بدھ, اگست 14, 2013

جشن آزادی 2013 مبارک



چونکہ اب رات کے ہمارے ادھر بارہ بج چکے ہیں تو کمپوٹر نے وی تاریخ بدلی کردی ہے، مطلب چودہ اگست ہوئی، سن سنتالی سے لیکر سنا ہے منارہے ہیں، مگر ہمیں بھی کوئی 30 برس باہوش ہوگئے تب سے کی تو پکی گواہی ہے، جلسے، جھنڈیاں، تقریریں، سب یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے دیوانے ہیں، 

سربراہاں مملکت کی تقریریں، قوم سے خطابات پہلے بھی ہوتے رہے اور کل بھی ہوگا، شاید نواز شریف کرے گا۔  وہی بڑی بڑی باتیں ہونگی، بلند بانگ قسم کے دعوہ جات اور حال جو ہے وہ آپ کے سامنے ہے، ہمارے ساتھ کے حالات یا بدتر حالات والے ممالک میں چین اور انڈیا کے نام گنوائے جاسکتے ہیں، ایران کو دیکھا جاسکتاہے، ملائشیا و انڈونیشیا وغیرہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر 

مگر یہ کہ آپنا ایک قدم پیچھے کوئ ہی آرہا ہے، امریکہ نے کہا تھا کہ میں تھمیں پتھر کے زمانے میں پہنچادوں گا، تو انہوں نے ذرداری بھٹو اینڈ کو ہمارے اوپر مسلط کرکے وہ کام کردیا، آج ملک میں نہ امن ہے نہ امان، نہ بجلی نہ پانی، سفر کی سہولیات، ہوائی ریلوئے اور جہاز رانی بیٹھ گئی ہے، اسٹیل مل سے لیکر چھوٹے ادارے تک خسارے میں ہیں گوڈے گوڈے


میں بندہ قنوطی نہیں ہوں یہ تو نہیں کہہ رہا کہ نئی حکومت کل ہی یہ باندر کلے باندھ دے، مگر کچھ نہ کچھ کرتے تو نظ آئیں، بہت سے کام ہونے والے ہیں جو گزشتہ 18 برس میں انفراسٹرکچر کی ترقی رکی ہوئی ہے وہ بحال کرنا ہوگا، ادارے بنانے ہونگے۔ 

ابھی ہماری حکومت چاہے وہ مرکزی ہے  کہ خیبر پختون خواہ کی یا بلوچستان کی وہ اپنی گڈ ول شو کررہی ہیں، رہی بات سندھ میں تو وہاں وہ پرانی چوولیں ہی ہیں، جو برسوں سے اقتدار اور حکومتی پارٹیوں سے چمٹ کر اپنے وزراء بنوا کر انقلاب کا نعرہ لگاتے ہیں
نئی مرکزی و صوبائی حکومتوں کو چاہئے نہیں بلکہ ان پر فرض ہے کہ وہ فوراُ عوامی فلاح اور ملکی بہبود کے کام کریں، فیصلے مشکل بھی لینے ہونگے، قوم پر بوجھ بھی ڈالنا ہوگا۔ قوم بوجھ اٹھائے گی بھی، مگر کچھ ہوتا ہوا تو دکھے، ایک قومی پالیسی سامنے آئے، اور ساری جماعتیں بلکہ آنے والی حکومتیں تک اسی پر چلیں جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ وللہ 

یاد رہے پی پی کو صرف ووٹ نہیں ملے اور اسکا بمعہ اے این پی اور ایم کیو ایم دھڑن تختہ ہوا ہے، اور اگر ان حکومتوں نے ڈیلور نہ کیا، کچھ کر نہ دکھایا تو عوام اب کو کھانے والی جگہ پر بھی ماریں گے اور تشریف پر بھی چھترول ہوسکتی ہے، کچھ سیاہ ست دان ٹنگے بھی جاسکتےہیں، تو مشتری ہوشیار باش، پھرنہ کہنا خبر نہ ہوئی۔ 

رہی بات ملک دشمنوں کی تو انکو معلوم ہوجانا چاہئے کہ پاکستان کوئی کاغذ کی پتنگ نہیں ہے جو بو کاٹا ہوجاوے گی، چاے وہ آزادی کے دنوں کی ریشہ دوانیہ ہوں اور بیانات کہ یہ ملک تو ایک برس نہیں چل سکے گا یا اکتہر کی خباثت، کارگل کا پنگا اور مشرف کا ڈرامہ ہو یا نیو ورلڈآرڈر کی ریشہ دوانیہ مگر پاکستان ہے اور رہے گا۔ 

ایک طرف ہم نے سپریم کورٹ، فوج اور نادرہ جیسے ایکٹو اور کارکردگی والے ادارے بنا لئے ہیں تو دوسری طرف دفاع کی فل تیاری ہے۔  اب وقت ہے کہ سیاہ ست دان بھی سیکھ لیں پارلیمان بھی ایک ڈیلیور کرنے والا ادارہ بن جاوے تو فیر ستے ہی خیراں ہیں جی


سب کتا کھائی اور چوول خانے کے سب کو جشن آزادی مبارک، ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی دعا کے ساتھ، اور امن و امان کی تمنا کے ساتھ

2 تبصرے:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش