منگل, اگست 28, 2012

سردیاں اور کالی مرچیں

لوجی گرمیاں ختم اور موسم خزاں کے پہلے جھونکے شروع،  کل پرسوں سے ہی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ،  کل ہم نے پنکھے بند کردیے اور آج رات کو حسب معمول بغیر چادر کے سوئے، صبح جسم اکڑا ہوا تھا،  پس سحری کےوقت چادر لی تو دو تین گھنٹے بعد جسم تھوڑا گرم ہوا مگر ابھی تک  دکھ رہا ہے، گویا کسی نے خوب دھن دھنا دھن کرکے ہمارے دھنائی کی ہو۔ پاکستان فون کیا تو پھوپھو کہہ رہی تھیں پتر تیرا تو گلا خراب ہویا ہوا ہے،  بس کالی پتی کے قہوہ میں کالی مرچیں ڈال کے پی لینا  اور انڈا ابال کر کھا لینا۔
اب انکو کون بتائے کہ بزرگو انڈا ابال کر کھالیا تو یورک ایسڈ کے بڑھ جانے سے جو درد ہوگی وہ کون بھگتے گا، ہیں جی
                                                                                                 پر بزرگ جو بھی کہتے ہیں چپکے سے مان لینا چاہئے، ہیں جی
نہیں تو سننے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، ہیں جی
وہ بھی تو ہمارے بھلے کوہی کہہ رہے ہیں ، ہیں جی

مکمل تحریر  »

سوموار, اگست 27, 2012

چلتے یونان کو

ملک یونان سے ہماری واقفیت مرحلہ وار ہوئی تو اس کو اسی تربیت سے بیان کیا جاتا ہے 


حکیم محمد یوسف  (یونانی)
یونا ن سے ہمارا واسطہ حکیم محمدیوسف  (یونانی)  آئمہ پٹھاناں والے کے مطب پر لکھی تختی سے ہی ہوتا تھا، ادھر بھی ہمارا جانا تب ہی ہوتا جب بھینسیں گم ہوجاتیں اور ہماری ڈیوٹی ادھر شمال کو ڈھونڈنے  کی ہوتی، گزرتے ہوئے اگر حکیم صاحب جو نہایت نیک صورت و سیرت بزرگ تھے  باہر سڑک پر دھوپ سینکتے نظر آجاتے ،   تو ان سے پوچھ لیتے کہ حکیم صاحب سلام، کہیں آپ نے ہماری مجھیں تو ادھر جاتی نہیں دیکھیں، باوجود اس کے کہ ہمیں انکا جواب معلوم ہوتا کہ : " پتر میں تو ابھی ایک مریض کو چیک کرکےنکلاہوں"۔

اسکندر اعظم عرف سکندر یونانی
اس شخصیت کے بارے ہمیں  اپنے  چڑھتی جوانی سے پہلے ہی علم ہوچکا تھا، میاں لطیف صاحب  اکثر جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے   نعرہ مارتے " گیا جب اسکندر اس دنیا سے تو اسکے ہاتھ خالی تھے"  تب ہم میاں جی کے علم کے اور انکے پہنچے ہوئے ہونے کے" فل  "قائل تھے ، پھر یہی نعرہ ہم  نے بعد میں بھیک شہر میں بھیک مانگنے والوں سے بھی سنا تو وہ بھی بہت دور تک پہنچتے ہوئے لگے جبکہ ہم بھی ان سے دور رہنے کی کوشش کرتے۔  ہمارے پنڈ کے تاریخ دان بابوں کا  خیال تھا  بلکہ سرٹیفائیڈ بات تھی کہ اسکندر اعظم کی فوج نے جو دریائے جہلم عبور کیا راتوں رات تو ہو نہ ہو، یہ  ہمارے گاؤں  کے مقام سے تھا اور اس میں لازمی طور پر ہمارے گاؤں والوں کی ملی بھگت بھی رہی ہوگی،  جبکہ ہمارے دوست غ کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے جب ماسی ضہری ادھر  گلی میں سے ککڑ تو گزرنے نہیں دیتی ، کوئی ڈیڑھ سوگالی ہمیں دیتی ہے اگر دن میں دوسری بار ادھر جاتے دیکھ لے تو،  پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اسکندر یونانی ادھر سے نکل لیا ار ماسی ضہری کو پتا نہ چلا، اسلئے یہ سب بکواس ہے، بابا لوگ ایویں ہی اپنے نمبر ٹانگ رہے ہوتے ہیں،   پھر اسکے ساتھ فوجی بھی تھے،  فوجیوں کی ایسی کی تیسی جو ہمارے ادھر سے گزریں بھی ، انکوپتا ہے کہ یہ علاقہ" آوٹ آف باؤنڈ " ہے

حکمت یونانی
یونانی حکمت  کا ہم تب علم حاصل ہوا جب  علم معالجات پڑھنے کی ٹھانی، کہ یہ علم طب کی وہ قسم ہے جس کو یونان نے بہت فروغ دیا، پھر ادھر سے عربوں تک پہنچا اور پھر ادھر ہمارے پاس، اس علم میں چار علتیں بیان کی جاتیں : خون، سودا، صفرا  اور بلغم اور علا ج بلضد کے طور پر معالجات  ہیں ابتداء میں جڑی بوٹی اور پھر مختلف معدنیات وہ زہریں  استعمال ہوتیں،  ہمارے لئے دلچسپی کاباعث  "کشتے  " ہوتے ، جی بلکل وہی  والے جو " بوڑھے کو جوان  اور جوان کو  فٹ " کردیتے ہیں۔مگر ایسا کشتہ بیچنے والے تو بہت ملے مگر بتانے والا کوئی نہ ملا، اگر کوئی حکیم تب بتادیتا تو ہم بھی " دکان بڑھاجاتے"۔

مولبی انور حسین قادری
یہ مولبی جی سرائے عالمگیر سے آتے تھے اوراپنے سفید کرتے پاجامہ اور سبز پگڑی  پھر لہک لہک کے نعتیں گانے کی وجہ سے ہمارے گروپ میں فل مشہورتھے بلکہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتے، اندر سے پورے لچے اور تاڑو تھے جبکہ اوپر سے بہوت شریف ، انکی ہمارے مشٹنڈا گروپ میں شمولیت ہمارے لئے انتظامیہ  کی نظروں میں شریف بننے کی ایک کوشش تھی۔ تیسرے  درجے میں  جب ہم پہنچے تو ایک دم سے مولبی جی غائب ، معلوم ہوا کہ یونان چلےگئے، ان ہی دنوں یہ خبریں آنے لگیں کہیونان کے ذریعے  ایجنٹ یورپ میں پہنچاتےہیں،  بس بندہ کسی طریقہ سے ترکی پہنچے تو ادھر سے یونان اور پھر یورپ کی اینٹری، ہیں جی۔اور ادھر یورپ میں گوریاں، پس مولبی جی قسمت پر رشک کرتے ، ہیں جی ،  کہ لٹ موجاں گئے ہیں یہ مولبی جی تو، ہیں جی

چلتے ہو تو یونان کو چلئے
اٹلی آکر احباب  سے علم حاصل ہوا کہ ہمیں یونان پہنچنا چاہئے۔  اسکی دو وجوہا ت  تھیں  ہمارے لئے، مولبی جی  کے علاوہ  ایک تو یہ کہ ہمارے ہیلنک ہومیوپیتھیک میڈیکلایسوسی  ایشن کا  کورس اور دوسرے ادھر کاغذ کھلے ہوئے ہیں، مطلب پھر ہم ویزہ  کے جنجھٹ سے آزاد ہوجائیں گے۔ تو بس جناب پہنچ گئے ادھر کو یوں  مارچ  1998 کو،  اب ادھر اپنے جاننے والے تو کافی تھے،  ہمارا کام ہوتا پڑھنا اور فارغ رہنا، پھر کاغذوں کی فکر ہوئی تو جانے کیسے کچھ جاننے والوں نے ایک دن ایک سفید کارڈ ہمارے ہاتھ لا کر دے دیا کہ جی آپ کی  "سفید خرطی بن گئی" اور ہم اسی پر خوش،  اس کے بعد سبز ہوئیں گی اور پھر آپ ادھر پکے،  ہائے ہائے کیا دن تھے ہیں جی،  دن بھر ادھر انگریزی بولو، شام کو ہیلنااسپرانتو ایسوسی ایشن کے کسی  پنچ ست ممبران  کے ٹولے کے ساتھ گپیں اسپرانتو میں اور پھر رات کو ڈیرے پر آکر پنجابی بولو، ہیں جی،  البتہ تب  کچھ کچھ چیزیں یونانی زبان کی بھی سمجھ آتیں ، جن میں  "مالاکا " اور "ماگا" کے دوالفاظ ہمارے کانوں میں اکثر پڑتے اور پھر تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ دونوں گالیوں کے زمرے میں آتے ہیں ،  پس ہم نے بھی یونانی زبان صرف گالیوں کی حد تک ہی سیکھی ، اب ایسی بھی کوئی بات نہیں کہ ہمیں صرف دو گالیاں ہی یاد تھیں، یاد تو بہت سی تھیں مگر اب یہ دو ہی دماغ میں رہ  گئی ہیں۔

پھر جناب ادھر جون اور جولائی کے دن اور بیچز "کالاماکی " کے اور ہم ،  ایک پرانی جینز کا کاٹا اور ادھر گھٹنو ں تیک اور پھر پورا  دن لگا کر اسکے دھاگے نکال کے "پھمن " بنائے اور نیچے نائیک کے کالے جوگرز ، اور  رے بین  کی عینک زیب تن کئے ہم ادھر امونیا اسکوائیر سے کالاماکی تک پھر تے کئے،  تب یونانی دیویاں  غیر ملکیوں پر اتنی کرم نواز نہیں تھیں۔  بس دور دور ہی رہتیں اور ہم راجہ اندر کی طرح اپنی کورس میٹس میں نہایت شریف اور مسلمان ہونے کے گھرے رہتے ۔  ہیں جی، کبھی کبھی  شریفت کا حجاب بھی بندے کو کھجل کرکے رکھ دیتا ہے۔  

مولبی انور قادری کوبھی ادھر ڈھونڈھ نکالا مگر معلوم ہوا کہ یہ بندہ کسی کام نہیں رہا، ادھر آکر پکا مولبی ہوگیا ہے اور یہ کہ مسجد سے باہر کسی سے ملتا ہی نہیں، کام اور پھر مسجد، گویا انک کی کایا کلپ ہوگئی ہے۔ ہیں جی

ویک اینڈ  کا مزہ
ادھر سمجھ آئی کہ وییک اینڈ کیا ہوتا ہے، ملازمین کو تنخواہ جمعہ کی شام کو ملتی اور اگر ہفتہ کو کام نہیں کرنا تو بس پھر آپ کا ویک اینڈ شروع، آپ کی جیب میں کوئ پچیس تیس ہزار درخمے پڑے ہیں جو عوامی تنخواہ تھی تو پھر  کرو موجاں، یار لوگ جمعہ کی شام کو ہی  بئیر کے گلاس پر "پارئیا" کرنے مطلب گپ لگانے چلے جاتے اور رات کو دو دو بجے لوٹتے ، جو ہفتے کو کام کرتے وہ ہفتے کی شام کو نکل لیتے۔

بتی والا گھر
ہماری یاری چوہدری رمضان کے ساتھ تھی کہ ہمارے ساتھ کے پنڈ کا تھا اور جب پاکستان میں تھا توہماری زمین میں ٹریکٹر سے ہل چلایاکرتا تھا، جانے کب ادھر کو نکل آیا،  ایک دن جمعہ کی رات کو ٹن ہوکر آیا تو کہنے لگا : :ڈاکٹر آپ بتی آلے گھر گئے؟" نہ چوہدری وہ کیا ہوتا ہے اور کدھر ہوتا؟  لو  دسو آپ کو بتی آلے گھر کا نہیں پتا ، ایسا نہیں ہوسکتا،   وائی کسمیں چوہدری نہیں پتا،  میں ماننے والا تو نہیں مگر آپ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں ، بس آپ کل تیار ہوجاؤ صبح ہی اور ہم نکل لیں گے، مگر کسی کے سامنے نام نہ لینا، اب اتنے مولبی تو ہم بھی نہ تھے سنا ہوا تو سارا کچھ تھا، پس کل کا پروغرام دماغ میں لے کر سورہے۔

دوسرے دن "ارلی ان دی مارننگ" مطلب کوئی گیارہ بجے آنکھ کھلی ، اور ناشتہ ، اگلے ہفتے کی خریداری، تین بجے فارغ ہوکر ، رمضان نے آنکھ ٹکائی کہ نکل ، اور ہم جو دیر سے اس لمحے کو "اڈیک" رہے تھے  پس نکل لئے، آج ہمارے دل میں چور تھا۔  ہیں جی۔

اومونیا اسکوارئر  کو پہنچے  اور ادھر دیکھا کہ کوئی پاکستانی تو نہیں دیکھ رہا ، کم ازکم مولبی انور تو نہیں گھوم رہا۔  ہیں جی
اور کسی چور کی طرح رمضان کے پیچھے چلتے رہے، اس دن اسکی چال واقعی کسی چوہدری کی چال تھی، پورے لطف میں تھا۔
بس پھر ہم  "پلاکا"   کی گلیوں میں گھومتے رہے، ان گلیوں میں جو ایتھنز کا قدیم مطلب انٹیک حصہ تھا۔
بس پھر رمضان نے ہمارے ہاتھ دبایا یہ یہ جو گھر ہیں جن  کے دروازے پر دن دھیاڑے جو بلب جل رہا ہے "گویا سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے" یہ ہی ہماری منزل مقصود ہے اور ادھر ہی سے وہ گوہر نایاب ملنے والا ہے۔
مگر اس میں نہیں جانا کہ ادھر مال پرانا ہوتا ہے، ادھر بھی نہیں جانا کہ ادھر مال  مہنگا ہے ، ان کے بستر گندے ہیں، یہ والے غیرملکیوں کو پسند نہیں کرتے، یہ والے ، بس ہم پہنچ گئے، ادھر کھلے دروازے میں سے ہم لوگ اندر گھسے تو بس کچھ کچھ اور ہی منظر تھا،  عجیب سرخ کی روشنی میں نہا سے گئے،  ایک بڑا سا ہال تھا اور اسکے کونے میں کرسی پر ایک پرانی پھاپھڑ قسم کی مائی نے بہت بڑا منہ کھول کر ہمیں " یاسس " کہا جواب رمضان نے ہی دیا اور لگے ہاتھوں اسکا احوال بھی پوچھ ڈالا اور یہ بھی بتادیا یہ "یاترو" ہے  جو پاکستان  سے آیا ہے اور ادھر اسکی خدمت کرنا مانگتا، رمضان نے اشارہ کیا اور اسکے ساتھ ہی میں بھی کرسی پر ٹک سا گیا۔  بس پھر غور کیا تو اس ہال میں دونوں طرف اور سامنے چھوٹی چھوٹی گیلریاں 
تھیں جنکے اندر دونوں اطراف میں دروازے تھے ، شایدکمرے ہوں گے۔

ہمارے بیٹھے بیٹھے ہی ایک دروازہ کھلا اور ایک لڑکی  اس میں سے نمودار ہوئی، بس لڑکی کیا جناب، ایک حسینہ وہ جمیلہ، وہ بھی صرف بریزیر اور چڈی میں، ہائے ہائے، ہمارا تو بس دل ہی دہل گیا، ہیں جی،  ہمارے ادھر سامنے سے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ، دیدے  مٹکاکر گزری اور یاسسس کہتی  ہوئی ، گویا ہمیں دعوت شباب   و شتاب دی جارہی ہے، ایک کمرے میں دوسری طرف گھس گئی۔   ہم تو  قریب المرگ ہی ہوگئے تھے قسمیں۔  پر رمضان نے ہاتھ تھپ تھپایا اور کہا پولا سا ہمارے کان میں کہ یہ وہ مال نہیں ، صبر۔
پھر ایک اور   ، ہیں جی
پھر ایک اور ، اور پھر ایک اور ہیں۔
اور پھر رمضان نے بڈھی سے کسی کا پوچھا  اور انکار ی  جواب پاکر ہم کو اشارہ کہ ادھر سے نکل، کہ وہ مال نہیں ہے ۔ باہر آکر بولا  کہ ادھر وہ دانہ نہیں ہے ایک اور جگہ چلتے ہیں ، راستے میں  دوچار دروازوں میں داخل ہوئے اور تھوڑی دیر مال دیکھا اور پھر نکل لیئے، کہیں رمضان کو مطلوبہ بندی نہ نظر آئی اور کہیں پیسے  زیادہ تھے۔ پھر ایک جگہ  بیٹھے ہوئے تھے اور "یہ چیز "کا نعرہ رمضان نے مارا ، لڑکی حسب دستور یاسس کہہ کر دیدے مٹکاتی اور کولہے ہلاتی ہمارے سامنے سے گزر گئی اور ہم دل پکڑ کررہ گئے۔ ہیں جی لڑکی تھی یا قیامت ، ہیں جی،  دل میں ہی کھب گئی اور ہم ہزار جان عاشق ہوگئے۔ ہیں جی

رمضان نے بات کی مائی سے ، چھ ہزار مبلغ میں بات طے پائی اور رمضان نے مجھے کہا کو وہ دائیں کو سامنےآلے کمرے میں ہو لو،  مگر وہی چولوں والی حرکتیں ہماری کہ نہ چوہدری پہلے تم ،  ہیں جی، آخر میں عمر میں ہم سے بڑا تھا۔ ہیں جی ،  اور وڈوں کو احترام ہی تو ہم نے سیکھا ہے۔چونکہ یہ پہلی بار تھی ادھر جانے کی تو ایک جھجک  سی بھی شاید ، یا پھر خورے کیوں؟  ہیں جی۔

رمضان  میری طرف غور سے دیکھتا ہوا ، پولا سا اٹھ کر اس دروازے میں داخل ہوگیا،  اب میں ادھر بیٹھ  ہوا تھا اور ادھر ادھر دیکھنے اور اواسیاں لینے کے علاوہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہ تھا۔  چند منٹ بعد ایک آدمی نکلا بیلٹ باندھتا ہوا،  شاید اسی کمرے سے نکلا تھا جس میں سے وہ حسینہ برآمد ہوئی تھی  یا اسکے سامنے والے سے۔ ہیں جی، پر سانوں  کی؟ ہیں جی۔
کوئی پندرہ بیس منٹ کے انتظار کے بعد وہی دل چیر حسینہ پھر برآمد ہوئی اور  ہمیں یاسس کہتی ہوئی اس بار بڈھی کے اشارے  پر رمضان کے کمرہ  میں، اس دوران ہم نے نوٹ کیا کہ ہماری طرح کے کافی لوگ آکر جابھی چکے تھے  ہر آنے والے کہ چہر ے پر ایک مسکراہٹ بھی تھی  یا کچھ روشنی سی۔ اور یہ بھی کہ مختلف اطراف سے تین چار لڑکیاں ایک گیلری کے  دروازے سے نکل کردوسری گیلری کے دروازے میں داخل ہورہی تھیں اور انکے پیچھے سے کچھ دیر بعد کوئی بندہ بھی نکلتا اور نظریں چراتاہوا  ہمارے سامنے سے گزر کے باہر کا منہہ کرتا،  تب کوئی بھی سلام دعا نہ کررہا تھا، شاید انکو یاد نہ رہتی ہوگی، ہیں جی ، آخر بندہ بے دھیانہ بھی تو ہوہی جاتا ہے، ہیں جی۔

پھر  ہم نے نوٹ کیا کہ اسی دروازے سے جدھر سے وہ حسینہ عالم برآمد ہوئی ایک آدمی بیلٹ کستا ہوا نکلا اور بڈھی تب تک ایک اور بندے سے چھ ہزار درخمے لےکر اسے اس کمرے  سے پہلے میں جانے کا اشارہ کرچکی تھی۔

کچھ دیر بعد شاید بیس منٹ کے بعد رمضان والا دروازہ کھلا اور وہ ہی حسینہ نکلی اور ہمیں یاسس کہہ کر دعوت دیتی ہوئی بڈھی کے اشارے پر دوسرے والے کمرے میں چلی گئی، رمضان بھی تھوڑی دیر بعد نکلا اور منہہ نیچے کرکے مجھے سے پوچھا" ہاں ؟ ہے پروغرام؟ " جانے کیوں میرے منہہ سے نکل گیا نہیں یار،   پر کیوں؟ رمضان پر حیرت ٹوٹ پڑی،  اس سے خوب مال پورے ایتھنز میں کہیں نہیں ملے گا،  پر میرا دل نہیں ہے،  پر کیوں؟ پیسے میں دوں گا، نہیں یار میرا دل نہیں کررہا ، چل واپس چلیں،   پر کیوں؟  کیا ہوا ؟ اگر یہ والی پسند نہیں ہے تو کسی اور جگہ چلیں؟ میری نظر میں اور بھی  مال ہے۔ نہیں یار میری طبیعت صحیح نہیں ہے، گھر کو چل۔ اچھا چل کچھ کھاتو لیتے ہیں،  تو کھالے یار میرا دل نہیں۔  چل اب آئے ہیں تو تیرو پتا  ہی کھالے ، نہیں یار میرا دل نہیں تو کھالے میں ادھر ہی ہوں  تیرے ساتھ بیٹھاتا ہوں۔
شاید میرا من ہی مارا گیا تھا۔ شاید مجھے وہ میکانزم سمجھ آگیا تھا، شاید  میں بہت سیانا تھا اور دور کی سوچ رہا تھا، نہیں شاید واقعی میری طبیعت خراب ہوگئی تھی،  مگر ایک بات ہے ، اسکے بعد بھی جب کبھی اس علاقے سے  یا اس جیسے کسی محلے سے گزر ہا تو ، اندر جھانکنے کا حوصلہ نہ پڑتا اور جب بھی اس بتی والے گھر کے بارے میں ذکر ہوتا ہے میری طبیعت اب بھی خراب ہوجاتی ہے۔ ویسے بندے کو ایڈا وی حساس نہیں ہونا چاہئے۔  ہیں جی



ایک وضاحت، رات کو نہ لکھ سکے اس پوسٹ کا عذاب ثواب علی حسن پر ہے، کہ یہ بندہ ہمیشہ ایسی آدھی سی پوسٹ لکھ کر ہمیں ٹینش دلوادیتا ہے، کہ جی بس پرانی یادوں میں غوتے لگاؤ اور کھوتے بنو






مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 23, 2012

کچھ حلال کچھ حرام


علی حسن  کا سوال:
سلام بھائی جان ۔آپ سے دو باتیں پوچھنی تھیں،آپ پڑھے لکھے ہیں، کافی عرصہ سے یورپ میں رہ رہےہیں
یہ بتائیں یہ خوراک میں حلال حرام کا کیسے خیال کیا جائے؟
چلو گوشت سے بچا جا سکتا لیکن لوگ تو کہتے ہیں دودھ تک حرام آ سکتا ہے، اب یہاں ایسٹونیا یا پولینڈ میں کیا کیا جائے اب زندہ تو رہنا ہے میں دودھ، ڈبل روٹی، میٹھے کیک وغیرہ میں بس سئور اور شراب کا دیکھ کر لے لیتا ہوں۔ میکڈونلڈ سے فش 
برگر مجبوری میں کھا لیتا ہوں لیکن ان کا تیل۔۔۔بس دل میں رہتا ہے کہ یار کیا کریں۔ کوئی مشورہ عنیایت کریں۔

ہمارا جواب:
بات حلال حرام کی ہو تو اس بارے واضع لائین موجود ہے، جس میں کسی دوجے کا نقصان کیا گیا ہو، یا اگلے کی مرضی شامل نہ ہو،  وہ مال حرام ہے، مثلاُ دوجے کی بیوی، چوری کی ہوئی مرغی،  چاہے آپ نے تکبیر دونوں پر پڑھی ہوئی ہو، دونوں حرام مطلق قرارپائیں گی۔

گوشت کو دیکھ کر لو کہ بیچنے والا مسلمان ہے اور سرٹیفیکیٹ دیتا ہے مطلب کہتا ہے " قمسیں اللہ دی اے حلال ہے  " تو آپ پر حلال ہوا، یا پھر کسی مستند کمپنی یاادارے کا سندشدہ۔   اور کیک سارے حلال ہیں، کہ حرام نشہ ہے نہ کہ میٹھا، اگر آپ الکحل کی موجودگی یا عدموجودگی پر فیصلہ کرتے ہو تو پھر دیکھ لو کہ ہر اس چیز میں الکحل موجود ہے جس میں خمیر اٹھایا جاتا ہے، مثلاُ آپ کے بند، نان،  خمیری روٹی وغیرہ ،  پھر حکم ہے کہ شراب کا ذخیرہ کرنا بھی حرام ہے  مگر سرکہ تیار کرنے کو،  واضع  رہے کہ سرکہ شراب سے ہی کشید کیا جاتا ہے مگر اسکے حلال ہونے میں کسی کو کوئی شک نہیں۔ پس آپ کیک ، بروش اور اس قبیل کی دیگر ماقولات سے حظ اٹھاسکتے ہیں جب تک ان پر اینیمل فیٹ کی موجودگی کا لیبل نہ ہو، یورپین فوڈ ریگلولیشنز کے مطابق  اسکی موجودگی کی صورت میں اسے ظاہر کرنا لازم ہے، پس برانڈڈ مال ، مال حلال ہوا اور مقامی طور پر تیار کیا گیا مال مشکوک ، کہ کون جانے کس  جانور کی چربی ہے۔
لہذاحتٰی المقدور دوررہا جائے۔

فش برگر  پر گزرہ کرنے والے اسکے  تیل کے بارے میں مطمعن رہیں  کہ جو بندہ ککنگ کے بارے تھوڑا بھی جانتا ہے وہ اس بات کا بخوبی ادراک رکھتا ہے  کہ جس تیل میں مچھلی فرائی کی جاتی ہے اس میں اگر آپ کوئی اور چیز فرائی کریں تو مچھلی کی بساند آئے گی۔ آخر کوالٹی بھی کوئی چیز ہے میکڈونلڈز کےلئے، وہ کوئی پاکستانی تھوڑی ہیں کہ اسی تیل میں پکوڑے تلتے پھریں، ویسے سنا ہے کہ میک کا مال کوشر ہوتا ہے وللہ اعلم ، بہت سے پاکستانی ادھر اسی چکر میں  2 ہفتوں میں میک کھا کھا کر 10 کلو وزن بڑھالیتےہیں۔ ہم تو اسکے پاس بھی نہیں جاتے۔

پیزہ بھی لیتے وقت خاص احتیاط کیجائے کہ اس پر گوشت کسی صورت نہ ہو، نو میٹ،  خاص طور پر جب آپ اٹلی میں ہوں تو پھر آپ کے پاس ، نو میٹ کے بعد بھی بہت چوائس ہوتی ہے۔ اسکے انگریڈینٹس میں ، خمیری آٹا ، پنیر، ٹوماٹو ساس  اور مزید جو آپ کی مرضی ، لہذا مال حلال ، اگر پیسے دینے والا کوئی اور ہو توپھر پورا چسکا لو۔ ہیں جی۔

دودھ وغیر ہ کے بارے یہ کہ اگر یہ  گائے کا ہی ہوتا ہے اکثر ،  ادھر بھینس،  گدھی،  گھوڑی، بکری، سورنی کا ہوگا تو لازمی طور پر لکھا ہوگا اور اسکی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔  ہیں جی، اب کو ئی  کم قمیت میں زیادہ قیمتی چیز کی ملاوٹ تو نہیں کرے گا۔

ویسے تومیں کچھ علم والا نہیں ہوں البتہ پڑھا لکھا ضرور ہوں، اگر آپ کو ایسا لگا تو ضرور کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے، البتہ ایک عام بندےکے طور پراپنا  تجربہ تحریر کردیا ، اگر کوئ صاحب اس کو فتویٰ سمجھیں تو  ایسی کوئ بات نہیں ،  اگر کوئی اسکو غلط ثابت کرنا چاہئیں تو بھی ضرور کریں۔ ہاں ایک بات ہے کہ بطور ایک مسلمان کے جو عرصہ دراز سے ادھر غیر مسلم معاشروں میں رہ رہا ہے ، یہی طریقہ  سروائیول کا دکھائی دیا،  باقی اللہ جو بار بار کہتا کہ میں بخشنے والا ہوں، میں معاف کرنے والا ہوں، تو وہ  پوری امید ہے کہ ہمیں بھی بخشےگا اور ہم پر بھی رحم کرےگا۔ 


صرف کھانے پینے کے علاوہ بھی بہت سے حلال حرام ہیں جن پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، مثلاُ سود، دوجے کا مال، دوست کے ساتھ دھوکا، فراڈ، وعدہ خلافی، جھوٹ، غیبت، تہمت وغیرہ وغیرہ۔ مگر کوئی اس طرف زیادہ بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ ہیں جی۔  






مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 19, 2012

عید مبارک


آج عید ہے

خیریت سے دن کا پہلا پہر گزر گیا
کھاپی کر فارغ
پاکستان فون کیا
چلو آج تو سب سے بات ہوگئی
نہیں چھوٹی ہمشیرہ کا فون نہیں ملا
کیا سوچے گی
آج عید ہے

ٹی وی پر بتارہے ہیں کہ ڈرون حملہ ہوگیا ہے
کچھ بندے مرگئے، جانے کون ہونگے
آج تو حرامی باز آجاتے
آج عید ہے

کراچی کے کچھ علاقے حساس قرار دئے گئے
شیعہ ، سنی لڑانے  کی کوشش میں ہیں
موٹر سائیکل پر ڈبل سواری بند
آج عید ہے

کچھ لوگ ٹرین اسٹیشنوں پر کھڑے ہیں
کچھ بس اسٹاپوں پر
اور کچھ انکو گھروں میں اڈیک رہے ہیں
آج عید ہے

کچھ مریض ہسپتال پڑے ہیں
کچھ ڈاکٹر بھی ڈیوٹی کےلئے جوتے کے تسمے باندھ چکے
کچھ چھٹی پر ریسٹ موڈ میں
آج عید ہے

دنیا کے بہت سے ممالک میں
پاکستان کے کچھ حصوں میں بھی کچھ کی
آج عید ہے

اور کچھ روزے سے ہیں
چلیں وہ کل عید کرلیں گے
میری طرف سے سب کو عید مبارک


مکمل تحریر  »

ہفتہ, اگست 18, 2012

حلال کمیٹی اور چالیس سیپارے

پشاور میں کچھ اہل ایمان اکٹھے ہوئے اور کچھ  علماء نے باقائدہ طور پر بعداز تلاوت کلام پاک ، اللہ کی حمد ثنا کی، نبیﷺ پر درود و سلام پڑھا اور پھر اعلان کیا کہ چونکہ ہمیں 23 مردوں اور ایک خاتون کی شہادت موصول ہوئی جنہوں نے چاند دیکھا ہے اور اس بنیاد پر فیصلہ یہ ہے کہ کل یکم شوال ہے۔
بلوچستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورت حال ہے۔

مگر مرکزی روئت ہلال کیمٹی کے مولبی صاحب نے ٹی وی پر اس سوال کے جواب میں کہا کہ نہیں کل  تیس رمضان اور پرسوں یکم شوال ہے، اسکا فیصلہ ہم نے کیا ہے اور عوام کی اکثریت ہمارے ساتھ۔

ہم جیسے آدمی جو عوام کا حصہ ہیں ان سے کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ ہم کس کے ساتھ ہیں،  ہیں جی، کم از کم مجھے تو کوئی ٹیلیفون نہیں آیا ،
کیا آپ کو کسی نے فون کیا ؟  چلیں کوئی گل نہیں،  انہوں نے نہیں پوچھا تو ہم تو پوچھ سکتےہیں کہ، مولبی جی،
جب ایک ملک کے اندر چوبیس لوگ  وہ بھی مسلمان چاند دیکھ لیں تو پھر آپ کو کیا پرابلم ہے؟ یہ تو ایسے ہی ہے ہمارے محبوب کیانی پر چوری کا الزام لگا ، بابے نےپرھیا  (پنچائت)کہا کہ میں  یہ دو بندے پیش کرتا ہوں جس نے تمھیں رات کو ہماری دیوار پھاندتے دیکھا ہے،  تو کیانی صاحب نے بیس بندے بشمول ہمارے پیش کردیئے کہ جی ہم نے انہیں دیوار پھاندتے نہیں دیکھا، اور سچی  قسم بھی اٹھا دی،  کہ نہیں دیکھا   ( یہ نہ بتایا کہ  ہم سورہے تھے اس رات) ۔ خیر کیانی صاحب کو کہا گیا کہ آپ نیاں  دو ،  قسم اٹھاؤ، انہوں نے  کہا: " قسمیں قرآن دی،  تری سپاریاں دی  کہ میں چوری نہیں کیتی"،  بابا جی بولے اگر یہ تیس سپاروں کی قسم اٹھاتا ہے کہ میں نے چوری نہیں کی تو  میں " چالیس سپارے اٹھاتا ہوں کہ اس نے چوری کی ہے"۔ 

لگتا ہے کہ مرکزی روئت ہلا کمیٹی نے بھی چالیس سپارے اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ بندے اکٹھے کئے ہوئے ہیں ہماری طرح  کے جو کہتے ہیں کہ ہم نے چاند نہیں دیکھا۔

اگر کوئ ہماری مانے تو اب اس کمیٹی کو "حلال " کردینا چاہئے  کہ یہ باعث فساد فی سبیل للہ ہے  

اور پروگرام یہ ہو کہ مکہ مکرمہ جو ہمارا قبلہ ہے، وہی مملکت اسلامیہ کا دارالخلافہ ہے، جب ادھر یکم شوال ہوگئی تو پوری دینا میں، پورے عالم اسلام میں عید ہو، اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم مسلمان ایک قوم ہیں

مکمل تحریر  »

جمعہ, اگست 17, 2012

ضروری اطلاع برائے صدقہ فطر، فطرانہ


 گندم کی قیمت دینے سے فطرانہ ادا ہوجاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص حدیث میں ذکر کردہ باقی چیزوں کے حساب سے دینا چاہئے تو نہ صرف یہ جائز ہے بلکہ بہتر ہے اور اس میں غریبوں کا فائدہ بھی زیادہ ہے، لہذا، اپنی حثیت کے مطابق فطرانہ ادا کرییں، حدیث میں صدقہ فطر (فطرانہ) ادا کرنے کےلئے چار چیزیں بیان کی گئی ہیں:
 گندم، آدھا صعاع بمطابق ایک کلو 633 گرام، کم از کم
 کشمش، جوء، کھجور ایک صعاع۔
گندم کی قیمت 60 روپئے،
 جوء کی قیمت 140 روپئے،
کھجور کی قیمت 670 روپئے
 اور کشمش کی قیمت 1310 روپئے تقریباُ ہے، جزاک اللہ خیر،

مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 16, 2012

برازیل، جوس اور پیپسی

برازیل گئے اب تو کئی برس بیت گئے مگر چند ایک ان ممالک سے ہے جو ہم دیکھ پائے اور پھر کبھی نہ بھول سکے،   نہ اس ملک کی صفائی ستھرائی کو نہ بندوں کی مہمان نوازی کو، گو کہ تھا ایک مکمل طور بزنس ٹور مگر،  جہاں بھی گئے ، کسی بھی دفتر میں  ، اٹلی کے حوالے سے کسی جاننے والے کے ہاں یا کسی اسپرانتودان کے ہاں، خود سے یا کسی کے ساتھ  تو جیسے ہی انکو معلوم ہوا کہ   یہ مہمان اٹلی سے ہے  مگر ہے پاکستانی ،  گویا کہ بہت دور کا مہمان ہے،  تو پھر کیا تھا فوراُ دعوت  دے ڈالتے ،کہ آج شام کا کھانا ہمارے ادھر، کل  دوپہر کو ہمارے ہاں، نہیں تو سہہ پہر کی کافی تو لازمی ہے،  اچھا نہیں تو  "ڈیگر " کو ادھر سمندر پر چہل قدمی کے لئے ہیں تمھیں پک کرلیں گے، پاکستانیوں کی طرح وہ بھی ایک گاڑی میں اکیلے کم ہی سفر کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ جوڑے کی  صورت میں۔

آج کل رمضان کی وجہ سے جوسز اور مشروبات کا بکثرت استعمال  ہمیں پھر برازیل کی یاد دلا گیا، کچھ یوں کہ جب بھی کسی کے گھر پہنچتے تو سوال ہوتا: کونسا ڈرنک لوگے؟ کیلے کا،  مالٹے کا،  کیوی یا آم کا، امرود یا لیچی کا، اسٹرابری یا  ٹماٹو جوس، خوبانی یا آڑو  ؟   " کج تے دسو سرکار؟ کج تے منہ پھوٹو؟"  

اور سرکار  ادھر بے ہوش ہونے کے قریب ، کہ:
انہوں نے اتنے سارے پھلوں کے جوس گھر میں اسٹاک کئے ہوئے ہیں ، ہیں جی
بڑی مالدار "پارٹی" لگ رہی ہے ، ہیں جی
سنا تھا کہ برازیل تو تھرڈ  ولڈ کا ملک ہے، ہیں جی
ادھر تو تنخواہیں بھی بہت کم ہیں ،مگر پھر بھی انی عیاشیاں ،  ہیں جی۔

حیرت  کو ایک طرف رکھ کر منہ سے "امرود " کا لفظ نکلا ،  کہ لو جی  پاکستانی پھل ہے، لازمی طور پر مسلمان بھی ہوگا، مگر "قسمیں" ہم  نے پاکستان میں امرود کا جوس کبھی نہیں پیا، بلکہ دیکھا بھی ادھر اٹلی آکر ، کہ ادھر ملک مصر سے آتا ہے۔ جی ، جی وہی فرعون  کا ملک ، بلکل وہی والا۔

پس اگلی نے  فوراُ  ،  آمین  کہتے ہوئےمہمان خانے میں ہمارے سامنے رکھی پھلوں کی ٹوکری میں سے دو امرود نکالے، انکو دھویا، چھوری سے دو ٹکڑے چوڑائی میں کاٹا،   چمچ لی، اور امرود کے بیچ میں ایک بار گھما کر بیج  ادھر باہر "بن"  میں ، دوسری بار پھر چمچ گھمائی اور گودا  جوسر بلینڈر میں اور چھلکا پھر سے  "بِن  " میں اور  یوں  چار بار کے ٹونہ کے بعد دو امرود ز کا گودا نکال،  اس میں چار چمچ چینی، چٹکی بھر نمک   اور کوئی جگ بھر پانی ڈال ، برف ڈال  ، گلاس میں انڈیل، ہمارے سامنے پیش کردیا ، کہ لوجی  امرود کا ڈرنک تیار ہے، نوش جان کیجئے۔

جب بھی پاکستان جائیں تو جس کے گھر بھی جائیں پیپسی اور کوک سامنے آجاتی ہے، یا پھر روح افزاء، ادھر اٹلی میں جوس کا ڈبہ اگلے لاکر سامنے رکھ دیتے ہیں ۔  پیپسی ، کوک میں تو خیر سے کیمکیلز کے سوائے کیا ہونا ہے، پانی بھی "خورے" کونسی صدی میں بھرا گیا اور کس گھاٹ سے۔  مگر ادھر اٹلی کے جوسز میں بھی اکثر میں  جوس 25٪ ہی ہوتا ہے، باقی پانی، چینی اور کیمیکلز منافع میں،  بندہ پوچھے کہ جب پچیس فیصد جوس ہی پینا ہے تو پھر برازیلین ڈرنک ہی کیوں نہ اپنا لیا جائے کہ سستا بھی ، تازہ بھی اور بغیر کیمیکلز اور کنزرویٹرز کے۔

اب  ہمیں حکیم لقمان نہ سمجھ لیا جائے، کوئی بنائے نہ بنائے سانوں کی،  ساڈی تے اپنی وائف  نے بھی ایک بار بنایا تھا، بہت پسند کیا مگر پھر وہی پیپسی کہ جی لوگ کیا کہیں گے؟ آپ بتاؤ جی کہ ناک بھی رکھنی ہوتی ہے کہ نہیں، ہم اگلو ں کے جائیں اور وہ پیپسی پلائیں مگر  ہم ان کے سامنے گھر کا بنا ہوا ڈرنک رکھیں، مطلب ہم غریب ہیں کوئی؟  نہ جی  ناں، ہم غریب کتھوں ؟  آپ سب کو پیپسی پلاؤ جی۔ سانوں کی

مکمل تحریر  »

منگل, اگست 14, 2012

جریدہ اور بلاگ

ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ بلاگ اور ویب سائیٹ میں کیا فرق ہے، بلاگ کو لوگ جریدہ کیوں بنانے پر تلے ہوئے ہیں ادھر سے کاپی ادھر پیسٹ، ادھر سے پکڑا ادھر سے نقل کیا اور لوجی بلاگ ہوگیا، ایک زمانے میں کتاب بھی ایسے ہی لکھا کرتے تھے بلکہ اب بھی لکھ رہے ہیں، پکڑا پکڑائی کے مال سے کام نکال کر۔ کتاب ہوگئی جی، جس کے پیچھے کوئی نہ کوئ ذاتی تجربہ ہوتا ہے اور نہ کوئی مشاہدہ، بس جی ان بابا جی نے 665 کتابیں لکھیں، کوئی پوچھے لکھین یا لکھوائیں، اگر ایسا ہی ہے توبندہ ایک جریدہ شائع کیوں نہیں کردے ، ہیں جی

کہ اس میں بھی لکھنے والے اور ہوتے ہیں اور شائع کرنے والے اور، بندہ دوسروں کا مال چوری بھی کرسکتا ہے اور خود لکھ کر کوئی پینتی کے قریب لوگوں کے نام سے بھی شائع کرسکتا ہے۔ قارین کے خطوط بھی خود لکھ کر شائع کئے اور انکے جوابات بھی دیئے جاتے ہیں۔ 

مکمل تحریر  »

سوموار, اگست 13, 2012

تیرے منے دی موج وچ

دو بندے گا رہے ہوتے ہیں گلا پھاڑ پھاڑ کر، اور موسیقار موسیقی کی دھنیں بکھیر رہا ہوتا ہے، کچھ لڑکیاں مشوم قسم بھی ساتھ دے رہی ہوتی ہیں۔ سریں تقریباُ ایک جیسی ہی ہوتی ہیں،
مگر:

ایک کے بارے ہم کہتے ہیں کہ گانا گارہا ہے، گانا مذہب میں حرام الشدیدہے وغیرہ وغیرہ
دوجے کے بارے یہ کہتے سنا ہے کہ نعت پڑھ رہا ہے، اور کار ثواب ہے۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟؟؟  

یا پھر ہم بھی گانا شروع کردیں ، "تیرے منے دی موج وچ ہسنا ، رونا"۔

مکمل تحریر  »

جمعرات, اگست 09, 2012

جان بچی سو لاکھوں پائے

لوجی  "جان بچی سو لاکھو ں پائے "   کا محاورہ تو ہمیشہ سے ہی سنتے اور استعمالتے چلے آئے ہیں مگر اس کی حقیقت کل ہی  معلوم ہوئی ہے،  بلکہ ابھی معلوم ہونے والی ہے،  واقعہ فیس بک پر تو کافی مشہور ہے۔ مگر سوچا کر ادھر بھی شئر کردیتے ہیں کرنے کو جو کچھ نہیں۔ 

موٹروے اے 4 جو وینس سے میلان کو ملاتا ہے، اپنی روڈ سروس، اور چوڑائی کے علاوہ ٹریفک کےلئے بھی مشہور ہے اور ۔ آج کل ہمارے زیر استعمال بکثرت رہتا ہے۔



 گزشتہ جمعہ کو  گھر واپسی پر  ادھر ویرونا  اور  ویچنزہ کے بیچ  مونتے بیلو  کے مقام پر  ہماری گاڑی  بلکہ اکلوتی گاڑی نے اچانک نہایت غیرشریفانہ انداز میں  ڈگ ڈگ کرنا شروع کردیا  وہ بھی اس وقت  جب ہم اورٹیک والی تیسری لین میں تھے اور مبلغ  120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بے صبرے گھر کو پہنچنے کے چکر میں تھے ،  بس ہم فوراٗ ہی ٹینشن لی گئے  اور ارادہ باندھنا شروع کردیا کہ ابھی اس دائیں کے لے کر ایمرجنسی کے ٹریک پر لیے جائیں  اور دیکھیں کہ پچھلی بار کی طرح پھر تو ٹائر نے ڈرامہ نہیں لگا دیا ، مگر ماری ٹینشن میں فوری طور پر  120 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا  کہ گاڑی نے باقاعدہ کودنا   شروع کردیا جسے بزبان انگریزی ببلنگ کہا جاتا ہے (اگر اردو میں کودنا کا متبادل کسی کو معلوم ہوتو ضرور بتائے، شرمانے کی بات نہیں)۔

پس  آؤ دیکھا نہ تاؤ ، چاروں اشارے لگادئے شیشے میں  پیچھے دیکھا، کچھ گاڑیاں تھیں مگر ذرا پیچھے، ایک کار  تھی دائیں ، اس بھلے مانس ڈرائیور نے ہمیں بریک لگا کر راستہ دیا  کہ " چل پائی توں پاسے ہولے"   ایک ٹرک پیچھے کافی دور پہلی لائین میں پایا گیا،  ویسے  جمعہ کا سہہ پہر اور وہ بھی  اگست کا پہلا جمعہ، مطلب موٹر وے بھر پڑا تھا ٹریفک سے،  مگر اٹالین لوگ نہیایت شرافت اور صبر سے ڈرائیو کرتے ہیں (پاکستانیوں  کی بنسبت، ورنہ ادھر یورپ میں انکو کھوتامار ڈرائیور ہی کہا جاتاہے)، ابھی دوجے اور پہلے ٹریک کے بیچ میں ہی تھا کہ گاڑی نے اچانک سے اسپیڈ پکڑلی اور بے قابو ہوکر سیدھی ہوگئی بس موٹروے سے باہر نکلنے کے چکر میں۔

بریک اسٹیرینگ سب جام اور بے کار، گاڑی نے گویا اعلان بغاوت کردیا ، یا    "کھوتا پہوُڑ ہوگیا کہہ لو"،  اور پلک جھپکتے ہی ٹکرائی سفیٹی گارڈر سے، جو موٹر وے کے کنارے لگا ہوا تھا۔

نیچے دور تک کھائی دیکھ کر فوراُ منہہ سے" کلمہ شریف  " نکلا ، اور دماغ میں آیا  کہ " لو جی خان صاحب آج اسٹوری ختم ہوئی"  کہ ابھی یہ منہ کے بل گرے گی کھائی میں، جیسے ہی گاڑی  ریلنگ سے ٹکرائی  ہمارا سربھی نیوٹن کے غالباُ دوجے قانون حرکت کے مطابق اسٹیرنگ سے ٹکرایا ، لپکا تو پورا جسم تھا مگر بیلٹ نے بچالیا (پس تب سے سب کو کہہ رہا ہوں کہ گاڑی میں بیلٹ لازم باندھ لیاکرو) ، گاڑی کے سامنے والے حصہ اور انجن کے پرزے فضا  میں بلند ہوئے  اور ہمارے دماغ پر تارے ناچنے لگے، جانے کس نے گاری روک لی،  سچ ہے کہ بچانے والا زیادہ بڑا ہے۔


مگر کہا ں جی، ایک ٹرک  نے پیچھے سے "پھانڈا " دیا مطلب گاڑی کا پیچھے بھی ناس مارا گیا، ہماری کمر کا بھی


 اور گاڑی صاحبہ پھر سے آگے کو ہو لیں،  اور کوئی  چارسو میٹر کے فاصلے پر جاکر خود ہی رک  گئیں، شاید ہم نے بھی کچھ بریک لگانے کی کوشش کیا تھی، شاید اگلی طر ف کا ایک ٹائیر  نکل چکا تھا،   تب تک آگے پیچھے کی گاڑیوں کے ڈرائیور سنھبل چکے تھے اور بہت احتیاط سے پولے پولے  صرف پہلے والے ٹریک  سے گزرنے لگے، شکر ہے ورنہ  خطرہ یہ بھی تھا کہ پیچھے سے کوئی پندرہ بیس گاڑیوں والے اور ٹھوکتے اور ہم بریشیا کو پہنتے یا   ادھر بلاگ پر لکھنے کی بجائے  " منکر نکیرین "  کو حساب دے رہے ہوتے،  روزہ کے دوران سوچی جانے والی ساری بے ایمانیوں کا، مگر "جان بچی تو لاکھوں پائے"  کیسے؟ وہ بعد میں بتائیں گے۔  

مکمل تحریر  »

اتوار, اگست 05, 2012

پاک چین رشتہ داری زندہ باد

لوجی پاک چین دوستی ایک اور قدم آگےبڑھی اور ہماری ایک کزن کی شادی ایک چینی نژاد  یوسف  سے بمعہ تمام مقامی رسومات اسلام آباد میں بخیر خوبی انجام پائی، بغیر ہماری شرکت ، مگر ہمارے اہل خانہ ہماری نمائندگی کو ادھرموجود تھے،  بقول ہماری خاتون اول کے مہمان آپس میں چینی زبان میں گفتگو کررہے تھے جبکہ ہمارے ساتھ انگریزی میں ، جبکہ کوئی کوئی بندہ اردو بھی بولتا تھا۔ ابھی ولیمہ چین میں ہوگا ،  جس کےلئے مہمان چین تشریف لے جائیں گے۔ مگر اندیشہ یہ ہے کہ ہوسکتا  ہے کہ ادھر ہمارے چینی رشتہ دار اردو و انگریزی بولنے سے انکاری ہوجائیں،  اور مہمانوں کی جان پھسی شکنجے اندر۔ 

   جناب  پاک چین دوستی ، پاک چین رشتہ داری  میں تبدیل ہوئی۔


اللہ اس نو بیاہتا جوڑے کوخوش خرم رکھے 

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش