سوموار, اگست 01, 2011

صوبائیت اور لسانیت

میں تو کہتا ہوں کہ چاروں بلکہ پنجوں صوبوں کو ختم کردیا جائے اور دو دو تین تین ضلعوں کے ڈویژن کو فعال کریا جائے، اس طرح بقول ہمارے بھائی جان کے کھانے والے کم ہوجائیں، گے، چاروں صوبائی اسبملیاں ختم، مطلب کوئی 20 کے قریب گورنر اور وزرائے اعلٰی طور کے وائسرائے کم، صوبائی وزراء کی ناکارہ اور غیر مفید فوج ختم اور اور اور سیکڑوں ممبران صوبائی اسمبلی غائیب، کتنے خرچے اور غیر مفیدات کم ہوسکتےہیں؟؟؟ سوال ہے کہ جب وفاقی وزیر داخلہ ملک میں دہشت گردی کو رواج دینے کو کافی ہے تو صوبائی وزیروں کا کیا کاروبار ہے؟؟ اسی طرح، دفاع، صنعت، افسر شاہی اور علٰی ہذالقیاس، پھر یہ بھی ممبران پالیمنٹ کی فوج ظفر موج کون سے زخموں پر مرحم لگانے کے کام آرہی ہے۔ قانون قومی اسمبلی نے بنانا ہے اور سینٹ نے پاس کرنا ہے، پھر یہ باقی کے بزرگ لوگ کس کے نام کا کھا رہے ہیں؟؟؟ ملک کو ایک کائی بھی آسانی سے بنایا جا سکتا ہے، سوچئے کہ اگر ایک وزیر اعلٰی سے کچھ پوچھنا پڑ جائے تو اداروں کو جان کے لالے پڑ جاتےہیں اور اگر یہ سوال کسی ضلعی ناظم سے کیا جائے کہ میاں تم نے یہ فنڈ کدھر کیئے ہیں تو اسے لازمی طور پر جانے کے لالے پڑ جاویں گے۔ پھر یہ کہ میرے جیسا عام آدمی جہلم سے لاہور جاکر وزیر اعلٰی سے حال احوال پوچھنے سے تو رہا البتہ اگر جہلم یا پنڈی یا گجرات میں جانا ہو تو بندہ ادھر وزیر اپنے کمشنر سے سلام دعا ہی کرآتا کہ کہ بقول بزرگوں کے ہر بندے سے سلام دعا رکھنی چاہئے کہ بندہ ہی بندے کا دارو ہوتا ہے۔ ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ نہ رہیں گے صوبے اور نہ صوبائیت، نہ رہے گا بانس اورنہ بچے گی بانسری۔ مولوی صاحب اپنی مسجد میں نماز مغرب کے بعد چھت پر چاند دیکھنے پہنچ جائیں گے وہ آسمان پر اور لڑکے بالے انکے ساتھ دوسری چھت پر چاند دیکھنے کی کوشش کریں گے، نہیں تو ٹی وہی پر مرکزی رویت حلال کمیٹی کی طور سے عینک زدہ بزرگوں کو دوربین سے چاند دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ پھر سارے لسانی صوبے بنانے کا چکر بھی ختم ہوجائے گا کہ ہزارہ کی اپنی انتظامی شناخت ہوگی، پوٹھوہار و سرائیک کی اپنی، بلوچ و بگٹی و دیگر اپنی شناخت سے جی سکیں گے۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ جیسے صوبوں کے نام پر مختلف علاقوں کے نک نیم جنکو انڈین کچا نام اور ہمارے پنجابی میں جانے کیا کہتے ہیں، اب جس کا چل گیا اس کا چل گیا مگر جو اپنے آپ کو معاشرتی اور ثقافتی طور پر جدا سمجھتا ہے اسکی انفرادیت کو تسلیم نہ کرنا ایک ظلم عظیم ہوگا۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش