منگل, جنوری 10, 2012

عوامی کھسرے

پاکستان کی عدلیہ کہتی ہے کہ وزیر اعظم گیلانی کوئی ایماندار بندہ نہیں ہے، بئ عوام تو کب سے چیخ رہی ہے، اب بھی کیا ہوگا، بیان دے دیا، کام ختم۔ ابھی جو کچھ جیسا ہے ویسا ہے کی بنیاد پر ہی کام چلے گا۔ کھسرے صرف بدعا ہی دیتے ہیں کسی کو برابھلا کہہ کہ چپ ہوجاتےہیں اور نقصان نہیں پہنچاتے، یہاں تک تو کھسرا ہومیوپیتھک دوا کے موافق  ہوا کہ نقصان والی گل کوئی نہیں۔

پنڈ میں جب کھسرے آتے تو یار لوگوں کی رونق ہوجاتی مگر بڑی بوڑھیاں ، دادیاں نانیاں یہ کہتیں کہ کھسرا بڑا معصوم ہوتا ہے اور یہ کہ کھسرے کو ستانا نہیں اور نہ ہی انکار کرنا کسی چیز سے ،  اس کا دل نہیں دکھانا کہ کھسرے اور بلی کی بدعاساتویں آسمان تک جاتی ہے۔

میرے خیال سے بات غلط العام کے طور پر مشہور تھی ،  اگر یہ بات سچ ہے تو فیر ہمارے ملک میں بسنے والے بیس کروڑ عوام کی بدعاؤں سے ذرداری کو ہارٹ اٹیک کیون نہیں  ہوا، اسرائیل کی توپوں میں کیڑے کیوں نہیں پڑے، امریکی مزائیلوں میں سے چیچڑ کیوں نہیں نکلے،  بس جی چار دنوں کی چاندنی پھر اندھیری رات ہے، ہم یہ سب لے دے کر بھی جو جیسے ہے جہاں پر ہے ایسے ہی اور وہین پر ہی کام چلائے

1 تبصرے:

  • Dr Jawwad Khan says:
    1/10/2012 11:02:00 PM

    تصویر دیکھ کر زیادہ مزہ آیا ہے۔۔۔۔

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش