اتوار, اکتوبر 14, 2012

ہم بت پرست

بت پرستی تو خیر ہمیشہ سے ہی حضرت انسان  کے ساتھ رہی ہے،   بلکہ اس پر حاوی رہی، حتیٰ کہ قدیم تہذیبوں میں سے بھی جوکچھ ہمارے ہاتھ آرہا ، وہ صرف بت ہیں ہیں،  یونانی تہذیب جب عروج پر تھی تو انہوں نے اپنے ہر کام کےلئے "دیوتا    اور دیویاں "  مقرر کی ہوئی تھیں،  بارش کی دیوی، جنگ کی دیوی، فتح کی دیوی،  حتیٰ کہ دریا پارکرانے کےلئے ایک الگ سے دیوی رکھ چھوڑی تھی۔  اسی طرح مصری ، رومن اور بابل کی تہذیبوں میں بھی کچھ ایسے ہی رہا۔  کہ  کسی جگہ دیوی جی کا چلن رہا تو کسی جگہ بادشاہ کا بت بنا کر  سامنے کھڑا کرلیتے اور حاضری کرواتے۔ بت  بنانے کو ہر میٹیریل حسب توفیق استعمالا گیا،  پختہ مٹی سے لیکر، اینٹ، روڑا،  پتھر، لکڑی،  سونا چاندی،لوہا اورہیرے تک سے پتھر تراشے گئے۔  بلکہ بامیان میں تو پورے کے پورے پہاڑ کو کھود کر بت بنا دیا گیا۔ پھر طالبان نے اسکا  " رام نام ستے "  کی اور دنیانے خوب چیخیں ماریں۔



 ہمارے اردگرد  تو خیر سے "ات "ہی مچی ہوئی تھی ،  گندھارا  کی تہذیب سے لیکر ہندومت اور جین مت تک کے مذاہب میں آج بھی دیوی دیوتاؤں کے نام کے بت بنا ئے جاتے ہیں،  یہودی مذہب میں بھی کچھ ایسا ہی چلن رہا کہ ادھر بت تو کم بنائےگئے مگر انہوں نے فوٹو بنا کر انکی پرستش البتہ خو ب کی۔ اور لمبی لمبی برکتیں حاصل کیں یا کوشش  حصول کرتے رہے۔

 ہندو مذہب میں تو خیر سے اب  بھی باندر سے لیکر ہاتھی تک کے بت موجود ہیں  اور انکی پرستش دھڑا دھڑ جاری ہے، سنا ہے  کہ "عضو تناسل " کا بھی کہیں بت بنا کر رکھ چھوڑا ، اور بیبیاں ادھر بھی اولاد کے حصول کےلئے چڑھاوا چڑھا کر منت مانگتی پھرتی ہیں۔  عیسائی مذہب میں بھی بھی الٹے سیدھے تو نہیں مگر انسانی شکل کے بت کثیر تعداد میں نظر آتے ہیں،  نومولود حضرت عیسٰی  ؑ اور نیم عریاں  مریم ؑ کے مجسموں سے تو برکت کا حصول ہو ہی رہا ہے ، مگر کہیں انکو صلیب پر ٹنگا ہوا دکھایا گیا،   جو آپ کو ہر چرچ میں بتعداد کثیر ملیں گے، ان کے علاوہ بھی ہر محلے میں سینٹ کا بت نصب ہے۔


اسلام ایک واحد مذہب  ہے اور اسلامی معاشرہ  زمین  پر واحد معاشرہ ہے جس میں بت پرستی کو سختی سے ممنوع قرار دیا  گیا،  خیر سارے ہی انبیاء کرام نے بت شکنی کی،  کچھ بتوں کا تو باقاعدہ ذکر ہوا   قرآن شریف میں ، جن میں  حضرت ابراہیم علیٰہ سلام کے بت توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دینے کا  ذکر ہوا۔  پھر بچھڑے کے سونے کے بت کا ذکر ہوا جو حضرت موسٰی ؑ  کی قوم نے انکے کوہ طور پر جانے کے بعد بنا لیا۔  پھر خانہ کعبہ میں موجود بتوں کا بھی ذکر ہوا، جو فتح مکہ  پر ہٹائے گئے۔

اسلامی تعلیمات بت پرستی کو اور تصویر پرستی کو یک سر مسترد  کرتی ہے۔  اللہ  کی ایک ایسی وضاحت کردی گئی کہ بس پھر کسی  بت ،  تصویر ،یا  کسی بھی درمیانی  ذریعہ کی حاجت ہی ختم ہوگئی۔  کہہ دیا اس نے خود ہی  کہ میں تمھاری  شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں،  پھر کہہ دیا کہ تمھارے دل میں بستا ہے۔  اب اپنے دل تک آواز پہنچانے کےلئے مجھے کس ذریعہ یا سفارش کی ضرورت ہے۔  آپ بتاؤ۔

مگر ہم مسلمان اور خاص طور پر پاکستانی بہت بڑی "چول" قوم ہیں، یا شاید عادت سے مجبور ہیں، بقول شاعر:   ع   
پیشہ آبا تھا گداگری                    راس نہ آئی پادشاہی مجھکو

ہم بت پرستی سے باز نہ  آئے اور ہم نے اینٹ پتھر ، لکڑی، سونے چاندی  کی جگہ گوشت پوس کے بت کھڑے کرلئے،   کبھی اسکو پیر صاحب کا نام دیا گیا تو کبھی ، قبر کی شکل دی گئی۔  کبھی سیاسی بت اور کبھی معاشرتی بت۔    جیسے خدا کا حکم مان لینا فرض ہے ورنہ کفر لاگو ہوا سمجھو، ایسے ہی انکا بھی ہر حکم ماننا فرض ہے ورنہ ۔ ۔ ۔  ۔۔۔     
 
 ہم کو خدا نے کہہ دیا کہ سؤر نہ کھانا مگر یہ نہ بتایا کہ کیوں، ہم نے  کھانا ترک کردیا ، اور سؤر میں ایک سو پینتیس خامیاں نکال لیں،  مانتے ہیں کہ ہر اچھائی خدا کی طرف سے ہے اور معصیت بھی۔  اکثر میت پر  سنا گیا کہ " بس جی جس کی چیز تھی اس نے واپس لے لی، وہ مالک جو ہے چاہے ہری کاٹے یا سوکھی" ۔  مطلب ہم  اعتراض کرنے والے کون جی۔  اور بابا جی بھی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوتے  ہیں۔

مگر گوشت پوست کا ایک بڑا سا بت بنالیتے ہیں اور اسکو پوجنا شروع  کردیتے ہیں، پھر ہم اس بات سے بھی لاپرواہ ہوجاتےہیں کہ وہ کچھ غلط کہہ رہا ہے کہ  درست مگر ہم اس میں سے خود ہی  "لاجک" تلاش کرلیتےہیں اور اپنے آپ کو حقدار ثواب  قرار دے لیتےہیں۔  


11 تبصرے:

  • گمنام says:
    10/14/2012 03:27:00 AM

    يہ حجر اسود کو چومنا کيا ہے اور اينٹوں کے بنے گھر کے پھيرے کيا مطلب؟ مطلب يہ کہ دوسروں کو ديکھنے ميں ہم بھی بت پرست دکھتے ہيں باقی اپنی اپنی نيت-

  • افتخار راجہ says:
    10/14/2012 09:35:00 AM

    اگر آپ اپنا نام بھی لکھ دیتے تو مناسب ہوتا، بہر حال بت وہ جس کی پرستش کی جائے، اسے خدا سمجھا جائے، اسے سجدہ کیا جائے، جس کی منت مانی جائے، جس کی ہر غلط درست بات کو من و عن سے بغیر سوچے سمجھے مانا جائے، ہیں جی

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    10/14/2012 11:35:00 AM

    عضو تناسل سے اچھے شوہر کا حصول یا بچوں کا حصول حاصل کرنے کیلئے جاپان میں بھی ایک بدھووں کا ٹیمپل موجود ہے۔۔جس میں بڑے اعلی قسم کے بت ہیں اور چھوکریوں سے لے کر خواتین تک ان بتوں سے لٹکی وئی ہوتی ہیں۔
    حجرہ اسود کو مخاطب کرکے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا کہ تو ایک پتھر کے سوا کچھ نہیں اور میں تجھے نا چومتا اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کر
    تے نا دیکھتا تو۔۔
    حجرہ اسود اور بیت اللہ کے طواف کے متعلق عموماً قادیانی ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کا حج قادیان میں ہو تا ہے۔۔یہ صرف شر انگیزی اور سادے مسلمانوں کے دلوں میں وساوس پیدا کرتے ہیں۔

  • علی says:
    10/14/2012 11:39:00 AM

    پتھرو آج میرے سر پر برستے کیوں ہو
    میں نے تم کو بھی کبھی اپنا خدا رکھا ہے
    عادت سے مجبور ہیں جی باقی کچھ نہیں

  • درویش خُراسانی says:
    10/14/2012 12:19:00 PM

    قادیانئ تو اپنے بھینگے نبی کی پرستش کئیں وہ خیر ہے ،لیکن طواف اور بوسہ پر انکو اعتراض ہے۔

  • عمران اقبال says:
    10/14/2012 01:12:00 PM

    جناب نا معلوم صاحب۔۔۔ حجر اسود کو صرف چوما جاتا ہے۔۔۔ہم مسلمان اس کی پرستش نہیں کرتے اور نا ہی اس سے کچھ مانگتے ہیں۔۔۔ ہم تو بس سنتِ نبوی ﷺ کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔۔۔

  • درویش خُراسانی says:
    10/14/2012 05:36:00 PM

    آرے وہ پیر ویر تو الگ بات ہے ۔ا ب کہ تو سیاسی بت آگئے ہیں میدان میں۔

    اپنے لیڈروں کی تصاویر کو سامنے رکھ کر اس کو سجدہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بچائے۔

  • احمد عرفان شفقت says:
    10/14/2012 05:55:00 PM

    بہت اہم معاشرتی ناسور کی بات کی ہے آپ نے جس نے جدی پشتی مسلمانوں کے بنیادی عقیدے، یعنی اللہ کو ذات اور صفات میں ایک ماننا، کو پامال کر کے رکھ دیا ہوا ہے۔ اور ان کو اس خسارے کی خبر ہی نہیں۔

  • Faisal Majeed says:
    10/15/2012 03:19:00 PM

    خدا کی ذات صرف احتساب سے بالا تر ہے

  • عبدالرؤف says:
    1/05/2013 12:25:00 PM

    بہت اعلیٰ ڈاکٹر صاحب، صد فیصد متفق۔

  • revivepak says:
    12/26/2015 02:13:00 PM

    واہ واہ ، کیا بات کر دی آپ نے ...... نا آسودہ چہرے ، دبی دبی جنسیات ، لا علمی کے سمندر ، خود پسندی کے پہاڑ ،جمالیات کے دشمن ،مذہب کے اجارہ دار ، یہ کیسی بستی ہے لوگو یہ کیسا ہے سنسار

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش