بدھ, جنوری 04, 2012

میمو اور میں

نصیر صاحب  میرے تالاب علم ہیں ادھر ، کچھ دن اٹالین مجھے سے پڑھ کیا لی بس شاگرد ہی بیٹھ گئے ، اور ایسے بیٹھے جیسے کوئی بیمار کی جڑوں میں بیٹھتا ہے،  ہر وقت سر جی یہ اور سرجی وہ ،  البتہ بندے بہت لیجنڈ اور پر مغز ہیں، جب بہت تپے ہوئے ہوں تو پھر آگ اگلنے کو میرے پاس،  انکا    اور  دیگر  احباب کا  دسمبر سے  یہ  خیال  ہے کہ نئے سال میں بدلے گا کچھ نہ کچھ،  عام بندوں کا یہی خیال تھا بشمول میرے۔   کیا بدلے گا اس بارے کچھ زیادہ تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی نے سنجیدگی سے اس بارے سوچا،   اس وقت سب کچھ تو گزشتہ برس کا ہی چل رہا ہے،  وہی بجلی کی بندش،  گیس کی عدم دستیابی،  نوکری نہیں  ہے تو تنخواہ کوئی نہیں، رشوت، مہنگائی،  دہشت گردی، چوربازاری، معاشی و سماجی عدم تحفظ۔
اٹلی میں برلسکونی سے پہلے بائیں بازو کی حکومت تھی اور پروڈی وزیراعظم تھا،  حکومت بڑے منت سماجت  سے اور چند ایک ووٹوں سے بنی اللہ  اللہ کرکے ،  مگر ایک وزیر کی بیوی پر رشوت لینے کا الزام لگا اور وزیر صاحب نے نہ صرف خود استعیفٰی دیا بلکہ  ساتھ ہی حکومت بھی دھڑام سے گری، ایک تو اسکی وجہ یہ تھی کہ اکثریت کھو بیٹھی اور دوسری مورال  کا جانا ۔
ہمارے یہاں ملک کے صدر کے جہیتے سفارتکار پر ملکی دفاع پر سودے بازی کا الزام لگا  چاہے جس نے ہی لگایا مگر حرام ہے کہ حکومت  نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے، کبھی کچھ کبھی کچھ،  حقانی نے استیفیٰ دیا  تو عوام کے کان کھڑے ہوگئے، صدر صاحب بیمار ہوکر دبئی جا لیٹے ادھر وزیر باتدبیر تھے کہ انکا موت نکالنے پر تلے ہوئے تھے، وزیراعظم کسھیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق  فرماگئے کہ اگر صدر پر کوئی الزام آیا تو میں اپنی گردن دوں گا،    اوپر سے رونقی وزیر اور اب نصف صدر جماعت بھی پروفیسر، ڈاکٹر ملک بابر اعوان وکیل ، ماہر لطیفہ جات و فضول بیانات  نے اپنے پرمغز بیانات سے جلتی پر تیل کا کام کیا اور  اب یہ حال ہے کہ ہر پاسے میمو میمو ہورہی ہے، 
بابا بھلے شاہ کے بقول
میمو میمو کردی میں آپے میمو ہوئی،   میمو ہی مینوں آکھو سارے حکومت نہ اکھو کوئی

9 تبصرے:

  • عمار ابنِ ضیا says:
    1/04/2012 06:51:00 PM

    یہ باہر والے صرف جمہوریت کی رٹ لگاتے ہیں، کوئی ٹریننگ نہیں دیتے جمہوریت کی؟ ہمارے سیاسی راہ نماؤں کو ایسی تربیتی ورک شاپ کی اشد ضرورت ہے۔ نہیں؟

  • ali says:
    1/04/2012 09:20:00 PM

    چلو راجہ صیب رین دیو۔ آپ کے بریسکونی نے وہ وہ کی ہیں کہ ہمارے بیچارے ان کی خاک تک نہیں پہنچ سکتے۔
    بے شک یہاں گیس بجلی نہیں ہے پر ہم تک پھر بھی بریسکونی صاحب کے کارنامے پہنچ گئے ہیں۔ ہاں جی

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    1/04/2012 09:50:00 PM

    برلسکونی نے جو کیا وہ کوئی مثال نہیں ہے، وہ تو ہمارے ادھر ہر تیجا بندہ کرگیا ہے، بھٹو، بے نظیر، شریف، جمالو، بندمعاش، مہاجر حسین، مشرف، ذرداری، گیلانی ، اعوان، ملک اور اور اور اور ادھر تو ایک برلسکونی تھا، پر ایک بات ہے اپنے سلمان تاثیر کی طرح بندہ رنگین مزاج تھا برلسکونی وی، آخری اسکینڈل اسکا کوئی 17 مراکن کڑی کے ساتھ تھا

  • Raja Iftikhar Khan نے لکھا :۔
    1/04/2012 09:52:00 PM

    عمارجی ہمارے سارے کے سارے سیاہ ست دان باہر کے ہی تربیت یافتہ ہیں، آپ بتاؤ کونسا سیاہ ست دان ہے جو باہر سے ٹریننگ لیکر نہیں آیا اور جسکا لنڈن میں گھر نہیں ہے اور جسکے بچے ادھر نہیں، کچھ چول تو لنڈن سے ہی سارا بھاشن جھاڑتے ہیں

  • یاسرخوامخواہ جاپانی says:
    1/05/2012 03:22:00 AM

    پاکستانی سیاستدانوں کا دماغ خراب ہے۔
    مشکل سے ملا اقتدار احساس ذمہ داری کی بیوقوفی میں چوڑ دیں۔

  • Abdul Qadoos says:
    1/05/2012 03:34:00 AM

    اب حقانی صیب نے نئی چھوڑی ہے کہ وجیر اعظم ھاوس سے بار نکلا تو ٹنگ دیا جاوں گا

  • گمنام says:
    1/06/2012 02:02:00 AM

    میمو اور میمو ! بس جناب کیا سچ اور کیا جھوٹ!

  • گمنام says:
    1/06/2012 02:04:00 AM

    بات وہی ہوئی نا! کہ کسی کو تو قربانی کا بکرا بنانا تھا! زرداری کا کیا ہوگا ؟؟؟ :)

  • افتخار اجمل بھوپال says:
    1/06/2012 11:37:00 AM

    بات جو ميری سمجھ ميں نہيں آ سکی يہ ہے کہ اگر ميمو کاغذ کے ٹکڑے سے زيادہ نہ تھا تو زرداری اور اُس کے چيلے ہلکان کيوں ہوئے جا رہے ہيں ۔ سج کی کھوج لگانے پر کيوں اعتراض ہے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش