سوموار, جنوری 16, 2012

کھوتا مرا؟؟؟



ارفع کریم تو مرگئی، اپنی موت، چنگی ہوگئی۔ کچھ اچھا کرگئی اور کچھ اچھا چھوڑ گئی۔ پنجاب میں کہتے ہیں کہ جسدی ایتھے لوڑ اہودی اگے وی لوڑ، پر جیڑھے عاشورا کے چالیسوں کے جلوس میں مرے اور جو جو نہیں مرے، جو یتیم ہوئے اور جو نہیں 
,ہوئے، جو عورتین بیوہ ہوئیں اور جو نہیں ہوئیں، 


انکے بارے بل گیٹ کی کیٹ نے میاؤں تک نہین کی، ہت تیرے کی۔ کیا انسان وہ ہے جو مائیکروسافٹ اشپیشلسٹ ہوکر  
مرا ،  کیا باقی سب کھوتےمرے؟؟؟  ہیں جی



4 تبصرے:

  • یاسرخوامخواہ جاپانی says:
    1/17/2012 12:58:00 AM

    کھوتے نوں انگریجی نی آندی
    ویسے اگر کھوتا انگریجی بول لیتا تو کیا اس کے حقوق کیلئے این جی او ہوتی؟

  • نورمحمد says:
    1/18/2012 05:17:00 AM

    راجہ صاحب ۔۔۔۔
    میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا ۔۔۔ معذرت کے ساتھ

    والسلام

  • Rashid Idrees Rana says:
    1/18/2012 09:05:00 AM

    پھا جی!!!!!! پرابل یہ ہے کہ بل گیٹس کو انگریجی تو آتی ہے پر پنجابی نہیں آتی، دوسرا اس کا کوئی فرقہ نہیں ہے تیجا اسکا کوئی دین نہیں ہے۔ تو بھلا وہ کیسے سمجھے گا کہ عاشورہ وچ کی ہویا یا کی نا ہویا۔ ورنہ ایسی بات نہیں کہ اونوں کسی دے مرن دا افسوس نا ہوئے، بڑا نیک دل تے شریف بندہ جے۔

  • عمیر ملک says:
    1/19/2012 11:50:00 AM

    بل گیٹس ناں تو پاکستان کا چاچا ہے ناں ہی ماما۔۔۔۔
    اگر وہ افسوس کا اظہار کرے تو اچھی بات ورنہ آپ اپنی بے حسی دوسروں کو کوس کر نہیں چھپا سکتے۔
    ارفع سے اس کا کیا تعلق تھا، وہ اس کے جاری کردہ سرٹیفیکیٹ کی مشہوری کر گئی ہے پاکستان میں۔ کمرشکلزم کے حساب سے اتنا تو بنتا تھا، باقی جس سے آپ بالمشافہ ملیں اس کے مرنے کا افسوس تو کرنا پڑتا ہے۔
    ذرا سی بات تھی اندیشہء عجم نے جسے
    بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کیلئے
    میڈیا عوام کی سوچ کو ڈائیورٹ کرنے کا ایک آلہ ہے، تصویر کا دوسرا رخ بہرحال مختلف ہی ہوتا ہے۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش