پیر, مارچ 28, 2011

باپ ہونے کا ٹیسٹ

یہ ایک اٹالین ویب سایئٹ ہے جو باپ ہونےکے ٹیسٹ کو آفر کررہی ہے، کہ اگر آپ کو اپنے بچے کا باپ ہونا مانگتا ہے تو مڑا ادھر کو آؤ ڈی این آے کا ٹشٹ پاس کرو اور لازم ہے کہ انہیں پیسے بھی دو، پھر باپ کہلاؤ، بھائی اسکے بعد ہی کہلوایا جاسکے گا۔ اسلام نے اس بارے میں چودہ سو برس قبل ترتیب واضع کردی تھی کہ میں چار شادیاں کرلو مگر شادی سے باہر پنگے مت لو، طلاق کو آسان کردیا گیا، بیوہ کا پھر سے شادی کرنا برحق، مگر تاکا جانکی کرنے والے اور ادھر ادھر منہ مارنے والی اور والے کو پھنیٹی ، کسی صورت اجازت نہیں، یعنی کہ مشتری ہوشیار باش، مگر نہیں چونکہ ہم اس نئی صدی میں پیدا ہونے والی روشنی کی نئی کرن ہیں تو ہمیں مذہب جیسی وقیانوسی باتوں سے کیا لینا اور کیا دینا، ہم تو ٹھہرے ماڈرن لوگ بھئی پرانے وقتوں کی باتیں ہمیں ایک آنکھ نہیں بہاتییں۔ مگر پھر دل میں ایک انجانا سا خوف ہے کہ اگر کسی کا ٹیسٹ نیگیٹو نکل آیا تو اس پر کیا بیتے گی؟؟؟ اسکا حل یورپ والوں نے تو یوں دیا ہے کہ بچہ کی پیدائیش پر اگر ماں اسکے باپ کا نام نہ بھی بتانا چاہے تو صر ف آپ نام لکھوا سکتی ہے کہ اس کی باپ بھی وہی ہے۔ ممکن میں پاکستان ابھی تک کسی نے ایسی صورت حال کے بارے نہ سوچا ہو تو ہو جائیے ہوشیار ۔۔۔۔ ہاں پھر خیال آتا ہے کہ اگر ماں کے نام سے ہی ہرجگہ کام چل جاتا تو پھر اس ٹیسٹ کو بیچنے کا لفڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟؟ مطلب دال میں کچھ کالا ہے جی بلکل ہے ۔ تو صاحب پھر ذرا بچ کہ

مکمل تحریر  »

پیر, مارچ 21, 2011

لیبیا پر حملہ، جنگ ابھی جاری ہے

افغانستان کےبعد عراق حملہ ہوتا ہے اور اسے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔ بش کے بعد اسکا پیش رو اوباہامہ تخت نشین ہوتا ہے مگر پروگرام جاری ہے، تیونس کے ساتھ مصر سے شروع ہونے والی ہنگامہ آرائی تیل پیداکرنے والے سارے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ صدام کی طرح قزافی کو بھی ڈکٹیٹر قرار دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی ادھر بھی عراق کی طرح کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے شہبہ کا اعلان کرکے اپنے جنگی جنون کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میں اپنے آپ سے بطور تاریخ کے ایک طالبعلم یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا ہم پھر سے صلیبی جنگوں میں نہیں گھرے ہوئے؟؟؟ کشمیر میں ہونے والا ستم کبھی امریکہ بہادر اور فرانس و اٹلی کو دکھائی نہیں دیا نہ ہی اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ اور لبنان پر حملہ نظر نہ آیا، امریکہ اپنی حفاظت میں افغانستان پر حملہ کرسکتا ہے اور ایران کو دھمکیاں دے سکتا ہے لبیا پر عوام کو فوجی ستم سے بچانے کےلئے جا سکتا ہے اور فلسطین کے حق میں پیش ہونے والی قرارداد کو ویٹو کردیتا ہے۔ عالمی مچھندروں کا یہ دھرا معیار ہمیں بھی تو دیکھنا ہوگا، اس بارے بات توکرنی ہوگی نہیں تو دل میں برا ضرور جاننا ہوگا کہ یہ ایمان کا آخری درجہ ہے

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 18, 2011

پاکیستانی مچھندر

نجابی زبان میں اکڑ بکڑ بمبا بو کا مطلب کسی کو بھی معلوم نہیں نہ پنجابی بولنے والوں کو اور نہ اکڑ بکڑ پڑھنے والوں کو، چوہدری ریمنڈ گرفتار ہوا، تو ملک میں افراتفری آزاد ہوا تو بھی، سیاست کرنے والے سیاست کرتے رہے اور جان چھڑانے والے جان چھڑاتے رہے، ملک ہے کہ آج ہے کہ نہیں ہے مگر عوام کو سڑکوں پر لانا اور ہڑتالیں کروانا ہمیشہ ہی کسی نہ کسی کا من پسند کھیل رہا ہے۔ جہمھوریت صرف اسی کےلئے ہے جو حکومت میں ہے اور جو حکومت سے باہر ہے اسکے بدترین آمریت ہے مگر ، یہ سارے قضئے اس وقت تک ہیں جب تک ملک باقی ہے۔ دنیا ساری میں جاسوس پکڑے جاتے ہیں اور چھوڑے بھی جاتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ملک ہی داؤ پر لگادو، ملک میں اتنا رولا ڈال دو کہ اسکا ستیاناس ہی ہوجائے۔ میں تو کہتا ہوں کہ ملک کا ستیاناس کرنے کو یہ ذرداری کافی نہیں ہے جو اس کھیت میں عمران خان اور جماعت سلامی والے بھی سلامی لینے کو کود پڑے رہی رہ ایم کیو ایم تو وہ تو متحدہ قومی مرڈر کے پروگرام پر چل رہی ہے۔ آخر کو ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگا لے گی۔ نواز شریف نے اس پردرد موقع پر خود کو در دل میں مبتلا کرلیا۔ پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ ہر موقع کی طرح اس بار بھی ملک صرف عوام کی ذمہ داری ہے۔ اس کا بچانا اسے سنوارنا اور آگے لے کر جانا جہاں یہ اسلام کا قلعہ بن سکے اگر سب کچھ مچھندروں پر چھوڑا تو پھر بجلی پانی تیل کچھ بھی تو نہیں بچا ملک میں رہا سہا ایک نام ہے اسکو مچھندروں سے بچا لو بچا لو بچالو

مکمل تحریر  »

جمعہ, مارچ 04, 2011

جنگی جرائم اور عالمی ضمیر

تیونس اور مصر کے بعد مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کے اکثر ممالک اندرونی شورش کا شکار ہیں، جن میں سے لیبیا اور بحرین کے اندر تو باقاعدہ خانہ جنگی کی حالت ہے۔ میں ایک عام آدمی کی نظر سے ٹی وی دیکھتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کسی بین الاقوامی شازش کا نتیجہ ہوِ جیسا کہ گزشتہ اتنخابات کے بعد ایران میں ہونے والے مظاہرے جن پر پوری مغربی دنیا ٹینشن لے گئی تھی اور پھر تہران میں برطانوی ایمبیسی کے درجن بھر اہلکاروں کی گرفتاری کی خبر آئی اور سب کچھ جہاں پر تھا اور جیسے تھا ایسے ہی ختم ہوگیا۔ جیسے ریمنڈ صاحب کی گرفتاری کے بعد سے پاکستان بھر میں خود کشی کے واقعات میں حیران کن کمی آگئی۔ امریکہ بہادر اور سلامتی کونسل صاحب کو کشمیر، فلسطین، لبنان عراق، افغانستان میں ہونے والے جنگی جرائم تو نظر انداز نہیں آرہے مگر قزافی کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات ہونے کی باتیں بہت زور و شور سے ہورہی ہیں، یورپین یونین لے پالک کی طرح اس میں پوری طرح ہاں میں ہاں ملا رہی ہے، میں قذافی کے حق میں نہیں ہوں اور اس بات سے متفق ہوں کہ لیبیا میں انسانی حقوق کی پامالی بند ہونی چاہیے اور وہ بھی فی الفور، مگر اسکی قیمت لیبیا کی قومی آزادی نہ ہو۔ ایک عام آدمی سوالاٹھاتا ہے کہ کیا عراق اور افغانستان میں جنگی جرائم نہیں ہوئے؟ انکی تحقیقات کس نے کیں؟ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ہونے والے ڈرون حملوں میں بے گناہوں کا مرنا کیا جنگی جرائم میں نہیں آتا؟ کیا اسرائیل کا فلسطین اور لبنان پر بار بار حملے کرنا اور شہری آبادیوں پر بمباری کرنا جنگی جرائم میں نہیں آتا؟ کیا کشمیر ی عوام پر جاری مسلسل تشدد جنگی جرم نہیں ہے؟ امریکہ اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل قرارداد کو ویٹو کرے تو اسے جنگی جرم کیوں نہ کہا جائے؟ جواب ہے کہ چونکہ ان سارے خطوں میں امریکہ بہادر کو بلاواسطہ یا بلواسطہ فائدہ ہے لہذا یہ سارے سوالات اٹھانا گناہ عظیم ہےاس ضمن میں میرے اس مضمون اور اس جیسے دیگر مضامین پر سلامتی کونسل کی جانب سے اگر پابندیاں لگ جائیں تو عین حق بات ہے۔ آج کے عالمی ضمیر کے مطابق سچ اور حق صرف وہی ہے جس سے عالمی چوہدریز کو فائدہ ہے اور اگر کوئی صرف اپنے مفاد کی بات کرے تو لازم ہے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے۔

مکمل تحریر  »

جملہ حقوق بنام ڈاکٹر افتخار راجہ. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

اس بلاگ میں تلاش