اتوار, جون 17, 2012

ایک اور بیٹی ہلاک

پورے دن کی ڈرائیو سے تپا ہوا پرسوں جب واپس پہنچا تو وجاہت نے ایک میگزین سامنے رکھ دیا کہ جی اسکا ترجمہ کرو،     سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا پوچھنا چاہ رہا ہے، ایک صفحہ پر دو خبریں تھیں، ایک یہ کہ ایک پاکستانی نے اپنی دوسالہ بیٹی کو مارمارک کر ہلاک کردیا  اور دوسری یہ کہ ایک  جورجو نے اپنی بیوی کا گلادبا کر ہلاک کردیا اور پھر اسکی لاش کو جلادیا۔ پڑھ تو دونوں کو سرسری  نظر میں لیا  مگرادھ  گھنٹہ اسے کچھ کہہ  نہ سکا۔
مرنا مرانا تو خیر ہمارے لئے نئی بات نہیں  کہ بقول مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں اور جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں،   یہ بات بظاہر لگتی بھی سیانی ہے اور دل کو سکون دینے والی بھی ہے،   کہ چلو جی ڈر ختم ہوا ،  مان لو کہ اگر کوئی زلزلہ آجائے تو ہم یہ فقرہ ادا کرکے  اورکلمہ پڑھ کر پرسکون ہوکر سوسکتے ہیں کہ جو ہوگا سو ہوگا، ا ٹلی میں ویسے بھی ان دنوں زلزلے دھڑا دھڑ آرہے ہیں (میرا اس میں کوئی قصور نہیں)،   اس بارے یاتو  مایہ  قوم کو دوش دیا جائے جن کے کیلنڈر کے مطابق اس برس  کے اختتام پر قیامت برپا ہوگی اور کیلنڈر ختم، یا پھر کسی مولبی سے پوچھا جائے کہ اس بارے شرع کیا کہتی ہے، جو بھی ہو مگر یہ  دوسروں کو مارنے پر کہیں فٹ نہیں ہوتی۔

بات ہورہی تھی  بسمہ کی  جو اڑھائی برس کی تھی اور باپ کہ بقول ،   وہ روتی تھی، اور چپ ہی نہیں کرتی تھی،  آنسو اور چیخیں تب تھمیں جب  باپ نے اس بچی کو لاتو ں اور گھونسوں پر لیا  اورپھر وہ باپ اس پھول سی بچی کو لہو میں لتھڑا ہوا چھوڑ کر گھر سے نکل گیا،  یہ واقعہ مارچ میں اٹلی کے شہر مودنہ میں پیش آیا،  بمطابق اخبار بچی 13 دن کومہ میں رہنے کے بعد بس فوت  ہوگئی،    کچھ دنوں بعد اچانک باپ محمدالیاس تبسم کو قتل عمد کےزیر دفعہ گرفتار کرلیا گیا، یہ گرفتاری اچانک ہی عمل میں آئی جبکہ پہلے بچی کی ماں ثوبیہ  روبینہ پر شک کیا جارہا تھا۔

معصوم بچی کو ماں باپ ہسپتال لائے اور کہا کہ یہ باتھ روم میں گر گئی تھی ، مگر ضربات اس بیان سے مطابقت نہ رکھتی تھیں لہذا ڈاکڑ کی رپورٹ پر ، ماں کے خلاف گھریلو تشدد اور بچوں پر ستم کی دفعات کے تحت  تفتیش شروع ہوئی، مگر بات جب کھلی تو معلوم ہوا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تب ماں دوسرے کمرے میں تھی،  باپ کام سے آیا تو بیٹی کو روتے ہوئے دیکھا  جو چپ کرنے میں ہی نہ آرہی تھی  بس پہلے ہی تپا ہو اتھا تو اس کو پھانڈا لگا دیا۔  

سوال یہ ہے کہ اگر ایک آدمی سے اپنی اولاد کا رونا بھی برداشت نہیں ہوتا تو پھر اسکو ادھر زندہ رہنے کا کیا حق ہے، ماں باپ تو اپنا پیٹ کاٹ کر بھی  اپنے بچوں کو کھلادیتے ہیں مگر یہ کیسی ظالم  قسم  کی خود پرستی ہے کہ معصوم بیٹی کو رونے کا حق بھی نہیں دیتی،  کیا لوگوں میں انسانیت نہیں  رہی،   پاکستان میں تو مان لو کہ سب کچھ جائز ہے، ہر روز کی خبر کے مطابق ایک ادھ چار پانچ برس کی بچی سے زیادتی ہوتی ہے اور پھر اس قتل کرکے کسی نالے میں پھینک دیا جاتا ہے،  ادھر تو کوئی خیر پوچھنے والا ہی نہیں، مگر یہاں پر تو جرم کا چھپا رہنا  ناممکن سی ،بات ہے، مگر اس کے باوجود ہم لوگ ، ایسے ہاتھ چھٹ ہوئے ہین کہ بس اللہ کی پناہ۔  ہماری انسانیت کہاں کو نکل لی،  ہم لوگ کتنے حرامی ہوچکے ہیں

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش