ہفتہ, ستمبر 08, 2012

وقت اور پیشے

کل رات کو ہی پیاچنزہ میں پہنچ گئے تھے، ہوٹل میں کمرہ کمپنی کی طرف سے بک تھا،  خیر جاتے ہیں دھڑام سے گرے اور سو گئے۔ صبح دس بجے میٹنگ کا وقت تھا ، جبکہ میری آنکھ حسب عادت سات بجے سے پہلے ہی کھل گئی، شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کمرے کہ ایئر کنڈیشنر بند ہوچکا تھا اور کھڑکی مکمل بندہونے کی وجہ  پسینہ پسینہ ہوچکا تھا۔

بعد از غسل، ٹائی شائی لگا، جب بوٹوں کے تسمے بند کرنے لگا تو محسوس ہوا کہ لو جی بوٹ کا تلوہ تو اکھڑ گیا ہے،  چلو کوئی بات نہیں،  نیچے  گیا  اور کاؤنٹر سے پتہ کیا کہ کمپنی کا کوئی اور  بندہ نیچے اترا ہے تو، جواب آیا کہ "کتھوں"؟  دس بجے جلسہ شروع ہونا ہے تو پھر ساڑے نو بجے ہی آمد ہوگی۔  "اچھا جی، چلو،  اگر کوئی  نیچے اتر ے تو کہنا کہ ڈاکٹر صاحب ادھر ذرا چہل قدمی عرف مارننگ واک کو نکلےہیں،  موبائیل پر فون کرلو" کہا اور نکلے لئے باہر،  یورو ہوٹل کے سامنے کی روڈ کراس کی تو  ایک دکان دار سے پوچھا کہ کوئی موچی کی دکان ؟ جو جوتے مرمت کردے۔  اس نے سوچ کر کہا کہ ایک وقت میں تو بہت تھے مگر اب میرے ذہن میں کوئی بھی نہیں آرہا،  اچھا سینٹر کس پاسے ہے؟ "ادھر سجھے کو کہہ کر وہ اپنے کام کو لگ گیا "۔   اور میں  سجے کو  ہولیا ۔  پوچھتا اور دیکھتا رہا ، کچھ دیر بعد ایک مرد بزرگ نے بتایا کہ یہ جو گلی ہے اسے سے کھبے ہوجاؤ اور تیسری گلی میں سجے ہوکر پوچھ لینا، ادھر قریب ہی موچی کی دکا ن تھی، کہنے لگا کہ اکھڑے تلوے والا جوتا فوری مرمت نہیں ہوتا، آپ جوتا چھوڑ جاؤ، تین دن بعد ملے گا۔ مجھے شام کو واپس جانا ہے ، میں ادھر کا نہیں ہوں، معذرت کی، اور نکل لیا۔

واپسی پر جانے کیوں میرے دماغ میں آیا کہ میں کوئی بیس کے قریب کمپوٹر اور الیکٹرونکس کی دکانیں دیکھی ہیں،  مگر بیس برس ایسا نہیں تھا، تب موچی، دھوبی اور اس قبیل کی دکانیں کافی بھی تھیں مگر کمپوٹر کی شاید ایک یا دو،   کوئی سیانہ بابا سچ ہی کہہ گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز بدل جاتی ہے،  کام پیشہ سب کچھ۔ بیس برس جو پیشے تھے وہ اب نہیں اور جو اب ہیں ان میں سے پیشتر تب نہیں تھے، ہیں جی

4 تبصرے:

  • علی says:
    9/08/2012 10:55:00 PM

    یوں تو شہر موچی نائی بہت تھے ناصر
    وقت پڑنے پر کام نہ آیا کوئی
    آداب عرضے

  • Dohra Hai says:
    9/09/2012 12:26:00 AM

    سوچا تو آپ نے بالکُل درست ہے جناب ۔اب آپ اپنے مُلک ہی کی بات کریں یہاں ہر گلی کے نُکڑ میں پہلے سائکل پنکچر اور سائکل مُرمدت کی دُکانیں مل جاتیں تھیں مگر اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں مِلتیں دس دس کِلومیڑ تک مارا مارا پھِرنا پڑتا ہے۔

  • گمنام says:
    9/09/2012 04:36:00 AM

    koi pata nai, saray moochi aaj kaal computer hi beech rahay hoon

    faisal hassan

  • عثمان says:
    9/11/2012 03:28:00 AM

    پیشے بدل جاتے ہیں۔ دھندہ نہیں بدل سکتا۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش