ہفتہ, اکتوبر 13, 2012

الو ہونا اور الو بنانا

ویسے تو "الو" بہت مشہور پرندہ ہے ،   اتنا مشہور کہ  ہر خاص و عام اس کے بارے جانتا ہے، ویسے آپس کی بات ہے، کہ "الو"  کو دیکھا بہت کم لوگوں نے ہے،  اب سب کچھ میں نے ہی بتانا ہے تو، بزرگو، میں اس "الو" کی بات نہیں کررہا جو انسانی شکل کا ہوتا ہے بلکہ اس "الو" کی بات کررہا ہوں ،  جو پرندوں کی قسم سے تعلق رکھتا ہے اور رات کو تلاش معاش میں نکلتا ہے،   خالص اردو میں اس کو " بوم" کہا جاتا ہے، اور جو  "الو" کی اس قسم سے مماثلت رکھتے ہیں انکو "بوم خصال " کہاجاتا ہے۔یوں تو الو، پاکستان کے علاوہ سارے برصغیر میں، بلکہ پوری دنیا میں بکثر پائے جاتے ہیں، مگر خاص بات یہ ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہی ہوتے ہیں ، گویا ایک دوسرے کے رشتہ دا ر ہوئے،  

بیان کچھ الو کی اقسام کا
یوں تو "الو" کی بہت سی اقسام  ہمارے ارد گرد پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے چند ایک کا ہی ذکر کرپائیں گے ، نہیں تو وہی طوالت کا خوف۔

اصلی الو:  الو کی یہ قسم پاکستان میں اور برصغیر کے علاوہ  پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں،  یہ بنے بنائے ہوتے ہیں، اور مزید کسی کو "الو" نہیں بنا سکتے۔   پاکستان میں اسکو نہائت منحوس سمجھا جاتا ہے اور مغرب میں بہت سیانا۔ اتنا سیانا کہ ادھر بہت سی یوورسیٹوں  کے  لوگو  میں "الو"  شامل ہے۔البتہ دونوں طرف یہ رات کو ہی اپنی معاش کی تلاش میں نکلتا ہے۔

انسانی الو:  یہ بنایا جاتا ہے،  پہلے میں اپنا ذکر کرتا ہوں اس مد میں،   کہ مجھے سب سے پہلے دادا جی نے الو بنایا:  کہ " الو  ، ادھر آ، اوئے الو، یہ  کر، اوئے اس الو کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔  پھر اسکول ماسٹر صاحبان  نے "الو" کہنا شروع کردیا،  اسکے بعد پھر بڑے بھائی بھی شروع ہوگئے، کہ  " اوئے الو"۔  اب "الو" کے ساتھ اوئے کیوں لگاتے ہیں اس بارے تو علم نہیں ہے مگر  ہم تو ان  دونوں الفاظ کو عرصہ تک لازم ملزوم ہی سمجھتے رہے۔
ویسے "الو"  بنانا آسان ہے  اور "الو"  بنانا مشکل ہے،  مگر اس کے باوجود ہر کوئی دوسرے کو "الو"  بنا رہا ہوتا ہے، بلکہ  یہ بھی دیکھا گیا  ہے کہ "الو"  بننے والے بھی یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ "الو" بنا گئے ہیں۔  جبکہ اس بارے  کچھ ماہرین کی رائے ہے کہ  الوبننے والے دوسرے کو "الو"  بنا نہیں سکتا۔ ہمارے ملک میں بڑی مثال "الو"  کی عوام ہیں جو بنتے ہیں اور انکو بنانے والے " سیاہ ست دان " کہلاتے ہیں۔  اسی لئے کہا جاتا ہے کہ "سیاہ ست دان " بنائے نہیں جاتے پیدا ہوتے ہیں۔  جب کہ عوام کے بارے ایسی رائے کا اظہار کبھی نہیں ہوا۔  

استعمال۔
یہ ایک کثیر الاستعمال ہے جنس ہے۔  مطلب"پولی کرائسٹ" ،  ہر شخص اسکے اپنے اپنے مقصد کے حصول کےلئے استعمال کرتا ہے۔

پیر صاحب، مریدن کو "الو" بنا کر شیرینی وصولتے ہیں۔
سیاہ ست دان  ،  عوام کو "الو" بنا کر حکومت میں جاپہنچے ہیں۔
بڑے ملک، چھوٹے ممالک کو بذریعہ اقوام متحدہ "الو" بناتے ہیں۔
جادو  ٹونے والے، ان پڑھ اور مصیبت زدہ و مایوس لوگوں کو "الو" بنا کر مال بناتے ہیں۔  انکو "الو" کے لہو سے تعویز لکھ کر دیتے کہ انکی "کایا کلپ "  ہوجائے اور اپنا بیڑا پارکرلیتے ہیں۔


ویسے مجھے یہ بلالکھنا ہی نہیں چاہئے تھا، ایوں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اس نے مجھے "الو" بنا لیا ہے۔


7 تبصرے:

  • علی says:
    10/13/2012 12:27:00 AM

    واہ واہ واہ کیا الو بنایا ہے مزہ ہی آگیا

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    10/13/2012 04:06:00 AM

    راجہ جی تحریر کو مختصر کرکے آپ نے ہمیں "الو" ہی بنایا

  • افتخار راجہ says:
    10/13/2012 08:08:00 AM

    یاسر بھائی، گزشتہ تحریر سے میں خود الو بنا، تبصروں سے، ابھی دوسروں کو بناؤ

  • افتخار راجہ says:
    10/13/2012 08:11:00 AM

    جناب، ویسے تو کچھ دماغ میں نہیں آرہا تھا، اوپر سے آپ نےکہا کہ بلاگ لکھو، قسمیں صرف لکھنے کو لکھا، ویسے اس طرح کے ہونڈے موضوع پر پہلا تجربہ ہے، دیکھو

  • درویش خُراسانی says:
    10/14/2012 06:50:00 PM

    راجہ صاحب ہمارئے ساتھ ہاتھ کر گئے اور ہمیں الو بنا گئے۔

  • کوثر بیگ says:
    10/15/2012 07:48:00 PM

    بہت خوب لکھا بھائی

  • Jaweria Kayani says:
    6/01/2015 12:42:00 PM

    ہاہاہا

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش