بدھ, نومبر 30, 2011

چاچی کا دکھ


امریکی وزیرخارجہ چاچی ہلری کلنک ٹیکن نے فرمایا ہے کہ ’مشترکہ مفادات پر تعاون سے منہ موڑ کر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ مجھے انتہائی افسوس ہے اور امید ہے کہ شاید کہیں کوئی ایسا راستہ ہو کہ مستحکم، محفوظ اور پُرامن افغانستان کے لیے کی جانے والی ان عالمی کوششوں میں ہمیں پاکستان کی شرکت سے فائدہ ہو سکے۔
سوال ہے چاچی جی کہ اس میں فائدہ کس کو ہوگا ، امریکہ کو ، بھارت کو، نیٹو کو یا پھر افغانستان کو، مگر اس سارے لفڑے میں پاکستان کا کیا مفاد ہے؟؟؟ بے عزتی کروانا، چھتر کھانے، برا بننا، دھشت گردی جھیلنا، معاشی عذاب کا سامنا کرنا، انڈیا کے تلوے چاٹنا، مشرف سے لیکرذرداری و گیلانی جیسوں کو برداشت کرنا اور آخیر میں فوجی مروانا ، کیا یہ فائدہے؟؟؟ہیں، ویسے حاصل جمع تو ابھی تک یہی ہے۔
اگر کسی کو کوئی اور فائدہ بھی نظر آئے تو مجھے بھی بتلائے؟؟

مکمل تحریر  »

اتوار, نومبر 27, 2011

امریکہ کے خلاف



ویسے یہ جو کتا کھائی امریکن کررہے ہیں اسکا ہمارے حکمرانون کو کیا جواب دینا چاہئے؟؟
کیا جوابی کاروائی ہونی چاہئے؟؟ صرف احتجاج اور مادام کے دو فون ہی تو کافی نہیں ہیں؟؟ نہ ہی جرنیلی قول کہ اگلی بار جواب دیں گے،
کچھ تو مزید ہونا چاہئے

 شاید طویل المدتی پالیسی, مگر کیا؟؟؟اور  کون بنائے گا؟؟ کیا ہماری یہ لومڑ حکومت کسی جوگی ہے کہ ان کو حلال ہی کروانا پڑے گا مطلب قصائی کو بلا کر چھری پھروانی پڑے گی

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 19, 2011

پھڑلو پھڑلو

آج ایک یہودن کے ساتھ فیس بک کی ایک پوسٹ پر مناظرہ ہوا ہے، انکا حال بھی ہمارے مولبیوں جیسا ہی ہے، مجھے زبور سے پڑھ کر سنا رہی تھی کہ جو تمھارے ساتھ ہے خدا اسکے ساتھ ہے، میں نے کہا کہ یہ تو قرآن میں بھی اللہ نے فرمایا ہے فیر؟؟ کہنے لگیں کہ پر پہلے اس نے ہمیں کہا ہے، میرا کہنا تھا کہ بعد میں تو ہمیں کہا ہےَ، اب بعد والی بات ماننی چاہئے کہ نہیں؟؟ بھاگ گئی۔

عجیب بات ہے یہودی، عیسائی اور مولبی سبھی ایک ہی بات کو لیکر جھگڑ رہے ہیں۔ یہ مانتے ہیں کہ خدا ایک ہی ہے ، اور وہ کہتا ہے میرے ساتھ، یہ کہتا ہے کہ میرے نال ہے۔ اب کیا خدا خود آکر ان کو سمجھائے بلکہ اشٹام پیپر پر لکھ کر دے کہ میں کس کے ساتھ ہوں، بھائی جی جس جس کو کہتا گیا وہ اس کی بات کا یقین کرے اور دوسروں کو نہ تپائے، مگر نہیں یقین برائے تپی، مولبی کا کام فساد فی سبیل اللہ اور دوسروں کا کافرقراردینا رہ گیا، یہودی کا کام پوری دنیا میں اپنا راج قائم کرنا خدا کے راج کے نام پر، عیسائیوں کا کام خداوند کے نام پر دنیا کو دھونی دینا ۔

اب کون ہو جو انکو سمجھائے کہ خدا تم سب کے ساتھ ہے اگر تم اسکی کچھ آگے بھی سنو تو، مگر کون سنتا ہے جی آجکل کسی دوسرے کی ، سبھی پھڑ لو پھڑ لومیں لگے ہوئے ہیں۔

مکمل تحریر  »

پیر, نومبر 14, 2011

قزافی کی بیٹی کی ای میل

یہ آج کل کا واقعہ ہے ، ویسے اس سے پہلے مجھے علی کیمیکل کے کزن کی ای میل بھی ملی تھی، بلکل اسی مضمون کی، کہ خان صاحب بس صاحب ، آپ ہمیں فیس کے نام پر کچھ پیسے بھیج دو، درو افریقہ کے کسی ملک میں اور فیر ہاتھ لگا لگا کر دیکھتے رہو

کیا کسی اور کے ساتھ بھی یہ ہوا ؟؟ یا میرے ساتھ ہی ہورہا ہے۔؟؟

Click here to Reply or ForwardRE: Details Dr. Raja
Inbox
x

Dr.Aisha Al-Gaddaf
15:23 (7 minutes ago)
to me
Greeting in the name of Allah. Its good to read back from you Dr. Raja, the fund is in Niamey via a diplomatic company and could be moved to you in Egypt where ever would be comfortable for you. The fund is contained in two Italian Safes which is inside the Trunk Boxes of 50kg each and each of the Italian Safes contains $9.5 Million US Dollars An arrangement for a representative that works with my father and family has been made, he is from Burkina Faso. He will make sure that the box gets to your hand safely, arriving Egypt before the arrival of the consignment. When he comes to Egypt he will direct you on where you meet the diplomat in his company. I do not think they have an office in Egypt. The arrangement is a safe one according to the Security Company. The Representative will even guide you on the safest place to stay in Egypt for the delivery because their duty is to ensure safe delivery. After the delivery you can now arrange with the representative and the diplomat to go to a good bank for the deposit. I cannot tell you a particular place but I know the delivery location will be in Cairo, it is their absolute duty to make sure that the consignment is delivered safely to you, I have a contract with them and they must obey the contract terms. So I am assuring you that it will be a safe delivery. Raja you will be required by the diplomatic company to pay for the non inspection fee of the luggage. The charges is for the diplomatic charges and non inspection fee. You have to send to me your details so I can forward it to the diplomatic company. Your passport copy or National identity card, address and contact phone number. This as to be between us for security reasons(my security). Tell me more about you Raja. Your sister, Aisha.

From: eridr@gmail.com Date: Sun, 13 Nov 2011 21:18:34 +0100 Subject: Re: Dear Dr. Raja Iftikhar Khan To: dr.aisha_al-gaddafi@live.com
dear Aisha,
condolance for your late father,
what I can do for this business??
regards
Dr. Raja Iftikhar Khan
On 13 November 2011 21:13, Dr.Aisha Al-Gaddaf <dr.aisha_al-gaddafi@live.com> wrote:
Dear Dr. Raja Iftikhar Khan My name is Dr. Aisha Muammar Al-Gaddafi the daughter of late Muammar Al-Gaddafi. Please I really need an urgent business deal with you. I have some fund deposited in a security company valued $19M Dollars which I want to invest with you because of the crises in Libya at the moment.You do not have to be afraid of anything as no one else knows about these funds. Due to the present condition imposed on me by the Algerian Government communication is strictly prohibited. Please if you are interested to corporate with me for this deal so that you will stand as the beneficiary and receiver of this fund on my behalf for investment in your country. I will furnish you with all the required information concerning this fund with the security company. As soon as you respond and agree to work with me on this matter. Please it is strictly confidential. Best Regards. Your sister, Aisha.

From: eridr@gmail.com Date: Sun, 13 Nov 2011 21:07:22 +0100 Subject: hello from italy To: dr.aisha_al-gaddafi@live.com
hello dear,
i got a message in Wyan.com what kindda of info you wanna pass me,
regards
Dr. Raja Iftikhar Khan
Click here to Reply or Forward

مکمل تحریر  »

بدھ, نومبر 09, 2011

چاند

آجکل کہا جاتا ہے کہ زمین کے گرد گھومتا ہے مگر پہلے کہتے تھے کہ زمین چاند کے گرد گھومتی ہے، کون سچا کون جھوٹا ہمیں کچھ لینا دینا نہیں، شاعرحضرات کا اب بھی یہی خیال ہے اور اسکا ثبوت انکی شاعری ہے جو چاند کے گرد گھومتی ہے ، عشاق کےلئے بھی چاند ہمیشہ باعث کشش رہا ہے اور مولویوں کےلئے بھی اول الذکر کےلئے محبوب کے چہرہ کی علامت کے طور پر جو ہمیشہ دسترس سے دور ہے اور ثانی الذکر کےلئے باعث نفاق فی سبیل اللہ۔ ویسے دین اسلام میں کوئی ایک بھی مہینہ ایسا نہیں جو چاند چڑھے بغیر چڑھ جائے، کم از کم میرے تو علم میں نہیں، چاند کا کچھ استعمال نہیں ہے جنت دوزخ بندے کے اعمال پرہوگی، اسکے باوجود جانے کیوں چاند کو اسلام کی علامت سمجھا جاتا ہے، مولنا محمدعلی جوہر کی چاند والی ٹوپی سے لیکر پاکستان و تر کی کے پرچموں تک ، حتٰی کہ ادھراٹلی میں تو میں نے یہ بھی دیکھا کہ میت ڈھونے والی گاڑی پر بھی صلیب کی بجائے چاند لگائے پھرتےہیں کہ جی مرنے والا عیسائی نہیں مسلمان ہے، کوئی پوچھے کہ مرنے والا تو مرگیا اب اسکو تو اسے کوئی سروکارنہیں ، مگر ناں نمائش لازم، اگر آپ اسلام میں چاند کے مذید استعمال کے بارے میں کچھ جانتے ہوں تو ضرور آگاہ کریں تاکہ فلاح عوام ہوسکے ، چاند کے بارے میں عوام لوگ اکثر ٹینشن میں رہتے ہیں اور انہوں نے عوامی طور پر بہت سے محاورے مشہورکررکھے ہیں اور مختلف قسم کے چاند بھی، علماء کا خیر سے کیا کہنا انہوں تو ہر چیز میں فرقہ ڈالا ہوا ہے چاند میں بھی، پاکستان میں اکثر پشاور والوں کو چاند ایک دن پہلے نظر آجاتا ہے جبکہ روئٹ ہلال والے دوسرے دن دیکھتے ہیں، میں تو کہتا ہوں کہ روئت ہلال والے اپنا اجلاس ادھر پشاور میں کرلیں تو کونسی انکو موت پڑ جائے۔ یہاں پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ چاند کی کچھ مشہور اقسام کا مختصراُ ذکر کیا جائے۔ تاکہ ہمارے قارئین کے علم میں اضافہ ہو اور وہ ہمیں داد دیں (گندے انڈے اور خراب ٹماٹر برسانے سے پرہیز کریں، یہ ہمارے کسی کام نہیں آئیں گے)۔

چاند کی قسمیںَ

یوں تو چاند کی بہت سی اقسام ہیں مگر ہم طوالت کے خوف سے سب کا ذکرکرنے سے قاصر ہیں ، ویسے بھی کچھ اقسام ایسی ہیں جنکا ذکر ہوسکتا ہے شرعی طور پر ممنوع بھی ہو ، چند مشہور اقسام

عید کا چاند یہ چاند کی سب سے مشہور قسم ہے ، عوام و خواص اس کو بخوبی جانتے ہیں پہلے شام کو چھت پر چڑھ کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتے تھے اور جو دیکھ لیتا وہ نعرے مارتا پھرتا وہ رہا چاند اور پھر ڈھول دھمکہ اور تاشے بجنے لگتے اور مبارک باداں شروع، مولویوں کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے روئیت ہلال کمیٹی قائم کردی، تب سے کچھ اندھے اور بڈھے کھوسٹ قسم کے ملا دوربینوں سے چاند دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر رات گیارہ بجے دیکھ لیتے ہیں، عوام چھت پرچڑھ کر چاند دیکھنے کی بجا ئے ٹی وی پر مولویوں کے چالے دیکھتے ہیں، عید کے چاند کے بارے خاص بات یہ ہے کہ اس کا طلوع ہونا دیکھا جاتا ہے، غروب ہو یا نہ ہو کسی کو کوئی دلچسپی نہیں۔

چوہدویں کا چاند۔ یہ چاند کی دوسری مشہور قسم ہے مگر اس مولویوں کی اس میں کچھ خاص دلچسپی نہیں اسکی وجہ شاید یہی ہے کہ چونکہ اس میں عوام ملوث نہیں، یہ خود ہی نظر آجاتا ہے ، اس میں دلچسپی رکھنے والوں میں شاعر، عشاق اور سمندر شامل ہیں، شاعروں پر شاعری نازل ہورہی ہوتی ہے، عاشق لوگ اس میں اپنے محبوب کے چہرے کو دیکھ کر آہیں بھررہے ہوتے ہیں، اور سمندر پر مدو جزر طاری ہوتا ہے۔ چائینی لوگ اس رات کو سارے خاندان کے ساتھ مل بیٹھ کر چاندنی میں گول گول چیزیں کھاتے ہیں۔ جانے کیوں؟؟ مولبی لوگ اس شب کو ختم دلاتے ہیں اور نذر نیاز کا بندوبست کرتے ہیں، کیوں ؟؟ یہ ان سے پوچھئے

سردیوں کا چاند ، یہ اردو ادب میں ملتا ہے اور سردیوں میں رات کو طلوع ہو کر خوب چاندنی بکھیرتا ہے مگر سردی کی وجہ سے لوگ دبکے رہتے ہیں اور اسے دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا، اس لئے اس حسن کی مثال بنتا ہے جسے چاہنے والا کوئی نہ ہو۔

محلے کا چاند۔۔ یہ چاند عمومی طور محلے کے لڑکے بالےدیکھتے ہیں جبکہ بزرگ لوگوں کو ایک آنکھ نہیں بہاتے، دنگا فساد اور لفڑوں کا باعث بنتا ہے، عید کے چاند کو دیکھنے کے موقع پر یارلوگ آسمان کی بجائے پاس کی چھت پر اسے تلاشتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے محلے میں چاند ماری پر یار لوگوں کی پٹائی اکثر دیکھی گئی ہے۔

کچھ محاورے چاند کی بابت

کچھ محاورے

چاند چڑھانا۔۔۔۔ پہلے تو بڑی بوڑھیا ں کانا پھونسے کرتے ہوئے کہتی تھی۔ کہ یہ کڑی ضرور کوئی چاند چڑھائے گی۔

چاند پر تھوکنا۔۔۔۔ خوامخواہ کے نقص نکالنا اور اچھی بھلی چیز کو برا کہنا۔

چاند ماری۔۔۔۔ یہ پہلے زمانے میں ہوا کرتی تھی اور فوجی لوگ کیا کرتے تھے آجکل اسے نشانہ بازی کہا جاتا ہے

میرا چاند۔۔۔ ماں اکثتر اپنے کالے کلوٹے بچے کوکہتی نظر آتی ہے، جبکہ محلے کی پھپھے کٹنی قسم کی بڈھیاں لڑکوں بالوں کو تب کہتی ہیں جب ان سے کوئی کام کروانا ہو، میرا چاند جا سائیکل پر جلدی سے 6 انڈے پکڑلا، بالن کی لکڑی تو کاٹ دے ذرا وغیرہ وغیرہ

چاند سا منہ۔۔۔ یہ پطرس بخاری کی کتاب میں پایا جاتا ہے کہ ماں ممتا کی ماری دن چڑھے بچے کا منہ دھلاتی ہے اور جی کڑا کر کہتی ہے کیا چاند سا چہرہ نکل آیا ہے۔

اور بہت کچھ لکھنے کو تھا مگر پطرس بخاری کے ذکر کے بعد مذید کچھ لکھنے کو حوصلہ نہیں

اعتراف یہ مضمون پڑھنے میں آپ کا جو وقت ضائع ہوا ہے اسکےلئے قصوار وار ظہور احمد اسلام آبادی کو ٹھہرایا جائے۔ جو اگر یہ فوٹو فیس بک پر نہ چڑھاتے تو یہ مضمون نہ لکھا جاتا اور نہ آپ کا پڑھنے میں وقت ضائع ہوتا۔

مکمل تحریر  »

ہفتہ, نومبر 05, 2011

یوم العرفہ مبارک


مسلمانو! متحد ہوجاؤ ورنہ دشمن غالب آجائیں گے: مفتی اعظم کا خطبہ حج

مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ نے کہا ہے حج سے انسان کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اللہ سے ڈرو اور تمام معاملات میں اسی سے رجوع کرو۔ مسلمان دوسری اقوام سے مشابہت پیدا نہیں‌کرتا.

میدان عرفات میں مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ عبدالعزیز نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کا اسلام میں حل نہ ہو۔ قرآن اور سنت نبوی ہی مسلمانوں کی فلاح کی ضامن ہیں ۔ انسان کو عبادت کرنی چاہئیے اور اپنا سلوک بہتر کرنا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان کی معمولی نیکی کا بھی قیامت کے دن صلہ دے گا۔ آج ہمیں خاندان کی تشکیل کیلئے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو مشعل راہ بنانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن واحد کتاب ہے جو اپنے اصل متن کے ساتھ ہے۔ قرآن کریم تمام عالم کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور ہر معاملے میں اس سے رجوع کرو۔انہوں نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو برے کام سے روکتاہے۔ مسلمان دوسرے مذاہب کے حقوق کا احترام کریں ۔ مسلمان معاشرہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے دوسرے معاشروں سے ممتاز ہے۔ مسلمانو! متحد ہو جاؤ ورنہ دشمن غالب آجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دوسری اقوام سے مشابہت پیدا نہیں کرتا.

بشکریہ ایکسپریس نیوز

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ اس پر عمل کرنے کی اور حق بات کو دوسروں تک پہنچانے کی  توفیق عطا فرمائے ۔ 



عيد سے پچھلی رات مغرب کی نماز کے بعد سے عيد کے تيسرے دن نصف النہار تک يہ ورد رکھيئے اگر زيادہ نہيں تو ہر نماز کے بعد ايک بار ۔ مزيد عيد کی نماز کو جاتے ہوئے اور واپسی پر بھی يہ ورد رکھيئے

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ
لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ …
بصد شکریہ  افتخار اجمل بھوپال

مکمل تحریر  »

جمعرات, نومبر 03, 2011

جمہوریت آمریت اور بچہ لوگ

بہت  دیر سے لائین  میں کھڑے  رہنے کے بعد میں نے بھائی  جان سے پوچھا کہ کیا یہ مٹی کا تیل ہم اپنے کھیت کی مٹی  سے  نہیں بنا سکتے؟؟ بھائی  جان نے ڈانٹ دیا کہ چپ کر اور ادھر کھڑا رہ نہیں تو تیل نہیں ملے گا  اور رات کو لالٹین نہیں جل پائے گی۔  تب میری عمر کوئی چھ برس تھی،   نا سمجھی اور بچپن کے دن مگر وہ منظر میں آج تک نہیں بھول سکا جب روح افزا کے شربت والی شیشی کی کالی  سی بوتل ہاتھ میں پکڑے بھائی جان گھر سے مٹی کا تیل لینے نکلے اور میں خوامخواہ ضد کرکے انکے ساتھ ہولیا۔

  سن 1976 کی بات ہے جب ملک میں یہی آج والی صورت حال  تھی، تیل مٹی کا  نہیں ملتا تھا تب مٹی کے تیل کا ستعمال بھی یہی تھا کہ  لالٹین میں ڈال لو  اور شام کو گھر میں روشنی کرلو، لالٹین بھی ایک  دو گھروں میں ایک  ادھ ہی ہوتی ،   نہیں تو  تارہ میرا کے تیل  والا چراغ جلتا  ، جو روشنی کم اورکڑوا  دھواں زیادہ دیتا،   اور یہ رواج بھی  تھاکہ  ہمسائیوں کا لڑکا کہہ رہا ہوتا     ماسی میری اماں کہتی ہے لالٹین میں تیل ڈال دو،  اور ہماری دادی جان  کہہ رہی ہوتیں بسم اللہ میرا پتر، لا ادھر کرلالٹین ،  رات گئے  لالٹین بجھا دی جاتی کہ اب چاند نکل آیا ہے اورچاندنی کی موجودگی میں روشنی کا کیا کام،  مگر بھائی  جان چیخ رہے ہوتے  کہ  ابھی نہیں میں نے پڑھنا ہے۔  

حیرت ہوتی کہ ہمارے ملک میں  مٹی اتنی ہے اور مٹی کا تیل نایاب؟؟  بچپن اور ناسمجھی کے سوالات۔۔۔۔ صرف یہی نہیں ، تب   چینی، آٹا ،  پیاز کچھ بھی تو  نہیں ملتا تھا۔  خیرسے چینی آٹا کے بارے میں ہمارے خاندان خود کفیل تھا  کہ چینی چچا جان پنڈی سے اپنی یونٹ سے  اپنی فوجی گاڑی میں بھجواتے   ،  آدھی پورے پنڈ میں فوراُ بانٹ دی جاتی اور آدھی اگلی پہلی تک  رکھ دی جاتی کہ بھئی کوئی  غمی خوشی ہوجائے تو کام آئے گی،   اگر مذید ضرورت پڑتی تو سرگودھا سے ہمارے رشتہ دار وں کے ہاں سے گڑ آجاتا ، جو بہت مزے کا ہوتا  اور ہم لوگ  اتنا کھاتے کہ   پھوڑے نکل آتے فیر  ڈاکٹر عنصر سے کوڑوا شربت بھی ملتا  اور ٹیکہ بھی لگتا۔     آٹے کے معاملے میں گھر کی گندم کی پسوائی کروانی ہوتی اور فکرناٹ،  ڈیپو کا یہ عالم ہوتا کہ چچا سرور المشور چاچا سبو کے نام ڈیپو تھا  اور پہلے تو چینی فی کن مطلب فی بندہ   ایک  کلو دیتا اور بعد میں اس نے  ایک پاؤ کردی تھی، پھر فی بندہ سے فی گھر کے حساب سے تقسیم ہونے لگی۔

ماسٹر قربان صاحب کو دیکھا کہ کپڑے پھٹے ہوئے اور برے حال  میں لڑکھڑاتےٹانگے سے  اترے،      ہیں انکو کیا ہوا؟؟   کوئی بتا رہا تھا کہ یہ لاہور جلوس کےلئے جارہے تھا ماشٹروں کی ہڑتال میں  اور رستہ میں حکومت کے کہنے پر انکو پولیس نے پھینٹی لگائی ہے۔  پھر دیکھا کہ بھائی جان بھی روز لڑلڑا کر آتے اور دادا جان  سے گالیاں کھاتے    مگر بد مزہ نہ ہوتے،  کہ جی کالج اسٹوڈنٹ یونین  کا حق ہے کہ وہ اپنی آزادی کےلئے لڑے۔  کس کے خلاف لڑے ؟؟                       تب سمجھ نہ آتی۔

یہ زمانہ تھا بھٹو کے دور عنان کا ،   ملک بلکل اسی افراتفری کا شکار تھا جو آج ہے۔  ضروریات زندگی دستیاب نہ تھیں،   نہ ہی  ملک کے اندر کچھ سکون تھا، عوام بے چینی اور افراتفری کے عالم میں جی رہی  تھی،   فوجی روتے کہ اس بھٹو ٹن نے پاکستان توڑ دیا ہے ، بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا ہے،   اور مغربی پاکستان کو کل پاکستان قرار دے کر  اپنی  حکمرانی  کو جلا دی ہے،  اکثر  کوئی نہ کوئی  یہی کہہ رہا ہوتا کہ ایوب خان کے زمانے میں اچھے خاصے کام ہورہے تھے۔  ڈیم بن رہے تھے، صنعتیں لگ رہی تھیں، سڑکیں گلیا ں بن رہیں تھیں، کاروباری خوشحال ہورہا تھا،      ملک پینسٹھ کی جنگ لڑ کر آپ ایک قوم کی صورت میں سامنے آیا تھا  ، ہر کوئی وطن  پرستی کے جذبات سے سرشار تھا کہ  بھٹو نامی ایک ڈرامہ باز اٹھا اور اس نے روٹی کپڑا اور مکان کا فریب دے کر غریب لوگوں کو گھر سے نکال لیا،  ملک کے اندر وہ ہڑبونگ مچی کہ اللہ امان،     ایوبی حکومت ختم اور ملک میں پہلے اور واحد سول مارشل لاء کا نفاذہوا جس کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا نام ذوالفقار علی بھٹو تھا۔  پھر وہ صدر بنا اور ملک کو ادھرتم ادھر ہم کر کے وزیر اعظم بن گیا،   مگر وہ ستر کی دھائی ملک کے اندر افراتفری  کےلئے یادگار  تھی، فوج کا مورال ڈاؤن،  عوام سڑکوں پر،  ہتھوڑا گروپ کا خوف،   چوریاں اور ڈاکے  ،   طلباء  اور ٹرانسپورٹروں کے فسادات،  اس یونین کا جلسہ اور اس یونین کا جلوس ،   نہ ہی کچھ کھانے کے ، نہ ہی تحفظ  ، نہ سکون نہ عزت،   مہنگائی تھی کہ دن بدن ہوشربا طور پر بڑھے جارہی تھی، قومیائے جانے کی وجہ سے صنعتیں بھیگی بلی بن چکی تھیں۔
 
ن دنوں میں ایک دم  ریڈیو پر خبر آگئی کہ فوج نے ملک کا کنٹرول سنھبال لیا ہے اور بڑی بڑی مونچھوں والا ایک جرنیل للکار رہا تھا  کہ اب جو فساد فی سبیل اللہ کرے گا ،  جو زخیرہ اندوزی کرے گا چوک میں الٹا لٹکادیا جائے گا،    چوری ، شراب  ، مجرا بازی، ہینکی پھینکی ،  چکری مکری سب منع  ، نہیں تو فوجی عدالت اور پھر بازارمیں کوڑے،    سنا تھا کہ جہلم  میں بھی کسی کو پڑے ۔

بس پھر کیا تھا جیسےجلتی  آگ پر پانی پڑ گیا ہو، چینی فوراُ بازار میں دستیاب ہوگئی، آٹا مل گیا، مٹی کا تیل وہی ڈپو کے بھاؤ  ہر جگہ دستیاب تھا،    مہنگائی  رک گئی  اور پھر سالوں چیزوں کی قیمتیں ادھر ہی ،  طلباء نے پڑھنا شروع کردیا ، صلوات کمیٹیا ں بن گئیں ،  زکوات کمیٹیاں بھی غریبوں کی امداد کو آگے بڑھیں، جتنی لچا پارٹی تھی سب مسجد کو پہنچی،   محلوں کے بدمعاش  چھپتے پھرتے۔
فوجیوں  کاجی پھر سے جذبہ شہادت سے شرشارہوا،  دفاع اور صنعت نے پھر سے ترقی کرنا شروع کردی،  ایٹمی صلاحیت حاصل ہوگئی،   ملک میں آنے والے افغان بھائیوں  کی کثیر تعداد کوبھی سنبھال لیا گیا،      افغانوں  کے ساتھ ملکر روسیوں کی  ایسی کی تیسی کردی، انڈیا کی فوجیں بارڈر پر لگیں تو صدر صاحب کرکٹ کے میچ دیکھنے پہنچے اور پھر جو ہوا وہ دنیا نے دیکھا، انڈیا کی فوج چپکے سے بارڈرز سے واپسی کو نکلی۔ 
  
بھٹو کی موت بعذریہ عدالتی سزائے موت ،   پھانسی ہوئی ،   تو  دوسروں کو کیا دیتا اپنے خاندان کےلئے  محل اور عوام کےلئے غربت  چھوڑ گیا،    کچھ لوگ رونے والے تھے کچھ مٹھائی بانٹنے والے،   عوام نے کچھ خاص نوٹس نہ لیا ،  بس کچھ سیاسی جلسے جلوس اور بات ختم ۔ کسی نے کہا شہید ہے تو کسی نے کہا کہ اگر یہ شہید ہے تو اسے شہید کرنے والے کو کتنا ثواب ملا ہوگا۔ 

پھر چشم فلک نے دیکھا کہ  یہ مرد مومن  جب شہادت کے درجہ کو پہنچا تو  ہزاروں نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں آنکھیں اشکبار تھیں،   لاکھو ں  کا مجمع جنازہ میں شریک تھا اور خاندانوں   کے خاندان ٹی وی کے سامنے بیٹھے دھاڑیں مار رہے تھے۔ ہمارے اپنےپورے پنڈ  میں بھی ماتم   بچھی ہوئی تھی،      اس نے ملک کو سب کچھ دیا مگر اپنے اہل خانہ  کےلئے ایک زیر تعمیر مکان چھوڑ، کچھ ہزار کا بنک بلنس  اور ملک کےلئے بڑھتی ہوئی معیشت، ایک نظام اور فعال ادارے۔   تب پاکستان عالم میں ایک راہنما  اسلامی ملک کے طور پر ابھر چکا تھا۔کچھ نے اسے آمر کہا اور کچھ نے مرد مومن اور  شہید کا خطاب دیا، مردہ بدست زندہ مسجد میں دفن کردیا گیا

ہم  بطور قوم اس بچے کی طرح ہیں جو اپنے اچھے برے کو نہیں پہچانتا ، جو جمہوریت کی لولی پاپ سے خوش ہوتا ہے مگر  سخت قوانین کی کڑوی گولی سے ڈرتا ہے   سمجھائے نہیں سمجھتا کہ  ہرچمکتی ہوئی جمہوریت سونا  نہیں ہوتی  ،   آج ہم مذہب کے ہر علمبردار کو جاہل و بنیاد پرست قرار دے رہے ہیں بلکہ دل کرتا کہ ہے مولویوں کو ڈاکو قراردے کر مار ہی دیا جائے۔ اہل مغرب نے جو کہہ دیا ،    جمہوریت ہے تو اس کے نام پر ذرداری،  گیلانی،  اعوان، ملک، الطاف سب  بھائی بھائی اور بھائی لوگ سر آنکھوں پر۔
                  
آج پھر لالٹین میں تیل نہیں، آٹا نہیں، چینی نہیں، مہنگائی آسمانوں کو چھو رہی ہے،  فوج کا مورال ڈاؤن ہے، قوم  بے حس ہے، چور ڈاکو،  ہڑ ہڑ کرتے پھر رہے ہیں،  لچے عزتیں اچھال رہے ہیں، زکوات کمیٹی تو دور کی بات وزارت حج  و مذہبی امور غبن پر غبن کئے جارہی ہے، فراڈئے ، قاتل  ، دھانسے والے سب حکمرانوں کی فہرست میں شامل ہیں اور مجھے پھر انتظار ہے اس دن کا  جب پھر منادی کہہ دے گا ۔۔۔۔۔بس آج کے بعد بس۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ہیرا پھیری کی، چکری مکری کی،  چوں چلاکی کی   اسکی شامت ،     پھر بچے پڑھنے لگیں گے،   پھر صنعت کا پہہہ چلنے لگے گا،      پھر آٹا ، چینی ، بجلی دستیاب ہوگی،  پھر  بدمعاشی کرنے والے کو چوک میں لکایا جائے گا،     اس وقت کا جب شریف آدمی سکون کا سانس لے سکے گا، 

اس وقت کا انتظار جب  میں اپنے اٹالین دوستوں کو کہہ سکونگا  کہ میاں میں تو چلا اپنے دیس  کہ ادھر راوی چین ہی چین لکھتا

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش