جمعہ, دسمبر 23, 2011

بندے کے دل میں

خدا بندے کے دل میں رہتا ہے
 یہ بات آپ کو مولبی نے کبھی مسیت میں نہیں بتائی؟ ناں جی ناں ایس طراں نہ کریں، ضرور بتائی ہوگی
اب یاد آیا،     چلو شکر ہے کہ آپ کو یاد تو آگیا کہ خدا بندے کے دل میں بستا ہے


حد ہوگئی
 خود حساب لگاؤ
جب خدا بندے کے دل میں ہے 
 تو فیر  اگر بندہ دل سے دعا کرے
اللہ تو ادھر نیڑے ہی ہے
پہلے سنے گا 


یا مولبی سے بعد از شیرینی  ادائیگی کروائی  جائے  تو سنے گا؟؟
ویسے مولبی بعد والی بات کبھی نہیں بتاتا
 اسکی روٹیاوں کا چکر ہے ،  جی بلکل پیٹ سب کا ساتھ لگا ہوا ہے
آپ کا بھی ، میرا بھی ، مولبی کا بھی ، پیر صاحب کا بھی، ڈاکٹر کابھی اور ماشٹر کا بھی

مکمل تحریر  »

منگل, دسمبر 20, 2011

جنت میں آگ

کہتے ہیں  میرا گھر میری جنت،     اب گھر کیا ہے اس بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف آراء ہوسکتی ہیں مگر اس پر سب کا اتفاق ہے کہ گھر گھروالوں سے ہی  ہوتاہے،  اب گھر والے کون ہیں؟ ظاہر ہے     اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ وہ جو گھر میں رہتے ہیں ،  مگر میری اس بات سے بقول چچاطالب مطمعنی نہیں ہوتی۔  کہ میں جو گھر سے باہر رہتا ہوں پردیس میں کام کاج کے سلسلہ میں یا کسی دوسری معقول و نامعقول وجہ سے کیا میں گھر کا فرد نہیں رہا؟؟  لازمی طور پر ہوں جی ورنہ تو میرے پلے کچھ بھی نہ رہا۔  اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ بہت سے ایسے لوگ بھی گھر کا حصہ ہوتے ہیں جو ہمارے گھر میں نہیں رہتے مگر ہم انکے ساتھ اتنے مربوط ہوتے ہیں کہ  گویا لازم و ملزوم ہوگئے۔ ہم پینڈولوگ کہتے ہیں 
کہ مرن جیون سانجھا۔  اب جن کے ساتھ ہمارا مرن جیون کا ساتھ ہوتو وہ ہمارے گھر کےلوگ کیسے نہ ہوئے۔

گھر میں اگر کوئی بیمار ہوجائے تو سارے پریشان، کام ، نوکری ، تعلیم  الغرض ہر معاملہ ایک طرف رکھ کر اس بندے کی ٹینشن لی جاتی ہے۔ تب  تک جب تک وہ تندرست نہ ہوجائے۔  شہروں میں تو نہیں مگر گاؤں میں ابھی بھی لوگ ایک دوسرے کا اس حد تک خیال رکھتے ہیں کہ اگر کوئی ایک تکلیف میں ہے یہ یا کسی مصیبت میں مبتلا ہے تو اسکا خیال رکھا جائے، کچھ نہیں تو زبانی ہمدردی کے دو بول ہی سہی اور تھوڑا دلاسہ ہی سہی، کسی مرگ پر اظہار افسوس کرنا چاہے وہ  رسمی طور پر ہی ہو،   بابے لوگ لاٹھی کھڑکاتے کہہ رہے ہوتے ہیں چلو جی افسوس کرآئیے  کہ مرن جیون سانجھا ہوندا ہے۔
جب ہمارے اردگرد میں مصیبتیں، مشکلات اور پریشانیاں ہونگی تو ہم بیچوں بیچ سکھی نہیں رہ سکتے،  گویا بندے کا گھر وہی نہیں ہوتا جہاں وہ رہتا ہو یا جہاں اسکے گھر والے رہتے ہوں بلکہ رشتہ دار دورکےبھی اور دور رہنے والے بھی،  قریب رہنے والے بھی سب کچھ ملا کر بندے کا گھر بنتا ہے۔   شاید اسی لئے پوش علاقوں میں گھر خریدنا مشکل ہوتا ہے کہ ادھر اپکے قریب رہنے والے سلجھے اور رکھ رکھاؤ والے ہونگے ، پر بندہ اسی چکر میں اچھے بھلے پیسے فالتو چکا جاتا ہے ورنہ شاید اسی سائیز کا گھر کسی  چنگڑ ایریا میں بہت سستا پڑے ۔

ہمارے پنڈمیں بہت تھوڑے سے لوگ رہتے ہیں  کل ملاکر کوئی دوسو کے قریب ہونگے بالغ وعاقل  اس سے دوگنی تعدادمیں بیرون ملک ہیں،  ہم  لوگ چونکہ سارے کے سارے ہی  نسل درنسل سے ادھر ہی پیدا ہورہے ہیں لہذا  یہ گاؤں سب کی جنم بھومی قرار پایا اور مرن جیون سانجھا ہوا۔ سچی بات یہ ہے کہ  ہر بندہ ایک دوسرے کا رشتہ دار ہے،   مجھے نہیں یاد کہ کبھی کسی بڑے کو بلحاظ عمر یا حسب رشتہ بھائی جان ،  چچا، تایا  ، بابا، دادی، ماسی  آپا کہہ کر نہ بلایا ہو،  اور اگر کبھی بھولے میں کسی بزرگ کے سامنے کچھ ہینکی پھینکی ہوگئی ہو تو چھتر پڑنے سے کوئی روکنے والا نہیں  تھا،  ہم سے چھوٹے بھی ہمیں بھائی جان کہتے  اور اب انکل بھی شروع ہوگیا ہے اور اب ہم انکو انکھیں نکال رہے ہوتے  ہیں۔
 بہت برس پہلے جب میں کالج میں پڑھا کرتا تھا اور بعد میں پڑھایاکرتا تھا تو جب پنڈمیں کوئی فوتگی ہوجاتی تو پورے گاؤں سے کوئی بندہ نہ تو تعلیم کےلئے جاتا اورنہ ہی نوکری پر،  فون کرنا پڑتا کہ جناب میرے پنڈ میں مرگ ہوگئی ہے میرا  پیریڈ کوئی سر لے لیں ۔ مزدور لوگ بھی اپنی دیہاڑی چھوڑ دیتے،  اگر کوئی تعمیر ہورہی ہوتی تو کام روک دیا جاتا، راج مستریوں کو کہہ دیا جاتا کہ جی ہمارے پنڈ میں  فوتگی ہوگئی ہے لہذا ابھی ختم تک تم لوگ فارغ، شادی بیاہ تک کو ملتوی کردیا جاتا کہ جی ہم لوگ سوگ میں ہیں۔   مطلب یہ کہ آپ پورے پنڈ کو اکٹھا کرلیں اور پوچھ لیں کہ کسی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی، سارے مونڈی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلا دیں گے۔  پھر اسی طرح اگلے پچھلے گاؤں میں یا علاقہ میں کوئی مصیبت آجائے تو ہم لوگ بھی پریشان، ملک میں کچھ ہوجائےتو ہم افرا تفری میں ،کہ 
 میرا ملک میری جنت
گزشتہ کچھ برس سے  کچھ عجیب ہی ہواچلی ہوئی ہے کہ ہر دوچار برس بعد ایک ادھ بندہ قتل ہوجاتا ہے
چچا طالب کے گھر پر رات کو فائر ہوا اسکا  چند برس کا   پوتا چل بسا، کچھ پکڑ دھکڑ ہوئی  مگر ملزم چھوٹ کر آگئے کہ عدالت سے بے گناہ نکلے۔  کیس فائل۔پھر کسی نے ذکر نہیں کیا۔
پھر۔۔۔ پھوپھو خیرن  کا قتل ہوا  ساتھ میں انکی سات سالہ بھانجی کو بھی کاٹ دیا گیا، کچھ لوگ گرفتار بھی ہوئےبعد میں  پولیس نے انکےبھائی کے ذمہ ڈال دیا  وہ گرفتار ہوا اور انکے گھروالوں نے تپ کر کیس چھوڑ دیا، سارے باہر ،پولیس کو تفتیش نہیں کرنی پڑی اور کیس فائل ہوگیا۔
پھر بابا سائیں بھولا  کو بقول اسکے سوتیلے پوتوں نے سوتے میں ڈنڈا مارکر ہلاک کردیا،  ملزم باوجود نامزد ہونے کے گرفتارنہیں ہوا کہ آصف بھائی کے پاس  پلس کو دینے کو پیسے نہ ہی تھے اور نہ ہی وہ رشوت دینے والا بندہ ہے۔ کیس فائل ہوگیا۔
چچاوراثت خان کی لڑکی گھر والوں کو کراچی سے ملنے آئی ، رات کو فائر ہوا وہ چل بسی، ایک بندہ گرفتار مگر امید ہے کہ وہ بھی چھوٹ جائے گا کیوں کہ کوئی بھی تو اسکا گواہ نہیں ہے۔
  ابھی کل شام کو ہمارے ہمسائے میں چچی ناصر ہ پر فائرنگ کی گئی اور وہ چل بسی انا للہ و انا الیہ و راجعون۔    نہایت ملنسار، ہمدرد اور باخلاق خاتون تھیں،   ایک گھریلو قسم کی پابندصوم صلوات ، پڑھی لکھی  ماں جو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت میں مگن تھی۔ کسی کے ساتھ اونچ نیچ ، بحث و تکرار  کبھی نہیں سنی،  جب پاکستان جانا ہوتا تو  اپنوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیرتیں اور دعا دیتیں۔  کل سے پوری ٹینشن میں  ہیں، ہم ادھر بھی اور جو ادھر ہیں وہ بھی۔  ہم انکو فون کررہے ہیں وہ جو گھر میں ہیں وہ ہمیں ۔
کون پکڑا جائے گا کون چھوٹے گا  ؟؟  ابھی کچھ معلوم نہیں مگر ان سارے بندوں کا خون کس مقصد کےلئے بہایا گیا؟؟  یہ تو میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ سارے بندے ہی معصوم اور شریف لوگ تھے،   انکا قصور کیا تھا، ا نکو  کس جرم  کی سزا  دی گئی ؟؟
تو پھر سوال یہ ہے کہ اتنے شریف اور معصوم لوگوں کا خون کیوں؟؟   کیا کوئی پوچھنے والا نہیں ؟؟  کیا کوئی  روکنے والا نہیں ؟؟   کیا کوئی نہیں جو عوام کی جان و مال کی حفاظت کرسکے؟؟ کیا کوئی نہیں جو ان معصوموں کے اس قتل عام کو روک سکے؟؟
 میری جنت میں لگی اس آگ کا انجام کیا ہوگا ؟؟؟  کسی کے پاس کوئی حل؟؟؟

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 17, 2011

جون ایلیا پر ڈاکہ

کیا اس قدر حقیر تھا اس قوم کا وقار
ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو
یہ بات کیا ہوئی کہ بیابان وقت میں
احساس تشنگی کو بڑھا کر سراب دو

ہم کو تھپک تھپک کے دکھائے گئے تھے خواب
خاموش کیوں ہو، اب ہمیں تعبیرِ خواب دو

جو صرف گلستاں نہ ہوا رائیگاں گیا
اس خونِ شاہدانِ وفا کا حساب دو
ٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملت کے احترام کو رسوا کیا گیا
پر حوصلہ عوام کو رسوا کیا گیا

تاریخ جس کے سامنے رہتی تھی سجدہ ریز
اس عظمتِ دوام کو رسوا کیا گیا

اے غازیو جہاد کی توہین کی گئی
اے شاعرو کلام کو رسوا کیا گیا
جون ایلیا

ابھی ہماری کارستانی شروع ہوئی
نیلے رنگ کے الفاظ تبدیل کردئے گئے

کیا اس قدر حقیر تھا اس قوم کا صدر
ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو
یہ بات کیا ہوئی کہ عدالت وقت میں
احساس تشنگی کو بڑھا کر سراب دو

ہم کو تھپک تھپک کے دکھائے گئے تھے خواب
خاموش کیوں ہو بے غیرتو، اب تعبیرِ خواب دو

جو صرف سوئس میں رہا رائیگاں گیا
اس خونِ شاہدانِ وفا کا حساب دو
ٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملت کے احترام کو رسوا کیا گیا
پر حوصلہ عوام کو چوول کیا گیا

بی بی جس کے سامنے رہتی تھی سجدہ ریز
اس عظمتِ دوام کو کھجل کیا گیا
اس عظمتِ دوام کو کھجل کیا گیا

اے مولوبیوجہاد کی توہین کی گئی
اے عوام تیرے نام کو رسوا کیا گیا

مکمل تحریر  »

بدھ, دسمبر 14, 2011

چمن ہے مقتل نغمہ

چمن ہے مقتل نغمہ ،  اب اور کیا کہئے
ہر طرف اک سکوت کا عالم ہے، جسے نوا کہئے
اسیر بندزمانہ ہوں اےصاحبان چمن
گلوں کو میری طرف سے بہت دعا کہئے
نہ رہے آنکھ تو کیوں دیکھئے ستم کی طرف
کٹے جو زباں تو کیوں حرف ناروا کہئے
پڑے جو سنگ تو کہئے نوالہ تر
لگے جو زخم تو اسے دوا کہئے
پڑھئے شعر ہمارے اور کچھ نہ کہئے
بس حرف حرف پر مرحبا کہئے

مکمل تحریر  »

ہومیوپیتھی اور الکحل

ہومیوپیتھک ادویات  کی تیاری میں   ایک لفظ  وہیکل استعمال کیا جاتا ہے   اس سے مراد ہے کوئی ایسی چیز جو دوا یا ادویاتی مادہ کو جسم کے اندر پہنچانے کا کام کرے یا کرتا ہے، بلکل ایسے ہی جیسے ہم لوگ عام اشیاء کی ترسیل  کےلئے وہکلز استعمال کرتے ہیں مثلاُ موٹر وہیککلز  یا ہیوی وہیکلز وغیرہ ۔ اس وہیکل کی خاصیت یہ ہونی  چاہئے کہ اسکے اپنے کوئی اددیاتی اثرات نہ ہوں اور دوا کو طویل عرصہ تک محفوظ رکھے۔
 بنیادی طور پر ہومیوپیتھک فارمیسی  میں  3  وہیکلز استعمال ہوتے  ہیں  پانی ، کیونکہ بہت سے مادے پانی میں حل ہوتے ہیں ،  شوگر آف ملک ، وہ معدنیات جو پانی میں حل نہیں ہوتی انکو شوگر آف ملک کے اندر رگڑ کا مکس  کیا جاتا ہے اور پھر پانی میں حل کیا جاتا ہے، اور تیسرا  وہیکل الکحل ہے   اس کا استعمال ابتدائی طور پر جابر بن حیان نام  کےمسلمان سائنسدان نے کیا کہ پارہ  کےلئے واحد محلل ہے ۔ پھر بعد میں تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ اس کےاندر ادویات کو محفوظ رکھنے کی خوب صلاحیت ہے اور برس ہابرس تک دیگر عناصر کو اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے  اور اس میں مزید ہونے والے والی کیمیائی تبدیلیوں کو روکتا ہے۔ اسکے علاوہ ایک اور تیکنیکی وجہ یہ بھی ہے کہ الکحل چونکہ بہت جلد تحلیل ہونے والا مادہ  ہے  جو اسکی ڈانیامائیزیشن کا مظہر ہے، ہومیوپیتھی میں ادویات کی  تیاری میں استعمال کیا جانے والا ڈائنا مائیزیشن کا عمل اسی الکحل کے مرہون منت ہے۔
ایک عام سوال جو کیا جاتا ہے کہ ہمارے مذہب میں چونکہ شراب  نوشی کو سختی سے منع کیا گیا ہے، لہذا الکحل  کا استعمال کس حد تک جائز ہے۔
تو اس بابت یہ ہے کہ شراب نوشی منع ہے اور الکحل بذات خود شراب نہیں بلکہ شراب کا ایک جز ہے  گو کہ بہت اہم اور ایکٹو۔  
تو  اس بارے چند وضاحتیں کرنا ضروری سمجھی جائیں گی
1۔  شراب نوشی منع ہے  الکحل نہیں۔  الکحل جوکہ ایک جز و ہے یہ ممانعت کے زمرہ میں نہیں آئے گی،   جبکہ اسکا استعمال بھی نشہ کے مقصدکےلئے نہ ہو۔
2۔ دوا کے طور پر الکحل کا استعمال اتنی قلیل مقدار میں ہوتا کہ اس سے نشہ ہونے کا خدشہ نہیں ، چند قطرے  دن میں چند بار۔
3 ۔ مذید بچاؤ کےلئے اگر الکحل زدہ دوا کے دو قطرے شوگر آف ملک  یا چینی پر ڈال کر اسکے خشک ہونے پر استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔  اب اس  دوا میں الکحل موجود نہی ہے ۔
4- اکثر علماء کا خیال ہے کہ الکحل شراب کے زمرے میں نہیں آتی اور اس اسکا استعمال بطور دوا جائز ہے۔  جیسا  کہ اسکےعلاوہ  بطور دوا ہم لوگ مردہ جانور وں کے حصے ، حشرات الارض، انسانی انزائمز  اور زہر بھی استعمال کرتے ہیں  جبکہ یہ ساری اشیاء  کلی طور پر  عمومی استعمال کےلئے ممنوعہ میں شمار ہوتی ہیں۔    اسی ضمن میں ایک اور مثال یہ ہے کہ کھانسی کے شربت میں الکحل کی اچھی خاصی مقدار شامل ہوتی ہے اور اسکے اوپر لکھا ہوتا ہے کہ اسکو استعمال کرنے کے بعد ڈرائیونگ یا مشینیں چلانے سے پرہیز کریں، اس کےعلاوہ ڈوپنگ کے تحت ممنوعہ ادویات بھی نشہ  آور اشیا ء کے زمرہ میں آتی ہیں۔
میرے علم میں جو تھا ، بیان کیا باقی اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور وہی علم والا اور خبر رکھنے والا ہے۔  اگر اس سلسلہ میں مزید کوئی وضاحت درکار ہو تو ضرور لکھئے انشاءاللہ پہلی فرصت میں جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔ 

مکمل تحریر  »

بدھ, دسمبر 07, 2011

بیمار کو بدعائین

ہم پاکستانی بڑی ہی  سادہ ،  سچی ،   جذباتی اور حساس قوم ہیں ۔
دوست تو دوست دشمن بھی اگر بیمار ہوجائے تو فوراُ سب کچھ بھلا کر پنڈ کے بڑے بوڑھےبزرگ لوگ لاٹھیاں کھڑکاتے اس کی تیمارداری کو چل نکلتے ہیں۔   ادھر جاکر حال پوچھا جاتا ہے اور بیماری کے بارے میں مفصل معلومات حاصل کی جاتی ہیں، پھر  ان کی وجوہات پر سیر حاصل بحث ہوتی ہے اور اس سے گزشتہ پچاس برس میں مرنے والوں کا ذکر ہوتا ہے، علاج کے بارےمیں معلومات کا حصول اور معالج کی قابلیت  پر شک کا اظہار اور اسکی اکثر ناتجربہ کاری کا رونا رویا جاتا ہے، تب تک مریض کا رنگ فق اور ہونٹوں پر پپڑی جم چکی ہوتی ہے گویا اسے  بھی اپنا وقت قریب دکھائی دے رہا ہو  ۔    پھر اس معمولی ا ور سستے والے معالج    ڈاکٹر ا ختر میں سے تین سو کے قریب نقائص و کیڑے نکال کر اسکو ریجیکٹ کردیا جاتا ہے   ، اہو ہو ، آپ کیا جانو بابا جی  اوس بچارے کو تو کھانسی اور زکام کا علاج کرنا ہی نہیں آتا  اس پیچیدہ بیماری کا وہ کیا علاج کرے گا اور فیر یہ جو تیس رو پئے کی دوائی وہ دے رہا ہے اس  میں کیا ہوگا، جی، بابا جی آپ بتا ؤ تیس روپئے کے  تو ہانڈی کے ٹماٹر نہیں آتے اس  ڈاکٹر نے ان میں سے خود کیا رکھا ہوگا اور انکو کیا دیا ہوگا،  تب تک مریض  کا دل دوائیاں اتھا کر پھینک دینے کو کررہا ہوتا ہے  مگر  اسکے ساتھ ہی ایک اچھے اور مہنگے والے معالج کا پتا بتایا جاتا ہے  کہ فیس تو بہت لیتا ہے کوئی دو ہزار روپئے اور دوائی الگ سے لکھ کر دیتا ہے وہ بھی بہت اعلیٰ قسم کی ولائیتی دوائی، پہائی کوئی ڈیڑھ ہزار کی آتی ہی مگر آفرین ہے اس ڈاکٹر پر کہ اس میں سے ایک پیسہ نہیں لیتا  ، میڈیکل اسٹور سے خود خریدو اور خود ہی پیسے دو،   اب مریض   حساب لگا چکا ہوتا ہے کہ کل ملا کر  ساڑے تین ہزار کا نسخہ بنتا ہے جبکہ میرے منڈے  کی مہینے کی تنخوا ہ  6 ہزار ہے کام نہیں چلنے کا، بابا لوگ تب مریض کو دعا بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ بھی اللہ تمھیں شفاء دے اور صحت تندرستی دے اور  لمبی عمردے  اور یہ کہ اللہ تھماری مشکلیں آسان کرے۔ 

اکثر دیکھا گیا ہے کہ اسکے فوراُ بعد مریض تندرست ہوجاتا ہے اور جب بابا لوگ دعاؤں کے بعد جانے کو اٹھتے ہیں کہ چلو وی پہائیا  چل،  تو مریض اٹھ کر بیٹھ جاتا ہے اور  چہر ے مسکراہٹ سے انکو رخصت کرتا ہے ۔ اس بارے میں دو آرائیں اول جو  میرے  جیسے مادہ پرست لوگوں کی ہے  اور ان کا خیال ہے کہ مریض  کو علاج کی قیمت سن کر ہی افاقہ ہوجاتا ہے ، جبکہ دوسری رائے  جو زیادہ  صائب لگتی ہے وہ  روحانیت پرست اور اللہ والوں کی ہے کہ دعا بہر حال اثر کرتی ہے، بابا لوگ چونکہ دل سے صاف ہوتے ہیں اور سچے دل سے دعا دیتے ہیں پس اللہ جو اپنے بندوں کے دل میں بستا ہو وہ اس 
ادھر پاس سے ہی نکلی ہوئی دعا کو فوراُ سن کر شرف قبولیت بخشتا ہے اور بندہ فٹ ٹھیک  اور  فٹ فاٹ۔

ایک ہمارے ملک کے صدراعظم ہیں جو پیؤ کھاؤ پارٹی کے صدر بھی ہیں، ملک کے ہونے والے صدر کے باپ بھی،  ہوچکی وزیر اعظم کے خاوند ارجمند  بھی اور اپنے سسر صاحب  بھٹو کے پس از مرگ  بننے والے خود ساختہ پسر بھی   ہیں ، ان دنوں بیمار ہیں 
یعنی چشم بیمار ہے
چشم نرگس بیمار ہے  ،  ہائے ہائے    کیا دل کا آزار ہے
چشم نرگس بیمار ہے  ،   بات پر اسرار ہے
چشم نرگس بیمار ہے تیرے بغیر  ہائے ہائے
باقی سب کچھ بے کار ہے تیر ے بغیر ہےہائے ہاے
 چشم نرگس بیمار ہے یا ملک سے فرار ہےہائے ہائے

آج ایک عجیب بات دیکھی ہے کہ فیس بک پر اور گوگل پلس پر یار لگ اوس کے مرنے کی دعا ئیں کررہے ہیں کوئی پوچھ رہا کہ یہ مرا کیوں نہیں؟؟  دوسرا جواب دے رہا ہے کہ کہ پلید برتن بھی ٹوٹا ہے،  کسی کا جواب ہے کہ کتے آسانی سے نہیں مرتے، کوئی کہہ رہا ہے کہ یااللہ اگر یہ بیمار ہوہی گیا ہے تو اس کو موت ہی دے دے، باقی اس کے نیچے آمین آمین کی قطار لگی ہوتی ہے۔  میں سوچتا ہوں ہوں کہ یہ ملک کا صدر ہے ، پورا ملک اور اٹھارہ کروڑ لوگ اسے کے اپنے ہیں تو پھر وہ اس کو بدعائیں کیوں دے رہے ہیں،  میں نے پورا پاکستان تو نہیں گھوما مگر اپنے پنڈکے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ کبھی کسی نے کسی بیمار بندے کو نہیں کہا کہ اللہ کرے یہ مرجائے،   اگر لوگ یہ کہہ رہےہیں تو پھر کتنے تپے ہوئے  ہوں گے، انکے دل کتنے جلے ہوں گے؟؟؟

مکمل تحریر  »

سوموار, دسمبر 05, 2011

بون اور ڈنڈہ

سوئس سے نکلے اور سینٹ گلین سے آسٹریا میں جاگھسے، وہاں سے پھر جرمنی میں اور  فرینکفورٹ کی طرف منہ کرلیا کہ سہیل بھائی کا کوئی یار ادھر رہتا ہے اس سے بھی مل لیں گے اور فرینکفورٹ کی سیر بھی ہوجائے گی کہ بھئی آخر کار انٹر نیشنل شہر ہے دیکھنا چاہئے۔   ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا،   اگر تھا تو یہ کہ  ہم چاروں ہیں علامہ صاحب، سہیل بھائی ، جمیل میاں جو ہمارے  مشاق ڈرائیور بلکہ پائلٹ تھے،  اور راقم، تب نئے لائسنس یافتہ مگر گاڑی چلانے کا مطلق تجربہ نہ تھا  ،  دس چھٹیاں ہیں اور یہ اوپل آسٹرا گاڑی ہے کہیں جانا ہے،  کہاں ؟؟ کون جانے،  رات زیورخ  پہنچے اور پوچھا کہ بھئی ادھر کیا دیکھا جاسکتا ہے، جواب آیا کہ اہو ہو، تمھیں ملوم نہیں کہ ادھر آج اسٹریٹ پریڈ کی رات ہے بس تم ادھر جھیل کو نکل لو جدھر لوگ جارہے ہیں فیر میلہ لگتا ہی ہوگا۔ سٹریٹ پریڈ  کو لو پریڈ بھی کہا جاتا ہے، عوام اور مشٹنڈا پارٹی، چرسی و عشاق سارے ہی ایک ساتھ ہوتے ہیں  سڑکو ں پر سرعام میوزک کنسر ٹ اور عوام کی ناچ مستی، جوڑے ٹن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے بوس و کنار میں مصروف، شرابی لوگ شراب کی بوتلیں لئے گھوم رہے، دوشیزائیں نہائت غربت کےعالم میں بس دو چیتھڑون سے جسم چھپانے کی کرشش میں ناکام، عوام ناچ رہی ہے اور گارہی ہے۔ پی رہی اور پلارہی،   ہم نے بھی حسب توفیق  میلہ دیکھا (بقول سہیل بھائی بھونڈی کی)،  صبح صادق کے وقت ادھر پوہ  پھوٹی  ادھر یارلوگ  اپنی اپنی راہ کو چل دئے، ہم بھی  دو گھنٹے گاڑی میں ہی نیند کو چکمہ دے، ٹھنڈے پانی سے منہ دھو، خود ایک بار  اور جمیل کو دو بار کافی پلوا کہ گاڑی اس نے چلانی ہے، اسکی نیند پوری طرح اڑنی چاہئے،  نکل پڑے  جرمنی کے راستوں میں ،بھول جاتے اور کسی اور شہر کی طرف نکل لیتے، پھر علامہ صاحب  جو جرمنی میں رہ چکے تھے اور جرمن زبان سے کماحقہ واقفیت بھی رکھتے تھے  بقول انکےعلامہ صاحب  کو  بھیجا جاتا بلکہ وہ ہمارے  خود ساختہ ناویگیٹر بنے ہوئے تھے، اور خالصہ جی کی پریڈ کے موافق سجا، کھبا کراتے جاتے، پھر شور مچا دیتے کہ ڈائیریکشن جو بابے نے بتائی تھی وہ نہیں مل رہی،  لگتا ہے راستہ بھول گئے ہیں اہو ہو ہو، ایدھر ہی گاڑی روکو اور میں اس مائی سے راستہ کے بارے علم حاصل کرکے آتا ہوں، کہہ کر گزرتی ہوئی لڑکی کو تاک کر روک لیتے اور دس منٹ گٹ مٹ کرتے، یا یا یا کرنے کے بعد واپس آتے اور ماتھے پر دو ہاتھ مارکرکے فرماتے لو جی فیر چوک گیا راستہ واپس مڑو اور ساٹھ کلومیٹر پر فیر ڈائیریکشن ملے گی۔ چلو،  اور ہم چلتے رہے، مطلب ہم بیٹھے رہے اور گاڑی چلتی رہی،  رستے میں علامہ صاحب کے موبائیل پرکال آگئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ فرینکورٹ کو ہاتھ لگا کر ادھر بو ن کو نکل چلو کہ میری لالا جی سے بات ہوئی ہے اور وہ رات کے کھانے پر ہمارا انتظار کریں گے۔  یہ لالا جی موصوف علامہ صاحب کے برادر کبیر مرزا ضیاء  صاحب ہیں جو ادھر آخن یونیورسٹی کو ڈاکٹر قدیر کےبعد ٹاپ کرنے والے دوسرے غیر ملکی اور دوسرے ہی پاکستانی ہیں،  اور یہ کہ بون کے حلقہ 
کے موٹروے کے انچارج انجینئر ہیں۔

بون پہنچے تو رات کے پہر تھے ، وسط اگست کا سورج ڈوب چکا تھا، مرزا صاحب نہ میری طرف دیکھا اور کہنے لگے اسٹریٹ پریڈ سے ہوکر آئے ہو؟؟ ان بزرگوں کے بالوں میں رات کے ستارے ابھی تک چمک رہے ہیں،  کھانا ہمارے انتظار میں  ٹھنڈا ہو چکا تھا  جو ہم پھر سے گرم کرکے  مرزا صاحب نے ہمیں بڑی محبت سے کھلایا کہ  بھئی میں نے آج کوئی ایک ماہ بعد گھر میں اور وہ بھی پاکستانی کھانا بنایا ہے، برتن بھی انہون نے  دھوئے کہ علامہ صاحب گلاس پر پانی کے نشان چھوڑ دیتے ہیں اور ہم تینوں تو ہیں ہی خیر سے مہمان، اور اوپر سے پہلی بار آئے ہیں۔

پھر ہم نکلے شہر کی سیر کو دو کاروں میں بھر کے،   مرزا صاحب نے کمال محبت سے ہمیں کمپنی دی اور پورا شہر پھرا دیا، ساتھ میں بھر پور تبصرہ بھی،  سٹی ہال کے سامنے رکے اور فوٹو سیشن ہوا کہ بھئی یادگاری فوٹو  بن جائیں گے۔  مرزا صاحب کو درخواست کی گئی کہ جناب ہم دلی سے آنےو الے چارسواروں کےگروپ کی تصویر بنادیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے،  مرزا صاحب کافی دیر کوشش کرتے رہے اور پھر بولے یار یہ جھنڈا نہیں آرہا،  فوراُ  جمیل کے منہ سے جواب نکلا کہ ڈنڈا تو آرہا ہے ناں
بس پھر قہقہے ابل پڑے۔
اور وہ تصویر بغیر جھنڈے کے ہی بنی البتہ ڈنڈہ ہمارے عقب میں غور سے دیکھا جاسکتا تھا ۔ 

آج کل  بون کا عالمی سطح پر اور خبروں میں پورا چرچا ہے کہ افغانستان سے متعلق ہونے والی  کانفرنس میں پاکستان کا جھنڈانہیں آرہا، مگر بہوتوں کو ڈنڈہ ضرور آرہا ہے، حامد قرضئی سے لیکر چاچی ہیلری کلنک ٹیکن تک سبھی باؤلے ہوئے پھر رہے ہیں،  اگر اس طرح کی غیرت دس بار ہ برس پہلے ہی کھالی ہوتی تو آج سو چھتر بھی نہ کھانے پڑتے اور  نہ ہی سو گنڈھے 

مکمل تحریر  »

ہفتہ, دسمبر 03, 2011

نیو ورلڈ آرڈر اور بدمعاش


برطانیہ میں لارڈ نزیر احمد بڑا نام ہیں، ایک بڑا کردار ، ایک مثال ، شاید پاکستان کے اوباہامہ جو دوسرے ملک میں جاکر اس معاشرے کا حصہ بنے اور اور اوباہامہ سے بھی بڑھ کر کہ وہاں پر سب کچھ ہوکر بھی اپنے وطن اور اہلیان وطن کےلئے درد سے بھر پور دل رکھنے والے، میری ان سے ادھر اٹلی میں معنقد ایک پروگرام میں ملاقات ہوئی تھی کچھ برس پیشتر، نہیں کہہ سکتا کہ ذاتی قسم کی ملاقات تھی مگر اجتمائی طور پر ، البتہ ان کی باتیں قریب سے سنیں اورچونکہ سارے لوگ ان فارمل ہی تھے تو عام سی باتیں ہی تھیں، مگر ایسا لگا کہ بنیادی طور پر یہ ایک نیک اور اچھا بندہ ہے، ہمدرد قسم کا، جو ہر پلیٹ فارم پر پاکستان ، کشمیر ، اسلام اور لمانوں کی بات کرتا ہے اور بڑی ہمت اور بردباری سے کرتا ہے، گویا برطانیہ اور مغرب میں ایک ایسا سفیر جو مفت میں ہمارے لئے سفارت کاری کرتا ہے، نہ کچھ مانگتا ہے اور نہ ہی کچھ لیتا ہے۔ کہہ لو کہ اللہ نے ایک تحفہ دے دیا کہ جا چولا تیرا بھی بھلا ہ

لو جی خبر آگئی کہ آزاد کشمیر کی حکومت نے انکو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔
میں تو حیرت زدہ ہی رہ گیا اور سمجھ ہی نہ آئی کہ ہوا کیا اور کیونکر؟؟ بات کو آئی گئی کردیا، خبر ختم ہوئی تو بھائی کہتے ہیں یار یہ لارڈ نزیر نے پاکستان اور کشمیر کےلئے کیا برا کیا ہے ؟؟ تب دماغ میں پھر سے فلم چلی اور سمجھ آیا کہ کیا ہوا اور اسکا کیا سبب ہوسکتا ہے۔ شہباز شریف نے لاہور کے جلسے میں بدمعاشوں ، ڈاکوؤں کو الٹا لٹکانے کی بات کی تو مہاقینچی موومنٹ فوراُ سڑکوں پر آئی ، اب اگربرطانیہ میں ہونے والے ڈاکٹر عمران کے قاتلوں کو پکڑنے اور لٹکانے کی بات ذولفقار مرزا کرے گا تو ذرداری پارٹی کےلوگ میدان میں آگئے۔
پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ چوروں کے یار چور اور بدمعاشوں کے یار بدمعاش، ٹھگوں کے یار ٹھگ، بڑے بڑگ سچ ہی کہہ گئے ہیں۔
کبھی کبھی تو یوں بھی لگتا ہے کہ یہ ذرداری ، کالے بھائی، ملک، اعوان اور اس قبیل کے دیگر لوگ باقائدہ طور پر امریکہ کے نیو ورلڈ ارڈر پر عمل پیرا ہونے کی ٹریننک لے کر آئے ہوئے ہیں، کہ جی ہم سب کچھ کرسکتے ہیں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کےلئے۔ یہی تو چکر ہے کہ ذرداری اور اسکے گماشتے ایک ایک کرکے اس ملک کی یا اس سے متعلقہ ہر اچھی چیز کو تہس نہس کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کیونکہ نیو ورلڈ آرڈر کے مطابق پاکستان نام کے ملک کو ختم ہوناہے، کیسے ؟؟ کوئی ایسا طریقہ نہیں، بس ہونا ہے۔ جیسے بھی ہو، اداروں کو تباہ کرکے، لوگوں کو برباد کرکے، کسی کو پانی بجلی بند کرکے کھجل کردو اور کسی کو ناپسندیدہ قرار دے کر۔ مطلب ہر بندے کو اتنا تنگ کردو کو وہ بے غیرتی اور بے شرمی کی حد تک پہنچ جائے، اتنی افراتفری پھیلا دو کہ کسی کی سمجھ میں ہی نہ آئے کہ کیا ہوا ، کون کرگیا اور کیوں کرگیا، بقول ہمارے بزرگ حکیم علی صاحب مقیم لندن ہر ف پھڑ لو پھڑ لو مچی ہونی چاہئے، میرا تو خیال ہے کہ ہم سبھی اس نیو ورلڈ آرڈر کے ڈسے ہوئے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ آپ کو اس سے اختلاف ہو؟؟ تو پھر آپ کیا سمجھتے ہیں بتلانا پسند کریں گے؟؟

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش