیسی، انکی ناس ماردی جائے، مرزا قادیانی ٹٹی خانے میں گر کر مرگیا، لاحول ولا قوت الاباللہ، خیر مرگیا۔ جیسے سب مرجاتے ہیں، جو مرگیا وہ مرگیا۔

یہ سب ایسے ہے  اور رہے گا کیوں کہ، کیونکہ ہم لوگ فساد اصل وجہ تلاش کرنے کی بجائے اور اسکےلئے عقل استعمال کرنے کی بجائے لعن طعن اور کافر کافر کے میٹل ڈیٹیکٹر سے کھوتے کی تلاشی لے کر اپنا وقت ضایع کررہے۔  

عبدالقادر ملا بنگلہ دیشں میں سزائے موت کے حقدار قرار پائے، اور انکو پاکستانی فوج کے حمایت کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔  

 عمر انکی اچھی خاصی تھی، اگر ان کو اب پھانسی نہ دی جاتی تو بھی وہ عمررسیدہ بندہ اپنی طبعی موت مرجاتا چند برس بعد سدا تو کسی کو ادھر رہنا ہے نہیں۔    اللہ کی شان ہے اج بیالیس سال بعد بھی انکو انکے کاز کےلئے قربان ہونے کا موقع دے دیا گیا، اللہ میاں انکی شہادت کو قبول کرے اور انکے درجات بلند فرمائے۔ 

اس واقعہ میں ایک المیہ بھی ہے اور ایک سبق بھی، 
المیہ یہ ہے کہ انکو پھانسی دینے والے انکے اپنے ہم وطن تھے، وہ لوگ جنکی پارلیمینٹ کے وہ دو بار رکن رہے۔ مگر انکو پھر بھی غدار تسلیم کیا گیا اور اور لیتے دیتے لٹکا دیا۔ اب اس پھانسی سے جو چالیس برس پہلے ہوا اسکو تو تبدیل نہین کیا جاسکتا، ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ مگر اسکے نتیجہ میں بنگلہ دیشں پورے کا پورے بند ہوگیا، کاروبار زندگی معطل ہوگیا۔ اسکی معیشت پہلے ہی بس اچھے سانس ہی لے رہی تھی، اب یہ نقصان بھی برداشت کرے گی۔ 

سبق یہ ہے کہ اپنے کاز پر ڈٹے رہو، نتائج سے بے پرواہ، جیسے عبدالقادر ملا ڈٹے رہے پاکستان کے کاز کا ساتھ دینے پر، ایسے ہی پاکستانیوں کو بھی اب ڈٹ جانا چاہئے پاکستان کے کاز کےلئے کہ یہ ایک فلاحی اسلامی جمہوریہ ہے، فلاح کا کام ہم خود کرسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہوئے۔ اسلامی ملک بھی ہے، اللہ کے کرم سے پاکستانی لوگ بہت اچھے مسلمان ہیں اور باکردار بھی۔ جمہوریہ والا کام ایک مسلسل پراسس ہے اسکے چلنے سے ہی فلٹر ہوگا اور بہتری آئے گی، اچھے لوگ آگئے آئین گے۔ اور برے باہر ہوتے چاہیں گے یا تائب ہوجائین گے۔ 

مورال۔ 
اب ہمیں بحثیت قوم زبانی لعن طعن سےباہر نکلنا ہوگا۔ اگر قادیانی لعین ہین، اگر شعیہ کافر ہے اگر خودکش بمبار شہید ہے اور اگر یہ سب نہیں بھی ہے تو اس سے کسی کو کیا فرق پرے گا۔ کچھ بھی تو نہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم لوگ ایک قوم بنیں اور زندگی کی عملی دوڑ میں شریک ہوں، نہیں تو ڈرون حملے جب اب وزیرستان تک ہیں کل  کو کہیں اسلام آباد تک بھی نہیں پہنچ جائیں۔

نہیں نہین ایسا نہیں ہوسکتا، میرے منہہ میں خاک پاکستان کو کچھ نہٰں ہوسکتا، چاہے ہم کچھ کریں یا نہ کریں، ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں اللہ ہے ناں، پر سوال یہ ہے کہ اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو اللہ کو ہم سے پوچھنے کی کیا پڑی کہ وہ کیا چاہتے ہے، اب خدا ہر بندے سے تو نہیں پوچھے گا کہ بتا تیری رضا کیا ہے۔ اس مقام پرپہنچے کےلئے خودی کو بلند کرنا پڑے گا۔ 

6 تبصرے:

  • گمنام says:
    12/14/2013 12:16:00 PM

    "ایسے ہی پاکستانیوں کو بھی اب ڈٹ جانا چاہئے پاکستان کے کاز کےلئے کہ یہ ایک فلاحی اسلامی جمہوریہ ہے،"


    yeah Italy main beth kay datay rehna hai? doosroon ku nasihat khud mian fasihat?

    Punjabi lagtay hu raja ji apni batoon say..batain aasman taka ur amal zameen jitna bhi nahin..

  • گمنام says:
    12/14/2013 12:17:00 PM

    " نہیں تو ڈرون حملے جب اب وزیرستان تک ہیں کل کو کہیں اسلام آباد تک بھی نہیں پہنچ جائیں۔"

    huna chaheeay..Islamabad aur Lahore main bhi buhut Taliban parast rehtay hain

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    12/14/2013 12:19:00 PM

    جی ہم تو اپنا کام کررہے، ہر ماہ زرمبادلہ دھڑا دھڑ بھجوا رہے، سب ایک ہی کام تو نہیں کرسکتے، ہماں ہم زرمبادلہ والے محاذ پر لڑرہے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔ اپنی محنت اور شب وروز کی تگ و دو سے، اور الحمدللہ ادھر رہ کر بھی پاکستانی ہی ہیں ادھر کی ایک چڑی بھی مرے تو اپنا دل دکھی ہوتا ہے

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    12/14/2013 02:35:00 PM

    راجہ جی ۔ بہت اچھا لکھا ہے ۔
    یہ بے نام صاحب اپنا نام لکھنے کی جراءت تو رکھتے نہیں دوسروں میں کیڑے نکال رہے ہیں

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    12/14/2013 02:52:00 PM

    جناب بہت شکریہ، یہ ہماری بے قومی بے عملی کا ہی نتیجہ لگا سب مجھے تو، باقی جتنا میں عقلمند ہون یہ اطہر من اشمس ہے، بے نام صاحب نے وہی لکھا جسے بارے وہ سوچنے ہین
    اور میں نے وہ لکھا جو میں سوچتا ہوں

  • noureen tabassum says:
    12/15/2013 04:13:00 AM

    "حق بات بھی کہنا اور دل آزاری سے بھی بچنا ضروری ہے"
    بہت اچھی طرح آپ نے دل کی بات کی جو ہر صاحب دل کی آواز ہے لیکن کیا کریں پڑھنے والے بھی پاکستانی ہیں کہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانا شاید ہم سب کا مذہبی فریضہ ہے۔ ہر ایک اپنے حصے کا کام کرتا ہے ۔ڈٹے رہیں جہاں بھی ہیں۔ یہ اُمیدیں ہی ہمیں نئی زندگی دیتی ہیں۔ آپ کا "سبق" واقعی یاد کرنے کے لائق ہے لیکن اگر یہ سبق کوئی غیرملکی دیتا تو فوراً نقالی کرتے بس یہی ہمارے زوال کا سبب ہے۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش