جمعہ, اگست 17, 2012

ضروری اطلاع برائے صدقہ فطر، فطرانہ


 گندم کی قیمت دینے سے فطرانہ ادا ہوجاتا ہے لیکن اگر کوئی شخص حدیث میں ذکر کردہ باقی چیزوں کے حساب سے دینا چاہئے تو نہ صرف یہ جائز ہے بلکہ بہتر ہے اور اس میں غریبوں کا فائدہ بھی زیادہ ہے، لہذا، اپنی حثیت کے مطابق فطرانہ ادا کرییں، حدیث میں صدقہ فطر (فطرانہ) ادا کرنے کےلئے چار چیزیں بیان کی گئی ہیں:
 گندم، آدھا صعاع بمطابق ایک کلو 633 گرام، کم از کم
 کشمش، جوء، کھجور ایک صعاع۔
گندم کی قیمت 60 روپئے،
 جوء کی قیمت 140 روپئے،
کھجور کی قیمت 670 روپئے
 اور کشمش کی قیمت 1310 روپئے تقریباُ ہے، جزاک اللہ خیر،

5 تبصرے:

  • ارتقاء حیات says:
    8/18/2012 01:47:00 AM

    صدقہ فطر کی مقدار ایک صاع ہے۔ سیدنا ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں صدقہ فطر فرض فرمایا، اس طرح کہ ہر مسلمان آزاد ، غلام ، مرد اور عورت کی طرف سے کھجور یا جو کا ایک صاع ہو جائے۔ (ابوداود)
    بہتر یہی ہے کہ صدقہ فطر میں کوئی جنس دی جائے۔ البتہ اس جنس کے عوض نقدی بھی دی جاسکتی ہے۔
    صدقہ الفطر اس بچے کا بھی دینا لازم ہے جو چاہے چند گھنٹوں کا ہی کیوں نہ ہو۔جبکہ جنین کی طرف سے صدقۂ فطر نکالنے کے سلسلے میں اللہ کے رسول ﷺ سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے اوررہی یہ حدیث عن عثمان رضی اللہ عنہ انہ کان یعطی صدقۃ الفطرۃ عن الحبلٰی تواس کی سند ضعیف ہے سویہ حدیث ضعیف ہے۔

    نماز عید کے بعد ادا کیا گیا فطرانہ عام صدقہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ” رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ، تاکہ روزے کے لیے لغو اور بے ہودہ اقوال و افعال سے پاکیزگی حاصل ہو جائے اور مسکینوں کوطعام حاصل ہو۔ چنانچہ جس نے اسے نماز( عید) سے پہلے ادا کر دیا تو یہ ایسی زکوةٰ ہے جو قبول کر لی گئی اور جس نے اسے نماز عید کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ (ابوداﺅد)



  • نورمحمد says:
    8/18/2012 07:44:00 AM

    بہترین معلومات ہیں

    جزاک اللہ

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/18/2012 03:58:00 PM

    یہ اپنے مولوی علی طارق صاحب ہیں ان معلومات کا ریسورس ورنہ ہم اتنے عقلمند کہاں سے

  • Jamshaid Iqbal says:
    8/21/2012 12:47:00 AM

    Altaf Bhai kis hisab say lety hen?

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    8/21/2012 02:13:00 PM

    وہ سؤر گن کر، دوسرے کی حثیت کے حساب سے نہیں بلکہ اپنے وزن کےبرابر دو سؤر

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش