سوموار, دسمبر 05, 2011

بون اور ڈنڈہ

سوئس سے نکلے اور سینٹ گلین سے آسٹریا میں جاگھسے، وہاں سے پھر جرمنی میں اور  فرینکفورٹ کی طرف منہ کرلیا کہ سہیل بھائی کا کوئی یار ادھر رہتا ہے اس سے بھی مل لیں گے اور فرینکفورٹ کی سیر بھی ہوجائے گی کہ بھئی آخر کار انٹر نیشنل شہر ہے دیکھنا چاہئے۔   ہمارے پاس کوئی پروگرام نہیں تھا،   اگر تھا تو یہ کہ  ہم چاروں ہیں علامہ صاحب، سہیل بھائی ، جمیل میاں جو ہمارے  مشاق ڈرائیور بلکہ پائلٹ تھے،  اور راقم، تب نئے لائسنس یافتہ مگر گاڑی چلانے کا مطلق تجربہ نہ تھا  ،  دس چھٹیاں ہیں اور یہ اوپل آسٹرا گاڑی ہے کہیں جانا ہے،  کہاں ؟؟ کون جانے،  رات زیورخ  پہنچے اور پوچھا کہ بھئی ادھر کیا دیکھا جاسکتا ہے، جواب آیا کہ اہو ہو، تمھیں ملوم نہیں کہ ادھر آج اسٹریٹ پریڈ کی رات ہے بس تم ادھر جھیل کو نکل لو جدھر لوگ جارہے ہیں فیر میلہ لگتا ہی ہوگا۔ سٹریٹ پریڈ  کو لو پریڈ بھی کہا جاتا ہے، عوام اور مشٹنڈا پارٹی، چرسی و عشاق سارے ہی ایک ساتھ ہوتے ہیں  سڑکو ں پر سرعام میوزک کنسر ٹ اور عوام کی ناچ مستی، جوڑے ٹن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے بوس و کنار میں مصروف، شرابی لوگ شراب کی بوتلیں لئے گھوم رہے، دوشیزائیں نہائت غربت کےعالم میں بس دو چیتھڑون سے جسم چھپانے کی کرشش میں ناکام، عوام ناچ رہی ہے اور گارہی ہے۔ پی رہی اور پلارہی،   ہم نے بھی حسب توفیق  میلہ دیکھا (بقول سہیل بھائی بھونڈی کی)،  صبح صادق کے وقت ادھر پوہ  پھوٹی  ادھر یارلوگ  اپنی اپنی راہ کو چل دئے، ہم بھی  دو گھنٹے گاڑی میں ہی نیند کو چکمہ دے، ٹھنڈے پانی سے منہ دھو، خود ایک بار  اور جمیل کو دو بار کافی پلوا کہ گاڑی اس نے چلانی ہے، اسکی نیند پوری طرح اڑنی چاہئے،  نکل پڑے  جرمنی کے راستوں میں ،بھول جاتے اور کسی اور شہر کی طرف نکل لیتے، پھر علامہ صاحب  جو جرمنی میں رہ چکے تھے اور جرمن زبان سے کماحقہ واقفیت بھی رکھتے تھے  بقول انکےعلامہ صاحب  کو  بھیجا جاتا بلکہ وہ ہمارے  خود ساختہ ناویگیٹر بنے ہوئے تھے، اور خالصہ جی کی پریڈ کے موافق سجا، کھبا کراتے جاتے، پھر شور مچا دیتے کہ ڈائیریکشن جو بابے نے بتائی تھی وہ نہیں مل رہی،  لگتا ہے راستہ بھول گئے ہیں اہو ہو ہو، ایدھر ہی گاڑی روکو اور میں اس مائی سے راستہ کے بارے علم حاصل کرکے آتا ہوں، کہہ کر گزرتی ہوئی لڑکی کو تاک کر روک لیتے اور دس منٹ گٹ مٹ کرتے، یا یا یا کرنے کے بعد واپس آتے اور ماتھے پر دو ہاتھ مارکرکے فرماتے لو جی فیر چوک گیا راستہ واپس مڑو اور ساٹھ کلومیٹر پر فیر ڈائیریکشن ملے گی۔ چلو،  اور ہم چلتے رہے، مطلب ہم بیٹھے رہے اور گاڑی چلتی رہی،  رستے میں علامہ صاحب کے موبائیل پرکال آگئی اور انہوں نے اعلان کردیا کہ فرینکورٹ کو ہاتھ لگا کر ادھر بو ن کو نکل چلو کہ میری لالا جی سے بات ہوئی ہے اور وہ رات کے کھانے پر ہمارا انتظار کریں گے۔  یہ لالا جی موصوف علامہ صاحب کے برادر کبیر مرزا ضیاء  صاحب ہیں جو ادھر آخن یونیورسٹی کو ڈاکٹر قدیر کےبعد ٹاپ کرنے والے دوسرے غیر ملکی اور دوسرے ہی پاکستانی ہیں،  اور یہ کہ بون کے حلقہ 
کے موٹروے کے انچارج انجینئر ہیں۔

بون پہنچے تو رات کے پہر تھے ، وسط اگست کا سورج ڈوب چکا تھا، مرزا صاحب نہ میری طرف دیکھا اور کہنے لگے اسٹریٹ پریڈ سے ہوکر آئے ہو؟؟ ان بزرگوں کے بالوں میں رات کے ستارے ابھی تک چمک رہے ہیں،  کھانا ہمارے انتظار میں  ٹھنڈا ہو چکا تھا  جو ہم پھر سے گرم کرکے  مرزا صاحب نے ہمیں بڑی محبت سے کھلایا کہ  بھئی میں نے آج کوئی ایک ماہ بعد گھر میں اور وہ بھی پاکستانی کھانا بنایا ہے، برتن بھی انہون نے  دھوئے کہ علامہ صاحب گلاس پر پانی کے نشان چھوڑ دیتے ہیں اور ہم تینوں تو ہیں ہی خیر سے مہمان، اور اوپر سے پہلی بار آئے ہیں۔

پھر ہم نکلے شہر کی سیر کو دو کاروں میں بھر کے،   مرزا صاحب نے کمال محبت سے ہمیں کمپنی دی اور پورا شہر پھرا دیا، ساتھ میں بھر پور تبصرہ بھی،  سٹی ہال کے سامنے رکے اور فوٹو سیشن ہوا کہ بھئی یادگاری فوٹو  بن جائیں گے۔  مرزا صاحب کو درخواست کی گئی کہ جناب ہم دلی سے آنےو الے چارسواروں کےگروپ کی تصویر بنادیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے،  مرزا صاحب کافی دیر کوشش کرتے رہے اور پھر بولے یار یہ جھنڈا نہیں آرہا،  فوراُ  جمیل کے منہ سے جواب نکلا کہ ڈنڈا تو آرہا ہے ناں
بس پھر قہقہے ابل پڑے۔
اور وہ تصویر بغیر جھنڈے کے ہی بنی البتہ ڈنڈہ ہمارے عقب میں غور سے دیکھا جاسکتا تھا ۔ 

آج کل  بون کا عالمی سطح پر اور خبروں میں پورا چرچا ہے کہ افغانستان سے متعلق ہونے والی  کانفرنس میں پاکستان کا جھنڈانہیں آرہا، مگر بہوتوں کو ڈنڈہ ضرور آرہا ہے، حامد قرضئی سے لیکر چاچی ہیلری کلنک ٹیکن تک سبھی باؤلے ہوئے پھر رہے ہیں،  اگر اس طرح کی غیرت دس بار ہ برس پہلے ہی کھالی ہوتی تو آج سو چھتر بھی نہ کھانے پڑتے اور  نہ ہی سو گنڈھے 

2 تبصرے:

  • Abdul Qadoos says:
    12/05/2011 08:32:00 PM

    ویسے بروقت تُنا ہے

  • Rashid Idrees Rana says:
    12/06/2011 07:00:00 AM

    (بقول سہیل بھائی بھونڈی کی)راجہ صاحب، بہت عرصہ کے بعد اس جملے نے سکول کالج کا زمانہ یاد کرا دیا جب ہم بھی صف عاشقاں سجا کر محفل بھونڈاں لگاتے تھے اور لعنت پھٹکار کی داد مل کر ہی باز آتے تھے۔ بہت خوبصورت روداد ہے۔ بقول حلقہ پنجابیاں کہ "ھڈ بیتی" سنادیتی جے۔ شکریہ

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش