Saturday, December 17, 2011

جون ایلیا پر ڈاکہ

0 comments
کیا اس قدر حقیر تھا اس قوم کا وقار
ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو
یہ بات کیا ہوئی کہ بیابان وقت میں
احساس تشنگی کو بڑھا کر سراب دو

ہم کو تھپک تھپک کے دکھائے گئے تھے خواب
خاموش کیوں ہو، اب ہمیں تعبیرِ خواب دو

جو صرف گلستاں نہ ہوا رائیگاں گیا
اس خونِ شاہدانِ وفا کا حساب دو
ٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملت کے احترام کو رسوا کیا گیا
پر حوصلہ عوام کو رسوا کیا گیا

تاریخ جس کے سامنے رہتی تھی سجدہ ریز
اس عظمتِ دوام کو رسوا کیا گیا

اے غازیو جہاد کی توہین کی گئی
اے شاعرو کلام کو رسوا کیا گیا
جون ایلیا

ابھی ہماری کارستانی شروع ہوئی
نیلے رنگ کے الفاظ تبدیل کردئے گئے

کیا اس قدر حقیر تھا اس قوم کا صدر
ہر شہر تم سے پوچھ رہا ہے جواب دو
یہ بات کیا ہوئی کہ عدالت وقت میں
احساس تشنگی کو بڑھا کر سراب دو

ہم کو تھپک تھپک کے دکھائے گئے تھے خواب
خاموش کیوں ہو بے غیرتو، اب تعبیرِ خواب دو

جو صرف سوئس میں رہا رائیگاں گیا
اس خونِ شاہدانِ وفا کا حساب دو
ٌ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملت کے احترام کو رسوا کیا گیا
پر حوصلہ عوام کو چوول کیا گیا

بی بی جس کے سامنے رہتی تھی سجدہ ریز
اس عظمتِ دوام کو کھجل کیا گیا
اس عظمتِ دوام کو کھجل کیا گیا

اے مولوبیوجہاد کی توہین کی گئی
اے عوام تیرے نام کو رسوا کیا گیا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

حق بات بھی کہنا اور دل آزاری سے بھی بچنا ضروری ہے

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔