منگل, اگست 28, 2012

سردیاں اور کالی مرچیں

لوجی گرمیاں ختم اور موسم خزاں کے پہلے جھونکے شروع،  کل پرسوں سے ہی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ،  کل ہم نے پنکھے بند کردیے اور آج رات کو حسب معمول بغیر چادر کے سوئے، صبح جسم اکڑا ہوا تھا،  پس سحری کےوقت چادر لی تو دو تین گھنٹے بعد جسم تھوڑا گرم ہوا مگر ابھی تک  دکھ رہا ہے، گویا کسی نے خوب دھن دھنا دھن کرکے ہمارے دھنائی کی ہو۔ پاکستان فون کیا تو پھوپھو کہہ رہی تھیں پتر تیرا تو گلا خراب ہویا ہوا ہے،  بس کالی پتی کے قہوہ میں کالی مرچیں ڈال کے پی لینا  اور انڈا ابال کر کھا لینا۔
اب انکو کون بتائے کہ بزرگو انڈا ابال کر کھالیا تو یورک ایسڈ کے بڑھ جانے سے جو درد ہوگی وہ کون بھگتے گا، ہیں جی
                                                                                                 پر بزرگ جو بھی کہتے ہیں چپکے سے مان لینا چاہئے، ہیں جی
نہیں تو سننے میں تو کوئی حرج نہیں ہے، ہیں جی
وہ بھی تو ہمارے بھلے کوہی کہہ رہے ہیں ، ہیں جی

8 تبصرے:

  • نسخے سے زیادہ انکے خلوص کی شیرینی افاقہ دیتی ہے۔

  • Raja Iftikhar Khan says:
    8/28/2012 11:14:00 AM

    اس میں تو کوئی شک نہیں ، بزرگوں کے نسخے، نسخوں سے زیادہ انکی محبت ہوتے ہیں

  • یاسر خوامخواہ جاپانی says:
    8/28/2012 12:41:00 PM

    تسی انڈے تے کالیاں مرچاں کھاو
    ادھر تے قسمے جہنم منہ ہی بند نی کر رہی۔

  • محمد احمد says:
    8/28/2012 03:39:00 PM

    یہ تو ہے کہ بزرگ جو بھی کہتے ہیں بہت محبت کے ساتھ کہتے ہیں اور محبت سے زود اثر دوا اور کیا ہو سکتی ہے۔

  • علی says:
    8/28/2012 06:26:00 PM

    یہ ہوتا ہے متعصب رویہ ایک بی بی نے فیس بک پر کالی مرچوں کا مشورہ دیا وہ گلٹم اور گھر سے جو دیا گیا وہ بلاگ پر حاضر
    :)
    ویسے کالی مرچوں والے قہوے کا ذائقہ کیسا یوتا ہے؟

  • Raja Iftikhar Khan says:
    8/28/2012 11:57:00 PM

    علی جی اب ایسی بھی کوئ گل نہیں ہے، اس بی بی نے ناک میں نمک گھسیڑنے کا مشورہ دیا تھا، اور ادھر کچھ اور بات ہے، پھر ہر بندے کا درجہ ہے اپنا اپنا، ان کا تو ہم جوتا کھا کر خوش رہتے ہیں اور کسی کے دیکھنے سے ہی ایویں ہی خون میں ابال آجاتا ہے۔

  • Raja Iftikhar Khan says:
    8/28/2012 11:58:00 PM

    محمد احمد صاحب، بزرگوں کی محبت ہی تو ہے جو ہمارا اثاثہ ہے، اور انکی دعائیں، یہ تو انکی مہربانی ہے جو اس طرح کے مشوروں سے نوازتے ہیں اور وہ بھی مفت

  • افتخار راجہ says:
    8/29/2012 12:45:00 PM

    جاپانی صاحب ادھر تو خزاں شروع ہوگیا ہے، بس موسم سے تپش نکل گئی، ہوسکتا ہے کوئی ایک جھونکا گرمی کا آ ہی جائے مگر بس ختم

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش