سوموار, جون 06, 2011

چوں چوں کا مربہ

ہمارے بہت ہی محترم حکیم علی صاحب سے لندن میں تین دن تک تفصیلی ملاقات کی روداد یوں ہے کہ وہ ہمارے میزبان تھے، ایک دن تپے ہوئے یوں روایت کرتے ہیں کہ ، معلوم ہوا ہمارے محلے بیکرز آرم اسٹریٹ کا ایک گورا مسلمان ہوگیا ہے، ہم سب یار لوگ اسکو مبارک دینے گئے مٹھائیاں لیکر، ایک دوسرے کو بھی مبارکاں دیں، کہ لو جی ایک کافر کے منہ سے لگی چھٹ گئی ہے۔ وہ بھی سب کا بشمول ہمارے نہیایت خوشی سے استقبال کررہا تھا، گویا عید کا سماں ہے، ہر بندے کو جپھے پر جپھے پڑ رہے ہیں ، نشست کے دوران ہی میں نے محسوس کیا کہ اسکےلئے ہر کس وناکس ایک عالم جید بنا ہوا ہے، صلاحیں دی جارہی ہیں ، فتوے جاری ہورہے ہیں کہ میاں پانچ وقت کی نماز باوضو ہو کر پڑھنی لازم، ہر ملنے والے کو پہلے سلام کرنا اور ہر سلام کا جواب لازم ، باتھ روم میں یہ یہ کام نہیں ہوسکتا، اور یہ یہ باتھ روم کے باہر نہیں ہوسکتا، ایک صاحب جن کے منہ سے شراب کے بھبھکے آرہے تھے اسے اسلام میں شراب نوشی پر سختی سے ممانت کے احکامات مفصل بیان کررہے تھے، ایک صاحب نے انکو لباس کی بابت شدید لیکچر دیا اور جب وہ اٹھے تو انکی اپنی کمر ننگی ہورہی تھی، ایک صاحب اسے دافع العورات ہونے کے مشورے دےرہے تھے اور اگلے ویک اینڈ پر ہمار ے سامنے ایک پب میں دو گوریوں کو باہوں میں لئے ٹن حالت میں چوم چاٹ رہے تھے۔خیر دن گزرا ایک اور گزرا پھر ایک اور، بات آئی گئی ہوگئی۔۔۔۔۔ ایک دن وہی گورا پھر سب کو مبارکاں دے رہا تھا، کہ لو جی میں فیر عیسائی ہوگیا ہوں، میں حریاں و پریشان اس سے پوچھنے پر مجبور ہوگیا کہ کیوں؟؟ پس وہ پھٹ پڑا کہ میں مسلمان ہوا تھا کہ اچھا اور سادہ مذہب ہے جس میں جبر کوئی نہیں مگر ادھر تو سارا کچھ الٹ ہے، آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ مسلمان تو مجھے ملے ہی کوئی نہیں، کوئی سنی ہے تو کوئی شیعہ ، کوئی وہابی تو کوئی مرزئی، کوئی منہاجی تو کوئی مدنی، کوئی شافعی تو کوئی مالکی۔ کوئی کوفی تو کوئی صوفی۔ مگر مسلمان ؟؟؟؟؟؟ سود کھانے کو سارے تیار ہیں ، مگر سور کھانے کو کوئی بھی نہیں، حالانکہ دونوں حرام بلکہ اول الزکر بلکل ہی حرام ہے۔ غیبت اور جھوٹ ہر بندہ فرض سمجھ کر دن بھر استعمال کرتا ہے، وضو کرنا صفائی کےلئے مگر وضو کی جگہ نہیایت گندی اور کراہت سے بھرپور۔ نماز اللہ کی مگر دھیان بندوں کی طرف ، مسجد میں نماز باجماعت تاکہ تمجھارا پیار و اتفاق بڑھے مگر کیا ہے کہ یہ مولوی صاحب اس کے ساتھ کھڑے ہوکر نماز پڑھنے کو تیار نہیں ہیں۔ اللہ کی منت کم اور پیروں کی منتیں زیادہ، اللہ سے کم ڈرنا اور مولوی سے زیادہ۔ اس طرح اٹھو اور اس طرح بیٹو، یہ پیو اور یہ نہ کھاؤْ۔۔ یہ تو سارا چوں چوں کا مربہ ہی ہے یہ سب دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر یہی کچھ کرنا ہے تو پھر مجھے مسلمان ہونے میں کیا حاصل؟؟

7 تبصرے:

  • DuFFeR - ڈفر says:
    6/06/2011 09:20:00 PM

    بات تو ٹھیک ہے لیکن اس سے پوچھنا تھا کہ کیا وہ مسلمانوں کو دیکھ کر مسلمان ہوا تھا اگر ہاں تو کیا پہلے یہ مسلمان نظر نہیں آئے تھے؟
    اور اگر نہیں تو پھر مسلمانوں کو دیکھ کے اسلام سے پھرا کیوں؟

  • pakcom says:
    6/07/2011 02:08:00 AM

    ایگری ود ڈفر

    مجھے ڈفر بھائی سے پورا اتفاق ہے۔

  • UncleTom says:
    6/07/2011 06:45:00 AM

    ہو سکتا ہے کسی دیسی کٹری کے چکر میں ہو ۔ ایک گورے کو جانتا ہوں جو مسلمانوں کے ساتھ آوارہ گردی کیا کرتا تھا ، انکو امپریس کرنے کے لیے کہا کرتا تھا کہ شاید مسلمان ہو جاوں ۔ ۔۔

    ایک سپینش سے بات ہوی تھی وہ سپین میں مسلمان ہوا تھا ، وہاں سلفیوں کی مسجد مین جاتا تو وہ اسکو رفع یدین کرنے کا کہتے اسنے شروع کر دیا منہاج القرآن والوں کی مسجد میں گیا تو انہوں نے کہا یہ کیا کر رہا ہے ۔ وہ شخص انٹرنیٹ پر اس بارے میں معلومات تلاشتا پھر رہا تھا ، ابھی تک مسلمان ہے اور ان معلات کو سمجھنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ دین پر عمل کرتا ہے ۔

    ویسے عیسائیوں میں چالیس ہزار سے زیادہ تو رجسٹرڈ فرقے ہوں گے اپنی الگ الگ بائبل کے ساتھ اگر اسی بات کو بنیاد بنانا ہے تو اسکو کہو تم دہریہ کیوں نہیں ہو جاتے ۔

  • Dr. iftikhar Raja says:
    6/07/2011 10:37:00 AM

    yeh to sach haey ke Issaioon ke hazaro firqe honge maghar islam main bhi hooon to farq?? agar jawab yeh hi haey ke inh mian bhi hain to woh to kehta hi haey ke phir udhar hi thik hun, Shaed aj ham kuch karsakte hain, Musulmanoon ko talash karne main, har banda us spainsh ki tarha naheen ho sakta, phir sara kuch use hi karna haey??? kya hamara iss main sawaye jawabi Illzam ke koi kam naheen????

  • Dr. iftikhar Raja says:
    6/07/2011 10:39:00 AM

    Daffar bilkul aesy hi haey, ke pehle use yeh musulman nazar naheen aey honghe, kiun ke door ke dhool sohane, iss case main bhi.

  • Truth Exposed says:
    6/15/2011 01:36:00 PM

    i think this is a symbolic story, not real.

  • Dr. iftikhar Raja says:
    6/16/2011 03:01:00 PM

    کیوں جی آپ ایسے کیوں سوچتے ہیں، مسائل تو موجود ہیں، باقی ہر بندے کی اپنی اپنی سوچ ہے، انہی مسائل کا کوئی ہم سے سامنا کر رہا ہوتا ہے اور بے فکر ا اور کوئ پریشان، اور کوئی بھاگ چکا ہوتا ہے

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ اس موضوع پر کوئی رائے رکھتے ہیں، حق میں یا محالفت میں تو ضرور لکھیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش