اتوار, جولائی 08, 2012

کتا پالنا


اب کتے کے بارے میں تو  اردو  میں مزید کچھ لکھنا توممکن نہیں ہے کہ پہلے ہی اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے مگرہمارے خیال شریف میں   کتا پالنے کے بارے لکھنے کی گنجائش نظر آتی ہے  بادی انظر میں  ، گویا
مجنوں نظر آتی ہے لیلٰی نظر آتا ہے۔
کتے کی اقسام دنیاکے دیگر ممالک کی طرح اٹلی میں بھی آپ کو کتے  کی کئی اقسام نظر آئیں گی ایک اصلی کتا اور دوسرا نقلی کتا  اٹلی میں ہر طرف آپ کو کتے نظر آئیں گے، اصلی بھی اور نقلی بھی ، اصلی کتا وہ ہوتا ہے جو باہر سے ہی نظر آجاتا ہے اور آپ  کہہ اٹھتے ہیں اوئے کتا اور دُور ، دُور  بھی،   مگر وہ برا نہیں مناتا، جبکہ نقلی کتے کی پہچان کرنا اول تو ممکن نہیں ہے آپ کو تب پتا چلتا ہے جب آپ کی بوٹی نکل چکی ہوتی ہے اور آپ اگر اسے کتا کہیں تو  فوراُ سے پیشتر پھر سے آپ پر حملہ آور ہوجائے گا کہ آپ کی ایسے جرٰات، ہمارا آج کا موضوع اصلی والا کتا ہے، جی ہاں  وہی چار ٹانگوں والاجسکے ایک عدد دم بھی ہوتی ہے اور بے ضرورت بھونکتا ہے اور بوقت ضرورت کاٹتاہے۔

 کتا پالنا      اٹلی میں کتا پالتا بہت ہی مشکل کا م ہے جی بلکہ جان جوکھوں کا، پھر بھی لوگ کتے پالتےہیں  اور بے شمار پالتے ہیں،  انکے خیال میں انسان نما  مخلوق کو پالنے کی بجائے کتا پالتا ہی بہترہے، اور اس کے کچھ فوائد بھی بیان کرتے ہیں  مگر  ان سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں،  پر کہے دیتے ہیں کہ یہاں پر کتا پالنا اتنا آسان نہیں ہے، ہر گلی محلے میں کتا  ملے گا، اور وہ  بھی ہر سائیز کا،  چھوٹا بھی اور بڑا بھی،  اکثریت صرف بھونکنے والوں کی ہے۔  کاٹنے والے کم ہی نظر آتے ہیں۔ 

ہمارے سامنے کے گھر میں ایک اطالوی  خاتون نے بڑا سا جرمن شیفرڈ کتا پالا ہوا ہے، جسکا کام ہر ایرے غیرے کو جو بھی گلی میں داخل ہو دیکھ کربھونکنا ہوتا ہے،  اور وہ ظالم اس وقت تک بھونکتا ہے جب تک آپ  اسکی نظروں سےاوجل نہ ہو جائیں،  اپنے عبدلمالک صاحب کہہ رہتے تھے کہ جناب مجھے تو اس کتے نے بہت دکھی کیا ہوا ہے،   آتے جاتے بھونکتا ہے اور اس شدت کے ساتھ بھونکتا ہے کہ دل دہل جاتا ہے، کوئی پوچھے اس محترمہ 
سے کہ اسکی سارے دن کی ہاؤ ہاؤ سے تمھارا مغز خراب نہیں ہوتا۔

یہاں پر ایک اور بھی مسئلہ ہے کہ گھر کی دیواریں بہت چھوٹی چھوٹی ہیں اور خطرہ ہی رہتا ہے کہ کب یہ دیوار پھلانگ ہماری ٹانگ کو آ دبوچے،   ہمار ے دوست راجہ اسد کے بقول کہ اگر ایسے ہوجائے تو بس سمجھ لوکہ  آپ کے وارے نیارے ہوگئے، کیونکہ  ادھر تو ہر کتے کی انشورنس لازم  ہوتی ہے، اگر آپ کو کتا کاٹ کھائے تو انشورنس کے پیسے  ملیں گے اور وہ بھی جی بھر کے، پس ہمارے بھی ہر کتے کو دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ آکتے ہمیں کاٹ کہہ کر اپنی ٹانگ اسکے  آگے رکھ لیں  مگر پھر فوراُ ناف میں لگنے والے چودہ ٹیکوں کا خیال آجاتا ہے۔ اور ہم  چپ  ۔

یہاں پر تو کتوں کی موجویں لگی ہوئی ہیں جی، صرف کتوں کےلئے اسکول ہی نہیں ہے   باقی کسر کوئی نہیں، ہر سپر مارکیٹ میں کتوں کےلئے الگ سے پورشن موجود،  ہر محلے میں کتا ہسپتال لازم اور وہ بھی رہ وقت  رش کے ساتھ،   یہیں تک نہیں بلکہ کتوں کےبال اور ناخن کاٹنے کے مراکز الگ سے ہیں، پھر اوپر سے خوبصورت خوبصورت بییبیاں انہیں سینے سے لگائے گھوم رہی ہوتی ہیں،  اور کئی کو تو ہم نے باقائدہ  پیار کرتے بھی دیکھا ،   اور یہ بھی سنا کہ وہ انہیں رات کو بھی ساتھ بستر میں سلاتی ہیں، اس سے زیادہ معلومات ہمارے پاس نہیں ہیں ،   مگر سچ بات ہے کہ ہم آواگون کے نظریہ کے قائل نہیں ورنہ اپنا اگلا جنم کتے کی شکل میں ہی مانگ لیتے مگر اس میں بھی خطرہ ہے،  کہ اگر بھگوان نے آدھی سن لی اور بنا کتا دیا مگر ادھر ایشیا ء میں تو پھر تو مٹی پلید ہوئی کہ ہوئی، پس   جو ہیں اسی پر قناعت منا سب ہے۔

ہمارے ممالک میں تو کتے کو نجس قراردیاجاچکا، اور ہمارے اپنے گھر میں کتے کا داخلہ ممنوع ہے،  صرف ایک ہی صورت ہے کہ کتا اگر رکھوالی کےلئے ہوتو،  جبکہ ادھر تو کتے سے پوری محبت ہے جی،  اور بندے کے سوشل ہونے معیار بھی، بلکہ میں تو کہتا ہوں کے جس نے ادھر ترقی کرنی ہے  وہ کتے سے محبت کرے پھر اسکی مالکن سے اور پھر بندے خود سیانے ہیں،  یورپ میں اول تو شادیاں ہوتی ہی کم ہیں مگر جو ہوتی ہیں سنا ہے کہ اکثریت کی لواسٹو ری  میں کتے کی محبت  ہی شامل ہے۔ ہماری ایک برازیل کی کلائینٹ تھی بڈھی ماریلینا، کوئی پچپن برس کا سن ہوگا،  اور سوشلی کنواری تھی،  مطلب قانونی و کاغذی طور پر ، مگر شادیاں کروانے کا ایک بڑا ادارہ چلاتی تھی۔ وہ بتا رہی تھی کہ پیٹ میچ کی ایک سوشل ویب سائیٹ پر کام کررہی ہے  اور اس پر دس ہزار یورو  کی انویسٹ منٹ کرے گی، کہ جی ادھر بندے کے پاس سہولت ہوگی کہ اپنے کتے کا میچ تلاش کرے اور پھر اپنا بھی،
آگے ہمت بندے کی اپنی،  ویسے تو دیکھا گیا ہے کہ ایک خوبصورت بی بی سے بات کرنا ایک کارمشکل ہے اور کالج کے زمانے میں تو یار لوگ باقاعدہ  منصوبہ بندی کرکے شرط باندھا کرتے تھے۔ ادھر اٹلی میں بھی کسی پاکستانی کا کسی لڑکی سے یوں ہڑہڑکر بات کرنا شاید اتنا آسان نہ وہ۔   مگر  ادھر جس بی بی کے ہاتھ میں کتے کی  ڈوری  کو بندہ اپنی قسمت کی ڈوری سمجھے،  بس  وہی اوپر کتے سے محبت  اور کتے والی سے محبت  کی ضرب المثل یادکرلیجئے۔ ہماری رائے میں ہر نئے آنے والے نوجوان کو ایک کتا ساتھ لے کر آنا چاہئے ، یاپھر ادھر آکر سب سےپہلا کام یہی کرنا چاہئے کہ کتا پالے۔  

 کتے کے بارے  اس سے قبل  پطرس بخاری اور ابن انشاء جیسے لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں،   کچھ احباب   میری اس تحریر کا   مقصد عظیم  اپنے آپ کو اس فہر ست میں شامل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دے سکتے ہیں، اس بارے ہم کوئی رائے نہیں دیں گے بلکہ قاری  کی رائے کا ہی احترام کریں گے۔


3 تبصرے:

  • Dohra Hai says:
    7/08/2012 09:57:00 PM

    بہت مُشک ٹاپک کا انتخاب کرنے کے باوجود بہت ہٹ کے لِکھا ہے اور خوب لِکھا ہے خاص کر یورپ کے اپنے تجربات بہت عمدہ انداز میں بیان کئے ہیں

  • عمیر ملک says:
    7/09/2012 04:19:00 PM

    کتے واقعی یورپی زندگی کا ایک حصہ ہیں۔ خاص طور پر خواتین کی اکثریت ہاتھ میں ڈوری پکڑے گھومتی نظر آتی ہے۔ بازار میں اپنا بیگ پیچھے پیچھے چلنے والے لڑکے کو تھما کر آگے آگے چلنے والے کتے کی ڈوری خود تھامے رکھتی ہیں۔۔۔۔

  • Bang-e-Jamshaid says:
    7/10/2012 12:47:00 AM

    زبردست۔۔۔۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش