اتوار, نومبر 11, 2012

ایک معجزہ قرآن کا


چونکہ ہم مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ، لہذا جبری مسلمان قرار پائے۔  جبری یوں  کہ، پیدا ہوئے اور دادا جی نے کان میں اذان انڈیل دی۔ کہ چل بیٹا  ساری زندگی مولبیوں کو سنتا رہ، بولنے کے قابل ہوئے تو  انہوں نے کلمہ پڑھادیا ، مطلب پکا مسلمان،  اور ہم نہ جانتے ہوئے بھی   "کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور محمد اللہ   کے رسول  ہیں"۔  ہم کہتے رہتے اور دادا جی خوش ہوتے رہتے،  چلنے کے قابل ہوئے تو انہوں نے ایک ہاتھ میں اپنی لاٹھی لی  اور دوسرے میں میراہاتھ تھامے مسجد لےگئے۔   لو جی پکے مسلمان۔  پھر اسکول میں  بھیجنے سے پہلے مسجد   "قرآن " پڑھنے کو بھیج دیا۔  اور ہم حافظ جی کی طرح پورا قرآن پڑھ گئے بغیر سمجھے، پھر اسکول میں اسلامیات  کی کتاب   پر رٹا مارتے رہے، آیات اور احادیث  یاد کرتے رہے، تاریخی واقعات رٹتے رہے۔ یوں ہم  پکے مسلمان ہوگئے بلکہ کچھ کچھ حافظ جی بھی، کہ کچھ آیات زبانی یاد تھیں اور کئی کے ترجمے بھی۔  بلکہ ایک بار تو ریش مبارک بھی رکھ لی تھی۔ پھر  دادا جی نے جھاڑا  کہ " اتنی مسلمانی بھی اچھی نہیں"   ابھی میں ہوں ناں باریش گھر میں،   بس ایک میان میں دو تلواریں نہیں ہوسکتیں،   اور ہم نے دھاڑی منڈوادی، ویسے بھی کالج میں قاری صاحب  کہلوانا اچھا نہ لگتا تھا۔

پاکستان میں ہمارا  کل اسلام نماز جمعہ اور مولبی کی تقریر کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ مطلب مسجد سے باہر اسلام کاکوئی کام نہیں ۔ قرآن صرف صبح پڑھ لینا کافی ہے۔ مطلب کلام پاک کی تلاوت۔   اور بس، اسکے معانی پر اور مفہوم پر کبھی غورکیا بھی نہیں، ویسے بھی بزرگوں سے یہی سنا کہ دین کے معاملات میں زیادہ غور نہیں کرنا چاہئے۔ البتہ  قرآن کے سارے معجزے ہمیں زبانی یاد ہیں، چاہے وہ یوسف ؑ  کو کنویں میں ڈالنا یا نکالنا ہوا ، یا ابراھیمؑ کی آگ کا واقعہ، یا پھر  موسیٰؑ کا  اور فرعون کا قصہ۔

اسکے علاوہ ہمیں قرآن میں سے سارے ورد وظیفے بھی یاد ہیں جو مختلف مواقعوں  پڑھنے ضروروی ہیں اور کماحقہ ان سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔اور ہمارا ایمان ہے کہ چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو اسکا حل ادھر موجود ہے۔ اب ہمیں نہ ملے تو  ہماری کم علمی اور کم عقلی۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ ہماری پوری قوم کو اب تک مسائل کا حل نہیں مل سکا ، اسکا ثبوت   مسائل کی موجودگی ہے۔

کل شام کو ایک  کتابوں کی دکان میں  بہت عرصے بعد گھس گیا، پرانا شوق  پورا کیا ،  کتابی دیکھیں، کچھ نئی، کچھ وہی پرانی، سدا بہار،رومانس، تاریخ، سیاست، بچوں کے کارٹون ،   سیاحت، نفسیات ، جادو ٹونے ،  معالجات و صحت اور مذہب و ایمان،  اس ضمن میں جو بات میرے دل  میں گھس گئی کہ قرآن مجید کو سب سے اوپر والی شیلف میں رکھا گیا تھا۔ جبکہ دکان اٹالین ہے اور اس حصہ میں بائبل سے لیکر عیسائیت  پر بیسیوں  کتب پڑی تھیں ،  مگر حیرت کی بات کہ قرآن شریف کو سب سے اوپر رکھا گیا، گویا سب سےمقدس صحیفہ یہی ہے۔ اور سب سے اہم  بھی۔ مجھے تو یہ بھی قرآن کا ایک معجزہ لگا۔ اور ایمان تازہ ہوگیا۔

وللہ اعلم





مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش